غزلیات

 اندھیری رات میں جگنو کی کمان کھینچتے ہیں کہ ٹمٹماتےچراغوں کی جان کھینچتے ہیں جفا کشیدہ شہر ہے سنبھل کے بات کرو فراق دیدہ یہاں پر زبان کھینچتے ہیں پہنچ نہ پاؤ گے افلاک کی بلندی پر صیادِ اجل پروں کی اُڑان کھینچتے ہیں تُمہی سکھا دو محبت کے ضابطے مجھ کو تُمہارے شہر میں اُستاد کان کھینچتے ہیں مُجھے چلا نہ سکے دو قدم بھی ساتھ اپنے سُنا تھا ساتھ وہ اپنے جہان کھینچتے ہیں ہمیں یقین ہے تُم تک پہنچ ہی جائیں گے تُمہارے پاؤں کے مِٹتے نشان کھینچتے ہیں تمام دولتیں رہ جائیں گی یہیں جاویدؔ یہ لوگ کِس لئے تخت و مکان کھینچتے ہیں   سردارجاویدخان مینڈھر پونچھ موبائل نمبر؛9697440404      میرے چہرے پر کس نے رکھ دئیے الزام کے پتھر بہت پوجے گئے ہیں یہ تمہارے نام کے  پتھر مقدس ہیں یہی تحریرکر

گلہائے عقیدت

یہ کس کی آمد سے غنچے کھلنے لگے چمن میں قدم قدم پر یہ کس نے درسِ خودی سے روح کو جگایا تن میں قدم قدم پر   یہ کس نے اپنوں کے دُکھ سہے پر زباں سے شکوہ کیا نہ ہرگز یہ کس نے خلقِ عظیم پیدا کیا چلن میں قدم قدم پر   غلاموں کو کس نے روشنی دی بتائے اسرار سلطنت کے وگر نہ انسانیت تھی مُردہ پڑی کفن میں قدم قدم پر   یہ کس نے عورت کو بخشی عظمت عطا کیا اس کو تاجِ رفعت لگا ديے ڈھیر خوشبوؤں کے ہر اک سَمن میں قدم قدم پر   یتیموں کے سر پہ ہاتھ پھیرا گلے لگایا گرے ہوؤں کو چمک خوشی کی اُبھر کے آنے لگی نیّن میں قدم قدم پر   شفائیؔ لے ان کی بات دل میں انہی کو بس پیشوا بنا دے قرار پھر دیکھنا کہ آنے لگے وطن میں قدم قدم پر   ڈاکٹر شکیل شفائیؔ بمنہ/سرینگر

تازہ ترین