تازہ ترین

ڈور

 انجانی ان دیکھی ڈور  دل سے دل کو جوڑے  ڈور  جب جب رشتے ہوں کمزور تھوڑے تھوڑے جوڑے ڈور   مل کر بھی ہم مل نہ پائے  اب بھی اس تک کھنچے ڈور دل کی کسک نہ دل سے جائے   گر دل کو نہ سہلائے ڈور   جسپال کور نئی دلی، موبائل نمبر؛8800503987  

ماہِ رحمت

عظمتِ رمضان المبارک  بخشش کا رحمتوں کا عظمت کا یہ مہینہ مومن کو ہو مبارک رحمت کا یہ مہینہ   قران جیسی دولت اس میں عطا ہوئی ہے  بیشک ہے بالیقیں ہے نعمت کا یہ مہینہ   دیکھو بہت ہی خوش ہیں مسکین اور غرباء خوشیوں کو ساتھ لایا عظمت کا یہ مہینہ   اے عاصیو کرو تم اب اپنے رب کو راضی اس نے عطا کیا ہے قربت کا یہ مہینہ   ایماں کی خوشبوؤں سے مہکی ہوئی فضا ہے آیا ہے دیکھو ارشد ؔنکہت کا یہ مہینہ   محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی موبائل نمبر؛9259589974   ہو گیا مہینہ ٔ مُبارک  پھر شروع رمضان کا ہو گیا مہینہ مُبارک پھِر شروع رمضان کا خیر مقدم اِس کا کرنا فرض ہے اِنسان کا اہلِ سُنت اِس کو کہہ دو یک زباں خوش آمدید تیس دِن دیدار کر لو آپ اِس مہمان کا فیض سے اِس ک

ماہِ رمضان

  رحمتوں کا، برکتوں کا ہے مہینہ ماہِ رمضان بندگی اور حاجتوں کا ہے مہینہ ماہِ رمضان خوابِ غفلت چور کرنے آ گیا ہےماہِ رمضان ہر گنہ سے دور کر نے آ گیا ہے ماہِ رمضان ہر گنہ سے پاک ہے ماہِ مبارک ماہِ رمضان ہر طرح بے باک ہے ماہِ  مبارک ماہِ رمضان رحمتوں کا ہے مہینہ اور عبادت کا مہینہ اپنے رب سے لو لگانے اور سخاوت کا مہینہ میرے مولیٰ نے عطا کر جو دیا ہے ماہِ رمضان ہر بلا سے دور رہنے کو ملا ہے ماہِ رمضان ہو مبارک چار سو میں رونقیں،پھیلی ہوئی ہیں  ہو مبارک رحمتیں اور برکتیں ،پھیلی ہوئی ہیں    یاور حبیب بڈکوٹ راجوار، ہندوارہ موبائل نمبر؛ 6005929160  

قطعات

لوگوں نے مجھ کو دوست کا درجہ نہیں دیا کی دشمنوں سے بھی وفا رتبہ نہیں دیا گُم کردیا ہے جن کو مایا جال نے سعیدؔ اُن شاہوں نے کسی کو سہارا نہیں دیا ۔۔۔   دل کی دنیا میری آباد ہے برباد نہیں کسرتِ غم ہے میرے پاس میں ناشاد نہیں جیتے جی اُمیدِ شفا کیسے کروں میں طبیب میرے ناسورِ محبت کی دوا ایجاد نہیں ۔۔۔۔   پلکوں پہ آنسوئوں کا سیلاب رکھتا ہوں اُداسی کو اسی طرح میں شاداب رکھتا ہوں عمر ساری کاٹ لی ہے بے حساب سعیدؔ وقتِ آخر لمحوں کا حساب رکھتا ہوں   سعید احمد سعیدؔ احمد نگر، سرینگر موبائل نمبر؛9906355293      

