تازہ ترین

سونہ مرگ میں چوتھے روز بھی بجلی سپلائی منقطع | ہوٹلوں مالکان اور سیاحوں کو مشکلات درپیش

کنگن//صحت افزا مقام سونہ مرگ میں چوتھے روز بھی بجلی کو بحال نہیں کیا گیا جس کے باعث سیاحوں نے سونہ مرگ کے ہوٹلوں میں بکنگ کو منسوخ کردیا گیا۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق جمعہ کی شام سے سیاحتی مقام سونہ مرگ میں تیز ہوائوں اور برفباری کی وجہ سے بجلی کی سپلائی منقطع ہوگئی جس کے بعدپیر کو چوتھے روز بھی محکمہ پی ڈی ڈی سونہ مرگ بجلی کی سپلائی کو بحال کرنے میں ناکام ہوگیا۔ سونہ مرگ کے دکانداروں ،ہوٹل مالکان اور سرکاری دفاتر کے ملازمین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ چار روز سے سونہ مرگ میں بجلی کی عدم دستیابی سے وہ پریشان ہیں ۔ہوٹل مالکان نے بتایا کہ اگرچہ آج ان کے ہوٹلوں میں سیاح قیام کے لئے آتے ہیں لیکن یہاں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہوں نے سیاحوں کو کمرے فراہم نہیں کئے ۔انہوں نے بتایا کہ سونہ مرگ میں شدید برفباری کی وجہ سے یہاں شدید سردی ہے اور بجلی کی عدم دستیابی کے باعث سیاحوں کو

تدریسی انتظامات کے تحت بھرتی ملازمین کامستقبل دائو پر | دس سال بعد اسامیاں بھرتی بورڈ کو پر کرنے کیلئے روانہ

سرینگر //تدریسی انتظامات کے تحت مختلف اسپتالوں میں تعینات ملازمین نے پیر کو جی ایم سی سرینگر میں خاموش احتجاج کیا ۔ تدریسی انتظامات کے تحت تعینات کئے گئے ملازمین کی ایسوسی ایشن کے صدر ہلال احمد نے بتایا کہ جی ایم سی جموں میں 550اور جی ایم سی سرینگر میں 550افراد کو دس سال قبل تعینات کیا گیالیکن 10 سال گذر جانے کے بعد ان اسامیوں پربھرتی کا عمل ایس ایس آر بی کے ذریعے  شروع کیا گیا ہے‘‘۔ہلال نے بتایا کہ تدریسی انتظامات کے تحت ملازمین کو 6سال تک تعینات کرنا تھا لیکن عدالتی احکامات کے بعد یہ ملازمین پچھلے 10 سال سے تعینات ہیں۔ ہلال نے بتایا کہ 6ماہ قبل حکومت نے منظورشدہ اسامیوں کو بھرتی کیلئے ایس ایس آر بی کو روانہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے بھی پرنسپل جی ایم سی جموں اور پرنسپل جی ایم سی سرینگر کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ منظور شدہ اسامیوں پر مذکورہ ملازمین کی بھرتی ک

آیکونک ویک فیسٹول | اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ میں صوفی ازم پر علماء کا اظہار خیال

اونتی پورہ//اسلامک یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹکنالوجی اونتی پورہ میں ’آیکونک ویک فیسٹول‘ منعقد کیا گیا جس میں علما ء نے صوفی ازم کی اہمیت اورافادیت پر روشنی ڈالی ۔پروگرام میںیونیورسٹی میںزیر تعلیم طلباء ،سکالروں اور عملے کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام میں یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر شکیل احمد رومشو، رجسٹرار پروفیسر نصیر اقبال اور ڈاکٹر منجا خان کے علاوہ صوفی ازم سے وابستہ پروفیسر عبدالمجید اندرابی اور مولانا شوکت حسین کینگ بھی موجود تھے۔ مقررین نے’صوفی ازم‘کے بارے میں مفصل جانکاری فراہم کی۔ پروگرام میں وادی سے تعلق رکھنے والے کئی معروف صوفی گلوکاربھی موجود تھے جنہوں نے تقریب میں صوفیانہ کلام پیش کر کے موجود حاضرین کو محضوظ کر کے ان سے داد حاصل کی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسر شکیل احمد رومشو نے کہا کہ یہ پروگرام جموں و کشمیر کے باقی حصوں کی طرح اسلامک یو

’ قبل از گرفتاری ، گرفتاری اورریمانڈ مرحلے میں قانونی خدمات ‘ | گاندربل میں لیگل سروسز اتھارٹی کے اہتمام سے ویبنار

گاندربل//پین اِنڈیا بیداری اور عوامی رَسائی پروگرام کے تحت اور ’’ آزادی کا امرت مہااُتسو‘‘ کی یاد میں ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اَتھارٹی (ڈی ایل ایس اے ) گاندربل نے پیر کو ’’ قبل از گرفتاری ، گرفتاری اور ریمانڈ کے مرحلے میں قانونی مدد ‘‘ کے موضوع پر ایک ویبنار کا اِنعقاد کیا۔ویبنارڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی گاندربل چیئرپرسن شازیہ تبسم اور سیکریٹری ڈی ایل ایس اے گاندربل کی رہنمائی میں منعقدہوا۔سیکریٹری ڈی ایل ایس اے گاندربل نے پروگرام کی صدارت کی اور ایڈوکیٹ عمر رشید وانی اور ایڈوکیٹ امت المعراج کلیدی مقررین تھے۔ پروگرام کے دوران ایڈوکیٹ عمر رشید وانی اور ایڈوکیٹ امت المعراج نے قانون کی متعلقہ دفعات اور بیک وقت گرفتاری اور ریمانڈ سے متعلق فیصلے اور ملزمان کی گرفتاری ، گرفتاری اور ریمانڈ کے مرحلے میں قانونی خدمات کوبڑھانے کی ہدایات پر روشنی ڈالی ۔وی

