غزلیات

کوئے قاتل میں ہم آئے ہیں مسیحا ڈھونڈنے پتھروں کے شہر میں آئینہ خانہ ڈھونڈنے میرا سایہ تک نظر آتا نہیں اب میرے ساتھ میں کہاں جاؤں الٰہی اپنا سایہ ڈھونڈنے آج کل جو لوگ دنیا چھوڑ کر رخصت ہوئے کیا گئے ہیں وہ کہیں کووڈ کا نسخہ ڈھونڈنے تیرے بندوں سے جو خالی ہوگئے دیر وحرم جارہا ہوں میں کہیں اللہ کا بندہ ڈھونڈنے ماسوائے کوچۂ قاتل کوئی رستہ نہیں چند دیوانے لگے ہیں پھر بھی رستہ ڈھونڈنے ان کی نادانی پہ حد درجہ تعجب ہے مجھے کل گئے تھے جو کہ اپنوںمیں پرایا ڈھونڈنے تشنگی لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہی ہے شمسؔ کی آؤ چلتے ہیں کسی صحرا میں دریا ڈھونڈنے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی اردواسلامک اسٹڈیز  بابا غلام شاہ بادشاہ یوینورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380       اُس نے مجھ کو سوچا ہوگا، م

نعت

معلوم ہے سب کو ترے کردار کا عالم  اس پر یہ ترا نرمئی گفتار کا عالم   آنکھوں میں مری حسرتِ دیدار کا عالم  گلیوں میں تری عالم انوار کا عالم    اُلفت بھی، صداقت بھی، ندامت بھی، حیا بھی  اللہ رے ہمارے شہہِ ابرار کا عالم    جائیں گے مدینے تو بشارت بھی ملے گی  دنیا میں ہی دیکھیں کبھی گلزار کا عالم    جب نعت اُترتی ہے مرے قلب و جگر پر  لہجے کا اثر پوچھ نہ اشعار کا عالم    یہ آنکھ بھٹکتی ہے تری دید کی خاطر  آ! دیکھ ذرا اس دِل بیمار کا عالم    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛7780806455  

غزلیات

دھڑکنیں قید ہیں زندان کی دیوار کے بیچ شور کیسا ہے یہ زنجیر کی جھنکار کے بیچ   آئینہ دیکھ کے آ جائیں گے سب یاد تُمہیں میرے نالے نہیں چھپتے کسی اخبار کے بیچ   خس وخاشاک سے آنچل کو بچا لو جاناں خاک ہی خاک ہے اب تک دلِ مسمار کے بیچ   اے مسیحا تری آمد پہ ہی دم توڑ گیا کوئی حسرت ہی نہیں تھی ترے بیمار کے بیچ   تُم تصّور میں بھی آتے ہو کئی حِصوں میں کیوں اُترتے نہیں یکسر مرے اشعار کے بیچ   عین ممکن ہے کہ مل جائیں نصیبوں سے تمہیں  ہم وہ یوسف نہیں آ جائیں جو بازار کے بیچ   میں نے بھی رکھ دیا جاویدؔ جلا کر دل کو حوصلہ دیکھئے کتنا ہے مرے یار کے بیچ   سردارجاویدؔخان پتہ، مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198       سرِ میخانہ ہوتا ہَ

غزلیات

شفقت کے آس پاس مروت کے آس پاس پاؤگے ہم کو صرف محبت کے آس پاس   پہچان لینا بس وہی محبوب ہے مرا مل جائے آپ کو جو نزاکت کے آس پاس   یہ کیا کہ آج آپ کہیں بھی نہیں ملے  خلوت کے آس پاس نہ جلوت کے آس پاس   ان کو کہیں بھی لے چلوں کوئی سماں دکھاؤں پھرتی ہیں آنکھیں بس تری صورت کے آس پاس   تیرے سوا کوئی بھی تمنا نہیں مجھے  رہتا ہے تو ہی تو مری حسرت کے آس پاس   کیا یونہی لہجہ ہے مرا اس درجہ دلنواز رہتا ہوں اک سراپا نفاست کے آس پاس   محسوس کرتا ہوں میں تجھے اے مرے حبیب ہر دلفریب نکہت و زینت کے آس پاس   ذکی طارق بارہ بنکوی سعادتگنج۔بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108   بہت چھوٹا ہے افسانہ جبھی تو یاد رکھو گے اسے لازم ہے دہرانا، جب

