تازہ ترین

چھانہ پورہ میں تشدد سے شہری کی ہلاکت | لواحقین کا پریس کالونی میں احتجاج،انصاف کی مانگ

سرینگر// چھانہ پورہ میں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے دوران ایک شہری کی ہلاکت کے خلاف اہل خانہ نے پریس کالونی لالچوک میں احتجاج کرتے ہوئے حملہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ پریس کالونی میں جمعہ کو چھانہ پورہ سے تعلق رکھنے والا ایک کنبہ اور انکے رشتہ دار جمع ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے انصاف کے حق میں نعرہ بازی کی۔احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ گزشتہ دنوں منی کالونی چھانہ پورہ میں مبینہ طور پر ایک شہری کو تشدد کا نشانہ بنا کر اسے ہلاک کیا گیا۔فوت شدہ شہری کی دختر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ غلطی سے انکے گھر کے سامنے ایک لڑکی پر پانی کی چھینٹے پڑی اور اس نے شور و غل مچایا۔ مہلوک کی بیٹی صدف بقال نے بتایا کہ اس دوران مذکورہ لڑکی کا ایک رشتہ دار بھی وہاں پہنچا جو کہ پیشہ سے فٹ بال کھلاڑی ہے اور جموں کشمیر بنک میں کام کرتا ہے،نے اس کے والد پر اس کا لباس برباد کرنے کا

چیرکوٹ اور ڈانگری رامحال میں پانی کی قلت | 4سال قبل چرائی گئی پائپوں کو جوڑنے کی مانگ

کپوارہ//چیرکوٹ اور ڈنگری رامحال میں ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ لوگوں کاکہناہے کہ مذکورہ علاقوں کوڈانگر واڑی واٹرسپلائی سکیم سے پانی فراہم کیا جاتا تھا لیکن 4سال قبل پنجواہ سے چیرکوٹ تک پانی سپلائی کرنے والی سروس پائپوں کی چوری ہوگئی جس کے باعث 17ہزار نفوس پر مشتمل آبادی پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہی ہے۔ لوگوںکاکہنا ہے کہ پانی کیلئے ٹیوب ویل لگائے گئے لیکن خشک سالی کے سبب پانی کی سطح کم ہے اور صرف کئے گئے روپے ضائع ہوگئے۔ لوگوںکاکہنا ہے کہ خواتین کو 2 کلو میٹر پیدل جاکر ندی نالو ں سے پانی حاصل کرتے ہیں تاہم ہو نا قابل استعمال ہو تا ہے ۔مقامی لوگو ں نے بتا یا کہ ان علاقوں میں منقطع ہوئی واٹر سپلائی سکیم کو از سرنو جو ڑ نے کے لئے وہ گز شتہ 4برسوں سے محکمہ جل شکتی کے دفتروں کا چکر کا ٹ کاٹ کر تھک ٓچکے ہیں لیکن تا حال نئی پایپو ں کو نہیں جو ڑ دیا گیا ۔م

چاڈورہ ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹروں کی عدم دستیابی | خواتین مریض دیگرہسپتالوں کا رخ کرنے کیلئے مجبور

سرینگر//سب ضلع اہسپتال چاڈورہ میں طبی عملے کی کمی کے باعث خواتین مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ لوگوںکاالزام ہے کہ ہسپتال میں 2ماہر امراض خواتین تعینات ہے تاہم انتظامیہ نے ایک خاتون ڈاکٹر کو کووڈ۔19 ڈیوٹی پر تعینات کیا جبکہ دوسری سرجن ڈاکٹر کی عدم موجودگی کے باعث خواتین مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے ۔ کے این ایس کے مطابق مقامی لوگوں نے مانگ کی ہے کہ ہسپتال میں طبی عملے خاص کر خواتین امراض کے ڈاکٹروں کی موجودگی کویقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔  

بلال آبادکنڈ آستان ترال پائین کے لوگوں کی مانگ | سڑک پر میکڈم بچھانے سے قبل ڈرینج کا انتظام کیا جائے

ترال //ترال ستورہ روڑ پر واقع بلال آباد کنڈ آستان ترال پائین کے لوگوں نے ترال ستورہ روڑ کو تعمیر کرنے والی تعمیراتی ایجنسی سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک پر میکڈم بچھانے سے پہلے سڑک کے دونوں اطراف ایک ڈرین تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ۔علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا ہم سرکار کے شکر گزار ہیں کہ انہوں خستہ حال سڑک پر میگڈم بچھانے کا کا ہاتھ میں لیا ہے تاہم مذکورہ علاقے میں نذیر احمد بٹ کے مکان سے حاجی محمد انور ڈار کے مکان تک دونو اطراف سے ڈرین تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے اس بارے میںمتعلقہ محکمے کے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے ۔آبادی کا کہنا تھا کہ مذکورہ جگہ پر پانی کو باہر نکلنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اس لئے ڈرین تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا اس حوالے سے اگر چہ لوگوں نے مقامی سب ضلع انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی تھی تاہم تا حال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائ

۔5 اگست 2019 سے5اگست2020تک 346 ہلاکتیں : رپورٹ

سری نگر// جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی (جے کے سی سی ایس) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سال گذشتہ 5 اگست کو خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بد سے بد تر ہوگئی ہے۔’’دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد ایک سال، جموں و کشمیر میں حقوق انسانی کی صورتحال‘‘ عنوان والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے کشمیر میں جنگجویت کو ختم کرنے اور تشدد کو کم کرنے کے دعوے سراب ثابت ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے،’’تشدد کم نہیں ہوا ہے دراصل جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم آرائیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2019 سے اگست 2020 تک جموں و کشمیر میں کم سے کم 346 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں 73 عام شہری، 76 سیکورٹی فورسز اہلکار اور 197 جنگجو شامل ہیں‘‘۔جے کے سی سی ایس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ

