تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

بار بار گیس وپیشاب کے قطرات کا اخراج اور وضوکا مسئلہ  سوال :میرا وضو نہیںٹھہرتا ہے۔ کبھی کبھی ایک کے لیے مجھے، 3، 4، 5 بار بھی وضو بنانا پڑتا ہے اور پھر بھی وضو نہیں ٹھہرتا ہے۔ پھر میں ہوا کو خارج ہونے سے روکتا ہوں اور نماز ادا کرتا ہوں۔ ہوا  خارج ہونے سےروکنے پر کافی تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے۔ پتہ نہیں ایسا کرنے سے میری نماز ادا ہوتی ہے کہ نہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرپاتا۔ کبھی کبھاروضو اگرٹھہرےتو اُس وقت نماز سکون سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کافی علاج کیا ،کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اس لئے برائے کرم میری مدلل رہنمائی فرمائیں۔ آپکا مشکور رہونگا۔     عبدالحمید، بمنہ سرینگر جواب :   وہ شخص جس کو اتنی دیر وضو نہ ٹھہرتا ہو کہ وہ وضو کرنے سے لے کر نماز ختم ہونے تک اپنا وضو برقرار رکھ سکے ،وہ شخص شریعت کی نظر میں معذور کہلاتا ہے۔مثلاًکسی شخص کو

ایمان اور نیک اعمال

ارشادِ ربانی ہے :آ پ ان لوگوں کو خوش خبری سنا دیجئے جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے کہ یقیناً ان کے لئے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔(سورۃ البقرہ ۲۵ ) انسان کی فلاح و کامرانی دو چیزوں پر موقوف ہے (1) ایمان(2) اعمال صالحہ ۔ گویا اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی دنیاوی زندگی اور حیاتِ اخروی دونوں کامیاب ہوجائیں تو اس کے لئے لازم شرط ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے مالک و خالق پر بن دیکھے ایمان لائے اور دیگر تمام معبودان باطلہ سے دامن جھٹک کر خالص اللہ مالک الملک کی ذات و صفات کا اس کے تمام تر تقاضوں کے مطابق شعور و ادراک حاصل کرے ، جس کے اظہار اور معرفت کے لئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرامؑ دنیا میں تشریف لائے ‘ بالخصوص ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کائنات ہست و بود میں تشریف لا کر انسانیت کو ایمان کی حلاوت سے آشنا کیا اور بندوں کا اپنے

شُکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گااور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے ۔‘‘(سورۂ ابراہیم) علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ؒ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے ۔ شکر کی اصل یہ ہے کہ آدمی نعمت کا تصوّر اور اس کا اظہار کرے اور حقیقت شکر یہ ہے یعنی نعمت دینے والےکی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اِعتراف کرے اور نفس کو اس کا خُوگر بنائے ۔ یہاں ایک باریکی ہے ،وہ یہ کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم و اِحسان کامشاہدہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے، اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ مقام بہت برتر (اونچا)ہے اور اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:    ۱۔صدقہ وغیرہ کے جو مختلف مَد قرآن میں بیان ہیں ،اُن میں تعلیمی اداروں کا ذکر نہیں ہے۔کیا عُشر زکواۃ و صدقات دینی اداروں، مدارس اور دارلعلوم کو دے سکتے ہیں؟ سوال :  ۲۔زکواۃ اورعُشر وغیرہ کا جمع شدہ مال کہاں خرچ کرسکتے ہیں،کیا دینی اداروں اور مدارس کے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہ اِس میں سے دے سکتے ہیں؟ سوال:   ۳۔ کیا سبزیوں کی پیداوار پر عُشر دینا ضروری ہے؟ سوال:  ۴۔ اکثر جگہوں پر بیت المال قائم کئے گئے ہیں،بیت المال کی اصل کیا ہے اور کون لوگ ان کو چلانے کے اہل ہیں؟ محمد گلزار میر ۔ڈولی پورہ ،ہندوارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دینی تعلیمی اداروں کے لئے زکواۃ، صدقات وغیرہ کے مصارف کا استعمال جائز جوابات  :  ۱۔زکواۃ ،صدقات اور عُشر کا مصرف قرآن کریم نے مقرر فرمادیا ہے۔ اُس مصرف میں غریب ومسکین بھی شامل ہیں،بلکہ سب سے پ

