دُعا

مولیٰ تُو کرلے سبھوں پہ کرم مٹیں ساری دنیا سے رنجم و الم   ہے سجدے میں سر اور زباں پہ دُعا مولیٰ میں طالب ہوں رکھنابھرم   نیا سال آیا کورونا کے بیچ ہمیں بس ضرورت ہے تیرا کرم   وہ ملنا ملانا ہو پھر سے شروع سجے دل کی محفل، ہوں جذبے گرم   کسی سے نہ ہو کوئی پھرسے جدا سحرؔ کو بھی رکھنا تو خوش و خرم   ثمینہ سحر ؔمرزا بھڈون راجوری

نظمیں

سالِ نو مُتفرقات آ گیا ہے پھِر سے عُشاقؔ سالِ نو لے کے آئے گا یہ اپنا حالِ نو آنے والے کل سے ہم محرم نہیں کیسی ہوگی اس کی آگے تالِ نو ��� سالِ نو سے اب یہی اُمید ہے یہ کہ رکھے گا ہمیں مستِ خرام شاعری کے شوق کو ہم چھوڑ کر زندگی باقی گزاریں زیرِ بام ��� لاکھ بہتر ہے کہ اب سو جائیں ہم خوابِ شیریں میں کہیں کھو جائیں ہم زندگی ہے خود بخود پُلِ صراط اس سے بھی دو چار تو ہو جائیں ہم   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 9697524469     آرزو سورج کی  کتنی لمبی سیاہ رات ہے یہ اب تو کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں نیند آنکھوں میں جاگتی ہے مگر خواب کوئی دکھائی دیتا نہیں ذراسی دیر کو اترا تھا چاند دھرتی پر مگر وہ جھیل کے

نعت

تمنا ہے مدینے میں بھی جائوں وہاں کی نوری بارش میں نہائوں   کرو ذکرِ نبیؐ اے اہلِ محفل میں ہونٹوں کو درودوں سے سجائوں   مجھے اَزبر ہو عشقِ مصطفےٰؐ یوں کہ اُس کے آگے سب کچھ بُھول جائوں   مجھے کب ہو گا دیدارِ مدینہ خدایا دل کو میں کب تک منائوں   میں کیسے چھوڑ دوں دربارِ آقاء میں کیونکر ٹھوکریں در در کی کھائوں   نظر میں رکھ کے کردارِ صحابہ سلیقہ جینے کا خود کو سکھائوں   پِروکر سنتیں اپنے عمل میں اے زاہدؔ زندگی اپنی بنائوں   محمد زاہد رضاؔ بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج،  بھدوہی۔یوپی 9451439786

نظمیں

اُلجھن حوصلوں نے دم توڑا سانس لینا بھی مشکل ہے کوئی یہ بتائے کہ لوگ درد کہاں چْھپاتے ہے اب زندگی سے کیا شکوہ سب کچھ تو بکھرا پڑا ہے ظالم تُو بس رکنا مت ابھی مجھ میں زندگی باقی ہے چھین لو وہ سانسیں پھر سے جو مجھ میں ابھی باقی ہیں اْف نہ کروں گا میں کبھی جان میری تو حاضر ہے جدا کر دے روح میری جو جسم میں میرے قید ہے   سید عامر شریف قادری کاپرن شوپیان موبائل نمبر؛9797535210 aamirsharief45@gmail.com     کوئی مسیحا آئے کیوں بے بس تو ہے انسان تیرا، شکوہِ زبان پہ لائے کیوں واقف ہے تُو ہر حال سے، کوئی تجھے بتائے کیوں ہر آتی جاتی سانس بھی، قبضے میں ہو جِس ذات کے پھر سامنے اُس ذات کے، بندہ نہ سر جُھکائے کیوں ہر ایک رُروح مجروح ہے، چھلنی ہے ہر جگر یہاں گہرے ہمارے گھاؤ ہ

نظمیں

کیا کمالِ غضب  سُخن کے ساگر میں دُر نایاب ہیں سُخن کو پانے کے لئے بیتاب ہیں ایک مُدّت سے ہیں سب محوِ تلاش کیا غضب کے اِن کے دیکھو خواب ہیں سعیِ کامل کی بدولت دیکھئے ہیں یہی مہرِ سُخن مہتاب ہیں اِن میں کوئی ہے نہیں اب تشنہ کام مست سب پی کر مئے نایاب ہیں ان میں شامل جو بھی ہیں پامالِ شوق چل رہے وہ جانبِ گرداب ہیں خواب میں اُن کو نظر آتا ہے طور کیا خیال خام اُن کے خواب ہیں سُخنِِ کم تَر کو کہاں ہوگا نصیب خواب اُس کے عارضی محراب ہیں اس پہ دعویٰ ہے کہ ہم شہباز ہیں یہ تو عُشاقؔ مصنوعی سُرخاب ہیں   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 969752446      الوداع اے سال 2020 الوداع اے سال سالِ یاد

