تازہ ترین

نظمیں

رخصتی بارش گُل ہورہی ہے ہورہا ہے اہتمام جھوم اُٹھے غنچہ و گل ہے صبا محوِ خرام اس طرح مصروف ہے ہر اک برائے انتظام ہے ہنسی لب پر نظر میں کیف دل ہے شاد کام حُسن کو نیرنگیاں ہم جولیوں کے درمیاں جیسے ہوتاروں کے جھرمٹ میں حسیں ماہِ تمام پھول سے ہاتھوں میں مہندی کی شفق کہتی ہے یہ ان حسیں ہاتھوں میں آنے کو ہے اک تازہ نظام ہے عروسِ خوب رو کے سر پہ عزت کی رِدا نورپیشانی پہ آنکھوں میں حیاء و احترام آج بھی بچپن تیرا اٹکھیلیاں کرتا ہوا میرے دل کی وسعتوں میں کھیلتا ہے صبح و شام تیری قسمت کا ستارہ جگمگاتا ہی رہے رخصتی بابل سے تیری ہو بہ صدہا احتشام  اے عروسِ نو دعا، ہے یہ میری کہ تُو رہے شاد کام و شاد کام و شاد کام و شاد کام کچھ محبت کے ہی موتی ہیں بشیر آثمؔ کے پاس ہے قوی اُمید کہ آئیں تیرے تحفے کے کام   

تازہ ترین