تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سےمسائل کا حل

اعتکاف مسجد میں لازمی موجودہ حالات میں ایک شخص معتکف ہوسکتا ہے سوال :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جو اعتکاف ہوتا ہے،کیا یہ اعتکاف آج گھروں میں ہوسکتا ہے یعنی جیسے جمعہ گھروں میں ہورہا ہے اسی طرح اعتکاف کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں ۔یاد رہے کہ کچھ علماء نے جمعہ و جماعت کی طرح گھروں میں بھی اعتکاف کی اجازت دی ہے ،اس کا جواب ضرور لکھا جائے کہ کیا یہ اعتکاف مسنون ہوگا اور کیا اس عبادت کا کوئی اجر ہوگا یا نہیں اور اس میں کوئی فایدہ ہے یا یہ ضیاع ہے؟ محمد معروف بٹ جواب  :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت موکدہ ہے ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے اور خواتین گھروں میں اعتکاف کریں گی ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے چونکہ مسجد ہونا شرط ہے اور جب اس شرط کے ساتھ یہ اعتکاف ہوگا تو یہ سنت علی الکفایہ کی وجہ سے سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا ۔اس لئے جیسے مساجد میں اذان اور

اســـــــلامی نظامِ زکوٰۃ | موجودہ معاشی بحران کا واحد حل

انسان نہ صرف روح کا نام ہے نہ فقط جسم کابلکہ دونوں کے مجموعے کو انسان کہا جاتا ہے، اسی لئے نوعِ انسانی کا عالمگیر اور ابدی دین وہی ہو سکتا ہے جو روح اور جسم دونوں کے تقاضوں کو پورا کرے، جو دونوں کی نشو نما و بالیدگی کا ضامن ہو۔ دونوں میں باہمی کشمکش اور محاز آرائی کو ختم کرنے اور ان میں ایسی ہم آہنگی پیدا کردے کہ دونوں ایک ہی راہ پر ایک ہی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔مذہب کے نام پر جو نظامہائے حیات اس وقت موجود ہیں وہ مادی نظامہائے فکر سے مات کھا چکے ہیں اور اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضانہیں کر سکتے کہ وہ بے را ہ روی کو چھوڑ دیں، ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ اس مذہب کا لیبل اپنے اوپر  چسپاں کئے رکھیں اسکے بعد جو جی میں آئے کریں، شراب پئیں، جوا کھیلیں،شبینہ کلبوں میں دادِ عیش دیں، ننگے ناچ ناچیں، سودی کاروبار کریں، جس طرح جی میں آئے غرباء ، مساکین و دیگر ضرورت مندوں کا خون چوستے ر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 روزوں کے متفرق مسائل سوالات   (۱) گردوں میں پتھری ہو تو کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۲) روزوں کے بدلے فدیہ کس فرد پر لاگو ہوتا ہے؟ (۳) معدے میں تیزابیت(Acidity)ہو جس کی وجہ سے دل میں جلن محسوس ہوتی ہے( Heart Burn) کیا اس صورتحال میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۴) جسم کے اندرونی حصہ میں السر (ulser)ہے، جس کی وجہ سے(Black Motion)ہوتی ہے ، کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۵) جو ماں بچے کو دودھپلاتی ہو روزوں کے متعلق ان کو شریعت کیا حکم اور کیا گنجائش دیتی ہے؟ (۶) کیا ہم روزوں کے درمیان اندام نہانی میں وہ دوائی رکھ سکتے ہیں جس کا مقصد لیکویریا کا علاج ہوسکتا۔ (۷) استھما کی بیماری میں Inhaler کا استعمال کرنے سے روزہ متاثر ہوتا ہے؟ (۸) کیا روزوں میں دریا میں تیرنے کی اجازت ہے؟ (۹) حاملہ عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ (۱۰) تمباکو نوشی ختم کرنے کے لئے رمضان

