غزلیات

  درد کے راستوں میں رہتا ہے وہ فقط سازشوں میں رہتا ہے گُھپ اندھیرا گھروں میں رہتا ہے بغض جب تک دلوں میں رہتا ہے اُس کو دنیا نظر میں رکھتی ہے وہ سدا آئنوں میں رہتا ہے خار جیسے گلوں میں رہتے ہیں وہ مرے دوستوں میں رہتا ہے ظلم کے بادلوں کے سائے میں آدمی جنگلوں میں رہتا ہے موج و طوفاں سے اس کو کیا مطلب وہ تو بس بزدلوں میں رہتا ہے حق کی آواز وہ نہیں سنتا کیونکہ وہ حاکموں میں رہتا ہے جب سے اس ماہ رخ کو دیکھا ہے دل مرا جگنوؤں میں رہتا ہے جب تلک ہو ہوا مخالف شمسؔ حوصلہ شہپروں میں رہتا ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380      اب کے وہ بس چیختا ہے دشت&n

غزلیات

    غزلیات وہ شخص اپنی زات میں گہرا بہت لگا لہجہ اگرچہ تلخ تھا سچا بہت لگا یاروں نے یاسیت  کا کیا دائمی مریض اس انتخاب میں ہمیں دھوکا بہت لگا اس شہرِ نامراد کی صورت عجیب ہے  ہر فرد اپنے آپ میں اُلجھا بہت لگا اک انجمن کے روپ میں ملتا تو تھا مجھے دیکھا قریب سے تو وہ تنہا بہت لگا تھاسحر ایسا اُسکی شناسائی میں نہاں "مغرور ہی سہی مجھے اچھا بہت لگا" بیزار و بیقرار تھے بستی کے لوگ سب یہ اور بات ہر کوئی ہنستابہت لگا اپنا امیرِکارواں شہرت کے نام پر مشہور تو نہیں مجھے رُسوا بہت لگا یہ گُلشنِ حیات بھی بسملؔ عجیب ہے اس کا ہر ایک پھل مجھے پھیکا بہت لگا   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری موبائل نمبر؛9622045323     وارثانِ حجاب آتے ہیں  پردے میں آفت

قطعات

جہانِ رنگ و بُو ظاہر پرستی جہانِ قلب و باطن سوز و مستی  وہ فتنہ اور ظلمت کا ہے ساماں  یہ نورِ معرفت عرفانِ ہستی    اسی عقدہ میں ہے عُقدہ کشائی  کلی کھِل کر یہی پیغام لائی نہ گبھرانا تو اے دِل مشکلوں سے صبح ہو ہی گئی جب رات آئی   خلوص و درد اور دِل کی صفائی دلوں میں ہم نے یہ خصلت نہ پائی  ہے جلنا اور جلانا جس کا شیوہ وہ خصلت کیوں دِلوں کو راس آئی   دلِ بیدار صدرِ لامکاں ہے یہی اسرارِ حق کا رازداں ہے  یہی انوارِ حقاّنی کا مسکن  یہی بزم جہاں کا پاسباں ہے    بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ)کشتواڑی  ضلع کشتواڑ ،موبائل نمبر9018487470

غزلیات

 تم کتنے پانیوں میں ہو سوچا کرو کبھی  خاموشیوں کے شہر میں جایا کرو کبھی ہو مخملی سی رات تو جاگا کرو کبھی  اور خاروخس کی سیج پہ سویا کرو کبھی  لگ جائے آپ کو نہ کہیں اپنی ہی نظر تم آئینے کو ایسے نہ دیکھا کرو کبھی  ایسا نہ ہو کہ اپنا پتہ ڈھونڈتے پھرو  تم اپنے پاس خود کو بھی رکھا کرو کبھی  آلائشوں سے پاک بدن کی ہو جستجو پھرآنسؤوں سے قلب کو دھویا کرو کبھی  ہر بار جیتنے کا جنوں چھوڑ دو میاں تم ہار جاؤ ایسا بھی کھیلا کرو کبھی بسملؔ بہت ہی دیکھ لئے تم نے پارسا زناریوں کے پاس بھی بیٹھا کرو کبھی   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری موبائل نمبر؛9622045323     جب بھی خوابوں میں لایا غزل ہو گئی اُ ن کے با ر ے میں سوچا غزل ہوگئی شب کی پلکو ں پہ تا

