غزلیات

آنکھوں کو سُکھ کا خواب دکھایا نہیں گیا دل سے بھی  دکھ کا جشن منایا  نہیں گیا    ساعت بچھڑنے کی بھی قیامت سے تھی نہ کم مانا کہ شورِ حشر اٹھایا نہیں گیا   اپنا وہی سوال کہ روٹھےہیںبے سبب  انہیںملال یہ کہ منایا نہیں گیا   آنکھیں سمائے ریت جو وحشت کے دشت کی دریائے اشک ہم سے بہایا نہیں گیا   ہم سے سنائی جائےکوئی ہجر کی کتاب ہم کو نصابِ وصل پڑھایا نہیں گیا   پھر میرا درد،یادتری، رات سردتھی پھر طاق میں دیا بھی جلایا نہیں گیا   حیرت سے آئنہ بھی ہے شیداؔ جو تک رہا اک نقش تھا سو ہم سے بنایا نہیں گیا    علی شیداؔ  نجدون نیپورہ اسلام آباد، موبائل  نمبر؛9419045087     کمال یہ ہے عروجِ کمال تک پہنچیں سوال بنکےبِنائ

نعتِ رسولِ مقبولﷺ

یہ حِرا کی خامشی میں بسنے والا کون ہے   نوٗر افشاں دوجہاں کو کرنے والا کون ہے  لُٹ رہی بنتِ حوا تھی پِٹ رہی چاروں طرف  اُس کو رفعت کا خزینہ دینے والا کون ہے  شعبِ بی طالب کی عُسرت اور وہ طا ئف کے ستم  ارتفاعِ دیں کی خاطر سہنے والا کون ہے   زخم کھانے کا نہیں ہے حوصلہ کچھ بھی ہمیں   شاہراہِ بدر پہ وہ چلنے والا کون ہے  ٹھوکریں در در کی جو کھاتے رہیں شام و سحر  دامنِ رحمت میں اُن کو لینے والا کون ہے  ذرہ ذرہ دو جہا ں کا کن کا ہے مِدحت سرا  عرش پہ آقا سے اپنے ملنے والا کون ہے    طُفیلؔ شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653

غزلیات

لمحہ وصالِ صبح کا مغرور ہوگیا  منشور ہجر یار کا منظور ہوگیا    اپنی انا کے جبر سے رنجور ہوگیا  شاعر صلیبِ حرف پہ مشہور ہوگیا   اک شخص مشقِ جور سے مغرور ہوگیا  یہ واقعہ بھی شہر میں مشہور ہوگیا    وہ ملک کیا کھلائے گا روٹی عوام کو  جس ملک کا کسان ہی رنجور ہوگیا    خاموش ہی جو جشن جنوں پر رہا وہ دل  بیڑی پہن کے رقص پہ مجبور ہوگیا    چڑھتا رہا صلیب پہ شب روز دوستو  اس شہر کا غریب بھی منصور ہوگیا    دیوانہ وار پیار کیا تھا جنون سے  ایسا کیا تھا رقص کہ مسرور ہوگیا    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  موبائل نمبر؛ 7780806455       ایسا نگاہ یار کا کچھ س

غزلیات

دھڑکنیں قید ہیں زندان کی دیوار کے بیچ شور کیسا ہے یہ زنجیر کی جھنکار کے بیچ   آئینہ دیکھ کے آ جائیں گے سب یاد تُمہیں میرے نالے نہیں چھپتے کسی اخبار کے بیچ   خس وخاشاک سے آنچل کو بچا لو جاناں خاک ہی خاک ہے اب تک دلِ مسمار کے بیچ   اے مسیحا تری آمد پہ ہی دم توڑ گیا کوئی حسرت ہی نہیں تھی ترے بیمار کے بیچ   تُم تصّور میں بھی آتے ہو کئی حِصوں میں کیوں اُترتے نہیں یکسر مرے اشعار کے بیچ   عین ممکن ہے کہ مل جائیں نصیبوں سے تمہیں  ہم وہ یوسف نہیں آ جائیں جو بازار کے بیچ   میں نے بھی رکھ دیا جاویدؔ جلا کر دل کو حوصلہ دیکھئے کتنا ہے مرے یار کے بیچ   سردارجاویدؔخان پتہ، مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198

