تازہ ترین

نظمیں

آخر کب تک؟ باپ کی آنکھوں سے بہتے اشکوں کے دھارے ماتم کرتی ماں بیچاری آخر کب تک؟ فصلِ گْل پر بادِ خزاں کی پہرے داری گلعذاروں کی آزاری آخر کب تک؟ کوڑی پا کر صحنِ چمن کو گروی رکھنا حق داروں سے یہ غداری آخر کب تک؟ شعلہ فگن ہتھیاروں کی یہ دوڑا دوڑی سبزہ زاروں پر بمباری آخر کب تک؟ مرحم کے وعدوں پر سینے چھلنی کرنا جھوٹی تسلی اور مکاری آخر کب تک؟ پرچم اوڈھی لاشوں کی خود کام نمائش اخباروں کی مینا کاری آخر کب تک؟ مذہب کو ہتھیار بنا کر دنگے کرنا گلی گلی یہ مارا ماری آخر کب تک؟ کمسن بچے کے سر سے یہ اٹھتے سائے بیواؤں کی ماتم داری آخر کب تک؟ مفلس تنکے کو ترسے تُو موج منائے ایسی بے دردانہ زرداری آخر کب تک؟ اپنے ہی ہاتھوں سے  اپنے گھر کو جلا کر بیگانوں کی خاطر داری آخر کب تک؟ درد چھلکتا آنکھوں میں ا