کوڑے دان

اونچے اونچے محلوں میں رہنے والے اے اونچے لوگو  آپ نے کھانا کھایا کیا؟ لو! میں بھی پاگل ٹھہرا جو یہ آپ کو آکے پوچھ رہا ہے آپ نے تو کب کا مزے سے کھایا ہوگا کیسا ہوتا ہے یہ آپ کا شاہی کھانا؟ خوب مزہ آتا ہوگا نا کھاتے کھاتے اس میں شامل طرح طرح کے پکوان ہوا کرتے ہونگے نا؟ دودھ، دہی، تندوری مرغا، مٹن پلاؤ، رستے، گوشتابے، کورما،شورما ، تری ، ترکاری، نان کھٹائی ، پھل و مٹھائی سب شامل ہوتے ہونگے نا؟ خیر! مجھے پڑوسی ہونے کے ناطے نہیں پوچھو گے تم نے کھانا کھایا ہے؟ نہیں پوچھتے آپ کبھی بھی آپ نہیں مانو گے لیکن میں بھی آپ کا ہمسایہ ہوں میں بھی آپ کے ساتھ اسی بستی میں ہی رہتا ہوں سنو! وہ جو چوک کے بیچوں بیچ بڑا پُل ہے نا جسکے پاس میونسپلٹی کے بڑے بڑے وہ کوڑے دان لگے رہتے ہیں اکثر جن میں آپ کی بستی کا سب

نظمیں

سُخن کا پمپوش نہیں مَیں بیٹھا کبھی جہان میں خاموش نہیں مَیں دیتا ہوں خود کو اس لئے ہی دوش نہیں مَیں کرنے کو یوں تو کر گیا کارِ حیات سب قلب حزیں کو دے سکا سنتوش نہیں مَیں پیتا ہوں روز عرق میں دیوانِ داغؔ کا لیکن ہنوز تشنہ ہوں، مدہوش نہیں مَیں رہتا ہوں غرق رات دن اپنے خیال میں میخوار گو ہوں رندِ بلا نوش نہیں مَیں ہنگامہ ہائے زیست کے آتش کدے میں دوست شعلوں سے ہم کنار ہوں روپوش نہیں مَیں یاں صحبتِ آزادؔ و عابدؔ ہوئی نصیب صد حیف مگر ان کا ابھی ہم دوش نہیں مَیں پھِر بھی کئے دیوان در دیوان مرتّب عُشاقؔ سُخن کا بھلے پمپوش نہیں مَیں   عشاق کشتواڑی کشتواڑ، حال (جموں)موبائل نمبر؛9697524469      اجنبی رات   رات پگھلتی رہی تيری آغوش ميں،  سرد آہوں ميں تُم ميرا  &nb

نعتِ رسولﷺ

خوشبوؤں میں بسو دوستو نعتِ آقا پڑھو دوستو سنّتوں کے مطابق ہووہ کام جو بھی کرو دوستو بھرلو سینوں میں دردِ نبی اور ہنستے رہو دوستو رکھ کے وردِ زباں یاعلی آفتوں سے بچو دوستو آج دل مضطرب ہے بہت ذکرِ طیبہ کرو دوستو کامیابی اگر چاہئے سنتوں میں ڈھلو دوستو بھر چکا ہے زمانے سے دل اب مدینے چلو دوستو عشقِ احمد میں ہوکر فنا پھول بن کر کِھلو دوستو   محمد زاہد رضابنارسی دارالعلوم حبیبہ رضویہ گوپی گنج،  بھدوہی۔یوپی۔بھارت  

