تازہ ترین

غزلیات

غمِ فرقت کے ہی اس روگ میں مر جائیں گے اب کوئی ٹھیس لگے گی تو بکھر جائیں گے  پھول بنکر نکل آئے ہیں ہری شاخوں پر وہ تو سمجھے تھے کہ حالات سے ڈر جائیں گے ہم کو محصور نہ کرنا ہیں قلندر ہم بھی رک گئے ہم تو زمانے بھی ٹھہر جائیں گے دربدر ہو کے پلٹ آئے تُمہاری جانب یہ دیوانے تری چوکھٹ سے کدھر جائیں گے کتنے ناداں تھے کہ سوچا تھا تری صحبت میں دو گھڑی اور رہیں گے تو سُدھر جائیں گے  ایک مٹی گا دِیّا لے کے جو نکلے گھر سے ساتھ کب اُن کے بھلا شمس و قمر جائیں گے اب وہ یاد اتے ہیں جاوید بڑی شدّت سے عین مُمکن ہے کہ اب دل سے اُتر جائیں گے   سردار جاوید ؔخان رابطہ؛ مینڈھر، پونچھ رابطہ، 9419175198       وہ جو سکوتِ دو عالم سے ہم کلام نہیں وہ بزم بزم نہیں ہے وہ جام جام نہیں  

تماشا یہ شام و صحر دیکھتے ہیں

الٰہی جہاں اور جدھر دیکھتے ہیں بَپا ہر طرف اِک قہر دیکھتے ہیں   کہیں آہ و زاری، کہیں مارا ماری تماشا یہ شام و صحر دیکھتے ہیں   اَمن والی بستی میں ہم رہنے والے بارُود پر اپنا گھر دیکھتے ہیں   سیاست کے سنگین و رنگین محل کے وِیران دِیوار و دَر دیکھتے ہیں   دَوائوں میں مانا مِلاوٹ ہے لیکن دُعائیں بھی سب بے اَثر دیکھتے ہیں   خَزانے پہ سرکار کے تیز و تِرچھی رِشوت خوروں کی نظر دیکھتے ہیں   ہر قافلے اور ہر کارواں میں شیطان کو ہمسفر دیکھتے ہیں   آئے گا کب اور کہاں سے مسیحا وِیران ہر راہ گذر دیکھتے ہیں   اے مجید وانی احمد نگر، سرینگر، موبائل نمبر؛9697334305  

غزلیات

داستانِ غم سنانے لگ گیا پھر کوئی مُجھکو رُلانے لگ گیا   میں نے یونہی تشنگی کی بات کی وہ مُجھے دریا دِکھانے لگ گیا   خودبخود ہی جل اُٹھا بُجھتا دِیا پھر مرے گھر کو جلانے لگ گیا   تُم اسے قسمت کہو کہ معجزہ ڈُوب کر بھی میں ٹھکانے لگ گیا   کٹ رہی تھی ڈور میری سانس کی اور وہ احساں جتانے لگ گیا   آزمائش سے ابھی نکلا ہوں میں کون مُجھکو آزمانے لگ گیا   سردارجاویدخان مینڈھر پونچھ،موبائل نمبر؛9419175198       مرا یہ سایا کہاں گیا کر چراغ روشن ہو گھر کے باہر ہو گھر کے اندر  چراغ روشن میں تب کے مانوں ترے وظیفے اے میرے مرشد کہ جب تو کر لے تہہِ سمندر چراغ روشن بڑا عجب ہے کہ روز کمرے میں اب نمی ہے یہ کون کرتا ہے مثلِ پیکر چراغ روشن کوئ

