ماں

اک نام ہے سب سے پیارا، ماں! کیا خوب ہے میرا سہاراماں اپنے چہرے پر ہرہرپل دکھلائے نیا نظارا ماں ہے آس کی گہری جھیلوں میں مضبوط ہمارا شکارا ماں ہر سُو جس سے روشن ہو ہے ایسا ایک ستارہ ماں دُکھ بچوں کے پل بھر کے لئے کرتی ہی نہیں ہے گوارا ماں؟ چاہوں نہ میں رنگ اور کوئی ست رنگی میرا فوارہ ماں پھر لوٹ کے آتی نہیں سحرؔ زیست میں کوئی دوبارہ ماں   ثمینہ سحرؔ مرزا بڈھون ، راجوری

نذر علی گڑھ

اے علی گڑھ تو ہے علم و فضل کا روشن منار تیری عظمت پر یقینا ایک عالم ہے نثار روشنی پھیلی یہاں سے تا بہ خاک کاشغر چھٹ رہا ہے جہل کی تاریکیوں کا ہر غبار ہے خمیدہ آسمان علم و دانش کی جبیں تیری شادابی سے پھیلی باغ عالم میں بہار خوشہ چینوں کے لیے یکجا یہاں دیر و حرم زاہدوں کی دھن پہ رقصاں گردش لیل و نہار علم ہی تار نفس ہے علم ہی گہنائے زیست آرہی ہے دم بہ دم یہ لوح سید سے پکار ذرے ذرے سے ہے تہذیب و تمدن کا نمود چومتا ہے خاک پائے علم و دانش رہ گزار اک صدی سے نور علم و آگہی تو نے دیا قوم و ملت پر کیا احسان تونے بے شمار ہر گھڑی یاں ساغر علم و ادب میں غوطہ زن خاک کے ذروں میں تیرے دین و دنیا کا شرار ہے مٹائی کاروان شوق نے یاں تشنگی تو نوید فتح و نصرت علم و فن کا شہسوار ہوگئے کتنے یہاں اہل خرد اہل جنوں عاشقوں کے واسطے یہ

نظمیں

فرشتے آپ تھے شاداں    پڑا جب واسطہ میرا جہانِ آسمانی سے ملائک پیش آئے واں بہت ہی قدردانی سے عجب اس باغِ ہستی میں فضائے بُوئے گُل پائی چلا کرتی تھی جو اکثر وہاں کیا شادمانی سے نہیںکچھ خستہ حالی کا وہاں نام و نشان پایا گُذر ہوتے تھے دن اپنے بصورت کہکشانی میں نہیں مندر و مسجد کا وہاں پر کوئی جھگڑا تھا وہاں پر رُوح کا رشتہ فقط تھا لامکانی سے چھلکتے میں نے دیکھے ہیں وہاں جام وُسبو اکثر وہاں توحید کے ساگر تھے ہمگو بیکرانی سے دفورِ کیف و راحت کے تھے ہر سُو دیدنی منظر مئے گُل گوں برستی تھی فضائے آسمانی سے ثبات و بے ثاتی سے میں تھا آزادواں یکسر فرشتے آپ تھے شاداں مرے کارِ گرانی سے   عشاق کشتواڑی کشتواڑ،موبائل نمبر؛9697524469     انسان بھی سدھرنے کو تیار کہاں ہے   انسان

نظمیں

استدعا پرندوں کو یہاں پرواز کی طاقت عطا کر  انہیں پھر  آسمانوں کا سفر دے شکستہ گھونسلوں کی پیاس کب تک پہاڑوں سے پرے بھی آشیاں دے کہ جس مٹی سے ان کا واسطہ ہے نمو اس کو عطا کر یہ خود جوتیں زمینِ دل کو نیزے کی انی سے اُگائیں فصل پھر اپنی اَنا کی  انہیں دے حوصلہ گزرے دنوں کا کہ فتح و کامرانی سرخ روئی ملا کرتی تھی جب زخمی پروں سے   احمد کلیم فیض پوری گرین پارک، بہوسوال، مہاراشٹرا موبائل نمبر؛8208111109     لخطِ جگر   ابراہیم لنکن کا خط اپنے بیٹے کے استاد کے نام   سیکھناہوگا اسے کہ لوگ سارے ہوتے نہیں عدل و صداقت کے فرشتے سکھاؤ اسے کہ ہر غنڈے کے مد مقابل ہوتا ہے اک نجات دہندہ ہر خود غرض سیاست داں کے مد مقابل ہوتا ہے اک پر خل