غزلیات

    غزل  فکرِ امروز نہ فردا مجھ کو ہے ستائے غمِ طیبہ مجھ کو یاد ماضی جو کبھی کرتا ہوں یاد آتا ہے مدینہ مجھ کو میری باتوں میں کشش پیدا کر ایک اسلوب دے مولا مجھ کو صرف اعزاز یہی کافی ہے لوگ سمجھیں ترا شیدا مجھ کو علم سارے مجھے ازبر ہوجائیں میں پڑھوں اور تو سمجھا مجھ کو ضبط کی تاب نہ لاپاؤں گا زخم دے اتنا نہ گہرا مجھ کو اپنی رحمت سے عطا کر یارب بات کرنے کا سلیقہ مجھ کو چاند تاروں کی رفاقت دے دے بارشِ نور میں نہلا مجھ کو چاہیے مجھ کو سفینہ تیرا تاکہ مل جائے کنارا مجھ کو میری آنکھیں بھی منور ہوجائیں بخش دے خواب سنہرا مجھ کو شمسؔ ہوں میں یہی رہنے دے مجھے  کیا بنائے گا ستارا مجھ کو   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی اردواسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یو

غزلیات

  طرحی غزل   غریبی کا ستم نادار سے پوچھ، "حقیقت درد کی بیمار سے پوچھ"   سناؤں روز و شب کا ماجرا کیا مرے اِحبا مرے اغیار سے پوچھ   مقام مصطفےﷺہم کیا بتائیں مدینے کے کسی انصار سے پوچھ   نہ مجھ سے پوچھ کیا ہے حال میرا کبھی آکر در و دیوار سے پوچھ    مسلماں کیا تری اوقات ہے آج اگر ہو جاننا سنسار سے پوچھ    میں ہوں کشمیر،میرا کرب کیا ہے یہ قصہ روز کے اخبار سے پوچھ   زمیں تنگ اور فلک آتش فشاں ہے مرے دریا مرے کوہسار سے پوچھ   سمجھنا ہے جو بسملؔ رازِ ہستی  حقائق سب شہِ ابرار سے پوچھ   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری جموں کشمیر  موبائل نمبر؛9086395995       ہماری انا کے

نعتیہ کلام

قطعات    فرشتے کہہ کے یا صلی علیٰ پرواز کرتے ہیں  نبیؐ کے نور پر شمس وقمر بھی ناز کرتے ہیں    قسم ہے مشکلیں انکی سبھی آسان ہوتی ہیں سفر کا یانبیؐ کہہ کر کے جو آغاز کرتے ہیں   ���   میرے ایمان کا حاصل محمدؐ یا محمد ؐ میرا رستہ  میری منزل محمدؐ یا محمد ؐ   خدا کے بعدمیں کس کو  پکاروں  مسلسل کہہ رہا ہے دل محمدؐ یا محمدؐ   عرفان عارف  صدر شعبہ اردو ایس پی ایم آر کالج آف کامرس جموں موبائل نمبر؛09682698032  

غزلیات

دھڑکنیں قید ہیں زندان کی دیوار کے بیچ شور کیسا ہے یہ زنجیر کی جھنکار کے بیچ آئینہ دیکھ کے آ جائیں گے سب یاد تُمہیں میرے نالے نہیں چھپتے کسی اخبار کے بیچ خس وخاشاک سے آنچل کو بچا لو جاناں خاک ہی خاک ہے اب تک دلِ مسمار کے بیچ اے مسیحا تری آمد پہ ہی دم توڑ گیا کوئی حسرت ہی نہیں تھی ترے بیمار کے بیچ تُم تصّور میں بھی آتے ہو کئی حِصوں میں کیوں اُترتے نہیں یکسر مرے اشعار کے بیچ عین ممکن ہے کہ مل جائیں نصیبوں سے تمہیں  ہم وہ یوسف نہیں آ جائیں جو بازار کے بیچ میں نے بھی رکھ دیا جاویدؔ جلا کر دل کو حوصلہ دیکھئے کتنا ہے مرے یار کے بیچ   سردارجاویدخان  مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198   اک عکس نے آئینےمیں اظہار کیا ہے جذبوں نے ترے تجھ کو گرفتار کیا ہے   ہے حسُن اُسکا جوشِ ج

