رام بن میں 23سالہ گونگی بہری لڑکی کی عصمت ریزی

بانہال// تحصیل و ضلع رام بن کے پنتھیال علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک 23سالہ گونگی بہری (قوت سماعت و قوت گویائی سے محروم)لڑکی کی آبروریزی کے الزام میں پولیس نے  ایک ادھیڑ عمر کے شخص کو گرفتار کیا ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ متاثرہ لڑکی چار ماہ سے حاملہ ہے۔ایس ایچ او رام بن سنیل شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ لڑکی کے والد محمد شریف ولد نور محمد ساکن پنتھیال رام بن نے پولیس اسٹیشن رام بن میں ایک تحریری درخواست میں الزام لگایا کہ ان کی 23/24سالہ گونگی بہری بیٹی کے ساتھ مبینہ طور پر انکے ہمسایہ باون سالہ عبدالقیوم شیخ ولد محمد الدین نے کئی بار زنا بالجبر کیا ہے جس سے انکی بیٹی حاملہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریری شکایت کے بعد رام بن پولیس حرکت میں آگئی اور ملزم عبدالقیوم شیخ کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ لڑکی کا ضلع ہسپتال را م بن میں ڈاکٹری معائنہ کرایا گیا ہے۔ انہ

بانہال کے 25مزدوروںنے 220کلو میٹرمسافت طے کی

رام بن //کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ لاک ڈائون کی وجہ سے بانہال  کے پچیس مزدوروں کو گھر پہنچنے کیلئے کوئی گاڑی نہیں ملی جس کے بعد انہوں نے 220کلو میٹر کا سفر پیدل طے کیا۔یہ سبھی مزدور بلاور سے پیدل چل کرمنگل کے روز بانہال پہنچے۔انہوں نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ بندشوں کی وجہ سے انہیں کوئی گاڑی نہیں ملی اور وہ پیدل چلنے پر مجبور ہوئے تاہم خوش قسمتی کی بات ہے کہ وہ گھر پہنچنے میں کامیا ب ہوگئے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ انہوںنے اپناسفر چار روز قبل شروع کیاتھا اور حکام نے پیدل چلنے کی ہی اجازت دی تھی۔انہوں نے بتایاکہ حکام کی طرف سے انہیں تاکید کی گئی کہ راستے میں چلتے ہوئے بھی سماجی دوری بنائے رکھی جائے اوراس پر انہوں نے عمل درآمد کیا۔  

مسلسل لاک ڈائون کے اثرات | مفلوک الحال کنبوں کوپریشانیوں کا سامنا

پلوامہ //ملک کے ساتھ ساتھ وادی میں مسلسل لاک ڈائون کے20مکمل ہوئے اوراس دوران غریب لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہیں۔سوموار اورمنگل کو وادی کے بیشتر  بینکوں کی شاخوں پر گاہکوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملی اوراکثر مقامات پر سماجی دوریوں کو بنائے رکھنے کیلئے پولیس کو بھی تعینات کیا گیاتھا۔اس نمائندے کو کئی بینکوں کے باہر قطار میں بیٹھے لوگوں نے بتایا کہ اُنہیں لمبی مسافت طے کرنے کا کائی شوق نہیں تھامگر اُن کے گھروں میں کوئی چیزموجود نہیں تھی اور بینک سے پیسے نکالنے کیلئے مجبور تھے۔اِن میں زیادہ تعداد بیوائوں،پنشنروں،اورجسمانی طور خاص افراد کی تھی ۔ایک بیوہ خاتون نے بتایا کہ میرے چھوٹے بچے ہیں اور مجھے سرکاری وظیفہ کے علاوہ آمدنی کاکوئی ذریعہ نہیں ہے ۔جسمانی طور خاص ایک شہری نے بتایا کہ اُس کے کھاتے میں 1600روپے پہلے ہی کے تھے جنہیں نکالنے کیلئے آج وہ دس کلومیٹر کاسفر پیدل

تازہ ترین