ڈگری کالج بھدرواہ کے نام

کس قدر نم ہے مری آنکھ تجھے پانے پر اور یہ دل تو مچلتا ہی چلا جاتا ہے تیری جانب کو لپکتے ہوئے خوش رو چہرے اس یقیں سے کہ انہیں تجھ سے سکوں حاصل ہو ان کو امید ہے اس تری عطا کردی سے کہ یہ سب لوٹ کے مایوس نہیں جائیں گے دیکھتا بھی ہے کوئی رب کی عطائیں ، کہ نہیں کس طرح اس نے تجھے علم کا زیور بخشا ہو بیاں کیسے کہ یہ تیرے حسیں کوزہ گر کس طرح خاک سے انسان بنا لیتے ہیں جس جگہ طفلِ جہاں تھک کے ٹھہر جاتے ہوں یہ وہاں اک نیا امکان بنا لیتے ہیں کتنے دلکش ہیں ترے باغ میں کھلتے ہوئے پھول جیسے بدلی سے کوئی چاند نکل آتا ہے کیا کہوں کیسی ملائم ہے ترے لان کی گھاس دل مچلتا ہوا اک پل میں بہل جاتا ہے یہ ترے صحن میں سالوں سے کھڑا ایک چنار تیرے بچوں کی نگاہوں کو سکوں دینے کو سبز ہوتا ہے ، کبھی سرخ ہوا جاتا ہے چار جانب سے پہاڑوں کی قطار

نظم

ساگر سے اُٹھ کر  بادلوں سے نکل کر چہچہاتے ہوئے لہراتے ہوئے کچھ گاتے ہوئے کچھ گنگناکر مستیوں میں ہوائوں سے لپٹ کر رات کی تنہائی میں اُن کی یادوں کے چراغوں میں آس پاس کی آلودہ ہوا سے چُھپ کر بارش کی بوند نے بام سے اُتر کر بلبل کے آشیانے میںدیکھا سکینہ رقص کررہی ہیں   سکینہ اختر کرشہامہ، کنزر ٹنگمرگ موبائل نمبر؛ 7051013052

نظمیں

وبا صورت مہنگائی  گراں بازاری کا عالم،بہت دشوا جینا ہے حمالِ وقت کے رُخ پہ نہیں سوکھے پسینہ ہے معمر آج کہتے ہیں غلامی لاکھ بہتر تھی ہوئے آزاد ہم لیکن ہُوا کیا چاک سینہ ہے جمیعت چند اُمرا کی وطن میں عیش کرتی ہے دریدہ تن کہیں رادھاؔ، کہیں دیکھو زرینہؔ ہے ہے بیٹھا چشمِ نم دہقاں، کنارے اپنے کھیتوں کے ہے ڈُوبا اُس کی محنت کا سراسر اب سفینہ ہے فریبِ زیست کھا کھا کر یہ خود سوزی بھی کرتا ہے لئے پھرتا ہے کاندھو پہ یہ غُربت کا دفینہ ہے عجب آسیب صورت کیا یہ مہنگائی کی مورت ہے کرے یہ نیم بسمل ہے بڑی ظالم حسینہ ہے عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 9697524469     ہے کِس قدر  شیطان بھی حیران کچھ کھول کر آنکھیں ذرا انسان دیکھ ہورہا ہے کیا یہاں ہر

نعتیں

نعت جِسے بھی خوف ہو روزِ جزا کا وہ دامن تھام لے خیرالوریٰ کا   ذرا چُومو تو در غارِ حِرا کا پتہ مِل جائے گا بادِ صبا کا   جو پیاسی رُوح کو تسکین دے دے تِرا کلمہ ہے وہ جھونکا ہوا کا   محمدؐ پر بھروسہ کرکے دیکھو صِلہ مِل جائے گا تُم کو وفا کا   ہزاروں پاپ دھو دیتا ہے پَل میں اِشارہ اِک محمد مصطفےٰؐ کا   سردار پنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیہ کوٹلہ اوڈ، کھنہ، پنجاب موبائل نمبر؛94170191666      آغوشِ محمد ﷺ سوائے بارگاہِ رب کہیں راحت نہیں  پائی اگر پائی کہیں میں نے ، تو آغوشِ مُحمد ؐ میں     مُحمدؐ نام سُنتے ہی شیاطیں کانپ اُٹھتے ہیں  بَلَندی کے گُہَر پنہاں ہیں  پاپوشِ مُحمدؐ میں    ابوبکرؓ و عُمرؓ فاروق ، عُثماں