غزلیات

 اندھیری رات میں جگنو کی کمان کھینچتے ہیں کہ ٹمٹماتےچراغوں کی جان کھینچتے ہیں جفا کشیدہ شہر ہے سنبھل کے بات کرو فراق دیدہ یہاں پر زبان کھینچتے ہیں پہنچ نہ پاؤ گے افلاک کی بلندی پر صیادِ اجل پروں کی اُڑان کھینچتے ہیں تُمہی سکھا دو محبت کے ضابطے مجھ کو تُمہارے شہر میں اُستاد کان کھینچتے ہیں مُجھے چلا نہ سکے دو قدم بھی ساتھ اپنے سُنا تھا ساتھ وہ اپنے جہان کھینچتے ہیں ہمیں یقین ہے تُم تک پہنچ ہی جائیں گے تُمہارے پاؤں کے مِٹتے نشان کھینچتے ہیں تمام دولتیں رہ جائیں گی یہیں جاویدؔ یہ لوگ کِس لئے تخت و مکان کھینچتے ہیں   سردارجاویدخان مینڈھر پونچھ موبائل نمبر؛9697440404      میرے چہرے پر کس نے رکھ دئیے الزام کے پتھر بہت پوجے گئے ہیں یہ تمہارے نام کے  پتھر مقدس ہیں یہی تحریرکر

گلہائے عقیدت

یہ کس کی آمد سے غنچے کھلنے لگے چمن میں قدم قدم پر یہ کس نے درسِ خودی سے روح کو جگایا تن میں قدم قدم پر   یہ کس نے اپنوں کے دُکھ سہے پر زباں سے شکوہ کیا نہ ہرگز یہ کس نے خلقِ عظیم پیدا کیا چلن میں قدم قدم پر   غلاموں کو کس نے روشنی دی بتائے اسرار سلطنت کے وگر نہ انسانیت تھی مُردہ پڑی کفن میں قدم قدم پر   یہ کس نے عورت کو بخشی عظمت عطا کیا اس کو تاجِ رفعت لگا ديے ڈھیر خوشبوؤں کے ہر اک سَمن میں قدم قدم پر   یتیموں کے سر پہ ہاتھ پھیرا گلے لگایا گرے ہوؤں کو چمک خوشی کی اُبھر کے آنے لگی نیّن میں قدم قدم پر   شفائیؔ لے ان کی بات دل میں انہی کو بس پیشوا بنا دے قرار پھر دیکھنا کہ آنے لگے وطن میں قدم قدم پر   ڈاکٹر شکیل شفائیؔ بمنہ/سرینگر

غزلیات

ذرا سی عمر نے کیا کیا دکھا دیا ہے مجھے بھری جوانی میں بوڑھا بنا دیا ہے مجھے   میں جانتا ہی نہ تھا زندگی کے معنی کو غموں کی دھوپ نے سب کچھ سِکھا دیا ہے مجھے   جب اِس بڑھاپے میں آیا تو یہ خیال آیا مری حیات نے آخر کو کیا دیا ہے مجھے   سمٹ گئے ہیں سبھی علم انگلیوں میں مری اس آگہی نے تو جاہل بنا دیا ہے مجھے   نڈھال رہتا ہوں میں جس کی یاد میں اے شمسؔ ستم تو یہ ہے اُسی نے بھلا دیا ہے مجھے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی / اردو / اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380     کبھی تو پوری مرے دل کی آرزو ہوگی کبھی وہ شام بھی آئے گی پاس تُو ہوگی کھِلے گی گلشنِ اُمید کی کلی تو کبھی فضا میں خوشبو تمہاری ہی چار سُو ہوگی وہ دن ب

