کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

عُشر کی رقوم کا صرفہ۔۔۔ شرعی احکامات پر نظر رکھنے کی ضرورت سوال :آج پورے کشمیر میں فصل اور پھل کا عُشر ادا کیا جارہا ہے ۔عُشر وصول کرنے والے بھی مختلف نوع کی ضروریات کے پیش نظر وصول کرتے ہیں ۔کچھ علاقوں میں عُشر وصول کرنے والے عُشر کی رقوم اپنے اداروں کی تعمیر اور کچھ اپنے اداروں کے سٹاف کی تنخوا ہوں میں دیتے ہیں،یہ ادارے یتیم خانے ،بیت المال ،صبح و شام کے دینی مکتب اور کچھ چھوٹے موٹے مدرسہ والے بھی ہیں ۔ہمارے علاقے میںایک ادارہ تعمیر ہورہا ہے۔ ابھی نہ بچے ہیں نہ تعلیم ہے۔مگر عُشر لے کر رقم کمروں کی تعمیر میں خرچ ہورہی ہے ۔کیا ایسا کرنا درست ہے؟ محمد فاروق ۔شوپیان جواب :عُشر کا حکم وہی ہے جو زکواۃ کا حکم ہے ۔اس لئے جیسے زکواۃ کی رقم نہ تو تعمیر میں خرچ ہوسکتی ہے نہ کسی کی تنخواہ میں۔ اسی طرح عُشر لے کر اُس کو فروخت کرکے اُس کی رقم تعمیر ،تنخواہ اور ادارے کی ضروریات مثلاً ف

سرور کونین ؐ کی بعثت کے مقاصد

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا موضوع بیکراں ہے،کہ صاحب کشور ونشاط، جامع کمالات پیکر رحم و کرم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر سے قلب وجگر کو سکوں،آنکھوں کو ٹھنڈک، خیالات کو بانکپن، زبان کو حلاوت، فکر ونظر کو جلا ،نگاہوں کو حیا اور روح کو شفا ملتی ہے۔مختصر یہ کہ ایک گناہ گار انسان کو اپنے سیاہ اعمال نامہ کو دھونے کیلئے ابر رحمت کے چند قطرے میسر آنے کا زریں موقع نصیب ہوتا ہے کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ایک مسلمان کے لئے سرمایہ افتخار ہے اور سرمایہ حیات بھی ہے۔ رحمۃ للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس عالمِ رنگ و بو میں سراپا رحمت بن کر تشریف لائے، جن کے جود و کرم کی ضیاپاشیاں ہر طرف عام ہیں۔آپ نے جہنم کی طرف جاتی انسانیت کو کمر پکڑ پکڑ کر بچایا۔۔آئیے آج مختصراً اس بات کا ذکر کریں کہ آخر خلاصۂ کائنات، فخرِموجودات، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسل

تازہ ترین