اللہ کے نیک بندوں کی صحبت

انسان کی شخصیت، اس کے عادات واطواراور افعال اورکردارسے نمایاں ہوتی ہے۔انسان فطری طورپراپنا مصاحب اور دوست بھی انہی کو بناناپسند کرتاہے جو معاشرے میں اچھے ہوتے ہیں اوربرے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرتاہے۔ فارسی مثل مشہورہے’’صحبت طالع تراطالع کند‘‘، اور جاپانی مقولہ ہے’’جب کسی شخص کا کردارتم پرواضح نہ ہوتواس کے دوستوں کو دیکھو‘‘۔ اس سے اس کے معیارکا پتہ چلتا ہے، اس لئے معمولی سے معمولی عقل وشعور رکھنے والا انسان کبھی برے لوگوں کو ا پنا دوست بناناپسند نہیں کرتا ،بلکہ اس کی فحش باتوں اور برے کاموں سے بچنے کے لئے اس سے دوری اختیارکرنے میں اپنی بھلائی محسوس کرتاہے۔نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’مومن محبت اورالفت کاحامل ہوتاہے اوراُس شخص میں کوئی خوبی اور بھلائی نہیں جونہ خودمحبت کرے اورنہ لوگوں کواس سے الفت ہو۔‘‘(مسند احمد

نبی اکرم ؐ۔رحمتہ للعالمین

ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور نہیں بھیجا ہے ہم نے تم کو اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مگر رحمت بناکر جہاں والوں کے لیے‘‘۔(سورۃ الانبیاء)  آیت میں مذکور لفظ’’عالمین ‘‘ عالَم کی جمع ہے ،جس میں ساری مخلوقات بشمول انسان، فرشتے،جنات، حیوانات، نباتات، جمادات سب ہی داخل ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سب چیزوں کے لیے رحمت اس طور پر ہیں کہ دنیا میں قیامت تک اللہ تعالیٰ کا ذکر وتسبیح اور اس کی عبادت وبندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دم سے قائم اور آپ ؐ ؐکی تعلیمات کی برکت سے جاری و ساری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب زمین پر کوئی بھی اللہ اللہ کہنے والا نہیں رہے گا تو قیامت آجائے گی۔ تفسیر ابن کثیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے کہ’’میں اللہ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں‘‘۔ب

نمازِ جمعہ اور ہمارا طرزِ عمل

 مومن کی شان یہ ہے کہ اس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ نماز جمعہ کے لئے موذن کی پکار پر فوری توجہ دی جائے اور دنیوی تمام مصروفیات کو روک کر مسجد کی طرف چل پڑنا اہل ایمان کے لئے ضروری ہے۔ہمیں نماز جمعہ کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہےاور نماز جمعہ پر ہمیں اپنے طرز عمل پر بھی غوروفکر کرنا چاہئے۔ صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ وہ نماز کے معاملہ میں انتہائی چوکنا رہا کرتے تھے اور اس کا اہتمام ان کی زندگیوں میں نمایاں تھا، مگر افسوس اس بات پر کہ ہمارے معاشرے میں اور خاص طور پر ہمارانوجوان طبقہ عام نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ کے موقع پر سستی و کاہلی کا مظاہرہ کرتا ہے، یعنی اذان کے بعد مسجد میں تاخیر سے پہنچنا اور جلد سے جلد مسجد سے باہر نکل جانا وغیرہ ایسی باتیں ہیں، جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ جب جمعہ کے دن نم

دعا ہی سبیل ِ واحد

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیائے انسانیت کے آخری عالمی اور دائمی نبی ہیں۔آپ ؐکی مخاطب پوری دنیا اور تمام اہلِ مذاہب ہیں۔آپؐ کا پیغام آفاقی ہے ،جوپوری دنیا کو ایمان و اخلاق کی روشنی فراہم کر رہاہے۔اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اپنے پیارے کلام میں’’سراج منیرا‘‘ کے پُر کشش لقب سے نوازا ہے۔جس شخصیت کی تعريفيں خود اللہ رب العٰلمین کرے ،اُن کی زندگی کی تصويريں کھینچنے کی ضرورت ہی نہیں۔ایک شخصیت کی سب سے زیادہ پہچان اللہ رب العٰلمین ہی کو ہوتی ہے۔دنیا میں واحد ایک ذات ہے جو محمد عربیؐ کی شخصیت سے پوری طرح واقف ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ِپاک ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف اپنے کلامِ پاک میں کرایا ہے۔ دنیائے انسانیت میں جتنے بھی صالح افراد گزرے ہیں،ان میں ایسے بھی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے’’المصطفین،اخیار،الابرار‘&lsquo