نظمیں

چار دن بے سبب میرا مر جانا چار دن بے سبب ہے اُبھر آنا  چار دن   سن لیا اک ہا اور ہو خاموشیوں سے گفتگو پھر زندگی کا دستِ رفو  ہر اک شئے سے مکر جانا چار دن   خود سے بھی ڈر کے دیکھ لیا اور مر جانا مر کے دیکھ لیا کیا کیا نہ کر کے دیکھ لیا بے سبب ہی سدھر جانا چار دن   کچھ تو اے منزلِ بے نشاں مجھ پہ بھی کرم کا امتحاں کوئی سراب ہی تو مہرباں  بے سبب ہی ادھر جانا چار دن   شہزادہ فیصل ڈوگری پورہ، پلوامہ موبائل نمبر؛8492838989     آگے رواں دواں  شیطان بن چکا ہے اب پاسباں ہمارا ہم رازداں ہیں اُس کے، وہ رازداں ہمارا   ہر سوچ ہے شیطانی، ہر دِل میں بے ایمانی  آگے رواں دواں ہے یوں کارواں ہمارا  

نظمیں

نظم   خواب تو خواب ہیں زاغ بیٹھے ہیں سینہ تانے یہاں کائیں کائیں بھی ان کی چاروں طرف ساراجنگل ہی دسترس میں ہے اور قوت کہ چونچ میں ان کی ہم کہ  بے گانہ سب جہانوں سے ایک دیمک زدہ سی شاخ پہ ہے آشیاں جانے کس زمانے کا   دل میں لہراتا اک شکستہ سوال پیڑ پودوں پہ سبز پتوں کی جانے کب وہ بہار آئے گی آرزووں میں جس کی جیتے ہیں   خواب تو خواب ہیں علاج کہاں؟ گر نہ ہوگی کدال ہاتھوں میں سبزہ دیوار پر نہیں ہوگا  !!   احمد کلیم فیض پوری گرین پارک ، بھساول موبائل نمبر؛8208111109           ہارون کی ایک شام سُرمئی شام کے دُھندلکے میں اَبر پارے فضا میں بِکھرے ہیں مست بُوندیں ہوا کے شانوں پر ایسے رقصاں ہیں جیسے پی لی ہ

نظمیں

گمشدہ پڑاؤ ۔۔۔ دہلیز سے اترنے کی دیر تھی پگڈنڈی نے دامن پکڑ لیا  عشق کی کچی ڈگر تک لے آئی خوبصورت کچی ڈگر  دونوں اطراف کاسنی پھولوں کی رنگت  خوشبؤں کی معصومیت  کچی ڈگر کے معدوم آخری سرے تک کا لایعنی احساس پختہ سڑک تک کھینچتا لے آیا  دھوپ کی تمازت سے سنگ مرمر  سا بدن پگھلنے لگا آرزؤں کی تتلیاں اُڑان بھرنے لگیں  وصل کےبھونرے ہوش کھو بیٹھے  میں خود سے بچھڑتا گیا فنا کی وادیوں سے گزرتا ہوا نکلا  آدمیت کے دشت میں خاک اُڑاتے ہوئے ہجر کے موسم کی زردیاں  سمیٹے   فرشتوں کے جزیرے پہ آکے ٹھہر گیا ایک رومی چھایا سے مدھ بھرے گیت کے حروفِ ناز کی شبنمی بوندیں ٹپکی  خرقہ ء تبریزی سے دستِ گماں نکلا  اور

فرشتے آپ تھے شادان

پڑا جب واسطہ میرا جہانِ آسمانی سے خلائق پیش آئے واں بہت ہی قدردانی سے عجب اِس باغِ ہستی میں فضائے بوئے گل پائی چلا کرتھی جو اکثر وہاں کیا شادمانی سے ملائک خیمہ زن پائے فضائے بزم انجم میں جگر محضوظ ہوتا تھا کیا اُن کی دُرفشانی سے نہیںکچھ خستہ حالی کا وہاں نام و نشان پایا گُذر ہوتے تھے دن اپنے بصورت کہکشانی سے نہیں مسجد و مندر کا وہاں پر کوئی جھگڑا تھا وہاں پر روح کا رشتہ فقط تھا لامکانی سے چھلکتے میں نے دیکھے ہیں وہاں جام و سُبو اکثر وہاں توحید کے ساگر تھے ہمگو بے کرانی سے  وفورِ کیف و راحت میں جو دیکھا دیدنی منظر مئے گُل گوں برستی تھی فضائے آسمانی سے ثبات و بے ثباتی سے میں تھا آزادواں یکسر فرشتے آپ تھے شاداں مرے کارِگرانی سے   عشاق کشتواڑی  کشتواڑ، موبائل نمبر؛9697524469  