مُناجات

نظرِ رحمت مجھ پہ یارب ہو سدا کے واسطے کون ہے تیرے سوا مجھ بے نوا کے واسطے دردِ دل میں مبتلا ہوں عافیت کیجے عطا کر رہا ہے دل دعا تجھ سے شِفا کے واسطے روزِ محشر جس گھڑی ہو دل پریشاں آنکھ نم ظِلِّ ربّانی ہو مجھ بے دست و پا کے واسطے بھر گیا ہے اب گناہوں سے مِرا ظرفِ دروں مغفرت کر دے مِری جُود و سخا کے واسطے میں رسولِ محترمؐ کا داغدارِ  پُر خطا بابِ رحمت کھول دے مجھ بے نوا کے واسطے دستگیری  کر ہمیشہ  اے خدائے لم یزل کر عطا کچھ کام جو آئے سدا کے واسطے دیدروئے شافعِ محشر سے کر دے فیضیاب دل شکستہ جو کرے تجھ سے دعا کے واسطے بھر دے یارب سینہ ٔجاہل شفائیؔ علم سے نور بھی کر دے عطا پھر مصطفیٰؐ کے واسطے    ڈاکٹر شکیل شفائیؔ بمنہ/سرینگر

سنُو ذرا

سُنو ذرا کُون ہو تم  کیوں ہو مجھ سے یُوں مخاطب ؟ تیرے ہاتھ میں یہ قلم و کاغذ  کیا کوئی درد لکھنے جارہے ہو ؟ کیا درد تحریر ہو پا رہے ہیں؟   سُنو ذرا  اگر ہو محبتوں کی کتاب لکھنا  ساتھ میں وفا کا نصاب لکھنا  نہ ہی بدلنا تیور  نہ کبھی اپنا لہجہ  خزاں کی رُت میں بھی  لہجہ اپنا گُلاب لکھنا  سنُو اگر ہو کچھ وقت کو لکھنا  تو وقت سے یہ کہہ تم دینا  کہ میری آنکھوں میں نیا خواب نہ دینا  پھر مجھے رتجگوں کا  عذاب نہ دینا  کہ میں ہوں اِک حساس سی لڑکی  خاموش اور اداس سی لڑکی  گُماں میں رہنا نہیں گوارا  حقیقتوں میں ہوں میں رہتی  حساسیت نے ہے مجھ کو مارا  بےتحاشہ ہوں میں سُوچتی  درد دلوں کے ہوں

نظمیں

شالیمار کی گود میں تیری آغوش میں میرا بدن کیوں کسمساتا ہے مگر یاروںکا میٹھا غم رگوں میں دوڑ جاتا ہے تیری روشوں پہ چلتا ہوں، تفکُر جاگ جاتا ہے تمنا جھلملاتی ہے، تخیل گُنگناتا ہے ��� ہرے لانوں پہ جب میری نگاہیں دوڑ جاتی ہیں خِرد مسحور ہوتی ہے،تصور مُسکراتا ہے تیرے پھولوں کی خوشبو میں خُمارِ خود فراموشی  چناروں کا گھنا سایہ تردُد کو سُلاتا ہے گھنیری جھاڑیاں، سبزہ، عنادِل، تتلیاں، جھرنے عَدن کو رشک آتا ہے، اِرم آنسو بہاتا ہے! ��� یہ برقی قُمقمے تیرے، صدا اور نُور کا جادُو گھڑی بھر کے لئے بُھولا فسانہ یاد آتا ہے یہ کھنڈر، ٹوٹی دیواریں تجسُس کو جگاتی ہیں مناظر کتنی صدیوں کے تسلسل سے دِکھاتی ہیں ��� جہانگیری زمانے کے حقائق اور افسانے میری یاداشت کے پردے پہ تصویروں کی

حمد

طور پر جلوہ ترا برق و شرر میں تُو ہی ٹو  دور تک موسیٰ کے پاکیزہ سفر میں تُو ہی تُو   شام کے ڈھلتے ہوئے سایوں میں تیرا ہی دوام  ہر گجر میں تُو ہی تو نور سحر میں تُو ہی تُو    ہر سفر تیری طرف ہر موڑ پر موجود تُو  تُو تھکن میں منزلوں کی رہگزر میں تو ہی تو    سانس لینا ورنہ اس دنیا میں ہے کس کی مجال   تیرے جلوے ہر نظر میں ہر بشر میں تو ہی تو    نازکی بزمِ جہاں کی کوئی سمجھا ہی نہیں  شیشہ سازی میں تو ہی تو شیشہ گر میں توہی تو     بارشوں میں ترا جلوہ دھوپ میں تیرا کرم  ہر خوشی میں تو ہی تو ہے چشم  تر میں تو ہی تو    لفظ بھی کرتے ہیں اب اوراق پر حمدوثنا  شکر ہے اس حمد کے زیروزَبر میں تو ہی تو    ا