غزلیات

تھا با ضمیر جُرم کا اقرار کرگیا پیچ و خمِ نگاہ کو ہموار کر گیا   کیسی تھی یہ نگاہ جو پتھرا گئ مجھے یہ کون مجھکو نقش بہ دیوار کرگیا   دیوار و در کی قید میں محفوظ تھا بہت کھڑکی کھلی تو مجھ پہ کوئی وار کرگیا   تھی سوچ منفرد تو سزا یہ ملی مجھے دشمن میں اپنی جان کا سنسار کر گیا    یہ کس کی سازشوں سے تھی مسموم سب فضا انصارکو بھی کون یہ اغیار کر گیا   اندوہ و انبساط کا ادراک ہے کہاں میں سرحدِ شعور کو اب پار کر گیا   دل میں کچھ ایسے اُترا ہے تیکھی نظر کا تیر  دل ہی نہیں جگر پہ بھی یلغار کرگیا   بسملؔ وفا،خلوص بھی بکنے لگے یہاں  انسان آج گھر کو بھی بازار کر گیا   خورشید بسملؔؔ تھنہ منڈی،راجوری موبائل نمبر؛9086395995   

نعتِ مقبول

بزمِ سرکارِ دوعام میں جو مدحت گر ہوا میرا اِک اِک لفظ پھر گنجینۂ گوہر ہوا    خیبروخندق ہو، صفیں ہو کہ ہوبدر و احد کامرانی کی بشارت ساقیِ کوثر ہوا   باخدا اخلاق میں اعمال میں کامل ہے وہ جوبَشر آلِ رسولِ پاک کا نوکر ہوا   عظمتِ آلِ نبی قرآں سے جو پوچھی گئی  ھل اتیٰ گویا ہوئی تطہیر کا مظہر ہوا   میں ہوں کیا عرفان عارفؔ کیاہے میری شاعری سب کرم ان کا ہے میں پتھر اگر گوہر ہوا   عرفان عارفؔ صدر شعبہ اردو ایس پی ایم آر کالج آف کامرس جموں موبائل نمبر؛09682698032            

نعتیں

نبیٔپاکﷺ نبیٔ پاکؐ! اے خوشبوئے عالم   مجھے تیری طلب تیری طلب ہے تیرا ہے نامِ اطہرؐ دوجہاں میں تو ہی شانِ عجم ، فخرِ عرب ہے صدائیں مدح خوانوں کی نرالی  مگر نا اَکل طیب ، نا شُرب ہے خطاکارِ جہاں میں، نعت خواں میں! مجھے تو اپنی جُرأت پہ عجب ہے میں تو راہِ عزیمت سے ہوں خائف حقیقت میں یہی راہِ طرب ہے جہاں والو بتایا زندگی کو قُرآنِ پاک نےــ’لہو و لعب‘ہے خدا کے سامنے تقویٰ مُقدم نہیں چلتا وہاں نام و نسب ہے   طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653         نعت رسول مقبول ﷺ یہ عاصی ذرا دیکھ کیا چاہتا ہے دیارِ حبیبِ خدا چاہتا ہے یہ دل خاکِ کرب و بلا چاہتا ہے غمِ زندگی کی دوا چاہتا ہے نبی اور نبی والوں کا جو ہے