رمضان ایثار و قربانی کا مہینہ

رمضان کریم کا بابرکت مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے،نیکیوں کا موسم بہارہے۔ اس مہینے میں جہاں ایک طرف بدنی عبادات کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے تو وہیںدوسری طرف مالی عبادات کا ثواب بھی دوہرا کر دیا جاتا ہے، کم عمل زیادہ فائدہ۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں اجر و ثواب کی نیت سے جذبہ ایثار و قربانی کے ساتھ مالی عبادات پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور دوہرے اجر کے مستحق بنیں۔  اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک آدمی کسی چیز کا خود ضرورت مند ہو لیکن جب کوئی دوسرا حاجت مند اس کے پاس آجائے تو وہ اپنی ضرورت کی پرواہ کئے بغیر اس شخص کو اپنی چیزیں دیدے اورخود مشکلیں اور پریشانیاں برداشت کرتا رہے، یہ جذبہ ایثار و قربانی کہلاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا تعلق دل اور نیت سے ہے اور اخلاقیات میں اس کا مقام بلند و بالا ہے کیونکہ جب کوئی اپنی ضرورت کوپس پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو پورا ک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

ایام تعزیت میں روزہ نہ رکھنا…… شریعت میں رخصت کی گنجائش نہیں سوال: رمضان شریف کے حوالے سے تین سوالات کا جواب عنایت فرمائیں۔ ۱۔ کشمیر میں بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس گھر میں کسی کی موت ہوگئی ہو ان کو تعزیت کے تین دن تک روزہ نہیں رکھنا ہے۔ پچھلے جمعہ کو سمبل سونا واری کے ایک مضافاتی گاوں میں ایک تعزیتی تقریب باقاعدہ جمعہ کے وقت کھلم کھلا دسترخوان بچھا کر کھانا کھلایا گیا اور بہانہ یہی تھا کہ تعزیت میں روزہ نہیں۔ ۲۔ افطار کے وقت لوگ جلدی سے جلدی مغرب کی نماز کھڑی کرتے ہیں کیا چند منٹ وقفہ کر سکتے ہیں تاکہ اطمینان سے افطار ہو سکے۔ ۳۔ کیا تراویح کی نماز گھر میں ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد میں کووڈ کی وجہ سے اگر جانا مشکل ہو تو گھروں میں تراویح پڑھنے کی گنجائش ہے۔فقط  خورشید احمد سونا واری جواب: روزہ فرض ہے اور صرف بیماری کے واقعی عذر یا سفر کی مشقت

مروجہ تصورِ دین اور قرآنی تصورِ دین میں فرق

جب جب قرآن سمجھ کر پڑھتا ہوں عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے، سوچتا ہوں کہ کیا یہ اْسی دین کی کتاب ہے جس دین کے سے ہم آئے روز متعارف کرائے جاتے ہیں؟ جس اسلام سے ہم واقف ہیں؟ حالانکہ وہ اسلام جس کی تصویر قرآن پاک کھینچتا ہے دونوں کے درمیان مشرق و مغرب کا بْعد محسوس ہوتا ہے۔ قرآن کے تصور دین کی ترجیحات یکسر مختلف ہیں، مروجہ تصورِ دین سے۔ ہم نے جن امورات کو دین کے 'اہم مسائل' کا درجہ دیا ہوا ہے، قرآن میں ان کا اول تو ذکر ہی نہیں یا اگر ذکر ہے بھی تو ضمناً۔ قرآن کریم کے نزدیک جو چیز اہم ہے ہمارے تصور دین میں غیر اہم، قرآن کا جب مطالعہ کرتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ ہم آج کس دین کی تبلیغ کررہے ہیں۔ اصل دین تو کچھ اور ہی ہے۔  نزولِ قرآن کی ابتدا 'اقرا' سے ہوئی۔ پہلی آیت پر غور کیا تو معلوم ہوا اللہ نے پڑھنے کا حکم دیا۔ کیا پڑھنا ہے اس کی کوئی تحدید نہیں۔ قرآن کے ع