نظمیں

آخر کب تک؟ باپ کی آنکھوں سے بہتے اشکوں کے دھارے ماتم کرتی ماں بیچاری آخر کب تک؟ فصلِ گْل پر بادِ خزاں کی پہرے داری گلعذاروں کی آزاری آخر کب تک؟ کوڑی پا کر صحنِ چمن کو گروی رکھنا حق داروں سے یہ غداری آخر کب تک؟ شعلہ فگن ہتھیاروں کی یہ دوڑا دوڑی سبزہ زاروں پر بمباری آخر کب تک؟ مرحم کے وعدوں پر سینے چھلنی کرنا جھوٹی تسلی اور مکاری آخر کب تک؟ پرچم اوڈھی لاشوں کی خود کام نمائش اخباروں کی مینا کاری آخر کب تک؟ مذہب کو ہتھیار بنا کر دنگے کرنا گلی گلی یہ مارا ماری آخر کب تک؟ کمسن بچے کے سر سے یہ اٹھتے سائے بیواؤں کی ماتم داری آخر کب تک؟ مفلس تنکے کو ترسے تُو موج منائے ایسی بے دردانہ زرداری آخر کب تک؟ اپنے ہی ہاتھوں سے  اپنے گھر کو جلا کر بیگانوں کی خاطر داری آخر کب تک؟ درد چھلکتا آنکھوں میں ا

نظمیں

 محبت کم نہیں ہوتی  محبت بس محبت ہے قیامت ہے تو آئے پھر میں ہارو نگا میں واروں گا اسے کوئی تو بھائے پھر بچھڑنا ہے اسے اک دن  تڑپنا ہے تمہیں اک دن سکوت میں رہے گا وہ بھٹکنا ہے تمہیں اک دن اگر یہ جان کے بھی پھر اسی میداں میں گھومو گے تو پھر اک بات بولوں میں؟ تمہیں سود و زیاں کا غم کوئی زنجش کہیں پیہم اسے کھونے کا بس اک غم نہیں ہے! کیوں نہیں آخر؟   جواب سنو اے ناصح سن لو محبت ایک خواہش ہے محبت خوشنما مرہم محبت انتہا غم کی محبت آزمائش ہے۔ محبت میں اگر دو دل بچھڑ کے دور ہوتے ہیں بنا اک دوسرے کے وہ غموں سے چور ہوتے ہیں نئے بندھن میں بندھیں سے نئے سپنے سجانے سے نئی دنیا بسانے سے محبت کم نہیں ہوتی  محبت دائمی سچ ہے محبت کم نہیں ہوتی   

سراب اور حقیقت

خیال و فکر اور احساس ہر دِل میں بہرآں ہے کبھی غلطاں و پیچاں ہے کبھی اُفتاں و خیزاں ہے   کبھی تن بے سکوں ہے اور کبھی یہ دِل پریشاں ہے تڑپتا خانۂ دل میں کبھی رہ رہ کے ارماں ہے   کبھی پہنائی ِ دل میں تمنائوں کا خلجاں ہے کبھی اس آتشِ حسرت میں رُوح و قلب سوزاں ہے   نگارِ آرزو کا دِل پہ ہر دم ایک پیکاں ہے بڑی مشکل سے کوئی آرزو گو ہر بہ داماں ہے   کبھی انسان اپنے دشمنوں پر بھی مہرباں ہے کبھی افسوس اپنے محسنوں پر بھی ستمراں ہے   حکمراں بن کے انساں جبکہ کرتا خونِ انساں ہے خلافِ ظلم لڑکر کوئی ہوتا حق ہی قُرباں ہے   کبھی عشق و محبت میں دلِ مضطر غزلخواں ہے کبھی ناکامیِ اُلفت میں یہ ناشاد و نالاں ہے   کبھی ناکامی و رنج و بلا میں دِل پریشاں ہے یہی دِل کامرانی میں کبھی مغرور

