اکبر کالونی ماچھوا میں شبانہ مسلح تصادم جاری

سرینگر //سرینگر کے مضافاتی علاقے موچھوا میں منگل کی شام جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان خونریز تصادم آرائی ہوئی۔یہاں رات گئے تک شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جارہی تھیں۔پولیس کے مطابق دو یا تین جنگجوئوں کی مصدقہ طور پر موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد شام کے قریب 8بجے 50آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے اکبر کالونی آری باغ ماچھوا( باغ مہتاب) کا محاصرہ کیا جس کے فوراً بعد یہاں شدید فائرنگ کا آغاز ہوا اور قریب ڈیڑھ گھنٹے تک دو طرفہ فائرنگ اور زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔مقامی لوگوں کے مطابق بستی کے لوگ سہم کر رہ گئے اور پورے علاقے کو سخت ترین محاصرے میں لیا گیا ہے۔علاقے میںروشنی کا انتظام کیا گیا ہے اور رات کے 10بجے کے بعد یہاں فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔    

بندوق تھامے نوجوانوں کو واپس لینے کیلئے تیار:جنرل راجو

 سرینگر//فوج کے سرینگر میں قائم 15ویںکور کے کمانڈر جنرل لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو نے منگل کو جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوئے نئے جنگجوئوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ بندوق کے ساتھ تصویر کھینچنے اور ویڈیو جاری کرنے سے وہ جنگجو نہیں بن جاتے،بلکہ وہ اس کے باوجودبھی واپس آکر اپنے  اہل و عیال میں شامل ہوسکتے ہیں۔15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل راجو نے انفنٹری ڈے کے موقع پر سرینگر میں 15 ویںکور میں منتخب صحافیوں کے ایک گروپ کو بتایا،’’میرے پاس نئے بھرتی ہونے والے جنگجوئوںکے لئے ایک پیغام ہے کہ ہاتھوں میں بندوق تھامے ہوئے ایک تصویر کھینچنا اور ویڈیو جاری کرنا آپ کو جنگجو نہیں بناتا، آپ پھر بھی واپس آ سکتے ہیں اور اپنے اہل خانہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اس سمت میں پیش رفت ہوئی ہے اور ہمیں اس محاذ پر مزید امید ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں

  کلن گنڈکنگن میں جموں کشمیر بنک کھولنے کا مطالبہ  غلام بنی رینہ   کنگن// کلن گنڈ کنگن میں جموں کشمیر بنک نے اپنی شاخ کھولنے کیلئے ایک عمارت کوکرایہ پر لیا ہے جس پر بورڈ بھی نصب ہے لیکن عملی طور کام کاج شروع نہیں کیا گیاحالانکہ بنک اس عمارت کیلئے گذشتہ پانچ ماہ سے کرایہ بھی ادا کررہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں جموں کشمیر بنک کی شاخ کھولنا اُن کی ایک دیرینہ مانگ تھی تاکہ کلن اور اس کے مضافاتی علاقوں کے تاجروں اور عام صارفین کو سہولت ہو۔انہوں نے کہاکہ گنڈ شاخ میں کافی رش رہتاہے اورانہیں وہاں پہنچنے میںطرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق عمر رسیدہ افرادکو زیادہ ہی دقتیں پیش آتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی اس مانگ کے پیش نظر بنک حکام نے کلن میں ایک عمارت کا انتخاب کیا اور گذشتہ پانچ ماہ سے اس عمارت کا کرایہ بھی ادا کیا

۔22سالہ ملازمت اور 48سال کی عمر

 سرینگر// جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری بی وی آر سبرامنیم نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ان ملازمین کو 22 سالہ خدمات یا 48 سال کی عمر ہونے پر ریٹائر کیا جائے گا جن کی نوکری میں بنے رہنے سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہو۔ چیف سکریٹری نے منگل کو یہاں راج بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران جموں وکشمیر سول سروس قواعد میں حالیہ تبدیلیوں سے متعلق پوچھے جانے پر کہا،’’میڈیا میں اس حوالے سے جان بوجھ کر غلط فہمی پیدا کی گئی ہے۔ کسی کا بھی 48 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ نہیں لیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا،’’یہ قانون پہلے بھی یہاں تھا۔ اگر کوئی شخص پبلک سروس کے لائق نہیں ہے تو اس کو ریٹائر کیا جا سکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس ریاست میں سرکاری نوکریاں کر رہے ساڑھے چار لاکھ ملازمین کو ر