رسول اللہؐ کی اطاعت و محبت

ارشادِ ربّانی ہے: ’’جن لوگوں نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی نبیوں کے ساتھ اور صدیقین کے ساتھ ،شہیدوں کے ساتھ اور نیک لوگوں کے ساتھ ہوں گے اوریہ بہترین ساتھی ہیں‘‘ (سورۃالنسا ء) اس آیتِ کریمہ کاشان نزول یہ ہے کہ ایک صحابیؓ سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسولؐ!میں آپ ؐ کو اپنی جان ومال اور اولاد سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں ،جب گھر میں اپنے بال بچوں کے ساتھ ہوتا ہوں اور آپ ؐ کو یاد کرتا ہوں تو جب تک آپ ؐ کا رخ انور نہیں دیکھ لیتا، تو مجھے قرارنہیں آتا، میں اپنے بال بچوں کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوڑاآتاہوں۔ آپ ؐکو دیکھ کر تسلی ہو تی ہے اور دل کو قرارآجاتاہے ،تب میں واپس جاتا ہوں، لیکن جب میں اپنی اورآپ صلی اللہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ اُن کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور وہ اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ ناممک

قائد انقلاب امام کائنات ؐکا ذکرِ جمیل

مکہ مکرمہ کے صحراؤں کی خاک سے اٹھی یہ تحریک یثرب کے ریگزاروں میں جا بسی اور الہٰی ہدایات کی روشنی میں قیل و قال سے ارباب جہاں کو کن فیکون کا تصور دیتی رہی۔  شب ِظلمت کی سیاہ کاریوں کے وہ دیو جو اپنی دنیائے سلطنت کے لئے اس تحریک کو سم قاتل سمجھتے تھے ،نے اب یثرب میں اسے پروان چڑھتے ہوئے اسے مٹانے کی سعی لاحاصل کرنے کے لئے محو سفر ہوگئے ۔ہم دیکھ سکیں تو دیکھ لیں کہ جو تحریک کے اولین نقوش ہیں، وہ انتہائی عظیم ہیں کہ انسانوں کو انسانی خداؤں کے نرغے سے نکالنے کے لئے محو جدوجہد ہیں، وہ اپنی سادگی اخلاقی قدروں کی بحالی معاشرے میں پیدا ہوئی نابرابری کی مخالفت میں کمر بستہ حیاء سوز حالات کے بدلاؤ ،بدی کی آماجگاہ بنی محافل کا طلسم توڑنے کے لئے پوری قوت سے مٹانے کی سعی کر رہی ہے اور قائد تحریک محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لا مثال کردار و گفتار کے ساتھ اس تحریک کو مسلسل مقبولیت کی معراج

غیبت۔ایک بدترین گناہ

ارشادِ ربّانی ہے: اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو، بےشک ،بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے عیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو اور (اِن تمام معاملات میں) اللہ سے ڈرو،بےشک اللہ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔(سورۃ الحجرات،۱۲) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جانتے ہو غیبت کیا ہے؟صحابہ کرامؓ نے عرض کیا، اللہ اوراس کے رسول ؐہی زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا:غیبت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرے ،جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ایک شخص نے عرض کیا کہ اگر میرے بھائی میں واقعی وہ برائی موجود ہو،تب بھی یہ غیبت ہے؟آپ ؐ نے فرمایا: اگر اس

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

حرام کمائی کی صورتیں …تجارت اور ملازمت میں ! سوال:- آج کل حرام کمائی اور خرام خوری کا دور دورہ ہے ۔ مزاج اتنا راسخ ہو گیا ہے کہ اب حرام کو اس طرح استعمال کیا جاتاہے جیسے کہ وہ حلال ہے ۔کوئی احساس بھی نہیں ہوتا۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ حرام کی وہ صورتیں جو بہت زیادہ پائی جاتی ہیں ، کیا ہیں؟تجارت ،ملازمت وغیرہ میں کیا کیا چیزیں حرام کمائی کے زمرے میں آتی ہیں ۔ شوکت احمد خان …   بمنہ ، سرینگر  جواب:-حرام کمائی کی یوں تو بے شمار صورتیں ہیں لیکن کچھ شکلیں بہت زیادہ رائج ہیں اور ہر شخص ان کو جانتاہے ، سمجھتاہے اور اس کے رائج ہونے سے واقف بھی ہے ۔ان ہی کثیر الوقوع چند شکلوں کو اختصار کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے : (۱لف)- جن چیزوں کی تجارت قرآن یا حدیث میں حرام قرار دی گئی ہے مثلاً شراب ،چرس ، بھنگ اور اس قبیل کی دوسری منشیات وغیرہ ، ان کا خریدنا ، بیچنا