نعتیں

نعت نبی ﷺ جو ڈوبی نبی کے بیانوں میں ہیں گلستاں کھلے ان زبانوں میں ہیں   ہمیں بھی مدینے کا دیدار ہو کہ ہم بھی تو ان کے دِوانوں میں ہیں   فقط نعت کا ذکر کیا کے نبی   نمازوں میں ہیں اوراذانو ں میں ہیں   ہواکرتا ہے جن میں ذکرِنبی بڑی برکتیں اُن مکانوں میں ہیں   نبی کی میرے عظمتیں دیکھیے نشانِ قدم آسمانوں میں ہیں    نبی کے سوا کوئی اپنا نہیں وہی تو فقط کل جہانوں میں ہیں   تجھے جو اے زاہدؔ ہیں آقاملے وہ تو مہرباں مہربانوں میں ہیں   محمد زاہد رضابنارسی  دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج,   بھدوہی،اترپردیش۔انڈیا     نعتِ محمدﷺ سرمایٔہ حیات ہے نعتِ محمدؐ خو شبوئے کائینات ہے ذات ِ محمدؐ   لاریب معنبر

قُطبی ستارے سے

اے ستارے کس کے سینے کا سُلگتا راز تُو ہے خلائوں میں کِسی کی مُنجمد پرواز تُو   اِستقامت اور یکسوئی پہ تُجھ کو ناز ہے گردشِ افلاک سے بھی لیک سازو باز ہے   ایک نامعلوم مدت سے فلک پر تُومُقیم شاہدِ ہستی ارادہ آپ کا کتنا صمیم!   تُوتماشائی مگر ہر آنکھ کی منز ل ہے تُو ناخُدا کا بحرِ پُر امواج میں ساحِل ہے تُو   عظمت و شہرت ملی تُجھ کو جہاں کی دید سے تُو نے کچھ مانگا نہیں ہے پرتوِ خورشید سے   سوزِ دل کی آگ سے ہی آج تک جلتا ہے تُو اپنے اندر کے شراروں پر مگر پلتا ہے تُو   تُجھ میں اُکتاہٹ نہیں ہے گردش ایام سے تو ابد کی صُبح تک ہے اِبتداء کی شام سے   یوسف نیرنگ بوگنڈ، کولگام، کشمیر،موبائل نمبر؛9419105051  

ماں

اک نام ہے سب سے پیارا، ماں! کیا خوب ہے میرا سہاراماں اپنے چہرے پر ہرہرپل دکھلائے نیا نظارا ماں ہے آس کی گہری جھیلوں میں مضبوط ہمارا شکارا ماں ہر سُو جس سے روشن ہو ہے ایسا ایک ستارہ ماں دُکھ بچوں کے پل بھر کے لئے کرتی ہی نہیں ہے گوارا ماں؟ چاہوں نہ میں رنگ اور کوئی ست رنگی میرا فوارہ ماں پھر لوٹ کے آتی نہیں سحرؔ زیست میں کوئی دوبارہ ماں   ثمینہ سحرؔ مرزا بڈھون ، راجوری

نذر علی گڑھ

اے علی گڑھ تو ہے علم و فضل کا روشن منار تیری عظمت پر یقینا ایک عالم ہے نثار روشنی پھیلی یہاں سے تا بہ خاک کاشغر چھٹ رہا ہے جہل کی تاریکیوں کا ہر غبار ہے خمیدہ آسمان علم و دانش کی جبیں تیری شادابی سے پھیلی باغ عالم میں بہار خوشہ چینوں کے لیے یکجا یہاں دیر و حرم زاہدوں کی دھن پہ رقصاں گردش لیل و نہار علم ہی تار نفس ہے علم ہی گہنائے زیست آرہی ہے دم بہ دم یہ لوح سید سے پکار ذرے ذرے سے ہے تہذیب و تمدن کا نمود چومتا ہے خاک پائے علم و دانش رہ گزار اک صدی سے نور علم و آگہی تو نے دیا قوم و ملت پر کیا احسان تونے بے شمار ہر گھڑی یاں ساغر علم و ادب میں غوطہ زن خاک کے ذروں میں تیرے دین و دنیا کا شرار ہے مٹائی کاروان شوق نے یاں تشنگی تو نوید فتح و نصرت علم و فن کا شہسوار ہوگئے کتنے یہاں اہل خرد اہل جنوں عاشقوں کے واسطے یہ