رہمو پلوامہ میں تیندوے کا حملہ

پلوامہ// پلوامہ کے رہمو علاقے میں اُس وقت خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی جب ایک تیندونے ایک ہی حملے میں خاتون سمیت چار افراد کو شدید زخمی کر دیا جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ منگل کی صبح لوگ حسب معمول اپنی کھیتوں میںکام کر رہے تھے کہ اس دوران ایک تیندوا نمودار ہوا اور یہاں کام کر رہے لوگوں پر حملہ کیا۔ حملے میں ایک خاتون سمیت4 افراد شدید زخمی ہوگئے جن کی شناخت عبدالاحد ڈار،تاجہ بیگم،اشفاق یوسف اور عمر گل کے بطور ہوئی ہے۔زخمیوں کوفوری طور پبلک ہیلتھ سنٹر رہمو میں ابتدائی مرہم پٹی کے بعد ضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیا گیا۔ایمبولنس موجودنہ ہونے کے باعث انہیں نجی گاڑیوں میں ضلع ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ مقامی لوگوں نے ہسپتال میں ایک ایمولنس دستیاب رکھنے کی اپیل کی ۔  

پروجیکٹوں کی تکمیل کیلئے کوشش کریں

سرینگر//لیفٹننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے جموں و کشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی 76 ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز میٹنگ کی صدارت کی ۔ میٹنگ میں فائنانشل کمشنر خزانہ ، پرنسپل سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی ، پرنسپل سیکریٹری پاور ڈیولپمنٹ ، ڈائریکٹر فائنانس ، جے کے ایس پی ڈی سی میٹنگ میں موجود تھے ۔ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے بصیر خان نے کہا کہ کارپوریشن کے تمام پروجیکٹوں کی تکمیل کیلئے ہر ممکن کوشش عمل میں لائی جانی چاہئے ۔ دورانِ میٹنگ متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ معاملات یا اختلافات کے حل پر تبادلہ خیال کیلئے کمیٹیوں کو تشکیل دینے کا بھی فیصلہ لیا گیا ۔ میٹنگ میں انجینئرنگ پرکیورمنٹ اور کنسٹرکشن کنٹریکٹروں کے حق میں واجب الادا بلوں کی ادائیگی کا بھی فیصلہ لیا گیا ۔ تا ہم اس سلسلے میں متعلقہ ایگزیکٹو ڈائریکٹروں کی جانب سے واجبات کی توثیق لازمی قرار دی گئی ۔ دوران میٹنگ دیگر معاملات پر بھی غور

پینے کے پانی کی عدم دستیابی

کنگن//چکی پرنگ کجپارہ کنگن میں لوگوں نے جل شکتی محکمہ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیکر گاڑیوں کی نقل و حمل بھی مسدود کردی۔دھرنا پر بیٹھے لوگوں نے بتایا کہ انہین گذشتہ بیس روز سے پینے کا صاف پانی میسر نہیں کیا جارہا ہے ۔اس موقع پر خواتین نے بھی ہاتھوں میں خالی مٹکے لیکر محکمہ کے خلاف مظاہرے کئے۔انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے پیش نظر انہیں ناصاف پانی استعمال کرنا پڑرہاہے جس کی وجہ سے بیماریاں پھلنے کا خدشہ ہے۔ مظاہرین نے بتایا کہ انہوںنے جل شکتی محکمہ کے افسران اور دیگر اہلکاروں کو کئی باراس صورتحال سے آگاہ کیا لیکن انہوں نے کوئی اقدام نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ آج سڑکوں پر نکلنے کیلئے مجبور ہوگئے ۔ بعد میں کنگن پولیس کی ایک ٹیم نے جائے وقوع پر پہنچ کر لوگوں کو یقین دلایا کہ ان کے مسئلہ کو جل شکتی محکمہ کے افسران کی نوٹس میں لایا جائے گاجس ک