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

روزے کے اہم مسائل  س: -روزے کے متعلق جوعمومی مسائل کثیر الوقوع ہیں ، براہ کرم اپنے مفیدکالم میں خود ہی انتخاب کرکے ضرور شائع کریں ۔ اعجاز احمد خان ج: -روزہ ہرمسلمان مرد عورت پر فرض ہے، بشرطیکہ وہ بالغ ہو ۔ روزہ کو فرض تسلیم کرنااور اس کو خدا کا، اس کے نبی کا لازم کردہ حکم اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے جو شخص رمضان کی یا روزہے کی توہین کرے ، تو وہ شخص ایمان سے محروم ہوسکتاہے ۔مثلاً کوئی یہ کہے ،ہم کو بھوکا پیاسا رکھنے سے اللہ کو کیا ملے گا ، یا روزہ اس وقت فرض تھا جب لوگوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ تھا،اس طرح کے جملے بول دینے سے مسلمان کا ایمان ختم ہوجاتاہے۔روزہ کے فرض ہونے کا عقیدہ رکھنا اور پھر اس کو ادا کرنا دونوں لازم ہیں۔یعنی عقیدہ اور عمل دو الگ الگ امور ہیں اور دونوں ضروری ہیں صرف ایک خاص صورت میں روزہ رکھنا منع ہے ۔ اور یہ کہ جب کوئی خاتون حیض یا نفاس کی حالت

روزہ اور حصولِ تقویٰ ۔۔۔ چند احکام و مسائل

پیغمبر ِ اسلام حضرت محمدﷺ کی ایک مشہور حدیث ہے ’’بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلیٰ خمسٍ‘‘یعنی دینِ اسلام کی بنیاد پانچ چیزو ں پر قائم ہے۔ان میں سے ایک رمضان کا روزہ (صوم رمضان)بھی ہے۔گویا کہ ایک مسلمان کا دین تکمیل کو پہنچ ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ روزہ کی فرضیت کا قائل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا اہتمام بھی نہ کرتاہو۔’’الصّوم‘‘کے لغوی معنی ہے کام سے رکنا۔لیکن شریعت کی اصطلاح میں اس لفظ کا اطلاق طلوعِ فجرسے لے کر غروبِ آفتاب تک دن بھر کھانے پینے سے رکنا اور فحش گوئی ‘جھوٹ ‘مباشرت وغیرہ سے دور رہنے پر ہوتا ہے۔شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے حجۃ اللّٰہ البالغہ میں بہت ہی عمدہ بات کہی ہے کہ انسان کی طبیعت باغی ہوتی ہے اور انسان کو بغاوت پر اکساتی ہے ‘اس باغی طبیعت پر لگام کسنے کے لئے روزہ ایک بہترین بلکہ کارآمد ہتھیار ہے۱؎ ۔چنانچہ رسول ال

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اسلام میں بنائو سنگھار اور زیب و زینت کی اجازت مگر اعتدال لازمی بالوں کی ٹرانسپلانٹیشن، رنگ چڑھانے اور آرائش کا جدید رجحان۔ مسائل اور ان کی توضیح سوال: شریعت اسلامی کا امتیاز احکام میں اعتدال کا ہے۔ وہ فطرت کی پوری رعایت بھی کرتا ہے اور ایک حد تک انسان کو اپنے طبعی جذبات کو پوری کرنے کی اجازت دیتا ہے، مگر وہ ایسے غلو اور افراط کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اخلاقی حدیں پامال ہو جائیں یعنی انسان اسراف میں مبتلا ہو جائے اور جو چیزیں انسانی زندگی کے لئے ضروری نہیں ہیں، ان کو ضرورت کا درجہ دینے لگے، یہی راہ اعتدال جو انسان کو افراط و تفریط سے بچائے رکھے، شریعت اسلامی کا اصل مزاج ہے اور تزئین و آرائش کے باب میں بھی اس نے اسی راہ پر چلنے کی تلقین کی ہے۔ آج کل ایک طرف گنجے پن کا مرض بہت پیدا ہو رہا ہے ا ور اسی کے ساتھ لوگوں میں فیشن اور زینت کا شوق بھی بہت زیادہ بڑھ رہا ہے اس لئے موج