گوہرِ نایاب

غرب زدگی کی شکار دختر: جہانِ رنگ و بو میں دیکھ میرا ہے سحر برپا   ادا کرتی ہے اک میری، جوانوں پر قہر برپا جھلک میری جوان و پیر کو مدہوش کرتی ہے   جو ہیں باہوش اْن کو اک نظر بیہوش کرتی ہے سبھی نظریں ٹھہرجاتی ہیں مجھ پر، جب میں چلتی ہوں   میری مٹھی میں ہے دنیا میں جو چاہوں وہ کرتی ہوں   اسلام کی شاہکار دختر: بجا فرماتی ہو اے مغربی فکر و نظر والی   یہی حکمت ہے مغرب کی، حیا سے تو رہے خالی  رذیلوں کے لئے عیش و تماشا کر دیا تجھ کو   ہوس رانی کے دلدل میں مکمل بھر دیا تجھ کو تیری فہم و فراست پر مسلط ہے یہی شیطان   ہوا ہے تیری نظروں سے مقام و مرتبہ پنہاں خدا اتنا توانا ہے، جمال و جاہ میں یکتا ہے   نہیں پھر بھی حجابوں سے کبھی باہر وہ آتا ہے یہیں سے تم سمجھ

قطعات

کس قدر پتھروں سے دوستی کرتے رہے ٹوٹنے کے بعد بھی ہم واپسی کرتے ہیں   جو نہ تھا ممکن سعیدؔ ہم وہی کرتے رہے بت کدے میں بھی خدا کی بندگی کرتے رہے   ان آنکھوں میں حسین خواب رکھنا اُداسی کو ایسے میں شاداب رکھنا   یہ آداب تشنہ لبی کے ہیں ساقی ہتھیلی پہ اِک قطرئہ آب رکھنا   مخملی فرش سے سج رہا ایوان ہے منصفوں کا یہاں بِک رہا ایمان ہے   منتظر انصاف کے لوگ تھے جُو لٹ گئے رہزنوں کی بھیڑ ہے بدنام شیطان ہے   سعید احمد سعیدؔ احمد نگر، سرینگر،موبائل نمبر؛9906355293  

نذرانۂ عقیدت

 منقبت در شانِ عظمتِ مخدومۂ کائنات خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نور پیکر فاطمہ خاتون جنت آپ ہیں  طیبہ و طاہرہ خاتون جنت آپ ہیں  پیکر مہرو وفا خاتون جنت آپ ہیں  محور صبرو رضا خاتون جنت آپ ہیں  جان عالم کی صدا خاتون جنت آپ ہیں  رب کعبہ کی رضا خاتون جنت آپ ہیں  نور عین مصطفیٰ خاتون جنت آپ ہیں  قلب و روح و جانفزا خاتون جنت آپ ہیں  آپ کی شرم و حیا ہے بے بدل اور بے مثال  زاہدہ و عابدہ خاتون جنت آپ ہیں  والدہ حسنین کی دختر رسول اللہ کی  زوجہء مشکل کشا خاتون جنت آپ ہیں  بے اجازت گھر میں خود جبریل بھی آتے نہ تھے یہ مقام اور یہ حیا خاتون جنت آپ ہیں  فاقہ کر کے بھی گزارا زندگی کو آپنے  ایسی راضی با رضا

غزلیات

 رعونت عقل پہ انساں کی پردہ ڈال دیتی ہے سب اٹھنے والی آوازوں پہ پہرہ ڈال دیتی ہے سیاست پھولنے پھلنے نہیں دیتی ہے لوگوں کو ہمیشہ دوستوں کے دل میں کینہ ڈال دیتی ہے تمہارے طنزیہ لفظوں سے ہوتا ہے جگر چھلنی تمہاری بات دل پر زخم گہرا ڈال دیتی ہے مسائل کے بھنور کو پار کر جاتا ہوں لمحے میں مری ہمت سمندر میں سفینہ ڈال دیتی ہے مرے گھر کے ہر اک کھانے کی لذت وازوانی ہے مری محنت جو روزی میں پسینہ ڈال دیتی ہے میں جب گھر سے نکلتا ہوں دعا پڑھ کر نکلتا ہوں مری ماں پھر بھی دس روپے کا صدقہ ڈال دیتی ہے جہاں جاتا ہوں میں اللہ کی رحمت برستی ہے مشیت دھوپ میں بادل کا سایہ ڈال دیتی ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380     &