پولیس اور میونسپل کونسل کی مشترکہ مہم

سوپور// شمالی قصبہ سوپور میں پولیس اور میونسپل کونسل کی مشترکہ کارروائی کے دوران سڑکوں پر ناجائز قبضہ ہٹایا گیا۔ کورونا وائرس کے دوران پہلی بار میونسپل کونسل سوپور نے پولیس کے اشتراک سے یہ کارروائی شروع کی۔ ایس ایچ او سوپور عازم خان نے اس سلسلے میںبتایا کہ پورے قصبے کی سڑکوں پر چھاپڑی فروشوںاور دکانداروں نے غیر قانونی طور قبضہ جمایا ہے جس سے راہگیروں اور گاڑیوں کو چلنے پھرنے میںمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ جگہ جگہ پر ٹریفک جام کی وجہ بھی یہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی سوپور اور اے ڈی سی سوپور کے کہنے پریہ مہم شروع کی گئی۔قصبہ کے اقبال مارکیٹ، مین چوک، بس اسٹینڈ اور تحصیل روڑ پر چھاپڑی فروشوں اور دوکانداروں نے جو قبضہ جمایا تھا ،اُسے پوری طرح ہٹایا گیا اور یہ مہم آگے بھی جاری رہے گی۔

کشمیری دستکار نوئیڈا میلے میں حصہ لیں گے

سرینگر// مجازی میلوں میں کرافٹ انٹرپرینوروں اور برآمد کنندگان کی کامیاب شرکت کے بعد سخت کووِڈ۔19 لاک ڈاون کے درمیان کشمیر ی کاریگر اور بُنکر جے اینڈ یوٹی سے باہر سے باہر 30 ؍اکتوبر سے 14؍ نومبر تک نوئیڈا ہاٹ میں شروع ہونے والی دیوالی اتسو میلوں میں شرکت کرکے اپنے دستکاری مصنوعات فروخت کرنے موقعہ حاصل کریں گے۔فیسٹول سیزن دستکاری اور ہینڈلوم سیکٹر کے لئے ریڈھ کی ہڈی کی مانند ہے۔14دِن کے میلے کے دوران براہِ راست کاریگر کانی اور پشمینہ شال ،سٹولز، کڑھائی کرنے والی لیڈی فیرن،پیپر ماشی مصنوعات ،کریول اورچین سٹچ اور قالین وغیرہ فروخت کریں گے۔جموں وکشمیر کی ہینڈی کرافٹ صنعت جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں یقین دہانی کرائی گئی ہے۔کووِڈ۔19 پابندیوں سے ہوائی ، ریل او رروڈ ٹریفک کی معطلی کی وجہ سے بیرون ملک مقصود تک پہنچنے میں دستکاری مصنوعات کی فروخت نہ ہونے ولی انوینٹری کو شدید متاثر ہوئی ہے۔آج

کولگام میں ٹریفک جام معمول بن چکا ہے

سرینگر//کولگام ضلع کے کیموہ اورکھڈونی میںغیر معمولی ٹریفک جام کی وجہ سے عوام کوطرح طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔حیران کن بات یہ ہے کہ کیموہ اورکھڈونی سے نکلنے کے بعد اننت ناگ، شوپیان اور یاری پورہ جانے والا ٹر یفک وہاں اٹک جاتا ہے اور یہاں بدترین ٹریفک جام اب ایک معمول بن چکا ہے۔ ان شاہرائوں پر کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی نقل وحمل بند رہنے کی وجہ سے ہر روزسینکڑوں لوگوں کو انتہائی تکلیف دہ صورتحال سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ لوگ جہاں محکمہ ٹریفک کو اس سلسلے میں ذمہ دار ٹھہراتے ہیں وہیں محکمہ ٹریفک کو یہ گلہ ہے کہ لوگوں میں احساس کی کمی ہے جس کی وجہ سے ایسی صورتحال پیش آتی ہے۔ ٹریفک محکمہ کی بے حسی کی مثال سوموار کی شام اس وقت ملی جب وہاں ٹریفک جام کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں وقت گذرنے کے ساتھ ہی اضافہ ہوا اور آناً فاناً سینکڑوں گاڑیاں درماندہ ہوگئیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے مختلف محکموں کے ملازمین بروقت

