تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

بار بار گیس وپیشاب کے قطرات کا اخراج اور وضوکا مسئلہ  سوال :میرا وضو نہیںٹھہرتا ہے۔ کبھی کبھی ایک کے لیے مجھے، 3، 4، 5 بار بھی وضو بنانا پڑتا ہے اور پھر بھی وضو نہیں ٹھہرتا ہے۔ پھر میں ہوا کو خارج ہونے سے روکتا ہوں اور نماز ادا کرتا ہوں۔ ہوا  خارج ہونے سےروکنے پر کافی تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے۔ پتہ نہیں ایسا کرنے سے میری نماز ادا ہوتی ہے کہ نہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرپاتا۔ کبھی کبھاروضو اگرٹھہرےتو اُس وقت نماز سکون سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کافی علاج کیا ،کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اس لئے برائے کرم میری مدلل رہنمائی فرمائیں۔ آپکا مشکور رہونگا۔     عبدالحمید، بمنہ سرینگر جواب :   وہ شخص جس کو اتنی دیر وضو نہ ٹھہرتا ہو کہ وہ وضو کرنے سے لے کر نماز ختم ہونے تک اپنا وضو برقرار رکھ سکے ،وہ شخص شریعت کی نظر میں معذور کہلاتا ہے۔مثلاًکسی شخص کو

ایمان اور نیک اعمال

ارشادِ ربانی ہے :آ پ ان لوگوں کو خوش خبری سنا دیجئے جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے کہ یقیناً ان کے لئے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔(سورۃ البقرہ ۲۵ ) انسان کی فلاح و کامرانی دو چیزوں پر موقوف ہے (1) ایمان(2) اعمال صالحہ ۔ گویا اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی دنیاوی زندگی اور حیاتِ اخروی دونوں کامیاب ہوجائیں تو اس کے لئے لازم شرط ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے مالک و خالق پر بن دیکھے ایمان لائے اور دیگر تمام معبودان باطلہ سے دامن جھٹک کر خالص اللہ مالک الملک کی ذات و صفات کا اس کے تمام تر تقاضوں کے مطابق شعور و ادراک حاصل کرے ، جس کے اظہار اور معرفت کے لئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرامؑ دنیا میں تشریف لائے ‘ بالخصوص ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کائنات ہست و بود میں تشریف لا کر انسانیت کو ایمان کی حلاوت سے آشنا کیا اور بندوں کا اپنے

شُکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گااور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے ۔‘‘(سورۂ ابراہیم) علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ؒ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے ۔ شکر کی اصل یہ ہے کہ آدمی نعمت کا تصوّر اور اس کا اظہار کرے اور حقیقت شکر یہ ہے یعنی نعمت دینے والےکی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اِعتراف کرے اور نفس کو اس کا خُوگر بنائے ۔ یہاں ایک باریکی ہے ،وہ یہ کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم و اِحسان کامشاہدہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے، اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ مقام بہت برتر (اونچا)ہے اور اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے

تازہ ترین