غزلیات

خواب اچھا تھا مگر تعبیر سے خالی تھا جو جیسے خط محبوب کا تحریر سےخالی تھا جو سایۂ دیوار سے لٹکا ہوا اٹکا ہوا عالمی نقشہ ملا کشمیر سے خالی تھا جو آج بھی لائی تھی سطحِ آب پر موجِ چناب دل کسی رانجھے کا لیکن ہیر سے خالی تھا جو چھوڑ کر یہ کون دیوانہ گیا ہے یوں قفس دشت میں اک ڈھانچہ زنجیر سے خالی تھا جو سرد آہوں سے بھرا صندوق جب کھولا گیا درد کا البم ملا تصویر سے خالی تھا جو پھینک کر آئے جنوں کی وادیوں میں صبح تک اپنے حصے کا نشہ تاثیر سے خالی تھا جو ہم نے دل کی روشنی نیلام کردی رات بھر جھونپڑا شیدؔا ترا چھت گیر سے خالی تھا جو    علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد،   موبائل  نمبر؛9419045087       زندگی کے سراب کا مارا ہوں مسلسل عذاب کا مارا  پڑھ نہ

نعت شریف

کلامِ الٰہی سے ہے سب عیاں بشر تو کرے بس حقیقت بیاں خُدا نے بنائے زمیں آسماں محمدؐ کی خاطر یہ کون و مکاں کیا نور اُن کا جُدا نُور سے ہوا جس سے رُوشن یہ سارا جہاں زمیں پہ اُتارا بڑی شان سے مٹایا ہے باطل کا نام و نشاں کیا اس پہ واجب درود و سلام ہے دینِ خُدا کا نبیؐ پاسباں مدعو کرکے رب نے بُلایا جہاں فرق قاب و قوسیں کا تھا درمیاں رُموزِ الٰہی کئے آشکار علوم و اَدب سے کیا جاوِداں مِلن تھا خُدا کا یہ محبوب سے بنا تھا نبیؐ کا خُدا میزباں محمدؐ نے رب سے جو مانگا وہاں وہی دے کے رب نے کیا شادماں مظفرؔ کرے رب سے بس یہ دعا گھرانہ نبیؐ کا رہے مہربان   حکیم مظفر ؔحسین باغبان پور، لعل بازار موبائل نمبر؛9622171322  

غزلیات

پھول پتے بہار کیا معنی بِن تُمہارے سنگھار کیا معنی تُو نہ آئے گا میری سمت کبھی اب ترا انتطار کیا معنی لوٹ آئے گا  تُو مری جانب غیر سے استوار کیا معنی دل کی سب حسرتیں تمام ہوئیں اب کے لوٹو بھی یار کیا معنی سارے چہرے اُداس لگتے ہیں ساقیا اب خمار کیا معنی آگہی اس قدر اذیت ہے تیری یادوں کا بھار کیا معنی اب حدیں توڑنے کی ٹھانی ہے درِ زنداں حصار کیا معنی ایک تُم ہو کہ دسترس میں نہیں خود پہ ہی اختیار کیا معنی میرے مُرشد کے ہاتھ میں پتھر پھر یہ تختہ و دار کیا معنی مجھ کو زندہ کہیں بھی چُنوا دو اب حویلی دیوار کیا معنی میری آنکھوں میں دُھند سی رہتی ہے اُس کے رُخ پر نکھار کیا معنی مجھ سے تُم اس جنم کی بات کرو سات جنموں کا پیار کیا معنی دفن ہو جاؤں اب کہیں جاویدؔ تیرا کُوچہ دیار کیا معنی

