تازہ ترین

ہائراسکینڈری اسکول زچلڈارہ میں پرنسپل کی کرسی5سال سے خالی| دارے میں سہولیات کافقدان،633طلاب کیلئے 6کمرے،طلاب کی تعلیم متاثر

کپوارہ// زچلڈارہ راجواڑ ہندوارہ کے ہائر اسکینڈری اسکول میں پرنسپل کی کرسی پچھلے پانچ برسوں سے خالی ہے جبکہ اسکول میں بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔اگرچہ مذکورہ ہائر سکینڈری سکول کا درجہ 1999میں بڑھا دیا گیا لیکن آج تک سکول کی حالت وہی ہے جو 21سال قبل تھی ۔مقامی لوگو ں کے مطابق مذکورہ ہائر سکینڈری سکول میں طلاب کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے تاہم633طلاب کے لئے محض 6کمرے دستیاب ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ جگہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیر تعلیم طلاب کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں کے مطابق سکول کے لئے چار عمارتی ڈھانچے اس وقت دستیاب ہیں لیکن سارے کے سارے ڈھانچے خستہ حالت میں ہیں ۔والدین کا کہنا ہے کہ 2005کے تباہ کن زلزلہ سے سکول کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور آج تک سکول کی نئی عمارت تعمیر کرنے کے لئے کوئی بھی اقدام نہیںکیا گی

لداخ شاہراہ پر دونوں طرف برف ہٹائی گئی | ناشری ٹنل کے آر پار بدترین ٹریفک جام، ہلکی بارشوں کا آغاز

کنگن +بانہال//سرینگر لداخ شاہراہ سے برف ہٹانے کا کام دونوں طرف مکمل کیا گیا ۔ اگرچہ رواں برس مقررہ وقت سے قبل ہی باڈر روڈ آرگنائزیشن نے سرینگر لداخ شاہراہ پر 15مارچ کو برف ہٹانے کا کام مکمل کیا  تھا لیکن 28مارچ کے روز بھاری برفباری کی وجہ سے شاہراہ دوبارہ بند ہوگئی۔حکام نے بتایا کہ شاہراہ کے دونوں طرف  پروجیکٹ وجیک اور باڈر روڈ آرگنائزیشن نے دوبارہ برف ہٹانے کا کام شروع کیا تھا اور کافی مشقت کے بعد اتوار کو شاہراہ کے دونوں طرف  برف ہٹانے کا کام مکمل کیا گیا ۔ اس دوران اتوار کے روز اگرچہ دن بھر مطلع ابرآلود رہا تاہم شام کے بعد زوجیلا، سونہ مرگ، گگن گیر کے علاقوں میں ہلکی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ادھر اتوار صبح سے ہی ناشری ٹنل کے دونوں طرف ٹریفک جام رہا جس کی وجہ سے مسافروں کو اپنی منزلوں تک پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹریفک پولیس نے بتایا کہ ناشری ٹنل پر ٹول

گاندربل میں بیشتر سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہہ | عوام کو عبور و مرور میں گوناگوں مشکلات کا سامنا

گاندربل//گاندربل کی بیشتر سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہونے سے لوگوں کو عبور و مرور میں گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گاندربل کی بیشتر رابطہ سڑکیں خستہ ہوچکی ہیں اوران کی مرمت کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے اب آئے روزحادثات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں کیونکہ سڑکوں پر جگہ جگہ گہرے کھڈ بن چکے ہیں ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سڑکوں پر گاڑیاںکچھوے کی مانند چلتی ہیں جس کے نتیجے میں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے جبکہ برفباری اور بارشوں نے ان سڑکوں کی رہی سہی کسر پوری کردی۔بارشوں کے دوران یہ سڑکیں جھیل کا منظر پیش کرتی ہیں۔دودرہامہ فتح پورہ ،تولہ مولہ سہ پورہ ،ناگہ بل شہامہ آلسٹینگ،دودرہامہ سالورہ، سالورہ بوگو رام پور ،گوٹلی باغ نونر سڑکوں سمیت دیگر اہم اور مرکزی اہمیت کی حامل سڑکیں انتہائی خستہ ہوچکی ہیں ۔مسافر

