تازہ ترین

دعا

ہے محبوب رب کو ادا مغفرت کی  قرینے سے مانگو دعا مغفرت کی  گناہوں میں ڈوبے الہی بہت ہیں  کرم کی نگہ ہو عطا مغفرت کی  بکثرت سوم ماہِ رمضاں کےعشرے  کرو رات دن التجا مغفرت کی  سیاہ دل ہوا ہے گناہوں سے یارب عطا ہو ذرا اب دوا مغفرت کی  مدینے کی پُر نور گلیوں میں مرنا مقدر میں لکھ دے فضا مغفرت کی کبھی ہاتھ خالی پلٹ کے نہ آیا ترے در پہ جو دے صدا مغفرت کی   کوئی آس عارفؔ کو باقی نہیں ہے  الٰہی تمہارے سوا مغفرت کی    جاوید عارف شوپیان کشمیر  موبائل نمبر;؛7006800298  

بدر کا میداں

چلے آجاؤ بتلاؤں گا تُم کو بدر کا میداں کہ اس بے مثل نُصرت کے ہے پیچھے رازکیا پنہاں ہُوا جو حُکم احمدؐ تو  یکایک آگئے سارے بسا اس قدر تھا اُن ؐکے دلوں میں جذبۂ ایماں ہُوئے رُخصت مدینہ سے رسولِ پاک ؐکے ہمراہ صحابہؐ تین سو تیرہ کہ جن پہ عرش ہے نازاں عزائم دیکھ کر اُن کے ہوئی حیرت ہے قُدرت کو اُنہی کی یاد میں نازل ہوا ہے  سورۂ قُرآں اُدھر بوجہل ، عُتبہ اور شیبہِ کبر میں سرمست اِدھر ذکرِ الٰہی میں محو تھے صاحبِ فُرقاں  سکینت ہوگئی نازل، فرشتے بن گئے حامی فلک سے اور برسایا خُدا نے رحمتِ باراں اُسی دن مل  گئے  چودہ نفوسِ پاکؐ رحمٰں سے خدا کے چاہنے والوں کا ہوتا ہے یہی ارماں فضائیں نعرۂ تکبیر سے جوں بدر کی گونجی پرستارِ ہُبل اور لات یکسر ہوگئے حیراں   طُفیل ؔ شفیع طالب علم گورنمنٹ میڈی

منقبت

منقبت در شان عظمت ورفعت ام المومنین زوجہ سرکار، راحت سرکار، حضور سرور کائنات جناب محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بنت یار غار حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  طیبہ و طاہرہ سیدہ عائشہؓ زوجہ مصطفیٰؐ سیدہ عائشہؓ زاہدہ و عابدہ سیدہ عائشہؓ  چاہتِ مصطفیٰؐ سیدہ عائشہؓ نقش مہر و وفا سیدہ عائشہؓ نازِ صدق و صفا سیدہ عائشہؓ   جان صدیق اکبرؓکی ہیں بے گماں کون ہے باپ سا سیدہ عائشہؓ ہے بڑا مرتبہ اور مقام آپ کا آپ ہیں صادقہ سیدہ عائشہؓ راویہ آپ سچی حدیثوں کی ہیں  کون ہے آپ سا سیدہ عائشہؓ بنت صدیقؓ آرامِ جان نبیؐ خلق کی انتہا سیدہ عائشہؓ جانِ ارشد نثار آپ کے وصف پر صابرہ شاکرہ سیدہ عائشہؓ   محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی  

نعتِ رسولِ مقبولؐ

نورِ حق نورِ ہدایت نورِ عرفاں آپؐ ہیں سارے گم گشتہ دلوں کا دین وایماں آپؐ ہیں آپ کا ہمسر جہاں میں کوئی بھی انساں نہیں جس کا رب العالمین ہے خود ثنا خواں آپؐ ہیں آپ جیسا رہنما کوئی نہیں پیدا ہوا جان بھی کردے فدا جس پر مسلماں آپؐ ہیں آپ نے دنیا کو دکھلایا ہے سیدھا راستہ امت مرحومہ پر جس کا ہے احساں آپؐ ہیں حضرت صدّیق کو کافی ہے بس اُن کا رسول ان کے دین ودنیا کا سارا ہی ساماں آپؐ ہیں میرا حامی اور ناصر ہے خدائے ذو الجلال میرا ہادی اور رہبر ہے جو انساں آپؐ ہیں آپ کی مدح وثنا کے ہیں طریقے بے شمار شمسؔ جس کی ذات ہے تفسیر قرآں آپؐ ہیں   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380  