غزلیات

جب بھی پکارتا ہے کوئی رُوبہ رُو مجھے کرتا ہے اپنے فیض سے وہ مُشکبو مجھے   پیری میں پلٹ آگیا پھر سے شباب و شوق بھانے لگی ہے یار کی پھر گفتگو مجھے   رہتا خیال پھر نہ مجھے اپنے آپ کا پھر کوستا ہے آخرش یہ من و تُومجھے   یخ بستہ میری سوچ کا ساگر ہوا تو کیا بہنے کو اب بھی رُود سی ہے جُستجو مجھے   ماحول میں ایسے مِیاں نالہ بہ لب ہو کیوں بھاتا نہیں ہے آپ کا یہ ہائو ہُو مُجھے   اِس عُمر میں عُشاقؔ پھر یہ ذوقِ تجسّس یہ راز ہائے شوق تُو سمجھا کبھوُ مُجھے   عُشاقؔ کشتواڑی صدر انجمن ترقی اُردو(ہند) شاخ کشتواڑ موبائل نمبر؛9697524469       محبت کی فضا ہے اور میں ہوں نیا  یہ  راستہ  ہے  اور  میں ہوں ہنسی میرے لبوں پر کھیلتی ہے

غزلیات

اس شہر شعلہ زار میں جلتے رہے چنار  اس خطۂ زمیں پہ سُلگتے رہے چنار  انساں کی بے حسی سے لرزتے رہے چنار  کٹتے رہے چنار تڑپتے رہے چنار  کچھ آمد بہار سے ڈرتے رہے چنار  کچھ آمدِ خزاں سے سلگتے رہے چنار  سرگوشیاں خزان نے کیں جب بہار میں  موسم کے سارے راز اگلتے رہے چنار ہر شاخ پر سلگتا ہے موسم بہار کا  کتنے ہی حادثوں سے گزرتے رہے چنار  آب و ہوا کی جانے وہ تاثیر کیا ہوئی  گل کی طرح یہاں کبھی کھلتے رہے چنار  جب موسم خزاں نے دی دستک ہراک طرف  عادل ردائے سرخ میں جلتے رہے چنار    اشرف عادل کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  موبائل نمبر؛7780806455       بھائی چارے باہم کی ریت پُرانی چاہئے! سب ٹھیک ہوگا، خُدا کی مہربانی

غزلیات

گُماں ہی گُماں  کھو رہا ہے میرا وجود مجھے تھام لے کوئی رُوح کو میری میں کہاں جم گیا نہیں معلوم پر سِمٹ کر بِکھر رہا ہوں میں   کون ہوں میں؟ کہاں رہا ہوں میں؟   ایسے ہوں چند ہی سوال ترے تو بتا میں جواب کیوں کر دوں   جبکہ میں اک گُماں ہوں فقط اک گُماں میرا کوئی مثالیہ ہی نہیں   احمد پاشاؔ جی بڈکوٹ ہندوارہ اے۔پی شعبۂ اردو ڈگری کالج ہندوارہ         غزلیات مشکلوں کے بیچ ساری زندگی! کب ملی ہے اختیاری زندگی ؟ چھوڑ کر دامن تمہارا کیا ملا ؟ پھر رہی ہے ماری ماری زندگی! پاس رشتوں کا ،  نہ کچھ کردار کا  ہو گئی ہے کاروباری زندگی! شاخِ گُل پر قطرہء تیزاب سی  دوستو ، ہم نے گذاری زندگی! اس سے بڑھ کر وقت کیا ہوگا بُرا ؟ 