نظمیں

فرشتے آپ تھے شاداں    پڑا جب واسطہ میرا جہانِ آسمانی سے ملائک پیش آئے واں بہت ہی قدردانی سے عجب اس باغِ ہستی میں فضائے بُوئے گُل پائی چلا کرتی تھی جو اکثر وہاں کیا شادمانی سے نہیںکچھ خستہ حالی کا وہاں نام و نشان پایا گُذر ہوتے تھے دن اپنے بصورت کہکشانی میں نہیں مندر و مسجد کا وہاں پر کوئی جھگڑا تھا وہاں پر رُوح کا رشتہ فقط تھا لامکانی سے چھلکتے میں نے دیکھے ہیں وہاں جام وُسبو اکثر وہاں توحید کے ساگر تھے ہمگو بیکرانی سے دفورِ کیف و راحت کے تھے ہر سُو دیدنی منظر مئے گُل گوں برستی تھی فضائے آسمانی سے ثبات و بے ثاتی سے میں تھا آزادواں یکسر فرشتے آپ تھے شاداں مرے کارِ گرانی سے   عشاق کشتواڑی کشتواڑ،موبائل نمبر؛9697524469     انسان بھی سدھرنے کو تیار کہاں ہے   انسان

نظمیں

استدعا پرندوں کو یہاں پرواز کی طاقت عطا کر  انہیں پھر  آسمانوں کا سفر دے شکستہ گھونسلوں کی پیاس کب تک پہاڑوں سے پرے بھی آشیاں دے کہ جس مٹی سے ان کا واسطہ ہے نمو اس کو عطا کر یہ خود جوتیں زمینِ دل کو نیزے کی انی سے اُگائیں فصل پھر اپنی اَنا کی  انہیں دے حوصلہ گزرے دنوں کا کہ فتح و کامرانی سرخ روئی ملا کرتی تھی جب زخمی پروں سے   احمد کلیم فیض پوری گرین پارک، بہوسوال، مہاراشٹرا موبائل نمبر؛8208111109     لخطِ جگر   ابراہیم لنکن کا خط اپنے بیٹے کے استاد کے نام   سیکھناہوگا اسے کہ لوگ سارے ہوتے نہیں عدل و صداقت کے فرشتے سکھاؤ اسے کہ ہر غنڈے کے مد مقابل ہوتا ہے اک نجات دہندہ ہر خود غرض سیاست داں کے مد مقابل ہوتا ہے اک پر خل

مُناجات

نظرِ رحمت مجھ پہ یارب ہو سدا کے واسطے کون ہے تیرے سوا مجھ بے نوا کے واسطے دردِ دل میں مبتلا ہوں عافیت کیجے عطا کر رہا ہے دل دعا تجھ سے شِفا کے واسطے روزِ محشر جس گھڑی ہو دل پریشاں آنکھ نم ظِلِّ ربّانی ہو مجھ بے دست و پا کے واسطے بھر گیا ہے اب گناہوں سے مِرا ظرفِ دروں مغفرت کر دے مِری جُود و سخا کے واسطے میں رسولِ محترمؐ کا داغدارِ  پُر خطا بابِ رحمت کھول دے مجھ بے نوا کے واسطے دستگیری  کر ہمیشہ  اے خدائے لم یزل کر عطا کچھ کام جو آئے سدا کے واسطے دیدروئے شافعِ محشر سے کر دے فیضیاب دل شکستہ جو کرے تجھ سے دعا کے واسطے بھر دے یارب سینہ ٔجاہل شفائیؔ علم سے نور بھی کر دے عطا پھر مصطفیٰؐ کے واسطے    ڈاکٹر شکیل شفائیؔ بمنہ/سرینگر

سنُو ذرا

سُنو ذرا کُون ہو تم  کیوں ہو مجھ سے یُوں مخاطب ؟ تیرے ہاتھ میں یہ قلم و کاغذ  کیا کوئی درد لکھنے جارہے ہو ؟ کیا درد تحریر ہو پا رہے ہیں؟   سُنو ذرا  اگر ہو محبتوں کی کتاب لکھنا  ساتھ میں وفا کا نصاب لکھنا  نہ ہی بدلنا تیور  نہ کبھی اپنا لہجہ  خزاں کی رُت میں بھی  لہجہ اپنا گُلاب لکھنا  سنُو اگر ہو کچھ وقت کو لکھنا  تو وقت سے یہ کہہ تم دینا  کہ میری آنکھوں میں نیا خواب نہ دینا  پھر مجھے رتجگوں کا  عذاب نہ دینا  کہ میں ہوں اِک حساس سی لڑکی  خاموش اور اداس سی لڑکی  گُماں میں رہنا نہیں گوارا  حقیقتوں میں ہوں میں رہتی  حساسیت نے ہے مجھ کو مارا  بےتحاشہ ہوں میں سُوچتی  درد دلوں کے ہوں

تازہ ترین