کـورونا

ہوگئی مسموم یارب کیسی یہ آب و ہوا چار سو پھیلا گئی کیسی کرونا کی وبا آرہا ہے اس کی زد میں دھیرے دھیرے یہ جہاں زد میں سارے لوگ ہیں بچے کیا پیروجواں جس بشر پر بھی کرونا کی ہوئی جب بھی پکڑ ابتدا سردی کھانسی کا ہے دِکھلاتا اثر سانس کی تکلیف کا انسان ہوتا ہے شکار سر سے پا تک آدمی پر زور دِکھلاتا بخار اس مرض سے آدمی جو بھی ہوا دو چار ہے زندگی پیرانہ سالوں کی ہوئی دشوار ہے اس سے بچنے کے معالج نے بتائے احتیاط آدمی سے آدمی کا کم سے کم ہو ارتباط چاہئے کرنا سینٹائزر کا اکثر استعمال باہری آب و ہوا سے بچنے کا ہووے خیال بھیڑ سے بچ کر ہر انسان کو چلنا چاہئے ماسک چہرے پر لگا کر ہی نکلنا چاہئے ہے یہ لازم تو بھی عادلؔ کر سدا ہی احتیاط ہے اگر بچنا مرض سے مضبوط کر انضباط   ڈاکٹر نصیر احمد عادل رابطہ؛کمہرولی،کمتول،

تجھ کو تیرا واسطہ میرے خدا

اے خدا میرے خدا میرے خدا دور کر دے یہ بلا میرے خدا کر دے منزل آشنا میرے خدا کھو گیا ہے راستہ میرے خدا رحم فرما اس وبا کی وجہ سے چھن گیا جینا مرا میرے خدا اس مرض کے جتنے بھی بیمار ہیں بخش دے سب کو شفا میرے خدا در گزر کر دے خطائیں میری  سب تجھ کو تیرا واسطہ میرے خدا کیا کرے وہ جس کا جیون آسرا اس وبا نے لے لیا میرے خدا میں بہت کمزور ہوں کیسے کروں مشکلوں کا سامنا میرے خدا موت منظر ہو چلی اس دنیا کو کر دے پھر ہستی نما میرے خدا   ذکی طارق بارہ بنکوی بارہ بنکی۔ یوپی، موبائل نمبر؛7007368108  

ماہ صیام

 ہزاروں رحمتیں لے کر ہے پھر ماہ صیام آیا   ہماری مغفرت کا پھر ہے یہ لے کر پیام آیا یہ رحمت خیر و برکت مغفرت کا ہی مہینہ ہے   خدا کی پوری رحمت کا یہ لے کر انصرام آیا سعادت ہی سعادت دیکھئے ہے ماہ رمضاں میں   شریعت کا سکھانے کو ہمیں یہ احترام آیا مبارک خیر امت کو ہو رمضان المبارک کا   کہ یہ کردار سازی کا ہی لے کر ہے نظام آیا بھٹکتے ہم گناہوں کے اندھیرے میں ہیں دنیا میں   اندھیری رات میں بن کر یہ اک ماہ تمام آیا گناہوں کے جلانے ہی کو ہیں رمضان کہتے ہم   ہے یہ عصیان سوزی کا ہی لے کر انصرام آیا بدی نیکی میں اور جائز و ناجائز میں کیا ہے فرق   یہی ہم کو سکھانے کے لیے ماہ صیام آیا شیاطیں کو کیا جاتا ہے قید اس ماہ اقدس میں   یہ لے کر نفس امارہ کی خاطر ہ