فکری اختلاف…متوازن رویہ

 ۳۔  جاویداحمدغامدی  : پاکستان کی سرزمین علمی وفکری شخصیات فراہم کرنے کے اعتبارسے کبھی بنجرنہیںرہی۔ان نابغہ روزگارشخصیات میںایک جاویداحمدغامدی صاحب بھی ہیں۔غامدی صاحب کی شخصیت کی نرمی،سادگی،علمیت،منطقیت پُرکشش ہے۔قاری ہویاسامعی غامدی صاحب ’کششِ ثقل‘کی طرح اُن کواپنی طرف کھینچ ہی لیتے ہیں۔لیکن فی الوقت وہ ایک ایسے ’شجرِممنوعہ‘تصورکئے جاتے ہیںجن کی صحبت،گفتگو،تحریرات سے کچھ لوگوںکو’فتنہ‘کاپھل ہی ملنے کاگمان ہوتاہے۔علم وفکر کی راہ میںیہ کوئی نئی بات نہیںہے۔ہماری تاریخ کے کئی ’اوراق‘ایسے اہلِ علموںسے بھرے پڑے ہیںجن کی مخالفت یاتنقیدشدّت سے کی گئی۔ دورِ حاضرمیں غامدی صاحب بھی ان میںسے ایک ہیں۔خطاونسیان ،تنقیدواختلاف سے غیرِنبی کومفرنہیں۔تنقیدذہنی اُفق کووسیع کرتی ہے۔یہ ایک علمی تحفہ ہے۔تنقیداوراختلاف سے انسان خودکودریافت کرس

ۥ فکری اختلاف .........متوازن رویّہ

غلبہ دین کی جدوجہد میں’ تدریج کی حکمت عملی ‘کی اہمیت اور اس کے بنیادی اصولوں کو واضح کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں: ’’اسلامی نظام زندگی جن لوگوں کو قائم کرنا اور چلانا ہو، انھیں آنکھیں بند کر کے حالات کا لحاظ کیے بغیر پورا کا پورا نسخہ اسلام یک بارگی استعمال نہ کر ڈالنا چاہیے بلکہ عقل اور بینائی سے کام لے کر زمان ومکان کے حالات کو ایک مومن کی فراست اور فقیہ کی بصیرت وتدبر کے ساتھ ٹھیک ٹھیک جانچنا چاہیے۔ جن احکام اور اصولوں کے نفاذ کے لیے حالات سازگار ہوں، انھیں نافذ کرنا چاہیے اور جن کے لیے حالات سازگار نہ ہوں، ان کو موخر رکھ کر پہلے وہ تدابیر اختیار کرنی چاہییں جن سے ان کے نفاذ کے لیے فضا موافق ہو سکے۔ اسی چیز کا نام حکمت یا حکمت عملی ہے جس کی ایک نہیں، بیسیوں مثالیں شارع کے اقوال اور طرز عمل میں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت دین بدھووں کے کرنے کا کام

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:- بعض لوگ کہتے ہیں کہ آج کل قرآن کریم جو حفظ کیا جارہاہے اور بلاترجمہ پڑھا جارہاہے اور بلا سمجھے اس کو رٹتے ہیں ۔ یہ سب منتر کے برابر ہے کیونکہ قرآن کا سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا قرآن بلا سمجھے پڑھنا اور حفظ کرنابیکارہے ؟ جاوید احمد بٹ  تلاوت یا حفظ قرآن کا منکر  قرآن کی حقیقت سے ناواقف جواب :-قرآن کریم اللہ کی نازل کردہ وہ واحد کتاب ہے جو اپنے الفاظ وکلمات کے ساتھ محفوظ ہے۔اس کے الفاظ وکلمات کو بغیر سمجھے بھی اگرتلاوت کیا جائے تو اس پر عظیم اجربھی ملتا ہے اور صرف پابندی سے یہ تلاوت بھی انسان کی ہدایت کا سبب ہوتی ہے۔ خود قرآن کریم میں بھی تلاوت کرنے کا حکم ہے ۔قرآن حفظ کرنا قرآن کا امتیاز ہے۔ اس کا پہلا حافظ  خود اللہ کی ذات اقدس پھر حضرت حضرت نبی کریم علیہ السلام ۔اُس کے بعد ہزاروں صحابہ ولاکھوں تابعین اور پھر یہ تعداد کر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

شب برات۔ دُعائیں قبول ہونے کی رات گُناہوں سے توبہ کر کے مغفرت، رحمتوں اور نعمتوں کا مستحق بننے کا وقت سوال : پندرہویں شعبان کی رات جس کو شب برات کہا جاتا ہے، کے متعلق ہمارے معاشرے میں مختلف نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں اور طرز عمل بھی مختلف رہتا ہے۔ براہ کرم اس سلسلے میں احادیث کی روشنی میں صحیح اور مدلل نقطۂ نظر واضح فرمائیں۔ مدثر احمد آخون، رفیع آباد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب: شب برات کے متعلق فضیلت کی چند احادیث یہ ہیں: ۱۔ حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں تاریخ کی رات کو مخلوقات کی طرف توجہ فرماتے ہیں، مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ تمام مخلوقات کو معاف فرما دیتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح ابن حبان، بیہقی، طبرانی اور الترغیب میں ہے ۔ اس حدیث کے متعلق علوم حدیث کے مشہ