غزلیات

میرے خوابوں میں آنے سے کیا فائدہ نیند میری اُڑانے سے کیا فائدہ   جبکہ تُجھ سے کوئی واسطہ ہی نہیں پھر یہاں آنے جانے سے کیا فائدہ   تیری خوشبو ہے بکھری ہوئی چار سُو میرے گھر کو جلانے سے کیا فائدہ   یہ ہوا بھی مخالف ہے کُچھ اِن دنوں خاک میری اُڑانے سے کیا فائدہ   اے چراغِ سحر آخری وقت ہے اس طرح پھڑ پھڑانے سے کیا فائدہ   ساز چھیڑو نہ پھر دِل مچل جائے گا شدّتِ غم بڑھانے سے کیا فائدہ   باندھ لو اب تو جاویدؔ رختِ سفر اب یہاں دل لگانے سے کیا فائدہ   سردارجاویدخان مینڈھر پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198     لگتا ہے ماتھا اس کا سجانا ہی پڑے گا اب توڑ کے تارے مجھے لانا ہی پڑے گا اب آپسی ان بن کو بھلانا ہی پڑے گا ہم ایک ہیں دنیا کو جتانا

غزلیات

تو اب بھی میرے حصارِ دل میں کہیں نہاں ہے لہو نہیں ہے رگوں میں پھر بھی رواں دواں ہے   کتابِ ہستی جو میں نے دیکھی تو یہ بھی دیکھا بہت ہی پختہ لکھا ہوا ہے جو درمیاں ہے   وہ قافلہ ہم ہی تھے کبھی جو نہ تم نہ ہم تھے یہ تم یہ ہم کیا ہے اب جدا کیوں یہ کارواں ہے؟   نکل پڑا تھا جو ماہ و پرویں کو مات دینے وہ شعلہ سامان آجکل بس دھواں دھواں ہے   زمیں پہ دوڑائی میں نے آنکھیں ، فلک پہ باہیں خبر ملی ہے وہ آئے گا جو قرارِ جاں ہے   دبی تبسم کی چاشنی میں وہ لے کے آیا وہ راحتیں جن کے دم سے آباد آشیاں ہے   کسی نے ہم سے کہا کہ محبوب کس کو مانا تو ہم نے آفاقؔ کہہ دیا وہ جو ضو فشاں ہے   آفاقؔ دلنوی دلنہ بارہمولہ، موبائل نمبر؛ 7006087267       دنی

غزلیات

رعونت عقل پہ انساں کی پردہ ڈال دیتی ہے سب اٹھنے والی آوازوں پہ پہرہ ڈال دیتی ہے   سیاست پھولنے پھلنے نہیں دیتی ہے لوگوں کو ہمیشہ دوستوں کے دل میں کینہ ڈال دیتی ہے   تمہارے طنزیہ لفظوں سے ہوتا ہے جگر چھلنی تمہاری بات دل پر زخم گہرا ڈال دیتی ہے   مسائل کے بھنور کو پار کر جاتا ہوں لمحے میں مری ہمت سمندر میں سفینہ ڈال دیتی ہے   مرے گھر کے ہر اک کھانے کی لذت وازوانی ہے مری محنت جو روزی میں پسینہ ڈال دیتی ہے   میں جب گھر سے نکلتا ہوں دعا پڑھ کر نکلتا ہوں مری ماں پھر بھی دس روپے کا صدقہ ڈال دیتی ہے   جہاں جاتا ہوں میں اللہ کی رحمت برستی ہے مشیت دھوپ میں بادل کا سایہ ڈال دیتی ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی ر

غزلیات

بدن میں ہجر کا تپ تھا نئی بارش میں آ ٹھہرا کہ میرا خاک زادہ آگ کی سازش میں آ ٹھہرا نویلی شب کی چادر میں نگاہیں نیم عریاں تھیں پرانے خواب کی اک تازہ پیمائش میں آ ٹھہرا چمک اُٹھی ہے شبنم زرد موسم کی ہتھیلی پر فلک نیلا یہ کس کا ہے مری گردش میں آ ٹھہرا اُسے معلوم ہے کس کے فسوں کی زد پہ رہنا ہے مرے کینواس پر آکر مری کاوش میں آ ٹھہرا تکوں میں گھومتا کب تک وہ اپنا دائرہ لیکر  کسی قد کے برابر سائے کی لغزش میں آ ٹھہرا اسی برسات میں مٹی یہ تن کی دُھل گئی ساری کسی کا جسم میری روح کی ورزش میں  آ ٹھہرا مکاں کی وسعتیں شیدّاؔکہاں پر چھوڑ آئے تم زمن کی دھڑکنوں کا شور اک جنبش میں آ ٹھہرا   علی شیدّاؔ  نجدون نیپورہ اسلام ا?باد،   موبائل نمبر؛9419045087   میرے خوابوں میں آنے سے کیا ف