نعتِ حبیب ﷺ

وطن کے لیے ہےمدینے کی چاہت  مجھے خوشبوؤں میں ہے جینے کی چاہت   میں مشک و ختن عودکو کیا کروں گا مجھے ہے نبی ﷺ کے پسینے چاہت   جو پہنچادے ہم کو دیار  نبی تک ہمیں تو ہے ایسے سفینے کی چاہت   مرے دل کو چاہے ہے عشقِ نبی یوں انگو ٹھی کو جیسے نگینے کی چاہت   مٹادے خیالاتِ جام و سبو تو اگر جام کوثر ہے پینے کی چاہت   تو پھر نقش پائے نبی ﷺڈھونڈ’’زاہدؔ‘‘ دوعالم کی گر ہے خزینے کی چاہت   محمد زاہد رضابنارسی  دارالعلوم حبیبیہ رضویہ  گوپی گنج،ھدوہی،یوپی انڈیا        

غزلیات

چلن عشق کا ہے وفا کیجیے ہے جب حُسن کہتا جفا کیجیے ہے یہ موت اور زندگی کا سوال کبھی دل نہ دل سے جدا کیجیے دکھاوا کہاں اور محبت کہاں نہ ہم سے یہ مکر و ریا کیجیے خدا کا بھی دیکھا طریقہ یہی کہ خلوت میں اُس سے ملا کیجیے کھٹکتا جو غم آپ کے دل میں ہے وہ غم کچھ ہمیں بھی عطا کیجیے مجھے آپ کا غم گوارا نہیں خدارا سدا خوش رہا کیجیے کوئی چارہ گر ہو نہ جب اے بشیرؔ تو اپنے خدا سے دعا کیجیے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی کشتواڑ، موبائل نمبر؛7006606571     نظر کر رہی ہے اثر رفتہ رفتہ اٹھی ہیں ہمیں پر نظر رفتہ رفتہ ذرا تم کرو دل کی باتیں او جاناں کسی دم بھی کرلو مگر رفتہ رفتہ پرندوں کو گھر میں جگہ دے دو یارو کہ کم ہو رہے ہیں شجر رفتہ رفتہ نشے میں گزاری گئی ہیں جو راتیں وہ راتیں

غزلیات

غزل  تیرے دم سے جہان قائم ہے یہ زمیں آسمان قائم ہے دوریاں مِٹ گئیں مگر پھر بھی فاصلہ درمیان قائم ہے دل بدلتا ہے تو بدل جائے عہد و پیماں زبان قائم ہے کیا ہُوا میرے پُر نہیں نکلے حوصلوں میں اُڑان قائم ہے جسم میرا بکھر گیا لیکن دل میں تیرا مکان قائم ہے گرچہ ہوش و حواس بس میں نہیں پھر بھی تیرا دھیان قائم ہے کوئی کہہ دے عدو سے اے جاویدؔ مسجدوں میں اذان قائم ہے     سرداجاویدؔخان مینڈر،پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198         غزلیات پَل بھر میں  برسوں کا رشتہ توڑ دیا  پتھر ِدل نے آخِر شیشہ توڑ دیا    دیکھ کے اُسکو، پھِر دانستہ دیکھ لیا اِک لغزش نے میرا روزہ توڑ دیا   شاید اُسکی فطری غیرت جاگ اٹھے ہم نے 