قائد انقلاب امامِ کائنات ؐ کا ذکرِ جمیل

تحریک اسلامی کے بانی اول ،انقلاب جہاں کے فاتح اول، سعید اعظم در یتیم یکتائے زمانہ کی بارگاہ سے چند اسباق جو دلوں کو بدلنے کی قوت رکھتے ہیں ۔جزیرہ عرب دنیا کا ایک ایسا جزیرہ کہ جس کا نام لب پے آتے ہی عجب کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس نام سے اصحاب ایمان کی قلبی انسیت ہے۔ لوگ اس نام سے آج کی چکا چوند چمک کے سبب واقف نہیں بلکہ اس کا ایک خاص سبب ہے ،اور وہ سبب ہے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی، جن کی آمد اہلِ جہاں کے لئے باعث افتخار ہے کہ وہ آئے اور شب ظلمت کے اندھیرے ختم ہونے لگے اور صبحِ بہار کی آمد قلب و نظر کو تسکین بخشنے لگے ان کی نوید آمد سے ؎ آمنہ کے لال سے شمس وقمر شرما گئے روشنی پھیلی فضا جھومی محمد آگئے آج مدت ہوئی اس پاکیزہ و صالح گھڑی کو جب دنیا میں رحمت و شفقت کی آمد ہوئی، جب محبت ،اخوت، سادگی، شرافت، تہذیب و ثقافت ،ادب و شائستگی کی بہار آئی، جب پاک

حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کے اُمت پر حُقوق

سرورِ کونین، خاتم الانبیاء، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کےامت پراحسانات بے حد و بے شمار ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا علم، اس کی خوشنودی کے حصول اور ناراضی سے بچنے کے طریقوں کا علم ہمیں سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ؐکے واسطے سے ہی عطا ہوا ہے۔ اگر اس امت کو " بہترین امت " کہا گیا ہے تو یہ نبی کریم ؐ ہی کا فیضان و احسان ہے۔ جس طرح تمام مخلوقات میں سب سے افضل و اکمل نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ  ؐ ہیں، اسی طرح امت پر آپ ﷺ کے حقوق بھی سب سے بڑھ کر ہیں،ان میں سے چندیہ ہیں:1۔آپؐ کی اطاعت و اتباع کرنا۔2۔نبی کریم ؐ کی محبت کا دل میں ہونا۔ 3۔سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کی عظمت اور ادب و احترام بجالانا۔ 4۔آپ  ؐپر دروروسلام کے ھدایا بھیجتے رہنا۔ اطاعت و اتباع رسول ﷺ :۔اطاعت و اتباع کے معنیٰ ہیں "حکم ماننا اور پیروی کرنا"۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

راہِ عام پر قبضہ کرنا یا رُکاوٹیں ڈالنا شرعاً ممنوع سوال نمبر۱:)کئی مقامات پر لوگوں نے بڑے بڑے راستوں پر قبضہ جما کر راستہ ہڑپ کیا ہے جس سے عبور و مرور مشکل بن گیا ہے۔ شریعت میں اس کے لئے کیا احکامات ہیں اور وعید کیا ہیں؟ سوال نمبر ۲:)شریعت نے مالدار پر حج فرض عین قرار دیا ہے۔ جس شخص پر حج فرض ہوا اور وہ ادا نہ کرے تو اس صورت میں اس کے لئے کیا احکامات ہیں۔ کیا اس شخص کی وفات کے بعد اس کے وارثوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کا حج بدل کرائیں۔ اس کے علاوہ اگر کسی شخص کے پاس اچھی خاصی جائداد ہے اور حج اس پر فرض عائد ہوتا ہے۔ نقدی موجود نہ ہونیکی صورت میں کیا وہ اس زمین و جائداد میں سے تھوڑی سی فروخت کر کے حج ادا کر سکتا ہے۔ کیا اس کے لئے اجازت ہے۔ محمد یوسف لون رحمت آباد رفیع آباد کشمیر جواب نمبر:۱)راستوں کا مقصد عوام کے لئے گذر گاہ مہیا رکھنا ہے۔ جناب رسول اللہ صلی