اسمبلی انتخابات کے بعدریاستی درجہ کی بحالی ایک مذاق | آزاد کا مرکزی وزیرداخلہ کے بیان پراظہار حیرانگی

سرینگر//موجودہ دور میں جموں وکشمیر کو سب سے زیادہ نقصان ہونے کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیرکے سابق وزیراعلی اور کانگریس کے سینئرلیڈر نے  غلام نبی آزادکہا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا کل جماعتی میٹنگ کے دوران یقین دلایاگیا تھا اب پہلے اسمبلی الیکشن اور بعدمیںریاستی درجہ بحال بحال کرنے کابیان سامنے آ یاہے جو جموںو کشمیرکے لوگوں کے ساتھ سب سے بڑا مذاق ہوگا۔ایک خبررساںایجنسی کے مطابق کانگریس کے سینئرلیڈر اورجموں وکشمیر کے سابق وزیراعلی غلام نبی آزادنے مرکز وزیرداخلہ امت شاہ کی جانب سے جموںو کشمیرمیں دیئے گئے بیانوں پرحیرانگی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ جموںو کشمیر کاخصوصی درجہ واپس لینے کے بعد معاشی واقتصادی طور پرسب سے زیادہ نقصان جموںو کشمیر کواٹھاناپڑا اور اب بھی لوگ معاشی اور اقتصادی بدحالی سے دو چار ہیں ۔سابق وزیراعلی نے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کی جانب سے پہلے اسمبلی الیکشن اور پھر

مزید خبریں

بھارت کو درپیش سیکورٹی چیلنجز |  اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی4 روزہ کانفرنس شروع، حالات کا جائزہ لیا جائیگا نیوز ڈیسک  نئی دہلی//ہندوستانی فوج کے اعلی کمانڈروں نے پیر کو ملک کے سیکورٹی چیلنجوں کا ایک جامع جائزہ لیا، بشمول مشرقی لداخ اور چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ دیگر حساس علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ کمانڈروں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے پیش نظر جموں و کشمیر کے سیکورٹی منظر نامے پر بھی غور کیا۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ایم ایم نروانے کی صدارت میں یہ کانفرنس قومی دارالحکومت میں ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اعلی کمانڈروں نے مشرقی لداخ میں ہندوستان کی جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا ،جہاں ہندوستانی اور چینی فوجی 17 ماہ سے تلخ کشمکش میں ہیں ، حالانکہ دونوں فریقوں نے کئی متنازعہ فی مقامات سے واپسی کی

جموں کشمیر لداخ ہائی کورٹ میں37ہزار سے زائد کیس زیر التوا

سرینگر// جموں کشمیر لداخ ہائی کورٹ میں فی الوقت زائد از37ہزار مقدمے زیر التوا ہیں،جن میں5ہزار سے زائد فوجداری کے کیس بھی شامل ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق مرکزی انتظامی ٹربیونل کو کیس منتقل کرنے کے بعد عدالت عظمیٰ کی دونوں ونگوں میں37ہزار537کیس زیر التوا ہیں،جن میں31ہزار791سیول اور5ہزار746فوجداری کے کیس شامل ہیں۔ حق اطلاعات قانون کے تحت دی گئی معلومات کے مطابق ان کیسوں میں ملازمت سے متعلق عرضداشتوں کی تعداد9ہزار244جبکہ دیگر 11ہزار407اور  مفادات عامہ کے115مقدمات بھی شامل ہیں۔ معلومات کے مطابق ایل پی اے مقدموں کی تعداد607،سیول جائزوں کی تعداد243 ،فسٹ اپیل کیسوں کی تعداد399اور سکینڈ اپیل کیسوں کی تعداد2361ہے۔ ایم ایم شجاع کی جانب سے حق اطلاعات قانون کے تحت پیش کی گئی عرضی میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عذرات سے متعلق کیسوں کی تعداد183،توہین عدالت کے کیسوں کی تعداد 4770،

جنگجو مخالف آپریشن جاری رہیں گے

سرینگر // 15 ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا کہ سرحدوں پرکچھ در اندازی واقعات چھو ڑ کرسب کچھ قابو میںہے ۔  سر ینگر میں ایک تقریب کے حاشیہ پر میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے جنرل پانڈے نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال بالکل قابو میں ہے اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد کافی حد تک امن قائم ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس میںکوئی شک نہیںہے کہ کچھ ایک دراندازی کے واقعات پیش آئے ہیں تاہم ان کو بھی ناکام بنایا گیا اور اس میں فوج کو بھی کافی نقصان اٹھاناپڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کسی بھی صورتحال کو لائن آف کنٹرول پر ناکام بنانے کیلئے فوج چوکس ہے اور سرحد کے اُس پار سے ہونے والی کوششیں اب کامیاب نہیںہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص اب بندوق اٹھا ئے گا اس کوخمیاز ہ اٹھانا ہوگا کیونکہ بندوق صرف ان ہاتھوں میںہونی چاہیے جو جموں کشمیر اور ملک ک