غزلیات

کوئے قاتل میں ہم آئے ہیں مسیحا ڈھونڈنے پتھروں کے شہر میں آئینہ خانہ ڈھونڈنے میرا سایہ تک نظر آتا نہیں اب میرے ساتھ میں کہاں جاؤں الٰہی اپنا سایہ ڈھونڈنے آج کل جو لوگ دنیا چھوڑ کر رخصت ہوئے کیا گئے ہیں وہ کہیں کووڈ کا نسخہ ڈھونڈنے تیرے بندوں سے جو خالی ہوگئے دیر وحرم جارہا ہوں میں کہیں اللہ کا بندہ ڈھونڈنے ماسوائے کوچۂ قاتل کوئی رستہ نہیں چند دیوانے لگے ہیں پھر بھی رستہ ڈھونڈنے ان کی نادانی پہ حد درجہ تعجب ہے مجھے کل گئے تھے جو کہ اپنوںمیں پرایا ڈھونڈنے تشنگی لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہی ہے شمسؔ کی آؤ چلتے ہیں کسی صحرا میں دریا ڈھونڈنے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی اردواسلامک اسٹڈیز  بابا غلام شاہ بادشاہ یوینورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380       اُس نے مجھ کو سوچا ہوگا، م

نعت

معلوم ہے سب کو ترے کردار کا عالم  اس پر یہ ترا نرمئی گفتار کا عالم   آنکھوں میں مری حسرتِ دیدار کا عالم  گلیوں میں تری عالم انوار کا عالم    اُلفت بھی، صداقت بھی، ندامت بھی، حیا بھی  اللہ رے ہمارے شہہِ ابرار کا عالم    جائیں گے مدینے تو بشارت بھی ملے گی  دنیا میں ہی دیکھیں کبھی گلزار کا عالم    جب نعت اُترتی ہے مرے قلب و جگر پر  لہجے کا اثر پوچھ نہ اشعار کا عالم    یہ آنکھ بھٹکتی ہے تری دید کی خاطر  آ! دیکھ ذرا اس دِل بیمار کا عالم    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛7780806455  

غزلیات

دھڑکنیں قید ہیں زندان کی دیوار کے بیچ شور کیسا ہے یہ زنجیر کی جھنکار کے بیچ   آئینہ دیکھ کے آ جائیں گے سب یاد تُمہیں میرے نالے نہیں چھپتے کسی اخبار کے بیچ   خس وخاشاک سے آنچل کو بچا لو جاناں خاک ہی خاک ہے اب تک دلِ مسمار کے بیچ   اے مسیحا تری آمد پہ ہی دم توڑ گیا کوئی حسرت ہی نہیں تھی ترے بیمار کے بیچ   تُم تصّور میں بھی آتے ہو کئی حِصوں میں کیوں اُترتے نہیں یکسر مرے اشعار کے بیچ   عین ممکن ہے کہ مل جائیں نصیبوں سے تمہیں  ہم وہ یوسف نہیں آ جائیں جو بازار کے بیچ   میں نے بھی رکھ دیا جاویدؔ جلا کر دل کو حوصلہ دیکھئے کتنا ہے مرے یار کے بیچ   سردارجاویدؔخان پتہ، مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198       سرِ میخانہ ہوتا ہَ

غزلیات

شفقت کے آس پاس مروت کے آس پاس پاؤگے ہم کو صرف محبت کے آس پاس   پہچان لینا بس وہی محبوب ہے مرا مل جائے آپ کو جو نزاکت کے آس پاس   یہ کیا کہ آج آپ کہیں بھی نہیں ملے  خلوت کے آس پاس نہ جلوت کے آس پاس   ان کو کہیں بھی لے چلوں کوئی سماں دکھاؤں پھرتی ہیں آنکھیں بس تری صورت کے آس پاس   تیرے سوا کوئی بھی تمنا نہیں مجھے  رہتا ہے تو ہی تو مری حسرت کے آس پاس   کیا یونہی لہجہ ہے مرا اس درجہ دلنواز رہتا ہوں اک سراپا نفاست کے آس پاس   محسوس کرتا ہوں میں تجھے اے مرے حبیب ہر دلفریب نکہت و زینت کے آس پاس   ذکی طارق بارہ بنکوی سعادتگنج۔بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108   بہت چھوٹا ہے افسانہ جبھی تو یاد رکھو گے اسے لازم ہے دہرانا، جب