_دیوار

 سناتن دیش میں اپنے  پرکھوں کا زمانہ یاد کرکے میں اکثر سوچتا ہوں یہ ہمارے درمیاں دیوار کس نے کھینچ دی ہے !!   احمد کلیم فیض پوری گرین پارک بھساول مہاراشٹر موبائل نمبر؛ 8208111109  

’’نونہالانِ کاشمیر کے نام‘‘

ن و ن ہ ا ل ا ن ک ا ش م ے ر ک ے ن ا م نہ ہوتا موجدِ عالم تو ہوتے ہم کہاں بچّو وہ واحد ہے، نہیں اُس کا شریکِ شکل کوئی بھی  نفاست اُس کی بالا ہے بلند اس کی خیالی ہے ہُوا اُس کے بدولت ہے ظہورِ دو جہاں۔ مانو! ازل سے تا ابد اس کی عنایت ہم پہ ہے جاری مزہ آتا جو جیتے جی اسے گر دیکھ لیتے ہم سکون و امن اور راحت پلٹ کر آپ آتی پھر نگہ میں اس کی رہتی ہے جہانوں کی جہاں بانی کوئی جب کِشت کشیپ کی جہاں میں بات کرتا ہے اُبھرتا اس کی آنکھوں میں یہی کشمیر ہے یکتا شباہت شان و شوکت اور شہرت دیکھ کر اس کی مرا دامن یقینا یوں بہ قدرِ شوق بھر جائے یہ جنت میرے بچّو کیوں ہمیں از خود کھٹکتی ہے ربابِ زیست کی تانیں یہاں مغموم ہیں کیونکر کہا کرتی فضائیں اب جہاں کے دوربینوں سے

نظمیں

انسانیت کہاں ہے؟   انسان کو انسانیت کا پاس نہیں ہے   انساں کے احترام کا احساس نہیں ہے اب تو کدورتیں ہی دلوں میں ہیں خیمہ زن   آتی انہیں صفائی ہی اب راس نہیں ہے دنیا میں اب نہیں رہا وہ پیار و محبت   اس کی کہیں وہ بو نہیں وہ باس نہیں ہے ناپید ہو چکے ہیں اب اخلاق و مروت   دنیا میں پھر یہ آئیں یہ بھی آس نہیں ہے طاقتوروں کا ہے یہ جہاں ظلم سے بھرا   کیسے بچیں کہ کچھ ہمارے پاس نہیں ہے ذہنوں میں بد دماغیاں ہوں جب بھری ہوئی   انسانیت پھر آتی انہیں راس نہیں ہے با اختیار تو بہو ہی اب ہے گھروں میں   کوئی سسر نہیں ہے کوئی ساس نہیں ہے دنیا و آخرت میں ہے ملتا عمل کا پھل   سچ تو یہی ہے یہ کوئی وسواس نہیں ہے کیا دل کی صفائی ہے ٹھیک یا کہ کدورت؟ &n

نظمیں

آزاد کلام  یونس کی مچھلی کی قسّم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایوب کے کیڑوں کی قسم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ امتحاں تھا جس کو سب نے دیکھ لیا  احمد ﷺ کے ایذا کی قسم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو صبر سے بھی کام لیا ۔۔جیت گیا  چپکے چپکے اشک پیا ۔۔جیت گیا  مسجد میں ضربت کی قسم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ مولاعلی کے سجدے کی قسم۔۔۔۔  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف کی جدائی تھی ایک کوہِ گِراں یعقوب کی آنکھوں کی قسّم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آیا تھا اک فرمان پسر ذبِِحَ کرو ۔ براہیم کی عظمت کی قسّم  اک امتحاں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکبر جواں کی لاش۔۔اٹھاتے تھے حسین  کربل کی گرمی کی قسّم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک امتحاں سے آج بھی آدم کا گزر ۔۔۔۔ حو

