تازہ ترین

جموں و کشمیر فارنسک لبارٹری علیحدہ محکمہ قرار

سرینگر // جموں کشمیر حکومت نے فارنیسک سائنس لیبارٹری کو انتظامی خود مختاری دیدی ہے۔اس ضمن میں پرنسپل سیکریٹری محکمہ امور داخلہ شالین کابرا کی جانب سے باضابطہ طور پر ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ حکومتی احکامات مجریہ 1996میں جزوی ترمیم کر کے فارینسک سائنس لیبارٹری( ایف ایس ایل) کے کام کاج کو مزید موثر بنانے اور اسکی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے اسے انتظامی خود مختاری دی جارہی ہے۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ انتظامی امور چلانے میں ایف ایس ایل خودمختار ادارہ ہوگا جو براہ راست محکمہ امور داخلہ کی زیر نگرانی رہے گا۔واضح رہے کہ ابھی تک ایف ایس ایل کے انتظامی امور پولیس کے تابع تھے جسے اب محکمہ داخلہ کو سونپے گئے ہیں۔  

پلوامہ میں فوجی اہلکار کا بھائی لاپتہ

پلوامہ+اننت ناگ // اننت ناگ میں ایک فوجی اہلکار کے بھائی کے لاپتہ ہونے کے چند روز بعد پلوامہ میں بھی ایک فوجی جوان کا بھائی پر اسرار طور لاپتہ ہوگیاہے ۔ افراد خانہ نیبیٹے کو فوری طور گھر واپس آنے کی اپیل کی ہے ۔ پلوامہ کے تملہ ہال گائوں سے تعلق رکھنے والا 20سالہ جنید رشید ولد عبد الرشید 7ستمبر سے لاپتہ ہوا ۔ اہل خانہ سے معلوم ہوا ہے کہ جنیدگورنمنٹ ڈگری کالج پلوامہ میں پہلے سمسٹر کا طالب علم ہے اور گزشتہ دنوں وہ اپنے بڑے بیٹے ، جو ایک فوجی ہے، کی سگائی کی تیاریوں میں مصروف تھے اورجنید کچھ سامان لانے بازارگیا لیکن وہ واپس نہیں لوٹا۔جنید کے والد عبد الرشید نے بتایا کہ گھر سے نکلنے سے تاحال ان کا فون بھی بند آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سبھی رشتہ داروں،دوستوں اور دیگر لوگوں سے جنید کے بارے میں پوچھا لیکن اس کا کہیں کوئی سراغ نہیں ملاہے۔ جنید کے والدین نے اپنے بیٹے سے واپس لوٹنے کی اپیل

پٹن میں بارودی مواد بر آمد

بارہمولہ+ کپوارہ//شمالی قصبہ پٹن میں سوموار کی صبح سیکورٹی فورسز نے سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر دھماکہ خیز مواد برآمد کیا جس کے بعد اس کو ناکارہ بنایا گیا ۔ سوموار کی صبح 29آر آر ، سی آر پی ایف اور پولیس نے ایک مشتر کہ کارروائی کے دوران پٹن میںبارودی مواد کا پتہ لگایا جس کے بعد  بم ڈسپوزل اسکارڈ کو طلب کیا گیا ۔ بارودی مواد کا پتہ لگانے کے ساتھ ہی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل روک دی گئی اور بم ڈسپوزل اسکارڈ نے بارودی مواد کو ناکارہ بنایا۔ادھرشمالی ضلع کپوارہ کے تر ہگام علاقہ میں سرحدی حفاظی فورس کااہلکار دم گھٹنے سے ہلاک ہوگیا ۔معلوم ہو اہے کہ ترہگام کے بی ایس ایف کیمپ میں تعینات 102بٹالین سے وابستہ کا نسٹیبل سوگنہ رام کی طبیعت پیر کی صبح  اچانک بگڑ گئی اور انہیں سانس لینے میں دشواری پیدا ہوئی جس کے بعد انہیں فوری طور درگمولہ میں قائم فوجی اسپتال میں بھرتی کیا گیا تاہم 

پینے کے پانی کی عدم دستیابی

بارہمولہ //شمالی قصبہ پٹن کے شیربگ علاقے میں پینے کے صاف پانی کی سخت قلت پائی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق وہ آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ مقامی لوگوںکا کہنا ہے کہ علاقے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے پانی کی قلت کا سامنا ہے ۔ ایک مقامی شہری نثار احمد نے بتایا کہ علاقے میں پی ایم جی ایس وائی کی جانب سے تین ماہ قبل سڑک کی کشادگی کا کام عمل میں لایا گیا اور جل شکتی محکمہ کی پائپ لائن کو عارضی طور پر کاٹ لینا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ سڑک پر مرمت کا کام مکمل بھی ہوا لیکن پائپ لائن کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اور نتیجتاً علاقہ گزشتہ تین ماہ سے پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے فوری طور مداخلت کی اپیل کی۔  

نئی تعلیمی پالیسی کو ایک جذبے کے تحت نافذ کیا جانا چاہئے | سنٹرل یونیورسٹی کشمیر میں ویبنار