دو ماہ قبل ٹرانسفارمر خراب| تلوان پورہ نورآباد بجلی سپلائی سے محروم

سرینگر//جنوبی ضلع کولگام کے قصبہ کھل نورآباد تلوان پورہ کے لوگ پچھلے دو مہینوں سے بجلی سپلائی سے محروم ہیں۔گائوں میں نصب بجلی ٹرانسفارمر 2ماہ قبل خراب ہوگیا اور محکمہ کی جانب سے اگرچہ ٹرانسفارمر کو ایک بار محکمہ نے ٹھیک کر کے نصب کیا گیا لیکن نصب کرنے کے دوران ہی ٹرانسفارمر دوبارہ خراب ہوا ۔آبادی کے مطابق کے متعلقہ حکام نے کئی بار یقین دلایا کہ آپ کو ایک نیا 100کے وی بی ٹرانسفارمر فراہم کیا جائے گا لیکن ابھی تک وہ ٹرانسفارمرنہیں ملا اور بستی گھپ اندھیرے میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کے بچے بھی طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ صارفین کا کہناہے ’’ ہم نے اس ضمن میںکئی بار ایگزیکٹیو انجینئر دمحال ہانجی پورہ سے درخواست کی لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیںکی ‘‘۔ علاقے کی اوقات کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر کولگام سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔

جواہر پورہ لام ترال میں سکولی عمارت خستہ حال | نئی عمارت5سال قبل تعمیر ،منتقلی کا ہنوز انتظار

ترال//جواہر پورہ لام ترال میں قائم ایک ہائی سکول کرایہ کی خستہ حال عمارت میں موجود ہونے کی وجہ سے سکول میں زیر تعلیم طلباء اور عملے کو  پریشانیوں کا سامنا کرنا ہے ۔ ترال سے15کلو میٹر دور جوا ہر پورہ لام میں قائم قائم اس ہائی سکول کی عمارت خستہ حال ہے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرکار نے چند قبل ایک شاندار عمارت تعمیر کی ہے تاہم نا معلوم وجوہات کی بناء پر سکول کو  منتقل نہیں کیا گیا ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں ایک اور عمارت اور بیت الخلا ء پر کام جاری ہے جبکہ سکولی بچوں کے لئے ایک کھیل کا میدان بھی تعمیر ہوا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس پروجیکٹ پر ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ رقم خرچ ہوا ہے ۔اس سلسلے میں محکمہ آر اینڈ بی کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر اشتیاق احمد نے بتایا کہ سکول کی اس عمارت پر79لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیںاور2013میں کام شروع کر کے صرف تین سال کے اندر

چندریگام ترال میں سکول کے پاس گندگی کے ڈھیر | طالب علموں اور عملے کو ذہنی کوفت کا سامنا

سرینگر//جنوبی قصبہ ترال کے چندریگام نامی گائوں میں قائم ایک سرکاری سکول کے ارد گرد گند گی کے ڈھیر جمع ہونے کی وجہ سے بچوں کے ساتھ ساتھ سکولی عملے کوسخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول کے ارد گرد گندگی کے ڈھیر موجود ہونے کا فوٹو سوشل میڈیا پر گزشتہ روزوائرل ہوگیا، جس کے بعد اتوار کی صبح انتظامیہ نے گندگی ہٹانے کیلئے فوری اقدامات کئے۔مقامی لوگوںنے بتایا کہ اسکول سے متصل ہی سرکاری زمین ہے جسے اسکول کے ساتھ ہی منسلک کیا جانا چاہئے کیونکہ کچھ لوگوں نے کوڑا دان بنایا ہے ۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر عبدالسلام ملک نے بتایا کہ انہوں نے اسکول سے متصل زمین پر گندگی کے ڈھیر ہونے کی شکایت کئی دفعہ انتظامیہ کے پاس کی ہے لیکن اسے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ اسکول سے متصل سرکاری اراضی کو اسکول کے نام وقف کیا جائے۔کے این ایس  