جامع تجارتی اتحاد کیلئے کوششیں تیز

سرینگر// تجارتی انجمنوں اور جماعتوں کو ایک ہی چھت لانے کیلئے کشمیر ٹریڈرس یونائٹیڈ فورم نے منگل کو محمد صادق بقال کی سربراہی والے کشمیر ٹریڈٖرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے لیڈراں سے ملاقات کی،جس کے دوران آپسی اتحاد و اتفاق اور تاجروں کو ایک پلیٹ فارم کے نیچے جمع کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ فورم کی جانب سے فاروق احمد ڈار،حاجی نثار احمد ،شیخ ہلال ،فاروق احمد بطخوکے علاوہ طاہر احمد نے شرکت کی جبکہ کے ٹی ایم ایف کے دھڑے کی جانب سے حاجی محمد صادق بقال،جنرل سیکریٹری شاہد حسین میر، محی الدین صوفی،معراج الدین،رئیس احمد اور اعجاز احمد کے علاوہ شوکت احمد نے شرکت کی۔میٹنگ کے دوران انہیں تجارتی اتحاد اور تاجروں کی فلاح و بہبودی کیلئے مشترکہ پلیٹ فارم کے تلے آنے کی دعوت دی گئی۔ فاروق احمد ڈار نے میٹنگ سے خطاب کرتے کہا کہ بانت بانت کی بولیاں بولنے اور تجارتی انجمنوں کے تقسیم در تقسیم کی پالیسی نے تجا

مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کشمیر کے سنہرے مستقبل کیلئے کیا تھا: بی جے پی

سری نگر// بھارتیہ جنتا پارٹی کے جموں و کشمیر یونٹ کے جنرل سکریٹری اور کشمیر امور کے انچارج وبودھ گپتا نے سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو ترنگے کو سلام کرتے ہیں لیکن اقتدار سے باہر ہوتے ہی  دوسری زبان بولنے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی لوگ کشمیر میں تشدد اور سینکڑوں نوجوانوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔موصوف نے یہ باتیں منگل کے روز یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہیں۔انہوں نے کہا،’’مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ الحاق جموں و کشمیر کے سنہرے مستقبل کے لئے کیا تھا اس لئے نہیں کہ یہاں نوجوانوں کو گمراہ کر کے مارا جائے جو شیخ محمدعبداللہ، ڈاکٹر فاروق اور محبوبہ مفتی نے کیا‘‘۔ گپتا نے کہا کہ یہ لوگ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو ترنگے کو سلام بھی کرتے ہیں اور قومی ترانہ بھ

مزید خبرں

 سود پرلگے سود میں چھوٹ کی اسکیم  ۔5نومبر تک عملدرآمد یقینی بنانے کی آر بی آر کی ہدایت ممبئی//ریزروبینک آف انڈیانے بینکوں کے علاوہ مالی کمپنیوں سمیت قرضہ دینے والے تمام اداروں کو دوکروڑ روپے تک کے قرضوں پرسود پر سود میں چھ ماہ کی چھوٹ دینے کے حکومت کے فیصلے پرعملدرآمد کو 5نومبر تک یقینی بنائیں۔گزشتہ جمعہ کوحکومت نے مخصوص قرضہ کھاتوں پرچھ ماہ تک چھوٹ دینے کی اسکیم کا اعلان کیا تھا۔قرضہ دینے والے اداروں کوکہاگیا ہے کہ وہ 5نومبر تک قرضہ داروں کے کھاتوں میں رقم جمع کریں ۔ اس اسکیم کے دائرے میں مکان کا قرضہ،تعلیمی قرضہ،کریڈٹ کارڈ کے بقایاجات،ایم ایس ایم ای قرضے،گاہکوں کے قرضے اور دیگر قرضے شامل ہیں ۔ اسکیم کے تحت مالی ادارے قرضہ داروں کے کئی زمروں کو عبوری ادائیگی کریں گے جویکم مارچ سے31اگست 2020تک کے چھ ماہ کے دوران سود اور سود درسود کے فرق کے برابر ہوگی ۔ایک ٹویٹ می

تازہ ترین