تازہ ترین

لاک ڈائون کا71واں دن، آمد و رفت میں بتدریج اضافہ، بندشیں ہٹ گئیں

سرینگر// ملک گیر لاک ڈائون کے 71ویں روز اتوار کو وادی بھر میں بندشوں کی صورتحال قدرے تبدیل ہوئی ۔ شبانہ کرفیو کے نفاذ کے بعد پیر کی صبح سے ہی شہر سرینگر کے سبھی علاقوں اور وادی کے دیگر قصبوں میں بندشیں نرم کی گئیں اور نجی گاڑیوں کی آمد و رفت میں کوئی خلل نہیں ڈالا گیا۔ سڑکوں پر بچھائی گئیں خاردار تاریں ہٹا دی گئیں تھیں جس کی وجہ سے لوگوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہوا۔ نجی گاڑیوں کی معمول کی آمد و رفت میں پچھلے کئی روز سے بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔شہر میں آٹو رکھشا بھی اب نظر آنے لگے ہیں اور پائین شہر کیساتھ ساتھ سیول لائنز میں بھی ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک موٹڑ سائیکلوں، پرائیویٹ گاڑیوں اور آٹو رکھشا کا استعمال کررہے ہیں۔اب بازاروں میں دکانیں بھی کھلنی شروع ہوگئی ہیں۔بیکری، سبزی فروش،کریانہ دکانیں، قصائی کی دکانیں، کپڑے فروخت کرنے والی دکانیں

درجہ چہارم کی بھرتیوں کی تجویز | 60ہزار عارضی ملازمین کے حقوق پر شب خون:ایجیک

سرینگر// ملازمین کے مشترکہ اتحاد ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے درجہ چہارم کی نئی اسامیوں کی تازہ بھرتیوں کی تجویز کو عارضی ملازمین کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیا۔سرینگر کے پی ایچ ای دفتر میں پریس کانفرنس ے خطاب کرتے ہوئے ایجیک کے صدر فیاض شبنم نے کہا کہ عارضی ملازمین کی مستقلی کا نہ صرف جواز بنتا ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایجیک نے ہمیشہ ملازمین جموں کشمیر کے جائز مطالبات کی حمایت کی ہے جبکہ عارضی ملازمین کی مستقلی کا جواب بھی بنتا ہے کیونکہ انہوں نے طویل عرصہ سے عوامی خدمات کو انجام دیا ہے۔ان کا کہنا تھا’’حال ہی میں انتظامیہ نے جو دس ہزار ملازموں کی بھرتی کی پالیسی مرتب کی ہے اس سے قبل یہاں بیس پچیس برسوں سے مختلف محکموں میں کام کرنے والے عارضی ملازمین کی نوکریوں کو مستقل کرنے کے لئے ایک پالیسی بنائی جانی چاہئے&lsq

بجلی کی عدم دستیابی | گوگلوسہ گزریال معقول سپلائی سے محروم

کپوارہ//شمالی کشمیر کے کرالہ پورہ علاقہ میں بجلی کے بحران نے سنگین رخ اختیار کیا ہے اور علاقہ میں ابھی تک7مہینہ قبل مرتب دئے گئے شیڈول کے مطابق صارفین کو بجلی فراہم کی جاتی ہے تاہم گوگلوسہ گزریال فیڈر گزشتہ ایک سال سے خراب ہے جس کی وجہ سے گوگلوسہ گزریال فیڈر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اوربجلی نہ ہونے کے برابر ہے ۔صارفین کا کہنا ہے کہ فیڈر کی خرابی کی وجہ سے آلوسہ ،مزگام ،شولورہ سلامت واری ،گوفہ بل ،شمناگ ،گوگلوسہ بالا ،دردسن ،ریشی گنڈ ،گزریال اوروارسن معقول بجلی سپلائی سے محروم ہیں ۔ان علاقوں کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں محکمہ نے انوکھا بجلی شیڈول ترتیب دیاہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کو ایک دن میں 3اور ارت کے دوران 7گھنٹہ بجلی نصیب ہوتی ہے ۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ کو گوگلو سہ گزریال علاقوں میں بجلی بحران کو ختم کرنے کے لئے رسیونگ اسٹیشن کرالہ پورہ سے ایک الگ پینل

مدارس اسلامیہ فی الحال بند ہی رہیں گے :مولانا رحمت اللہ

سرینگر//رابطہ مدارس اسلامیہ کے صدر مولانامحمد رحمت اللہ قاسمی نے کہا کہ اب جبکہ لاک ڈاؤن کے پانچویں مرحلے کا اعلان ہوا ہے اورجموں و کشمیر میں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ٹیکنیکل اداروں کے کھولنے کی اجازت کا اعلان نہیں ہوا ہے۔لہذافی الحال رابطہ مداراس اسلامیہ عربیہ سے متعلق جملہ مدارس میں بھی تعلیم وتدریس کا کوئی سلسلہ قائم نہیں ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے مقامات پر قیام کر کے وقت کو تعلیمی مشاغل میں مصروف کریںجبکہ جملہ مدارس کے طلبہ اپنے اپنے مدارس کے دفاتر اور ذمہ داران کے ساتھ فون پر رابطہ رکھیں۔  

محکمہ بجلی کی نجکاری کا معاملہ | انجینئروں ودیگر ملازمین کا بازئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر خاموش احتجاج

سرینگر/ مرکزی حکومت کی طرف سے بجلی شعبے کی نجی کاری کے مجوزہ فیصلے اور بجلی ترمیمی بل کے خلاف محکمہ بجلی کے انجینئروں اور ملازمین نے پیر کو اپنے بازئوں پر سیاہ رنگ کی پٹیاں باندھ کر علامتی احتجاج کیا۔پائور انجینئرس اینڈ ایمپلائز کارڈی نیشن کمیٹی کی کال پر بجلی ملازمین اور انجینئر سرینگر کے بمنہ،بسنت باغ اورراجباغ میں جمع ہوئے اور اپنی بازوئوں پر پٹیاں باندھ کر خاموش احتجاج کیا۔مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں بجلی محکمہ کو کمپنیوں میں تبدیل کرنے سے پہلے ہی اس محکمہ کی ساخت کو کمزور کیا گیا اور اب ایک اور ضرب مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس موقعہ پرالیکٹرک ایمپلائز یونین کے صدر محمد مقبول نجار نے کہا کہ بجلی شعبہ کی نجی کاری کے نتیجے میں جموں کشمیر سخت مشکلات کے نرغے میں آئے گی،کیونکہ بجلی شعبہ کی اصلاحات کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور اس کیلئے ابھی تک ڈھانچہ بھی مکمل

مزید خبریں

سابق مرکزی وزیر پی نمگیال فوت  کانگریس ،نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی قیادت کا اظہار رنج  سرینگر//سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی نمگیال سوموار کو فوت ہوگئے ۔ کانگریس قیادت سونیا گاندھی ،راہل گاندھی اورجموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میرسمیت کانگریس کی قیادت نے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی میں ایک خلا پیدا ہوگیا ۔میر نے کہا کہ نمگیال نے ہمیشہ غریب طبقے کی خدمت کو اپنا شعار بنایا تھا ۔ادھر نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے نمگیال کے فوت ہونے پر گہرے صدمے اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے اس سانحہ ارتحال پر آنجہانی کے جملہ سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔پارٹی کے دیگر لیڈران بابو رام پال، برج موہن شرما،محمد حسین، دپندر کور،نصر خان،بھوشن لال بھٹ اورمحمد اقبال بٹ نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ان