قرآن کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

 کلام ِ الٰہی ، قرآن مجید کا نزول تاریخ انسانی کے لئے ایک عظیم انقلاب ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہماری بلکہ سارے انسانوں کی رہنمائی کرنے والا قرآن عظیم ہمارے درمیان موجود ہے۔ قرآن مجید رمضان المبارک میں لوحِ محفوظ سے منتقل ہوکر آسمان اول پر لایا گیا،جہاںسے آہستہ آہستہ23؍سال میں محمد الرسول اللہؐر نازل ہوا ۔ انسانوں کی ہدایت کے لئے اس میں صاف صاف بیانات و احکامات ہیں۔ قرآن کریم کے23نام ہیں جن میں ایک نام فرقان ہے۔ یعنی کافروں ومومن، حلال وحرام میں فرق کرنے والی کتاب۔ ترجمہ:رمضان کامہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کی ہدایت کے لئے اور رہنمائی کے لئے اور فیصلہ کی روشن باتیں ہیں اس میں۔(سورۃ البقرہ، آیت184)  قرآن کریم کسی خاص قوم یا ملک کے لئے نہیں نازل ہوا بلکہ ھدی اللناس تمام اولادِ آدم کے لئے ہادی و مرشد ہے اور اس کی ہدایت کی روشنی اتنی کھلی ہے کہ حق او رباطل بالکل ممتاز

اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا

عام طور پر جب جبر و ظلم بڑھ جاتا ہے اور ظالم کی عمر لمبی ہوجاتی ہے تو دنیا پریشان ہوجاتی ہے۔ مظلوم کے اندر مایوسی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تسلی دیتا ہے کہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ ظالموں کو ڈھیل دینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ ان پر عذاب شدید نہیں آئے گا۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ ظالم قوموں پر سخت ترین عذاب آیا ہے اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے۔ ہر ظالم کے ساتھ اللہ کا عتاب و عذاب یکساں ہوتا ہے۔ قرآن عظیم میں اللہ کا فرمان ہے :  ’’اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو د

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اسلامی لباس کے اصول وشرائط اسلام نے کوئی مخصوص وضع اور ہیئت کا لباس یقیناََ مقرر نہیں کیا  اگر لباس کی کسی خاص وضع یا ہیئت کا تعین کردیا جاتا تو ہر جگہ کے مسلمانوں کیلئے اس امر کی پابندی مشکل ہوتی سوال : - اسلامی لباس کس لباس کو کہتے ہیں ؟ کیا کُرتا پاجامہ یا قمیص شلوار کواسلامی لباس کہا جائے گا اور کیا ٹوپی بھی اسلامی لباس میں داخل ہے۔ مو جودہ زمانہ میں عام رائج لباس پتلون ،شرٹ وغیرہ کے بارے میںکیا حکم ہے۔مہربانی کرکے مفصل جواب دیں۔ محمد مقبول بٹ…بارہمولہ   جواب :-لباس انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ انسانی تاریخ کے کسی بھی متمدن دور میں انسان نے بغیر لباس کے زندگی گزاری ہو ، عمومی طور پر تاریخ میں ایسا کہیں نہیں پایا گیا ۔ لباس انسان کی جسمانی ضرورت بھی ہے موسمی ضرورت بھی ، سماجی ضرورت بھی اور معاشرتی ضرورت کے ساتھ ساتھ م