غزلیات

کبھی تو پاس بارش کے بہانے ،بیٹھ جاؤ  ملیں گے پھر کہاں ایسے ٹھکانے ،بیٹھ جاؤ  نہیں تابِ نظر مجھ کو جُھلس جاؤں گا جاناں  کہاں سے آ گئے بجلی گرانے ،بیٹھ جاؤ  کہا ں تنہا ئی کا پھر ر و ز یہ مو سم ملے گا  ہوئے ملنے کو یوں کتنے زمانے ،بیٹھ جاؤ  پپہیا او ر کو ئل ڈ ا ل پر کیا کہہ ر ہے ہیں  سُنیں مل جُل کے یہ نغمے سُہانے ، بیٹھ جاؤ کبھی نظر یں ہٹا کر آئینے سے ہم کو دیکھو کھڑے ہیں ہم بھی زُلفوں کو سجانے ،بیٹھ جاؤ  بھڑکتے ہیں مرے جذبات جب بھی د یکھتا ہوں شُعاعیں تجھ کو آتی ہیں جگانے ،بیٹھ جاؤ  بہت آ سا ن ہے کر نا مگر یہ سو چ لینا  کہاں آ پا ؤ گی و عد ہ نبھا نے ،بیٹھ جاؤ  تمہارے حُسن پر لکھی ہیں میں نے آج تک جو تمہیں آیا ہوں وہ غزلیں سُن

غزلیات

منافقوں کے شہر میں ہے مشکلوں میں  جاں یہ جا بھی چھوڑ دوں تو پھر میں جائوں گا کہاں   جو کل تھے دھڑکنوں میں دمِ صبح کی نودید وہ لوگ سب گئے کہاں ہیں بس خموشیاں   میرا تو روم روم ہے تمہارا قرض دار اُتار کر ہی جا  میں پائوں سوئے آسماں   اگر چہ اب سبھی نے کی ہیں کھڑکیاں بھی بند چُھپا سکیں گے کس طرح چراغ کا  دھواں   عزیزِ جاں یہ  نام و نسب سب  نصیب کا مِرا ہے کیا یہ شبد ہی رہیں گے اک نشاں   مشتاق مہدیؔ مدینہ کالونی۔ ملہ باغ حضرت بل سرینگر موبائل  نمبر9419072053     تم نے سیکھا سیاستیں کرنا  ہم سے پوچھو محبتیں کرنا  تیری فطرت ہے تتلیوں جیسی  شاخِ گل پر شرارتیں کرنا  کیا عدالت یہی ہے سورج کی  تیرگی کی وکالت

ایک عورت کی کہانی اسکی زبانی

بھیگی پلکیں میری پڑھ لو اشک فشانی لکھتی ہوں   ایک ابھاگن عورت ہوں میں اپنی کہانی لکھتی ہوں  عورت ہی نے جنم دیا اور عورت ہونا سکھلایا دکھ کے آگے اف نہ کرنا بچپن ہی میں بتلایا  بچپن ہی سے دیکھا گھر میں ’’رائے‘‘ کی کچھ اوقات نہی  میں تو ہوں اک موم کا پتُلا میری کوئی ذات نہی  میری انّا کو ٹھیس  ہی پہنچی اپنے ان بے دردوں سے  میں تو اکثر سنتی آئی گھر کے سارے مردوں سے  جا کر تم خاموش رہو ہاں تم سے کس نے پوچھا ہے  کمرے میں روپوش رہو تم ،تم سے کس نے پوچھا ہے بھائی چاہے جو بھی کر لیں ان کو تو آزادی ہے  میری خواہش بھی تو پوچھو دل میرا فریادی ہے میری اس فریاد میں لوگو ایک ذرا سا جھوٹ نہیں  اپنا جیون ساتھی چُُن لوں مجھ کو اتنی چھوٹ نہیں  جب بھی چاہا جس سے چا