حمد باری تعلیٰ

ترے در پہ مرے سرکار آیا ہوںگدا مولیٰ لگا مجھ کو زمانہ بھی پڑا محوِ خدا مولیٰ تری عظمت تری رفعت ترا ہی بول بالا ہے ترے دم سے ہی آخر چارسو میں اب اُجالا ہے نہیں ثانی ترا کوئی کہ تو یکتا یگانہ ہے تری قربت کو پانے میں لگا پیچھے زمانہ ہے گنہ گاری میں ساری زندگی میں نے تباہ کی ہے نظر ثانی کرو مولیٰ،دعا تیرے گدا کی ہے مرے مالک گدا کی یہ دعا سن لیجیے اب تو ریا کاری ،گناہوں سے شفا ہی دیجیے اب تو نزع کے وقت سے پہلے کیا ہل چل مچی ہوگی یہاں یومِ جزاء برپا وہاں محفل سجی ہوگی مری اُمید اور طاقت تمہیں میرا سہارا ہو سمندر میں مسافر ہوںتمہیں میرا کنارہ ہو بٹھک جانے سے پہلے ہی مجھے رستہ دِ کھا مالک میں کیسی تیرگی میں ہوں چراغِ لو بڑھا مالک کرو یاورؔ خدائی میں ذرا تم جاں فدا اپنی وہی مالک ہے تن من کا،کرو قرباں بقا اپنی   ی

نعت شریف

دل میں بسالے دوست عقیدت رسولؐ کی شب و روز تُم پہ برسے گی رحمت رسولؐ کی   حق سے کرو محبتیں باطل سے نفرتیں رکھنا ہمیشہ یاد نصیحت رسولؐ کی   اللہ کا ہے کرم یہی فیضِ رسولؐ ہے پھیلی ہے دُور دُور تک اُمت رسولؐ کی   پڑھ کر نماز مومنو قسمت سنوار لو خوش بخت کو ہی ملتی ہے شفقت رسول کی   روزِ جزا میں صرف عقیدت کے عوض میں تُم پائوگے اے مومنو جنت رسولؐ کی   مایوس دِل کو حوصلہ دیتا ہوں اس طرح قسمت میں پنچھیؔ تھی نہیں خدمت رسولؐ کی   سردار پنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ، کھنہ پنجاب موبائل نمبر؛9417091668  

ماہِ رمضاں

ہو گئے لمحے سہانے ماہِ رمضاں آگیا کھل گئے رب کے خزانے ماہ ِرمضاں آگیا    غرق ہیں محوِ عبادت تشنگی کے دشت میں  صوم وتقویٰ کے دیوانے ماہِ رمضاں آگیا    فرقتوں کو مل گئے محبوب یزداں کے طفیل وصل کے لاکھوں بہانے ماہ رمضاں آگیا    عطر سے لبریز ہیں ارض و سما کی وسعتیں  خوشبؤں کے تانے بانے  ماہ رمضاں آگیا    بس درودوں کے سلاموں، فکر کے اذکار کے چار سو ہیں شادیانے  ماہ رمضاں آگیا    بخششوں کی یوں فراوانی ہے بھر دو جھولیاں  داغِ عصیاں ہے مٹانے  ماہ رمضاں آگیا    ریگزاروں میں بلاتے ہیں علی شیداؔ تجھے رحمتوں کے شامیانے ماہ رمضاں آگیا    علی شیداؔ  نجدون نیپورہ اسلام آباد،   موبائل&nbs

ڈور

 انجانی ان دیکھی ڈور  دل سے دل کو جوڑے  ڈور  جب جب رشتے ہوں کمزور تھوڑے تھوڑے جوڑے ڈور   مل کر بھی ہم مل نہ پائے  اب بھی اس تک کھنچے ڈور دل کی کسک نہ دل سے جائے   گر دل کو نہ سہلائے ڈور   جسپال کور نئی دلی، موبائل نمبر؛8800503987  

ماہِ رحمت

عظمتِ رمضان المبارک  بخشش کا رحمتوں کا عظمت کا یہ مہینہ مومن کو ہو مبارک رحمت کا یہ مہینہ   قران جیسی دولت اس میں عطا ہوئی ہے  بیشک ہے بالیقیں ہے نعمت کا یہ مہینہ   دیکھو بہت ہی خوش ہیں مسکین اور غرباء خوشیوں کو ساتھ لایا عظمت کا یہ مہینہ   اے عاصیو کرو تم اب اپنے رب کو راضی اس نے عطا کیا ہے قربت کا یہ مہینہ   ایماں کی خوشبوؤں سے مہکی ہوئی فضا ہے آیا ہے دیکھو ارشد ؔنکہت کا یہ مہینہ   محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی موبائل نمبر؛9259589974   ہو گیا مہینہ ٔ مُبارک  پھر شروع رمضان کا ہو گیا مہینہ مُبارک پھِر شروع رمضان کا خیر مقدم اِس کا کرنا فرض ہے اِنسان کا اہلِ سُنت اِس کو کہہ دو یک زباں خوش آمدید تیس دِن دیدار کر لو آپ اِس مہمان کا فیض سے اِس ک