دفعہ370کی منسوخی کے فائدے عوام کو عنقریب ملیں گے | وزیراعظم نے انتظامیہ صاف کرکے اِس کی نئی تعمیر کی ہدایت دی :چیف سیکریٹری

سرینگر//جموں کشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی کے تمام فوائد کو حاصل کرنے کیلئے عوام کو صبر رکھنا ہوگا، کی بات کرتے ہوئے جموں کشمیر کے چیف سیکرٹری بی وی آر سبرامنیم نے کہا ہے کہ جموں کشمیر ایک ٹوٹی ہوئی ریاست تھی اور گزشتہ سال ماہ اگست میں لیڈران کی گرفتاری پر ایک بھی فرد نے آنسو نہیں بہایا ۔ اسی دوران انہوںنے کہا کہ پنچوں اور سر پنچوں کی خالی پڑی سیٹوں پر انتخابات موجودہ صورتحال میں بہتر ی آنے کے ساتھ ہی منعقد کرائے جائیں گے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر کے چیف سیکرٹری بی وی آر سبرامنیم نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اس کے فوائد سے لطف اندوز ہونے کے لئے صبر کرنا ہوگا کیونکہ ابھی تک بہت سارے مثبت اقدامات مکمل طور پر سامنے نہیں آسکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک ٹوٹی ہوئی ریاست تھی اور بد انتظامی ، بدعنوانی اور ناقابل یقین حد تک دھوکہ دہی کے سبب

مزید خبریں

دوردرازعلاقوں میں تعلیمی ڈھانچے کی توسیع |  23 نئے کیندر وِدیالیہ قائم کئے جارہے ہیں : سامون  سرینگر//جموںوکشمیر میں تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو توسیع دینے کے لئے دور دراز علاقوں میں 23کیندریہ وِدیالیہ قائم کئے جارہے ہیں۔پرنسپل سیکرٹری محکمہ تعلیم داکٹر اصغر حسن سامون نے میٹنگ میں جموںوکشمیر کے دُور دراز علاقوں میں درس و تدریسی کے عمل میں کیندریہ وِدیالیوں کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ڈاکٹر سامون نے کہا کہ جموںوکشمیر میں 36 کیندر وِدیالیہ کام کر رہے ہیں اور مزید 23کیندر ودِیالیوں کے قیام سے تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔جن علاقوںمیں یہ کیندر وِدیالیہ قائم کئے جارہے ہیںان میں ویری ناگ، رانی پورہ ، گندو کاستی گڈھ ، گاندربل ، جگتی ،بنی،رامکوٹ، کپواڑہ، آزوتی، گالندر ، رینی پورہ ، نوشہرہ ، ڈونگی ، رام بن ، گول ، ریاسی ، کٹرا ، ککریال، وِجے پور،شوپیاں ، شادت کریوا، منت

وادی میں کورونا بندشیں برقرار

سرینگر//وادی میں جمعہ کے پیش نظر کورونا بندشوں میں قدرے سختی دیکھنے کو ملی جبکہ مسلسل21ویں ہفتے بھی جامع مسجد سرینگر سمیت دیگر خانقاہوں اور بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی نہیں ہوسکی۔ کشمیر میں کورونا مثبت معاملات اور اموات کے نہ تھمنے والے سلسلے کو روکنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیا گیا لاک ڈائون تاحال برقرار ہے ۔ بندشوں اور پابندیوں کے سبب سرینگر میں ہو کا عالم ہے ۔جمعہ کو مسلسل 21 ویں ہفتے بھی بڑی مساجد ،خانقاہوں اور زیارت گاہوں پر جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے ۔مرکزی جامع مسجد ،آثار شریف حضرتبل ،خانقاہ معلی اور زیارت گاہوں کے منبر ومحراب خاموش رہے ۔تاہم محلہ سطح کی چھوٹی مساجد میں مختصر اور طبی مشوروں وہدایات کے تحت لوگوں نے نماز جمعہ ادا کی ۔ائمہ مساجد نے جمعہ خطبہ کو مختصر رکھا اور لوگوں کو وبا سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنا نے پر زوردیا ۔اسی طرح کی صورتحال شمال

گرمی نے 10سالہ ریکارڈ توڑ دیا

سرینگر //کشمیر وادی میں جھلسا دینے والی گرمی نے دس سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے اور جمعہ کے روز کشمیر وادی میں اس موسم کا سب سے گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔ سرینگر میں درجہ حرارت 35.4 ڈگری تک جا پہنچا جبکہ یہاں ہوا میں نمی کا تناسب 111فیصد تھا ۔ کپوارہ میںجمعہ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.3 ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ،جبکہ ضلع میں ہوا میں نمی کا تناسب 137ڈگری تک جا پہنچا  ۔قاضی گنڈ میں 32.3، پہلگام میں 29.3،کوکرناگ میں 31.6 اور گلمرگ میں 27.0ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق کشمیر میں پارہ جہاں 35.4 سے 36 ڈگری تک جا پہنچا وہیں جموں ضلع میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32.2 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔محکمہ موسمیات ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ برسوں میں پہلی بار جمعہ کو اس موسم کا سب سے گرم دن ریکارڈ کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ2018میں 35.1ڈگری سلسیش ریکارڈ

تازہ ترین