غزلیات

دل کو دل کے روبرو کرتے ہیں ہم  ’’شاعری میں گفتگو کرتے ہیں ہم ‘‘   چشمِ ساقی کو سبو کرتے ہیں ہم  میکدے کو سرخرو کرتے ہیں ہم    دامنِ دل تر کُبھو کرتے ہیں ہم  آنسوؤں کی آبرو کرتے ہیں ہم    دل کے بت خانے سے گرتے ہیں صنم  خود کو جب بھی قبلہ رو کرتے ہیں ہم    لفظ میں رکھتے ہیں خوشبو کا ہنر  شاعری کو مُشکبو کرتے ہیں ہم    بولتے ہیں بدزبانوں سے کبھی  اپنے لہجے کو لہو کرتے ہیں ہم    کیوں نہیں ہوتی دعائیں اب قبول  خونِ دل سے کیا وضو کرتے ہیں ہم    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی  حضرت بل سرینگر موبائل نمبر؛7780806455     سُنو ! کچھ دیر دریا کے کنارے بیٹھ جا

نعتِ نبیؐ

رُشد و ہدایت پر ہیں بس مامور آنحضرتؐ محبوبِ خدا، پیکرِ پُرنُور آنحضرتؐ   ہر قوم کو ملتی رہی تھی اُن کی بشارت ہر اک صحیفے میں رہے مذکور آنحضرتؐ   قاری مگر منت کشِ مخلوق نہیں ہیں! کیا خاص ہیں اللہ کے منصور آنحضرتؐ   ہر حال میں ہادی ہیں سراجِ مُنیر ہیں مت پوچھئے نزدیک ہیں یادور آنحضرتؐ   آئے ہیں مٹانے وہ ’’استبدادِ زمینی‘‘ کرتے ہیں بے رحمی کو نامنظور آنحضرتؐ   اک آسرا ہے حشر کے میدان میں انظرؔ! ڈالیں گے ہم پر بھی نظر بھرپور آنحضرتؐ   ایس حسن انظرؔ بمنہ سرینگر، کشمیر  

غزلیات

ہم کو اِس دشت کے اُس پار سُلا کر رکھنا اپنی چھاؤں کی ہری شاخ جُھکا کر رکھنا   راہ اپنا بھی اندھیرا ہے بھٹکنے والا اب دِیا طاق پہ تم  بھی تو بُجھا کر رکھنا   دشتِ ہجراں سے گزارا ہوں میں جاتا لوگو وصل زادوں سے گزارش ہے دعا کر رکھنا   ہنسنے والوں کا نیا شہرِ ستم ہے آگے رسمِ چاکاں ہے علم غم کی اُٹھا کر رکھنا   سرد آہیں بھی نگلتی ہے زمانے کی تپش درد  انمول خزانہ ہے چُھپا کر رکھنا   گھیر لیتے ہیں محبت کے  تقاضے غم کو درد کی آگ رگِ جاں  میں جُٹا کر رکھنا   لفظ خوشبو کو ترستے ہیں بچارے شیدؔا ان کتابوں میں نئے پھول سُکھا کر رکھنا   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد،   موبائل  نمبر؛9419045087   درد گر بیکراں نہیں

غزلیات

سرشار میرا قلب ہے میخوار کی طررح اقرار عشق کرتا ہے انکار کی طرح سانسوں کی پٹریوں پہ گزرتی ہے زندکی بالکل بلٹ ٹرین کی رفتار کی طرح جیسے پھٹی پڑانی سی گدڑی میں لعل ہو پنجال میں پڑا ہوں میں بیکار کی طرح جب سے وہ اپنے گاؤں کا پردھان ہوگیا کلوا کے ہاؤ بھاؤ ہیں سردار کی طرح ہم سے تو کوئی بات چھپائی نہ جائے ہے چہرہ ہمارا دکھتا ہے اخبار کی طرح چھٹی پھر ان کو چاہیے دو چار روز کی صورت بنا کے آئے ہیں بیمار کی طرح پھولوں کی طرح ہم نے سجائے تمام غم رونق ہمارے دل میں ہے بازار کی طرح وارث ہم آپ کو بھی بتائیں گے میر کے کوئی غزل تو لائیے شہکار کی طرح تیرا حریف اس قدر چالاک ہے اے شمسؔ دکھتا ہے نہیں ہے برسر پیکار کی طرح   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛ 9086180380