غزلیات

 اندھیری رات میں جگنو کی کمان کھینچتے ہیں کہ ٹمٹماتےچراغوں کی جان کھینچتے ہیں جفا کشیدہ شہر ہے سنبھل کے بات کرو فراق دیدہ یہاں پر زبان کھینچتے ہیں پہنچ نہ پاؤ گے افلاک کی بلندی پر صیادِ اجل پروں کی اُڑان کھینچتے ہیں تُمہی سکھا دو محبت کے ضابطے مجھ کو تُمہارے شہر میں اُستاد کان کھینچتے ہیں مُجھے چلا نہ سکے دو قدم بھی ساتھ اپنے سُنا تھا ساتھ وہ اپنے جہان کھینچتے ہیں ہمیں یقین ہے تُم تک پہنچ ہی جائیں گے تُمہارے پاؤں کے مِٹتے نشان کھینچتے ہیں تمام دولتیں رہ جائیں گی یہیں جاویدؔ یہ لوگ کِس لئے تخت و مکان کھینچتے ہیں   سردارجاویدخان مینڈھر پونچھ موبائل نمبر؛9697440404      میرے چہرے پر کس نے رکھ دئیے الزام کے پتھر بہت پوجے گئے ہیں یہ تمہارے نام کے  پتھر مقدس ہیں یہی تحریرکر

گلہائے عقیدت

یہ کس کی آمد سے غنچے کھلنے لگے چمن میں قدم قدم پر یہ کس نے درسِ خودی سے روح کو جگایا تن میں قدم قدم پر   یہ کس نے اپنوں کے دُکھ سہے پر زباں سے شکوہ کیا نہ ہرگز یہ کس نے خلقِ عظیم پیدا کیا چلن میں قدم قدم پر   غلاموں کو کس نے روشنی دی بتائے اسرار سلطنت کے وگر نہ انسانیت تھی مُردہ پڑی کفن میں قدم قدم پر   یہ کس نے عورت کو بخشی عظمت عطا کیا اس کو تاجِ رفعت لگا ديے ڈھیر خوشبوؤں کے ہر اک سَمن میں قدم قدم پر   یتیموں کے سر پہ ہاتھ پھیرا گلے لگایا گرے ہوؤں کو چمک خوشی کی اُبھر کے آنے لگی نیّن میں قدم قدم پر   شفائیؔ لے ان کی بات دل میں انہی کو بس پیشوا بنا دے قرار پھر دیکھنا کہ آنے لگے وطن میں قدم قدم پر   ڈاکٹر شکیل شفائیؔ بمنہ/سرینگر

غزلیات

ذرا سی عمر نے کیا کیا دکھا دیا ہے مجھے بھری جوانی میں بوڑھا بنا دیا ہے مجھے   میں جانتا ہی نہ تھا زندگی کے معنی کو غموں کی دھوپ نے سب کچھ سِکھا دیا ہے مجھے   جب اِس بڑھاپے میں آیا تو یہ خیال آیا مری حیات نے آخر کو کیا دیا ہے مجھے   سمٹ گئے ہیں سبھی علم انگلیوں میں مری اس آگہی نے تو جاہل بنا دیا ہے مجھے   نڈھال رہتا ہوں میں جس کی یاد میں اے شمسؔ ستم تو یہ ہے اُسی نے بھلا دیا ہے مجھے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی / اردو / اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380     کبھی تو پوری مرے دل کی آرزو ہوگی کبھی وہ شام بھی آئے گی پاس تُو ہوگی کھِلے گی گلشنِ اُمید کی کلی تو کبھی فضا میں خوشبو تمہاری ہی چار سُو ہوگی وہ دن ب

غزلیات

تھا با ضمیر جُرم کا اقرار کرگیا پیچ و خمِ نگاہ کو ہموار کر گیا   کیسی تھی یہ نگاہ جو پتھرا گئ مجھے یہ کون مجھکو نقش بہ دیوار کرگیا   دیوار و در کی قید میں محفوظ تھا بہت کھڑکی کھلی تو مجھ پہ کوئی وار کرگیا   تھی سوچ منفرد تو سزا یہ ملی مجھے دشمن میں اپنی جان کا سنسار کر گیا    یہ کس کی سازشوں سے تھی مسموم سب فضا انصارکو بھی کون یہ اغیار کر گیا   اندوہ و انبساط کا ادراک ہے کہاں میں سرحدِ شعور کو اب پار کر گیا   دل میں کچھ ایسے اُترا ہے تیکھی نظر کا تیر  دل ہی نہیں جگر پہ بھی یلغار کرگیا   بسملؔ وفا،خلوص بھی بکنے لگے یہاں  انسان آج گھر کو بھی بازار کر گیا   خورشید بسملؔؔ تھنہ منڈی،راجوری موبائل نمبر؛9086395995   

