تازہ ترین

غزلیات

  درد کے راستوں میں رہتا ہے وہ فقط سازشوں میں رہتا ہے گُھپ اندھیرا گھروں میں رہتا ہے بغض جب تک دلوں میں رہتا ہے اُس کو دنیا نظر میں رکھتی ہے وہ سدا آئنوں میں رہتا ہے خار جیسے گلوں میں رہتے ہیں وہ مرے دوستوں میں رہتا ہے ظلم کے بادلوں کے سائے میں آدمی جنگلوں میں رہتا ہے موج و طوفاں سے اس کو کیا مطلب وہ تو بس بزدلوں میں رہتا ہے حق کی آواز وہ نہیں سنتا کیونکہ وہ حاکموں میں رہتا ہے جب سے اس ماہ رخ کو دیکھا ہے دل مرا جگنوؤں میں رہتا ہے جب تلک ہو ہوا مخالف شمسؔ حوصلہ شہپروں میں رہتا ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380      اب کے وہ بس چیختا ہے دشت&n

تازہ ترین