غزلیات

 زندہ رہنے کے لئے کوئی بہانا چاہئے زندگی جیسی بھی گزرے مسکرانا چاہئے اپنی چادر دیکھ کر ہی پاؤں پھیلائیں جناب استطاعت کے مطابق بوجھ اٹھانا چاہئے غم کی کیفیت کو چہرے پر نہ آنے دیں کبھی درد اپنا اک خدا کو ہی سنانا چاہئے واسطہ پڑتا ہے کم ظرفوں سے اب ہر گام پر رازِ دل ہرگز نہ ہر اک کوبتانا چاہئے درسگاہوں میں کہاں تہذیب زندہ رہ گئی یہ سبق بچوں کو گھر میں ہی پڑھانا چاہئے دوست کہنے میں بہت محتاط رہئے گا حضور اور جب کہدیں تو پھر رشتہ نبھانا چاہئے جنگ کی صورت کبھی پیدا نہ ہونے دیجئے ایسی دلدل میں کوئی دانا نہ آنا چاہئے مرغِ بسمل کی طرح ہیں نوجواں ہر شہر میں اب نئی بستی کو دھرتی پر بسانا چاہئے قول داناؤں کا  ہے اسکو رکھیں جاں سے عزیز کرکے نیکی ہم کو بسملؔ بھول جانا چاہئے   خورشید بسملؔ تھنہ منُڈى را

غزلیات

لوگ کانٹوں میں بھی پھولوں کی قبا چاہتے ہیں  ہم تو بس فرطِ محبت کا صلہ چاہتے ہیں  ٹِمٹما اُٹھے ہیں پھر سے تری یادوں کے چراغ  عین ممکن ہے کہ بُجھ جائیں ہوا چاہتےہیں عمر اک جن کو مٹانے میں گزاری تُم نے وہی جگنو تری محفل میں ضیاء چاہتے ہیں  غمِ فرقت میں اِن آنکھوں کو جلائے رکھا اور وہ ہیں کہ مجھے اور جلا چاہتے ہیں  ہم نے کب تُجھ سے چمکتا ہوا سورج مانگا ہم وہ پاگل ہیں کہ مٹی کا دیا چاہتے ہیں ابنِ مریم یہ مداوا مرے کس کام کا ہے زخم اک فصلِ بہاراں میں کُھلا چاہتے ہیں کوئی حد بھی تو مقرر ہو سزا میں جاوید ؔ فیصلہ تُجھ سے کوئی اور خدا چاہتے ہیں   سردارجاویدؔخان  میندھر پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198       یاد ُس کی ایسے مُسکانے لگی ہے دِل کے زخموں سے م

غزلیات

کسی کو پُرمسّرت دیکھ کر  جلنا نہیں ہوتا دلِ مومن میں کینہ کو کبھی پلنانہیں ہوتا  بڑے ہی قاعدے سے پیش رو کی جانچ ہوتی ہے یہاں ہر تیز رو کے ساتھ ہی چلنا نہیں ہوتا ہمارے حوصلے کا امتحان لیتی ہے یہ دنیا پشیماں ہوکے ہم کو ہاتھ پھر ملنا نہیں ہوتا فلک چُھوتے عزائم ہوں،دلِ زندہ ہو سینے میں غموں کی برف میں اس شخص کو گُھلنا نہیں ہوتا عبث ہے زندگی کی بھیک ہردم مانگتے رہنا سنا ہےموت کے اوقات کو ٹلنا نہیں ہوتا عزیمت اور حکمت کا جو دامن تھام لیتی ہے تو ایسی قوم کے سورج کو پھر ڈھلنا نہیں ہوتا یہ دنیا چند روزہ بائولوں کا کھیل ہے بسملؔ کسی دانا کواس میں پُھولنا پِھلنا نہیں ہوتا    خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری موبائل نمبر؛9622045323       خواب  ملتے نہیں خیالوں سے ؟ پوچھے ہے و