غزلیات

  کوئی مسکین مرے گھر سے جو خالی جائے ’’مجھ سے حالت مری دیکھی نہ سنبھالی جائے‘‘   باغِ رضواں کے سبھی راستے کھل جائنگے عشقِ احمدؐ کی کِرن دل میں چھپالی جائے۔    ریگزاروں میں سرابوں نے کیا مجھکو نڈھال اب سمندر سے کوئی راہ نکالی جائے    میرے اللہ مرے شہر کو ایسا کردے کسی معصوم کی پگڑی نہ اُچھالی جائے   جو ہمیں ہوش کے ناخن نہیں لینے دیتی اب وہ اذہان سے تصویر ہٹا لی جائے   کورنش کرتے ہوئے، آئیں ملائک سرِ راہ  آدمی جائے جہاں سے تو مثالی جائے   خامشی اوڑھ کے سو جاتے ہیں بسملؔ آؤ قلبِ ویراں میں نئی بستی بسالی جائے    خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری موبائل نمبر؛9622

نعتیں

نعت جشنِ سرکار جومناتے ہیں خلد میں اپنا گھر بناتے ہیں چاہنے والے میرے آقا کے غم کی حالت میں مسکراتے ہیں جس کو مہتاب کہتی ہے دنیا انگلیوں پر نبیؐ نچاتے ہیں ہم کو مت چھیڑ گردشِ دوراں آنکھ سورج سے ہم ملا تے ہیں حسن اخلاقِ مصطفےٰ ؐ دیکھو زخم کھاتے ہیں مسکراتے ہیں جس کو ٹھکرادیا ہو دنیا نے اس کو آقا گلے لگا تے ہیں منتظر ان کی ہے بہشتِ بریں ماں کے قدموں کوجو دباتے ہیں  جو حسینی ہیں وہ تومقتل میں سر ہتھیلی پہ لے کے جاتے ہیں چھوڑ دیتے ہیں دانہ پانی،جب کربلاوالے یاد آتے ہیں ذکرِ آلِ نبی سے ہم زاہدؔ دل کی دنیا کو جگمگا تے ہیں   محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج بھدوہی موبائل نمبر؛9451439786   آغوشِ محمد ﷺ سوائے بارگاہِ رب کہیں راحت نہیں  پائی

کیا ہم پہ یہ گزری؟

  وبا یہ چینؔ سے چل کر اُدھر سے کیا ادھر گزری اَجل انجام ہے اِس کا یہ عالم سے جدھر گُزری   بکھیرے بال و پر اپنے یہ بیٹھی مشرق و مغرب ہر اک جاء ہے یہ واویلا اِدھر گزری اُدھر گزری   اچانک ایک خطے میں کبھی شب خُون یہ مارے نہیں ٹھہرائو ہے اِس کا یہ دُوجے کے بھی گھر گزری   اِلٰہی آپ ہی جانیں بھلا یہ ماجرا کیا ہے وبا ایسی یہ مہلک کیوں جہاں میں خُشک و ترگزری   طبیبِ وقت بھی اِس سے ہراساں اور نالاں ہے بصورت ایک فاتح کے وبا ء یہ اُسکے سرگزری   پیامِ مرگ کا لے کر علم یہ چہار سُو گھومے کسی کا نوجواں بیٹا یہ لیکر با پدر گُذری   تمہاری ذات سے ہم نے تعلق توڑ جو ڈالا مؤجب اسکے بن کے سر سے وہ مثلِ شرر گزری   ابھی بھی وقت ہے عُشاقؔ غلط کاری سے توبہ کر کہو گے ورنہ محشر می