اذان کربلا

اصل میں ماہِ محرّم کا ہے ایسا سانحہ جس نے ذہن و دل، جگر پارہ پارہ کردیا کربلا کی آخری شب تھا غموں کا سلسلہ تھے سبھی تصویرِ غم اور لب پہ تھا شکر خدا  سر بہ سجدہ تھے سبھی وہ عاشقانِ مصطفےٰ تھے بہت بیتاب سننے کو اذانِ کربلا جس میں تھا یکسر علی اکبرؑ کا جذبہ برملا نغمۂ اللہ اکبر کی لطافت تھی اذاں مژدئہ جامِ شہادت کی بشارت تھی اَذاں ہاں بہتّر عاشقوں کی استقامت تھی اَذاں وہ اَذاں جس سے کہ پیغامِ عبادت تھا عیاں وہ عبارت جس سے اقرارِ شہادت تھا عیاں صبحِ عاشور اذانِ فجر تھی اعلانِ حق جس سے روشن ہوگئے ایمان کے سارے طبق وہ اذاں خود ہی شہادت کا نیا عنوان تھی وہ اذاں انکارِ بیعت کا کُھلا اعلان تھی   بشیر آثمؔ باغبان پورہ، لعل بازار موبائل نمبر؛9627860787

آہ ! راحت اندوی

سب کو ہنسانے والا رُلا کر چلا گیا نغمے وہ زندگی کے سنا کر چلا گیا اک عہد اس کے نام سے منسوب ہو گیا تاریخ میں وہ نام لکھا کر چلا گیا …… فیس بک اور ٹیلی ویژن پر اس کے مرنے کی جب خبر آئی آسمان و زمیں اداس ہوئی پتھروں کی بھی آنکھ بھر آئی …… روشنی ہے نثار جگنو پر سارا عالم فدا ہے خوشبو پر چھوڑ کر دنیا کیا گئے راحتؔ جیسے ٹوٹا پہاڑ اردو پر …… اس کی باتوں میں لُبھانے کا عجب انداز تھا اس کی غزلوں میں بلا کا حسن تھا اعجاز تھا اس کے دم سے رونق شعر وسخن دوبالا تھی محفل شعر وسخن کا منفرؔد وہ ساز تھا   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی / اردو/ اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری، موبائل نمبر؛9086180380  

بچپن

کاش کہیں سے آئے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن   پھر سے ویسا ہی ساون ہو ماں اور بابا کا آنگن ہو خوشیوں سے مہکائے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن بہنا، بھیا اور سکھیاں ہوں کاجل والی دو اکھیاں ہوں فرصت آئے سجائے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن   بھرکھا باش کی مستی ہو اور وہ کاغذ کی کشتی ہو یاد بہت ہی آئے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن   حدِ نظر تک سُکھ ہی سُکھ ہو جس میں کورونا کا نا دکھ ہو سحر کو پھر وہ ہنسائے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن   ثمینہ سحرؔ مرزا بڈھون، راجوری  

نظمیں

رخصتی بارش گُل ہورہی ہے ہورہا ہے اہتمام جھوم اُٹھے غنچہ و گل ہے صبا محوِ خرام اس طرح مصروف ہے ہر اک برائے انتظام ہے ہنسی لب پر نظر میں کیف دل ہے شاد کام حُسن کو نیرنگیاں ہم جولیوں کے درمیاں جیسے ہوتاروں کے جھرمٹ میں حسیں ماہِ تمام پھول سے ہاتھوں میں مہندی کی شفق کہتی ہے یہ ان حسیں ہاتھوں میں آنے کو ہے اک تازہ نظام ہے عروسِ خوب رو کے سر پہ عزت کی رِدا نورپیشانی پہ آنکھوں میں حیاء و احترام آج بھی بچپن تیرا اٹکھیلیاں کرتا ہوا میرے دل کی وسعتوں میں کھیلتا ہے صبح و شام تیری قسمت کا ستارہ جگمگاتا ہی رہے رخصتی بابل سے تیری ہو بہ صدہا احتشام  اے عروسِ نو دعا، ہے یہ میری کہ تُو رہے شاد کام و شاد کام و شاد کام و شاد کام کچھ محبت کے ہی موتی ہیں بشیر آثمؔ کے پاس ہے قوی اُمید کہ آئیں تیرے تحفے کے کام   

عید مبارک

مسرت، کامیابی ساتھ لائی ہے یہ دیکھو عید آئی، عید آئی ہے   رحمتوں کا نزول ہونا ہے خوش رہو، اب یہ عید آئی ہے   خوشحالی لوٹ آئے سارے عالَم میں دل اِس تمنا کا تمنّائی ہے   ترے جلوے ہی دکھتے ہیں ہر اور ایسی بینائی میری بینائی ہے   نفرتوں کو مٹا کے سب کہہ لو ہم نے الفت میں لَو لگائی ہے   خواہشوں کی دی ہے جس نے قربانی راہِ راست تو اُسی نے پائی ہے   دور ہوگا جہان سے وائرس زیب و زینت جو لوٹ آئی ہے   ظہور احمد منشی۔ دلگیرؔ بٹہ مالو۔ 9797256892  