نظمیں

یہ دورِچل چلائوہےاظہار کیاکریں رودِ سُخن میں بہائو ہے اظہار کیا کریں اس میں ہی رواں نائو ہے اظہار کیا کریں آتی یہی آواز ہے اب قلبِ دروں سے سوچوں میں اِک تنائو ہے اظہار کیا کریں سُنتا ہی کون آجکل ہے داغؔ و میرؔ کو یہ بھی جِگر پہ گھائو ہے اظہار کیا کریں ہے عصر میں اب خوب تر متشاعروں کی مانگ یہ نسلِ نَو کا چائو ہے اظہار کیا کریں جب ہو طنابِ وقت ہی دستِ فقیر میں ہوتا پھِر ایک بھائو ہے اظہار کیا کریں حیران ہم ہیں دیکھ کر یہ حُسنِ اِنتخاب بونوں کے ہاتھ دائو ہے اظہار کیا کریں ہوکارِ زرگری جو آہن گر کے ہاتھ میں پھر ڈوبتی سی نائو ہے اظہار کیا کریں کامت جنہیں نصیب ہے ایوانِ سُخن میں اُن کا ہی کچھ نہ بھائو ہے اظہار کیا کریں بربادیوں کا دور ہے بامِ عروج پر تہذیب کا ٹھہرائو ہے اظہار کیا کریں شہرِ سُخن شناس میں شعراء سے

نعت

میرے آقا جدھر جدھر سے گئے راستے وہ سنور سنور سے گئے   ان کے اصحاب ان کے قدموں میں  پھول بن کر بکھر بکھر سے گئے   آئی جس جس گلی سے بوئے نبیؐ عرش والے اِدھراُدھر سے گئے   یہ شریعت ہے ہوش میں رہنا جانے کتنے اگر مگر سے گئے   ذکرِ حسنینؓ لب پہ آتے ہی چہرے سب کے نکھر نکھر سے گئے   نام لیتے ہی ابن زہرا کا منھ عدو کے اُتر اُتر سے گئے   بن کے سردارِ انبیاء ؐکے غلام ہم بھی زاہد ؔسنور سنور سے گئے   محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ  گوپی گنج، بھدوہی۔یوپی۔انڈیا  

نظمیں

’’لکھے گا وقت کا مورخ ‘‘ تیری قدرت تو ہے پنہاں، فلک کے چاند تاروں میں عیاں عظمت تو ہے تیری زمیں کے سب نظاروں میں   ہیں طالب تیری رحمت کے، تیرے دربار میں آکر کھڑے ہیںسامنے تیرے، ترے بندے قطاروں میں   یہ بِن چَرواہے کا ریوڑ، چَلا یُوں جارہا جیسے نکل کر وہ چمن سے، آگیا ہو ریگزاروں میں   دَبے نیچے چٹانوں کے ہیں نالے بیگناہوں کے چُھپی چھینٹیں لہو کی ہیں یہاں کے آبشاروں میں   جو برسوں سے ہوئے ہیں لاپتہ اپنے گھروں سے وہ  نہیں معلوم زندہ ہیں کہ سوئے ہیں مزاروں میں   صفوں میں اپنی ہیں موجود ابھی کچھ کالی بھیڑیں جو سدھائیں اپنے الّو کو اِشاروں ہی اِشاروں میں   اگر اَب بھی قیادت میں ہماری یُوں رہی دوری لکھے گا وقت کا مورخ، انہیں بھی اشتہاروں میں  

آہ!شاہبازؔ راجوروی

پیری میں ہو وفات یا ہو عالمِ شباب میں گُزرے حیاتِ ہر بشر اِسی پیچ و تاب میں قبلہ عرشؔ و حامدیؔ ہم سے تو بِچھڑ گئے کِس کو گُماں تھا راحتؔ بھی گُزرے گا شِتاب میں اب دفعتاً شاہبازؔ بھی رحلت سے چار ہوگئے مطلق نہیں یہ بات تھی خیال اور خواب میں اے وائے اجل تم سے تو ہم نہ لوہا لے سکے رہتا نہیں ٹھہرائو کبھی موجۂ سحاب میں دِل چاک ہوا اور ہے آتش کدہ جِگر مرا اب سانس میری ڈوب گئی ہے بُوئے تراب میں بزمِ جہاں کو چھوڑ کر کشتِ فِداؔ کا لعل بھی بہ رنگِ شفق چھپ گیا ہے کیسے اضطراب میں مشہور شخصیت تھی تِری ایک معلم کے طور  تم نے حیات صرف کی اسی کارِ ثواب میں خطۂ پنچال میں دانشوری کا شمس تھا کُنجِ لحد میں محو ہے اب اپنے حِساب میں کتنے گِنوں میں آپ کے اوصافِ حمیدہ یہاں تو گوہرِ نایاب تھا اُردو زباں کے باب میں جو کچھ لِکھا شہبا