گاندربل//سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے اہتمام سے قومی تعلیمی پالیسی 2020کے عنوان پر تین روزہ ویبنار گرین کیمپس گاندربل میں شروع کیا ۔ گرین کیمپس گاندربل میں شروع کئے گئے شعبہ سکول آف ایجوکیشن کے سربراہ ڈاکٹر ظہور احمد گیلانی نے تقریب کی شروعات میں اپنے خطاب میں قومی تعلیمی پالیسی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ پالیسی کو رہمنا خطوط و جذبے کے تحت نافذ کیا جانا چاہئے۔اپنے افتتاحی خطاب میں سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے رجسٹرار پروفیسر ایم افضل زرگر نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے جی ڈی پی میں تبدیلی جیسے مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالی جس کی سفارشات چھ فیصد ہیں۔سابق وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی، پانڈیچیری یونیورسٹی اور ایس اے آر یونیورسٹی پروفیسر جلیس احمد خان ترین نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی2020ملک کے نوجوانوں کو عالمی سطح پر ہر مہارت کے لئے تیار کرے گی۔ انہوں نے

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی | دوسرے سال بھی 25 سرکردہ یونیورسٹیوں میں شامل

حیدرآباد// مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے ملک میں ایسی واحد لسانی جامعہ کا اعزاز حاصل کیا ہے جسے سرکردہ انگریزی جریدہ آئوٹ لک نے مرکزی جامعات کی ملک گیر رینکنگ میں 24 واں مقام عطا کیا ہے۔اردو یونیورسٹی مسلسل دوسرے سال مرکزی جامعات کی 25 سرکردہ یونیورسٹیز کی فہرست میں شامل ہوگئی ۔ آئوٹ لک نے آئی کئیر ادارہ کے ساتھ ملکر ہندوستان کی سرکردہ مرکزی جامعات میںتعلیمی و تحقیقی عمدگی ، صنعت کے ساتھ رابطہ اور پلیسمنٹ ، انفراسٹرکچراور سہولیات ،حکمرانی و داخلے اور تنوع ورسائی جیسے معیارات کی بنیاد پر یہ سروے کیا ہے جسے آئوٹ لک ویب سائٹ https://magazine.outlookindia.com/ پر حال ہی میں جاری کیا گیا۔یوجی سی کے مطابق ہندوستان میں اس وقت 54 مرکزی یونیورسٹیاں ہیں۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی ویب سائٹ پر فی الحال سنسکرت کی تین، ہندی کی ایک اور انگریزی و بیرونی السنہ کی ایک مرکزی جامعات کے نام موجو

صحافیوں کاعصرحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونالازمی | ڈاک بنگلہ سمبل میں یک روزہ تربیتی ورکشاپ ،سینئر صحافیوں کی شرکت

 سرینگر//دورِ جدید میں صحافت کے بدلتے تقاضے عنوان کے تحت اتوار کو ڈاک بنگلہ سمبل میں یک روز تربیتی ورکشاپ منعقد ہوا ،جس کااہتمام انجمن اْردوصحافت جموں وکشمیر اوربانڈی پورہ ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے باہمی اشتراک سے کیاتھا۔صبح ساڑھے دس شروع ہوئے اس تربیتی ورکشاپ میں پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسے وابستہ 40سے زائد نامہ نگاروں نے شرکت کی جن کا تعلق بانڈی پورہ اورگاندربل اضلاع سے تھا ۔بانڈی پورہ ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ساجد رسول نے خطبہ استقبالیہ کے فرائض انجام دئے جبکہ سینئر صحافی اور انجمن اردو صحافت کے ترجمان اعلیٰ زاہد مشتاق نے ورکشاپ کا مقصد اورانجمن کا تعارف پیش کیا۔افتتاحی تقریب کے فوراًبعدپہلی نشست میں ’دیہی نامہ نگاری ،تقاضے مسائل اور حل ‘کے موضوع پر سینئرصحافی اور بی بی سی اردو کے بیورو چیف برائے جموں وکشمیر ریاض مسرور نے اپنے تجربات اور مشاہدات کے

مزید خبرں

آئو چلیں گائوں کی اور  حکومت کی جڑیں مضبوط کرنے کا موقعہ: بصیر خان پلوامہ//جموںوکشمیر انتظامیہ کی جانب سے شروع کئے گئے عوام تک پہنچنے کے پروگرام کے طور پر لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے  ترال کاد ورہ کیا اور وہاں درجنوںوفود سے ملے اور جنہوں نے اپنی مانگیں پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر پلوامہ ، ڈائریکٹر دیہی ترقی ، ایس ایس پی اونتی پورہ ، ضلع افسران اور دیگر متعلقہ اہلکار اس موقعہ پر موجود تھے۔بصیر خان نے زائد از 12وفود کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جنہوں نے بنیادی سہولیات کی توسیع ، صحت ، تعلیم ، سڑک رابطہ ، پینے کے پانی ، بجلی کی ترسیل سے متعلق مانگیں پیش کیں۔ انہوں نے اپنے متعلقہ علاقوں کے سکولوں میں ہسپتالوں میں معقول عملے کی تعیناتی کی مانگ کی۔بی ڈی سی ترال کے وفد نے پنچایتوں کو مستحکم بنانے ، حفاظتی انتظامات میں بہتری لانے ، رہائشی سہولیات کی فراہمی اور ان کے نقل وحمل