ماہِ رمضان

  رحمتوں کا، برکتوں کا ہے مہینہ ماہِ رمضان بندگی اور حاجتوں کا ہے مہینہ ماہِ رمضان خوابِ غفلت چور کرنے آ گیا ہےماہِ رمضان ہر گنہ سے دور کر نے آ گیا ہے ماہِ رمضان ہر گنہ سے پاک ہے ماہِ مبارک ماہِ رمضان ہر طرح بے باک ہے ماہِ  مبارک ماہِ رمضان رحمتوں کا ہے مہینہ اور عبادت کا مہینہ اپنے رب سے لو لگانے اور سخاوت کا مہینہ میرے مولیٰ نے عطا کر جو دیا ہے ماہِ رمضان ہر بلا سے دور رہنے کو ملا ہے ماہِ رمضان ہو مبارک چار سو میں رونقیں،پھیلی ہوئی ہیں  ہو مبارک رحمتیں اور برکتیں ،پھیلی ہوئی ہیں    یاور حبیب بڈکوٹ راجوار، ہندوارہ موبائل نمبر؛ 6005929160  

قطعات

لوگوں نے مجھ کو دوست کا درجہ نہیں دیا کی دشمنوں سے بھی وفا رتبہ نہیں دیا گُم کردیا ہے جن کو مایا جال نے سعیدؔ اُن شاہوں نے کسی کو سہارا نہیں دیا ۔۔۔   دل کی دنیا میری آباد ہے برباد نہیں کسرتِ غم ہے میرے پاس میں ناشاد نہیں جیتے جی اُمیدِ شفا کیسے کروں میں طبیب میرے ناسورِ محبت کی دوا ایجاد نہیں ۔۔۔۔   پلکوں پہ آنسوئوں کا سیلاب رکھتا ہوں اُداسی کو اسی طرح میں شاداب رکھتا ہوں عمر ساری کاٹ لی ہے بے حساب سعیدؔ وقتِ آخر لمحوں کا حساب رکھتا ہوں   سعید احمد سعیدؔ احمد نگر، سرینگر موبائل نمبر؛9906355293      

ڈگری کالج بھدرواہ کے نام

کس قدر نم ہے مری آنکھ تجھے پانے پر اور یہ دل تو مچلتا ہی چلا جاتا ہے تیری جانب کو لپکتے ہوئے خوش رو چہرے اس یقیں سے کہ انہیں تجھ سے سکوں حاصل ہو ان کو امید ہے اس تری عطا کردی سے کہ یہ سب لوٹ کے مایوس نہیں جائیں گے دیکھتا بھی ہے کوئی رب کی عطائیں ، کہ نہیں کس طرح اس نے تجھے علم کا زیور بخشا ہو بیاں کیسے کہ یہ تیرے حسیں کوزہ گر کس طرح خاک سے انسان بنا لیتے ہیں جس جگہ طفلِ جہاں تھک کے ٹھہر جاتے ہوں یہ وہاں اک نیا امکان بنا لیتے ہیں کتنے دلکش ہیں ترے باغ میں کھلتے ہوئے پھول جیسے بدلی سے کوئی چاند نکل آتا ہے کیا کہوں کیسی ملائم ہے ترے لان کی گھاس دل مچلتا ہوا اک پل میں بہل جاتا ہے یہ ترے صحن میں سالوں سے کھڑا ایک چنار تیرے بچوں کی نگاہوں کو سکوں دینے کو سبز ہوتا ہے ، کبھی سرخ ہوا جاتا ہے چار جانب سے پہاڑوں کی قطار

نظم

ساگر سے اُٹھ کر  بادلوں سے نکل کر چہچہاتے ہوئے لہراتے ہوئے کچھ گاتے ہوئے کچھ گنگناکر مستیوں میں ہوائوں سے لپٹ کر رات کی تنہائی میں اُن کی یادوں کے چراغوں میں آس پاس کی آلودہ ہوا سے چُھپ کر بارش کی بوند نے بام سے اُتر کر بلبل کے آشیانے میںدیکھا سکینہ رقص کررہی ہیں   سکینہ اختر کرشہامہ، کنزر ٹنگمرگ موبائل نمبر؛ 7051013052