موت سے التجا ۔۔

میں اپنی گنہگار جوانی کو سدھاروں  اے موت پلٹ جا ایمالِ نیک سے ذرا قسمت کو نکھاروں  اے موت پلٹ جا بیتی ہے گناہوں میں سدا میری جوانی صبحِ مسا ہوئی نہ مجھ سے اشک فشانی اک بار بھی سوچا نہ کہ ہر چیز ہے فانی قرطاسِ زیست پر نہ چڑھی نیک کہانی دل میں ذرا یہ آج تو احساس اُتاروں اے موت پلٹ جا میں اپنی گنہگار جوانی کو سدھاروں  اے موت پلٹ جا دن رات جا کے کرنی ہے ماں باپ کی خدمت نیت ہو کھری میری  گندی نہ ہو فطرت کرنی ہے ترک مجھ کو اب جھوٹ کی عادت محنت کے پسینے کی بس پاک ہے دولت بگِڑی میری دنیا کو پہلے میں سنواروں اے موت پلٹ جا میں اپنی گنہ گار جوانی کو سدُھاروں  اے موت پلٹ جا آئیں نہ میرے ذہن میں نا پاک خیالات گونجیں نہ میرے دل میں عُریاں سے سوالات  رہ رہ کے میں پچتاؤں ایسے نہ ہو

حمد پاک

کاشف کو اپنی نعمتیں پروردگار دے دل میں نبی ؐکے عشق کی دولت اُتار دے   تیرے نبی ؐ کی مجھکو زیارت نصیب ہو وہ لمحۂ حسین مجھے پُر بہار دے   مخمور میری آنکھیں ہوں عرفانِ ذات سے معبود میرے ایسی ہی لیل و نہار دے   حمد و ثنا کے پھول اُگاتا ہی میں رہوں گلزارِ فکر کو میری تازہ بہار دے   اے رب ذوالجلال بفیض رسول پاکؐ اک اپنا خوف دل کو مرے بھی اُدھار دے   تاعمر سیدھی راہ پہ مجھکو چلا، خدا اپنے ہی نیک بندوں کا مجھ میں شعار دے   اظفر کاشفؔ پوکھریروی  ڈائریکٹر حامدی ایجوکیشنل ٹرسٹ  سیتامڑھی بہار  

ہاتھ اپنے ہی مل گیا سورج

 شب کے ہاتھوں پھسل گیا سورج سحر ہوتے ہی کھِل گیا سورج کتنی رونق ہے گھر کے آنگن میں پھول پتوں سے گھُل گیا سورج دشت و صحرا کو روشنی دے کر ساری ظلمت مسل گیا سورج صبح دوپہر اور پھر سہ پہر رفتہ رفتہ پھِر ڈھل گیا سورج عُمر انساں کی بھی عین ایسی ہے موت آئی تو جل گیا سورج زندہ لاشوں کو دیکھ کر عُشاقؔ ہاتھ اپنے ہی مل گیا سورج   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر:  9697524469

رات ہوتی ہے

دل سے کہو کہ سو جائے  رات ہوتی ہے عشق کے تھے چار دن عشق نے وہ کاٹ لئے زندگی بھی چار دن زندگی نہ ہو جائے  رات ہوتی ہے دل کا  دھڑکنا، کیا کروں خود سے جھگڑنا، کیا کروں یہ تیرا بگڑنا، کیا کروں  کس سے کہوں کہ سو جائے رات ہوتی ہے کیا کیا کہا جو کہہ لیا یہ اپنا جنوں جو سہہ لیا دل سے اک دریا بہہ لیا کوئی دوا تو ہو جائے رات ہوتی ہے   شہزادہ فیصل منظور ڈوگری پورہ پلوامہ موبائل نمبر؛ 8492838989