نعتِ مقبول

بزمِ سرکارِ دوعام میں جو مدحت گر ہوا میرا اِک اِک لفظ پھر گنجینۂ گوہر ہوا    خیبروخندق ہو، صفیں ہو کہ ہوبدر و احد کامرانی کی بشارت ساقیِ کوثر ہوا   باخدا اخلاق میں اعمال میں کامل ہے وہ جوبَشر آلِ رسولِ پاک کا نوکر ہوا   عظمتِ آلِ نبی قرآں سے جو پوچھی گئی  ھل اتیٰ گویا ہوئی تطہیر کا مظہر ہوا   میں ہوں کیا عرفان عارفؔ کیاہے میری شاعری سب کرم ان کا ہے میں پتھر اگر گوہر ہوا   عرفان عارفؔ صدر شعبہ اردو ایس پی ایم آر کالج آف کامرس جموں موبائل نمبر؛09682698032            

نعتیں

نبیٔپاکﷺ نبیٔ پاکؐ! اے خوشبوئے عالم   مجھے تیری طلب تیری طلب ہے تیرا ہے نامِ اطہرؐ دوجہاں میں تو ہی شانِ عجم ، فخرِ عرب ہے صدائیں مدح خوانوں کی نرالی  مگر نا اَکل طیب ، نا شُرب ہے خطاکارِ جہاں میں، نعت خواں میں! مجھے تو اپنی جُرأت پہ عجب ہے میں تو راہِ عزیمت سے ہوں خائف حقیقت میں یہی راہِ طرب ہے جہاں والو بتایا زندگی کو قُرآنِ پاک نےــ’لہو و لعب‘ہے خدا کے سامنے تقویٰ مُقدم نہیں چلتا وہاں نام و نسب ہے   طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653         نعت رسول مقبول ﷺ یہ عاصی ذرا دیکھ کیا چاہتا ہے دیارِ حبیبِ خدا چاہتا ہے یہ دل خاکِ کرب و بلا چاہتا ہے غمِ زندگی کی دوا چاہتا ہے نبی اور نبی والوں کا جو ہے

غزلیات

میرے خوابوں میں آنے سے کیا فائدہ نیند میری اُڑانے سے کیا فائدہ   جبکہ تُجھ سے کوئی واسطہ ہی نہیں پھر یہاں آنے جانے سے کیا فائدہ   تیری خوشبو ہے بکھری ہوئی چار سُو میرے گھر کو جلانے سے کیا فائدہ   یہ ہوا بھی مخالف ہے کُچھ اِن دنوں خاک میری اُڑانے سے کیا فائدہ   اے چراغِ سحر آخری وقت ہے اس طرح پھڑ پھڑانے سے کیا فائدہ   ساز چھیڑو نہ پھر دِل مچل جائے گا شدّتِ غم بڑھانے سے کیا فائدہ   باندھ لو اب تو جاویدؔ رختِ سفر اب یہاں دل لگانے سے کیا فائدہ   سردارجاویدخان مینڈھر پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198     لگتا ہے ماتھا اس کا سجانا ہی پڑے گا اب توڑ کے تارے مجھے لانا ہی پڑے گا اب آپسی ان بن کو بھلانا ہی پڑے گا ہم ایک ہیں دنیا کو جتانا

غزلیات

تو اب بھی میرے حصارِ دل میں کہیں نہاں ہے لہو نہیں ہے رگوں میں پھر بھی رواں دواں ہے   کتابِ ہستی جو میں نے دیکھی تو یہ بھی دیکھا بہت ہی پختہ لکھا ہوا ہے جو درمیاں ہے   وہ قافلہ ہم ہی تھے کبھی جو نہ تم نہ ہم تھے یہ تم یہ ہم کیا ہے اب جدا کیوں یہ کارواں ہے؟   نکل پڑا تھا جو ماہ و پرویں کو مات دینے وہ شعلہ سامان آجکل بس دھواں دھواں ہے   زمیں پہ دوڑائی میں نے آنکھیں ، فلک پہ باہیں خبر ملی ہے وہ آئے گا جو قرارِ جاں ہے   دبی تبسم کی چاشنی میں وہ لے کے آیا وہ راحتیں جن کے دم سے آباد آشیاں ہے   کسی نے ہم سے کہا کہ محبوب کس کو مانا تو ہم نے آفاقؔ کہہ دیا وہ جو ضو فشاں ہے   آفاقؔ دلنوی دلنہ بارہمولہ، موبائل نمبر؛ 7006087267       دنی

تازہ ترین