تازہ ترین

رات ہوتی ہے

دل سے کہو کہ سو جائے  رات ہوتی ہے عشق کے تھے چار دن عشق نے وہ کاٹ لئے زندگی بھی چار دن زندگی نہ ہو جائے  رات ہوتی ہے دل کا  دھڑکنا، کیا کروں خود سے جھگڑنا، کیا کروں یہ تیرا بگڑنا، کیا کروں  کس سے کہوں کہ سو جائے رات ہوتی ہے کیا کیا کہا جو کہہ لیا یہ اپنا جنوں جو سہہ لیا دل سے اک دریا بہہ لیا کوئی دوا تو ہو جائے رات ہوتی ہے   شہزادہ فیصل منظور ڈوگری پورہ پلوامہ موبائل نمبر؛ 8492838989