غزلیات

تُمہی نے عہد کیا اور کر کے توڑ دیا یہ کیا کہ چند ہی قدموں پہ ساتھ چھوڑ دیا وہ جس کو چھوڑ کے لہروں میں تُم چلے آئے سُنا ہے اُس نے سمندر کے رُخ کو موڑ دیا مزہ تو تب تھا کہ کوہکن تڑپ کے مر جاتا یہ رسمِ عشق نہیں ہے کہ سر کو پھوڑ دیا ہمارے پاس تو اب کُچھ نہیں بہانے کو تُمہارے ہِجر میں آنکھوں کو بھی نچوڑ دیا بھلے دنوں کا بھروسہ نہیں رہا مجھ کو سو میں نے رشتئہ اُلفت غموں سے جوڑ دیا کرے وہ مُجھ پہ عنایت کہ پھر ستم جاویدؔ ہر ایک فیصلہ میں نے اُسی پہ چھوڑ دیا   سردارجاویدخان  مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛9419175198       میرے جینے کا سبب ہے بس یہی دوستوں کی دوستی ہے دوستو چَھٹ گئے بادل اندھیری رات کے ہر طرف اب روشنی ہے دوستو کیوں حریمِ ذات کی پروا کروں ساتھ میرے بے بسی ہے دوستو

قبول کرلے دُعا یہ مولا

قبول کر لے دعا یہ مولا ہوجائے ختم اب وباء یہ مولا اپنوں سے اپنے بچھڑ رہے ہیں تڑپ تڑپ کر وہ مر رہے ہیں اب اور نا دے سزا یہ مولا قبول کرلے دعایہ مولا یہ سچ ہے گناہ گار ہم ہیں ترے کرم کے طلبگار ہم ہیں ہے سر مرا اب جُھکا یہ مولا قبول کرلے دعا یہ مولا معاف کردے خطائیں ساری ہٹا دے یاں سے بلائیں ساری ہے میرے دل کی صدا یہ مولا قبول کرلے دعا یہ مولا غموں میں ڈوبے ہوئے، پشیماں ہیں پوری دنیا کے سارے انساں فنا تو کر دے وباء یہ مولا قبول کرلے دعا یہ مولا   ثمینہ سحرؔ مرزا بڈھون راجوری موبائل نمبر؛7006396639

غزلیات

دلِ آزار کو سینے میں چھپائے رکھنا یہ بھی کیا کم ہے مراسم کو نبھائے رکھنا   رْخِ تاباں پہ وہ گیسو کا گِرانا تیرا پھر سرِ شام چراغوں کو جلائے رکھنا   سامنے آ کے اشاروں میں اشارے کرنا بات کرنا بھی تو ہونٹوں کو دبائے رکھنا   پرتوِ خْور میں فنا ہونے کی تعلیم نہ دے میرے چہرے پہ تْو زْلفوں کے یہ سائے رکھنا   چشمِ تر میں یہی ایک خزانہ ہی تو ہے ہو جو مْمکن تو یہ موتی ہی بچائے رکھنا   ہم ملیں یا نہ ملیں اب کے مقّدر جاویدؔ ایک اْمید کی لو دل میں جگائے رکھنا   سردارجاویدخان پتہ، مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404       غزلیات یہ خنجر بھی اے میری جاں جگر کے پار ہو جائے جو روٹھا ہے کسی باعث وہ پھر بیزار ہوجائے   محبت کا ست

غزلیات

غمِ فرقت کے ہی اس روگ میں مر جائیں گے اب کوئی ٹھیس لگے گی تو بکھر جائیں گے  پھول بنکر نکل آئے ہیں ہری شاخوں پر وہ تو سمجھے تھے کہ حالات سے ڈر جائیں گے ہم کو محصور نہ کرنا ہیں قلندر ہم بھی رک گئے ہم تو زمانے بھی ٹھہر جائیں گے دربدر ہو کے پلٹ آئے تُمہاری جانب یہ دیوانے تری چوکھٹ سے کدھر جائیں گے کتنے ناداں تھے کہ سوچا تھا تری صحبت میں دو گھڑی اور رہیں گے تو سُدھر جائیں گے  ایک مٹی گا دِیّا لے کے جو نکلے گھر سے ساتھ کب اُن کے بھلا شمس و قمر جائیں گے اب وہ یاد اتے ہیں جاوید بڑی شدّت سے عین مُمکن ہے کہ اب دل سے اُتر جائیں گے   سردار جاوید ؔخان رابطہ؛ مینڈھر، پونچھ رابطہ، 9419175198       وہ جو سکوتِ دو عالم سے ہم کلام نہیں وہ بزم بزم نہیں ہے وہ جام جام نہیں  