غزلیات

جس گھڑی اس شہر کا  ڈوبا مقدر، برف میں ہو گئے سب مُنجمد سوچوں کے دفتر ،برف میں محل و ا لے مطمئن محوِ تما شہ تھے مگر پھر کسی مفلس کا ٹو ٹا آ ج چھپّر، برف میں ہر کوئی انساں ضیا فت کے لئے بے تاب تھا بس پرندے آشیانوں میں تھے مضطر، برف میں سب دُعائیں سر پٹختی تھیں غذاؤں کے لئے سامنے اک بھوک کا بیٹھا تھا  اجگر ،برف میں دیکھ کر جبّر و ستم ہوتے ہوئے تہذیب پر کس طرح پھر چین سے بیٹھے سُخنور، برف میں بے ردا بستی میں کتنی بیٹیاں ہیں آج بھی کاش کوئی ڈالتا ان پر بھی چادر، برف میں جو خزینوں کا تھا مالک کل تلک اس شہر میں آج کاسہ لے کے نکلا وہ سکندر ،برف میں جان آخر وہ صنم لے کر رہا اک شوق کی جو بنانے کے لئے نکلا تھا آزر، برف میں عمر بھر جس کی رہی ما نو سؔ ہم کو آرزو لحد کی صورت ملا آخر وہی گھر ،برف میں  

غزلیات

کسی سنگ سے دِل مِلانے چلے ہو کہ اشکوں میں اپنے نہانے چلے ہو   نظر اُس کی جانب اُٹھانے چلے ہو کہ سر دھڑ کی بازی لگانے چلے ہو   نہ مانے اگر وہ تو خود روٹھ جانا جو روٹھے ہوئے کو منانے چلے ہو   جو ماں نے سکھائی زباں دودھ جیسی اُسی کو ٹھکانے لگانے چلے ہو   نہیں جانتا جو وفا کے مُعانی یقینِ وفا اُس پہ لانے چلے ہو   کبھی بھول جانا نہ تم اپنی ماں کو وِدیشوں میں ڈالر کمانے چلے ہو   لکھا تھا جَسے تم نےاشکوں سے پنچھیؔ وہی گیت پھر آج گانے چلے ہو   سردار پنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ کھنہ پنجاب موبائل نمبر؛9417091668     اپنی عزت کا کچھ خیال رکھو ہے بڑی شے اسے سنبھال رکھو   لازمی ہے کہ زیست میں ہو رنگ موت کا بھی تو کچھ خیال رک

غزلیات

سکونِ قلب لکھوں یا کہ اضطراب لکھوں ثواب درد کو لکھوں کہ میں عذاب لکھوں   یہ عشق جس کو کہ غیرت میں لاجواب لکھوں یہ حسن جس کو کہ بے شرم و بے حساب لکھوں   میں کس کے حُسن کو مہتاب و آفتاب لکھوں میں کس کے عشق کو وحشت میں کامیاب لکھوں   یزیدِ وقت نے بھیجا ہے مجھ کو پروانہ کہ ایک فاسق و فاجر کو آنجناب لکھوں   وہ جس اذانِ بلالیؓ سے صبح ہوتی تھی میں اُس اذانِ بلالیؓ کو مستجاب لکھوں   تم اپنے حُسن کی تعریف بے شمار کرو میں اپنے عشق کی توصیف بے حساب لکھوں   نہ چل سکا جو مرے ساتھ دو قدم آثمؔ اسے بتائو کہ کیسے میں ہم رکاب لکھوں   بشیر آثمؔ باغبان پورہ، لعل بازار موبائل نمبر؛9627860787       زخم اک اور ہی کھاؤں گا چلا جاؤں گا دو گھڑی ا