تازہ ترین

عرش ؔصہبائی کا آخری تحفہ

 جموں و کشمیر میں اُردو شاعری کے آفتاب روشن تاب عرش صہبائی، جو 25دسمبر2020کو عالم ادب کو غمزدگی کے اندھیروں میں غرق کرکے اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ اپنے آخری ایام میں بھی نخلِ شعر و ادب کو فروغ دینے میں کس قدر مصروف و متحرک رہے ہیں، یہ اُنکی چند ایسی تخلیقات سے ثابت ہوتا ہے، جو ’’ادب نامہ‘‘ کو انکے انتقال پُرملال کے کئی ہفتے بعد بذریعے ڈاک موصول ہوئی ہیں۔ اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ ان تخلیقات کے موضوع و متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زندگی آخری مرحلوں سے فکری و جذباتی طور کیسے گذر رہے تھے۔ اگرچہ ان غزلیات کے ساتھ مرسلہ خطہ پر 23ستمبر 2020کی تاریخ درج ہے لیکن ذاک کے لفافے پر دسمبر2020کی مہر ثبت ہے اور ادارہ کشمیر عظمیٰ کو یہ لفافہ جنوری2021کے دوسرے ہفتے میں موصول ہوا ۔ ادارہ مرحوم کی ان تخلیقات، جو بظاہر انکی آخری دین لگ رہی ہے، کو ایک امانت اور تحفہ سمجھ کر نذ

غزلیات

نفرت سے دیکھئے نہ عداوت سے دیکھئے انساں کو آدمی کی بصارت سے دیکھئے   انسان کی نظر کا ہے محتاج آدمی انسان کی طرف کبھی فرصت سے دیکھئے   کتنا لہو بہایا گیا زیست کا یہاں اُجڑے ہوئے دیار کو غیرت سے دیکھئے   سجدے میں سر جھکانا ہی ہے کیا عبادتیں ماں باپ کی طرف بھی عبادت سے دیکھئے   ہر شب ہوا فریب کی چلتی ہے صاحبو دستک کی آرزو کو بھی حسرت سے دیکھئے   الزام دوستی پہ لگانا فضول ہے اب دوست کی طرف بھی ضرورت سے دیکھئے   سینے سے لگ گئی ہو نہ عادلؔ رقیب کے اس شہر کی ہوا کو شکایت سے دیکھئے   اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی، موبائل نمبر؛7780806455     اجلا دامن تیرا سیاہ کروں روشنی آ تجھے تباہ کروں آرزو ہے کہ اس کو چھونے کا  خوبصورت سا اک گناہ