تماشا یہ شام و صحر دیکھتے ہیں

الٰہی جہاں اور جدھر دیکھتے ہیں بَپا ہر طرف اِک قہر دیکھتے ہیں   کہیں آہ و زاری، کہیں مارا ماری تماشا یہ شام و صحر دیکھتے ہیں   اَمن والی بستی میں ہم رہنے والے بارُود پر اپنا گھر دیکھتے ہیں   سیاست کے سنگین و رنگین محل کے وِیران دِیوار و دَر دیکھتے ہیں   دَوائوں میں مانا مِلاوٹ ہے لیکن دُعائیں بھی سب بے اَثر دیکھتے ہیں   خَزانے پہ سرکار کے تیز و تِرچھی رِشوت خوروں کی نظر دیکھتے ہیں   ہر قافلے اور ہر کارواں میں شیطان کو ہمسفر دیکھتے ہیں   آئے گا کب اور کہاں سے مسیحا وِیران ہر راہ گذر دیکھتے ہیں   اے مجید وانی احمد نگر، سرینگر، موبائل نمبر؛9697334305  

غزلیات

داستانِ غم سنانے لگ گیا پھر کوئی مُجھکو رُلانے لگ گیا   میں نے یونہی تشنگی کی بات کی وہ مُجھے دریا دِکھانے لگ گیا   خودبخود ہی جل اُٹھا بُجھتا دِیا پھر مرے گھر کو جلانے لگ گیا   تُم اسے قسمت کہو کہ معجزہ ڈُوب کر بھی میں ٹھکانے لگ گیا   کٹ رہی تھی ڈور میری سانس کی اور وہ احساں جتانے لگ گیا   آزمائش سے ابھی نکلا ہوں میں کون مُجھکو آزمانے لگ گیا   سردارجاویدخان مینڈھر پونچھ،موبائل نمبر؛9419175198       مرا یہ سایا کہاں گیا کر چراغ روشن ہو گھر کے باہر ہو گھر کے اندر  چراغ روشن میں تب کے مانوں ترے وظیفے اے میرے مرشد کہ جب تو کر لے تہہِ سمندر چراغ روشن بڑا عجب ہے کہ روز کمرے میں اب نمی ہے یہ کون کرتا ہے مثلِ پیکر چراغ روشن کوئ

گوہرِ نایاب

غرب زدگی کی شکار دختر: جہانِ رنگ و بو میں دیکھ میرا ہے سحر برپا   ادا کرتی ہے اک میری، جوانوں پر قہر برپا جھلک میری جوان و پیر کو مدہوش کرتی ہے   جو ہیں باہوش اْن کو اک نظر بیہوش کرتی ہے سبھی نظریں ٹھہرجاتی ہیں مجھ پر، جب میں چلتی ہوں   میری مٹھی میں ہے دنیا میں جو چاہوں وہ کرتی ہوں   اسلام کی شاہکار دختر: بجا فرماتی ہو اے مغربی فکر و نظر والی   یہی حکمت ہے مغرب کی، حیا سے تو رہے خالی  رذیلوں کے لئے عیش و تماشا کر دیا تجھ کو   ہوس رانی کے دلدل میں مکمل بھر دیا تجھ کو تیری فہم و فراست پر مسلط ہے یہی شیطان   ہوا ہے تیری نظروں سے مقام و مرتبہ پنہاں خدا اتنا توانا ہے، جمال و جاہ میں یکتا ہے   نہیں پھر بھی حجابوں سے کبھی باہر وہ آتا ہے یہیں سے تم سمجھ

تازہ ترین