تازہ ترین

غزلیات

زندگی مرغزار کیا ہوگی یہ خزاں پُر بہار کیا ہوگی   آہنی روزوشب کی صدیوں میں  صورتِ انتظار کیا ہوگی   جینے مرنے کا فرق کھو بیٹھی زندگی اور خوار کیا ہوگی   لبِ اظہار کے دوراہے پر خامشی زیرِ بار کیا ہوگی   فکرِ سود و زیاں ہو جامد تو کوششِ کار و بار کیا ہوگی   کامیابی کے سیلِ باطل میں معتبر کوئی ہار کیا ہوگی   حنیف ترین صدر’مرکزعالمی اردومجلس‘بٹلہ ہاؤس، جامعہ نگر،نئی دہلی، حال راولپورہ سرینگر موبائل نمبر؛9971730422     مسلسل مسکرائے جا رہا ہے وہ زخموں کو چُھپائے جارہا ہے مجھے دیکھا نہیں اک بار مڑ کر یہی غم مجھ کو کھائے جارہا ہے سمندر تیری آنکھوں کا اے ہمدم  گھروندوں کو گرائے جارہا ہے یہ جو سینے میں ہے طوفان ب