تازہ ترین

نظمیں

انسانیت کہاں ہے؟   انسان کو انسانیت کا پاس نہیں ہے   انساں کے احترام کا احساس نہیں ہے اب تو کدورتیں ہی دلوں میں ہیں خیمہ زن   آتی انہیں صفائی ہی اب راس نہیں ہے دنیا میں اب نہیں رہا وہ پیار و محبت   اس کی کہیں وہ بو نہیں وہ باس نہیں ہے ناپید ہو چکے ہیں اب اخلاق و مروت   دنیا میں پھر یہ آئیں یہ بھی آس نہیں ہے طاقتوروں کا ہے یہ جہاں ظلم سے بھرا   کیسے بچیں کہ کچھ ہمارے پاس نہیں ہے ذہنوں میں بد دماغیاں ہوں جب بھری ہوئی   انسانیت پھر آتی انہیں راس نہیں ہے با اختیار تو بہو ہی اب ہے گھروں میں   کوئی سسر نہیں ہے کوئی ساس نہیں ہے دنیا و آخرت میں ہے ملتا عمل کا پھل   سچ تو یہی ہے یہ کوئی وسواس نہیں ہے کیا دل کی صفائی ہے ٹھیک یا کہ کدورت؟ &n