فوتیدہ اہلکاروں کے اہل خانہ کے مسائل | پلوامہ میںمحکمہ بجلی میں کام کر رہی خواتین کا احتجاج

پلوامہ//جنوبی ضلع پلوامہ میں محکمہ پی ڈی ڈی میں عارضی بنیادوں پر کام کر رہی خواتین نے پلوامہ میں جمع ہو کر ایک خاموش احتجاج کیا ۔ احتجاج میں شامل ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا شوہر محکمہ میں عارضی بنیادوں پر کام کر رہا تھا جو دوران ڈیوٹی فوت ہوا ہے اور اسکے بعد وہ اس محکمہ میں تن دہی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے ۔انہوں نے بتایا ’’میرے چار بچے ہیں اور محکمہ اس کاقلیل مشاہرہ نا معلوم وجوہات کی بناء پر بار بار بند کرتا ہے ‘‘ ۔ایک اور خاتون نے بتایا کہ ان کا رشتہ دارمحکمہ میں اپنے فرائض انجام دینے کے دوران لقمہ اجل بن گیا لیکن محکمہ یا سرکار نے اُن کی خاطرکوئی اقدام نہیں کیا۔محکمہ میں بطور PDL .TDLکام کر رہی خواتین نے اپنے مطالبات کے حق میں خاموش احتجاج کیا ۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑاٹھارکھے تھے۔ انہوں نے اس حوالے سے لیفٹیننٹ گورنرسے مداخلت کی اپیل کی ہے

ہاپت نار قوئل کی آبادی کا احتجاج

بانڈی پورہ//ہاپت نار قوئل مقام بانڈی پورہ کے لوگوں نے پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور سڑک پر جاری کام ادھورا چھوڑنے کے خلاف ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ دفتر پہنچ کر احتجاج کیا ۔انہوں نے الزام لگایا کہ ضلع انتظامیہ اور سرکار نے 200کنبوں پر مشتمل اس پسماندہ گجر بستی کو مکمل نظر انداز کیا ہے اوربنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ جل شکتی محکمہ نے تین سال قبل پانی کی پائپیں نصف بستی میںبچھائیں لیکن پھر اچانک غائب ہوگئے ۔انہوں نے بتایا کہ کھٹانہ محلہ، سیر محلہ اور ٹیڑھی محلہ میں رہائش پذیر لوگوں کو پینے کا صاف میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ آلودہ پانی استعمال کرنے پر ہی مجبور ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ آر اینڈ بی نے بھی تین سال قبل دو کلومیٹر سڑک تعمیر کرنے کا کام شروع کیا لیکن ادھورا چھوڑ کر رفوچکر ہوگئے۔ احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس بستی کی طرف فوری طورتوجہ دی جا

اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو چیلنج | ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی عرضی کی سماعت آج عدالت عالیہ میں ہوگی

سرینگر//سابق ریاست جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے اُن کی جائیداد منسلک کرنے کے خلاف عرضی کی سماعت جموں کشمیر ہائی کورٹ کے ایک نئے جج کے سامنے آج ہوگی۔عرضی جس میں اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ان کی جائیداد منسلک کرنے کومنسوخ کرنے کیلئے تفصیلی وجوہات پیش کی گئیں ہے اور5مارچ کواس کی سماعت جسٹس علی محمدماگرے کے سامنے ہوئی جنہوں نے اِسے سوموارکوایک نئے بنچ کے سامنے رکھنے کاحکم دیا۔عرضی کے ساتھ پچاس سے زیادہ دستاویزات منسلک ہیں جن میں جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن گھپلے کے تمام پہلوئوں کااجاگر کیاگیا ہے اورعدالت کو مطلع کیا گیا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ہی حکم پرایسوسی ایشن کی ایک اِن ہاوس کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے دو اہلکاروں کو مالی بے ضابطگیوں میں ملوث پایااور ان کے خلاف مقامی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیاگیا۔عرضی میں ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ

تازہ ترین