نظمیں

وبا صورت مہنگائی  گراں بازاری کا عالم،بہت دشوا جینا ہے حمالِ وقت کے رُخ پہ نہیں سوکھے پسینہ ہے معمر آج کہتے ہیں غلامی لاکھ بہتر تھی ہوئے آزاد ہم لیکن ہُوا کیا چاک سینہ ہے جمیعت چند اُمرا کی وطن میں عیش کرتی ہے دریدہ تن کہیں رادھاؔ، کہیں دیکھو زرینہؔ ہے ہے بیٹھا چشمِ نم دہقاں، کنارے اپنے کھیتوں کے ہے ڈُوبا اُس کی محنت کا سراسر اب سفینہ ہے فریبِ زیست کھا کھا کر یہ خود سوزی بھی کرتا ہے لئے پھرتا ہے کاندھو پہ یہ غُربت کا دفینہ ہے عجب آسیب صورت کیا یہ مہنگائی کی مورت ہے کرے یہ نیم بسمل ہے بڑی ظالم حسینہ ہے عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 9697524469     ہے کِس قدر  شیطان بھی حیران کچھ کھول کر آنکھیں ذرا انسان دیکھ ہورہا ہے کیا یہاں ہر

نعتیں

نعت جِسے بھی خوف ہو روزِ جزا کا وہ دامن تھام لے خیرالوریٰ کا   ذرا چُومو تو در غارِ حِرا کا پتہ مِل جائے گا بادِ صبا کا   جو پیاسی رُوح کو تسکین دے دے تِرا کلمہ ہے وہ جھونکا ہوا کا   محمدؐ پر بھروسہ کرکے دیکھو صِلہ مِل جائے گا تُم کو وفا کا   ہزاروں پاپ دھو دیتا ہے پَل میں اِشارہ اِک محمد مصطفےٰؐ کا   سردار پنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیہ کوٹلہ اوڈ، کھنہ، پنجاب موبائل نمبر؛94170191666      آغوشِ محمد ﷺ سوائے بارگاہِ رب کہیں راحت نہیں  پائی اگر پائی کہیں میں نے ، تو آغوشِ مُحمد ؐ میں     مُحمدؐ نام سُنتے ہی شیاطیں کانپ اُٹھتے ہیں  بَلَندی کے گُہَر پنہاں ہیں  پاپوشِ مُحمدؐ میں    ابوبکرؓ و عُمرؓ فاروق ، عُثماں

_دیوار

 سناتن دیش میں اپنے  پرکھوں کا زمانہ یاد کرکے میں اکثر سوچتا ہوں یہ ہمارے درمیاں دیوار کس نے کھینچ دی ہے !!   احمد کلیم فیض پوری گرین پارک بھساول مہاراشٹر موبائل نمبر؛ 8208111109  

’’نونہالانِ کاشمیر کے نام‘‘

ن و ن ہ ا ل ا ن ک ا ش م ے ر ک ے ن ا م نہ ہوتا موجدِ عالم تو ہوتے ہم کہاں بچّو وہ واحد ہے، نہیں اُس کا شریکِ شکل کوئی بھی  نفاست اُس کی بالا ہے بلند اس کی خیالی ہے ہُوا اُس کے بدولت ہے ظہورِ دو جہاں۔ مانو! ازل سے تا ابد اس کی عنایت ہم پہ ہے جاری مزہ آتا جو جیتے جی اسے گر دیکھ لیتے ہم سکون و امن اور راحت پلٹ کر آپ آتی پھر نگہ میں اس کی رہتی ہے جہانوں کی جہاں بانی کوئی جب کِشت کشیپ کی جہاں میں بات کرتا ہے اُبھرتا اس کی آنکھوں میں یہی کشمیر ہے یکتا شباہت شان و شوکت اور شہرت دیکھ کر اس کی مرا دامن یقینا یوں بہ قدرِ شوق بھر جائے یہ جنت میرے بچّو کیوں ہمیں از خود کھٹکتی ہے ربابِ زیست کی تانیں یہاں مغموم ہیں کیونکر کہا کرتی فضائیں اب جہاں کے دوربینوں سے