حُسَینُ مِنِّی وَاَ نَامِن الحُسَین

 السلامُ علیکم یاحسینِ پاکؓ السلام السلام السلام السلام اے حسین اے امام الامام السلام آپ کے سر کٹانے میں یہ راز تھا آیا نیزے پہ جیسے ہی سر مرحبا عظمتِ سر کو پھر مرتبہ یہ ملا آفتابِ قیامت کی حد بن گیا راکبِ دوشِ خیرالانام السلام اے حسین اے امام الامام السلام اک طرف پیکرِ جبر و ظلم و جفا ایک جانب ہے پروردگارِ وفا اْس طرف تھا ستم انتہا آشنا اِس طرف تھی ابھی صبر کی ابتدا اک طرف گمرہی اک طرف اک امام اے حسین اے امام الامام السلام کاسۂ شمر میں ڈال دی سر کی بھیک حرمتِ دستِ حق پر نہیں جانے دی مرحبا مرحبا آفریں آفریں اے گلِ فاطمہ اے چراغِ علی پھر نہ کیوں یہ جہاں آپ کا ہو غلام اے حسین اے امام الامام السلام دیکھ کر اہلِ بیتِ نبی پر ستم صرف ہم آپ کیا کُل جہاں روپڑا کیا شجر کیا حجر کیا چرند و پر

غزلیات

جـب بات نہ ہو گھــبراتا ہوں خود اپنے زخـم ســہلاتا ہــوں   نہ دن میں مجھکو چین ملـے نہ راتـــوں کو ســــو پاتـا ہوں   دھوپ سے میرا شکوہ کیسا میں چھاؤں سے جل جاتا ہوں   زنــدہ ہوں یہ کیــسے مانوں؟ سانس کہاں لے پـــاتا ہوں   ســاقی بــس تو جــام پـــــلانا میخانے چل کر آتـا ہوں   پیاس کہاں گلشنؔ کی بھجے گی میں بس غم کے آنسوں پیتــا ہوں   گلشــــنؔ رشـــــید دلنوی دلنہ بارہمولہ، کشمیر موبائل نمبر؛9596434034     ہر طرف اب ہم شکارے جائیں گے چھین کے وہ پھر سہارے جائیں گے رات بھر بیدار تھے سب سو گئے عشق والے اب پکارے جائیں گے جن کی قسمت میں لکھا ہے درد و غم اب کہاں اپنوں کے مارے جائیں گے دشتِ کربل راستے میں آئے گا خالی ہاتھوں ہم ات

غزلیات

لِکھے ہیں مقدر میں مرے درد و الم اور سہنے ہیں ابھی مجھکو ترے ہِجر کے غم اور   گویا مُجھے درپیش قیامت کی گھڑی ہے اب کے تو ستمگر کا ہے اندازِ ستم اور   لازم نہیں تُم نے جو سُنا ہے وہی سچ ہو واعظ کی زباں اور کہ رودادِ قلم اور   دریا ہوں مگر ایک سمندر سے جدا ہوں لوٹوں گا تو ہو جاؤں گا پہلے سے بھی ضم اور   سجدوں نے اُٹھا رکھا ہے محشر مرے سر پر کعبہ کا خدا اور کہ پتھر کا صنم اور   مُمکن ہے اِسی جھیل میں اُتریں یہ شناور کر لیجئے آنکھوں کو ابھی تھوڑا سا نم اور   اک شاخ سے ٹُوٹی ہُوئی ٹہنی کو گِلہ ہے یزداں نے بڑھا رکھا ہے جاویدؔ کا غم اور   سردارجاویدخان مینڈھر پونچھ،موبائل نمبر؛9697440404   یہ دور نیا ، دستور نیا ، اقوال نئے ، کردار نئے انسان نئے ، انداز

تازہ ترین