دعوتِ الی اِللہ

سورہ فصلّت جو ’’سورہ حم سجدہ ‘‘کے نام سے بھی مشہور ہے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے{وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا الی اللّٰہِ وَعَمَلَ صَالِحًا وَقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ}یعنی اور اُ س شخص سے بات کا اچھا کون ہوگا جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔اس آیت میں دعوتِ الی اللہ کو ایک احسن عمل بتایا گیا ہے اور فی الحقیقت اس سے بہتر عمل ہی کوئی نہیں ۔رسول اللہ ؐ نے ایک دفعہ حضرت علی ؓ سے فرمایا تھا کہ اے علی ؓ اللہ کی قسم اگر تمہاری وجہ سے اللہ کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے(البخاری/ 4210)۔ دعوتِ الی اللہ کی فضیلت اور افادیت کے ساتھ ساتھ اس آیت میں اُن لوگوں کا رد بھی ملتا ہے جو کسی مسلک یا کسی مخصوص جماعت اور فرقے کی طرف بلاتے ہیں۔کیوں کہ دعوتِ الی اللہ سے مراد قرآ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : ہمارے بہت سارے اصاغر علماء اپنے آج کے اکابر علماء کے متعلق بہت اونچے درجے کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔اُن الفاظ کو پڑھ کر بہت سارے اپنے بھی اس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کیا واقعتاً آج کی یہ شخصیات اپنے بڑے پن کے باوجود ان صفات کی حامل ہوسکتی ہیں؟ مثلاً ’’علامہ،محقق العصر،عارف باللہ،علامہ الدھر،عارف کامل ،روشن ضمیر ‘‘جیسے کلمات آج کی کسی شخصیت کے متعلق لکھنے اور استعمال کرنے کا رواج چل پڑا ہے اور جلسوں کے اشتہارات میں تو مبالغہ آرائی زیادہ ہی ہوتی ہے۔اسی طرح بہت سارے اپنے امام کو ’مولوی صاحب‘ کہہ دیتے ہیں ۔بہت سارے لوگ باقاعدہ علوم ِ دینیہ پڑھے ہوئے نہیں ،پھر بھی لوگ اُنہیں ’مولانا صاحب‘ لکھتے ہیں ۔کچھ علاقوں میں ایسے افراد جو ڈاکٹر نہیں مگر اُن کو ’ڈاکٹر صاحب‘ کہتے ہیں۔بعض جگہ لوگ آج کی شخصیات کے ناموں کے ساتھ ’&r

معراج…سعادتوں کا سفر

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے انتہا معجزات و کمالات عنایت فرمائے اور انہیں قربت کی ان منازل پر فائز فرمایا جن پر متمکن ہونا باعث افتخار بھی ہے اور باعث برکت بھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید قرار پایا جس کے اعجاز کے سامنے دنیا کے تمام علماء ، حکماء ، دانشور اور فلسفی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک علم و تحقیق کا معجزہ بصورت قرآن عطا کیا گیا۔ قیامت تک انسان جس چیز کو بھی اپنے علم و فن اور اپنی تخلیق و تحقیق کے ذریعے ایجاد کرے گا۔ اس کی اصل کا ذکر کسی نہ کسی طرح قرآن میں ضرور ہوگا۔ان بے شمار معجزات میں ایک اہم اور نمایاں معجزہ معراج ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پہلے مسجد اقصیٰ اور اس کے بعد آسمانوں کی سیر کرائی اور بالآخر اپنے دیدار سے مشرف فرما

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : آج کل بھیڑ کے گوشت کی قلعت ہے ۔کئی علاقوں میں دیگر ہلال جانوروں کا گوشت فروخت کیا جارہا ہے ۔ چند روز قبل ایک علاقہ میں اونٹ کا گوشت دستیاب تھا ،چنانچہ یہ گوشت لایا گیا اور پکاکر کھایا بھی گیا ،پھر اس بارے میں پتہ چلا کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور یہ بھی سُنا کہ یہ حدیث میں بھی ہے۔عرض ہے کہ کیا واقعتاً اس بارے میں کوئی حدیث ہے،اگر ہے تو وہ کیا ہے اور کہاں کس کتاب میں ہے؟ نیز اب اسکے بارے میں حکمِ شرعی کیا ہوسکتا ہے ۔اگر کسی باوضو نے اونٹ کا گوشت کھایا ہو تو کیا اس شخص کا وضو باقی ہے یا نیا وضو کرنا لازم ہے؟ لطیف احمد گوجر۔نروال جموں   اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنا۔۔۔ معاملے کی توضیح جواب :اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کے متعلق حدیث مسلم،ترمذی ،مسند احمد اورطبرانی میں ہے۔حدیث یہ ہے: حضرت براء ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