سہرہ

سبحان اللہ سہرہ ہے کہ ہے تصویر پھولوں کی چمک اٹھی بحمدِ اللہ خود تقدیر پھولوں کی   وہ الفت کل جسے نوشہ بھی خود اک کھیل کہتا تھا وہ اُلفت رفتہ رفتہ بن گئی زنجیر پھولوں کی   دمکتا ہے ستاروں کی طرح ہر تار سہرے کا دوبالا ہوگئی رُخ سے تیرے تنویر پھولوں کی   دعائیں دے رہا ہر کوئی اس طرح نوشہ کو یوں ہی پُھولے پھلے یارب سدا جاگیر پھولوں کی   گلابی عکسِ عارض، لب شگفتہ، چہرئہ دلکش وہی تصویر نوشہ کی وہی تصویر پھولوں کی   حسیں جلوے مچلتے دل، نظر بہکی، فضا مہکی نگاہِ شوق تو نے دیکھ لی تاثیر پھولوں کی   نظر آئے یہی رنگت، یہی نکہت، یہی فرحت رہے تا عمر جوڑے میں حسیں تاثیر پھولوں کی   نہ نذرانہ ہے، تحفہ ہے، شفقت ہے، محبت ہے بشیر آثمؔ نے سہرے میں لکھی تاثیر پھولوں کی  

نظمیں

سراب اور حقیقت نگاہِ حق نگر محوِ تماشائے گلستاں ہے مآلِ گُلشنِ ہستی پہ گریاں اور خنداں ہے عجب مجموعۂ اضداد یہ جشنِ بہاراں ہے کہیں سرسبز و شاداںہے کہیں بربادو ویراں ہے نگاہِ دیدئہ عبرت ازل سے مرثیہ خواںہے فنا اِس بزمِ ہستی کے تعاقب میں خراماں ہے سمجھ بیٹھا جسے دارالبقا مدہوش انساں ہے نہیں دارالبقا، مُلکِ فنا کا ایک زنداں ہے اِدھر بھی موت رقصاں ہے اُدھر بھی موت رقصاں ہے اُمیدوں کا مگر پھر بھی بہر سواک چراغاں ہے بہت دُشوار اِس دارالفنا میں دردِ ہجراں ہے بقا بعد از فنا کا ہی تصوّر اُس کا درماں ہے گرفتارِ بلا دُنیا میں بھی رہتا یہ انساں ہے پکڑتی موت پھر اس کو ہے جس سے یہ گُریزاں ہے جواں لختِ جگر کی موت سے جو دِل کہ گریاں ہے وہ جیسے زندہ ہے درگور، خود گورِ غریباں ہے چمن میں خوش نوائی کر رہا مُرغِ خوش الحاں ہے ارادے سے

دوست یہ ٹھیک نہیں ہے

کسی کے منہ پہ تعریف کا اظہار پیٹھ پیچھے نفرت کی یلغار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے پھول سمجھ کر بچپن مہکایا کانٹوں سے تجھے بچایا والدین  ہیں میٹھا شاہجار شادی کے ساتھ ہی فرار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے بڑے لوگوں کی کریں خوش آمد دوست کو دکھائیں  ہمدردی بھائی مفلس و لاچار رشتے ناطے سے انکار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے سماج سدھار کا ہو جب کام    ہوجائے ایک دم گمنام سیاست کے موسم میں ہر دم ہر پل بے قرار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے رہن سہن اور تعمیر اچھی ہے یہ تدبیر کپڑے لائیں سوسوبار   اورکتاب سے انکار   دوست یہ ٹھیک نہیں ہے   ڈاکٹر ریاض توحیدی    وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221 موبائل نمبر؛9906834877  

بھگائینگے ہم

فرض اپنا یہ پہلے نبھائیں گے ہم گھر سے باہر گلی میں نہ جائینگے ہم   پھر کروناؔ جو آئے اُسے آنے دو خوب مل جُل کے اُسکے بھگائینگے ہم   لاکھ بہتر ہے گھر کے ہی اندر رہیں بیٹھے بیٹھے ہی رَب کو منائینگے ہم   جنکو کچھ بھی پتہ ہے نہیں دوستو! بات حق کی انہیں پھر بتائینگے ہم   کوئی کھانسی یا ریشے کا بیمار ہو جلد سے ڈاکٹر کو دکھائینگے ہم   فرض عُشاقؔ اپنا نبھائینگے ہم اِس ’’کورونا‘‘ کو ہند سے بھگائینگے ہم   عُشاق کشتواڑی کشتواڑ، حال جموں موبائل نمبر؛9697524469