سیرتِ رسولؐ اور عالم انسانیت

نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ِ مبارکہ عالم اسلام اور عالم انسانیت کے لئے ایک عظیم تحفہ ہے، انعام ہے اور اللہ کا احسان عظیم ہے۔ چنانچہ ماہ ربیع الاول پوری امت مسلمہ کے لئے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس مہینہ کو نبی آخر الزمان محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا شرف حاصل ہے اور آپ کی ولادت با سعادت نے دنیا کو مسخر کردیا۔جاہلیت کا خاتمہ ہوگیا ، انسان نے زندگی گزارنے کا سلیقہ پالیا،خواتین کو قدر و منزلت مل گئی ، قتل و غارت گری، بت شکنی نورِ توحید سے جگمگا اٹھی، بندوں کا رشتہ خالق سے جڑ گیا۔گویاآپؐ کی ولادت پوری انسانیت کے لئے ایسا ہمہ گیر اور انمول تحفہ تھا، جس نے نہ صرف صحرائے عرب بلکہ پورے عالم میں انقلاب برپا کیا۔اس لئے ہمیں آج پھر میلادالنبی ؐکے مقاصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے اوراس کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں ہر خاص و عام تک پہنچا نے کی ضرور

سیرت رسول ؐ کے چند پہلو

موجودہ امت سے قبل بہت سی قوموں پراللہ نے عمومی عذاب نازل کرکے انہیں تہس نہس کردیا،وجہ یہ تھی کہ وہ بھیانک جرائم میں ملوث تھے ،لیکن جن جن جرائم کی وجہ سے گذشتہ قومیں تباہ وبربادکی گئی،وہ تمام جرائم موجودہ امت کے کسی نہ کسی حلقہ میں موجودہیں اس کے باوجودبھی ان پرعمومی عذاب نہیں آرہا ہے ،کیونکہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کررکھی ہے :میں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ میری امت کو (عمومی غرق) سے ہلاک نہ کیا جائے تو رب نے مجھے یہ عطاکیانیزمیں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ میری امت کو(عمومی) قحط سے ہلاک نہ کرنا تواللہ نے مجھے یہ عطاء کردیا(یعنی اس امت کوکسی بھی عمومی عذاب سے ہلاک نہیں کیاجائے گا ) ۔یقینا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعاء موجودہ امت پراحسان عظیم ہے۔ اخلاق و کردار:دنیاوالے کسی سے محبت کرتے ہیں تو وہ کرداراورخوبیوں کی عظمت بنا پہ کرتے ہیں،مثلاکوئی کسی فن میں

سیرت رسول ؐ کے چند پہلو

موجودہ امت سے قبل بہت سی قوموں پراللہ نے عمومی عذاب نازل کرکے انہیں تہس نہس کردیا،وجہ یہ تھی کہ وہ بھیانک جرائم میں ملوث تھے ،لیکن جن جن جرائم کی وجہ سے گذشتہ قومیں تباہ وبربادکی گئی،وہ تمام جرائم موجودہ امت کے کسی نہ کسی حلقہ میں موجودہیں اس کے باوجودبھی ان پرعمومی عذاب نہیں آرہا ہے ،کیونکہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کررکھی ہے :میں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ میری امت کو (عمومی غرق) سے ہلاک نہ کیا جائے تو رب نے مجھے یہ عطاکیانیزمیں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ میری امت کو(عمومی) قحط سے ہلاک نہ کرنا تواللہ نے مجھے یہ عطاء کردیا(یعنی اس امت کوکسی بھی عمومی عذاب سے ہلاک نہیں کیاجائے گا ) ۔یقینا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعاء موجودہ امت پراحسان عظیم ہے۔ اخلاق و کردار:دنیاوالے کسی سے محبت کرتے ہیں تو وہ کرداراورخوبیوں کی عظمت بنا پہ کرتے ہیں،مثلاکوئی کسی فن میں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

قضائے عمری ، جواز وطریقہ  سوال:-میں 20سالہ نوجوان ہوں ۔ میں انجینئرنگ کالج میں طالب علم ہوں ۔ میں نے 19سال کی عمر میں نمازیں پابندی سے ادا کرنی شروع کی۔میں اس سے پہلے بھی پڑھا کرتا تھا لیکن پابندی سے نہیں ۔اب الحمد للہ نمازوں کو میں پابندی سے اداکرتاہوں ۔ مسلمان پر شرعی حکم کے تحت نماز زندگی کے کس مرحلے میں فرض ہوجاتی ہے ۔بعض علماء کہتے ہیںکہ7سال اور بعض کہتے ہیں 10اور کئی 18سال فے فرض قراردیتے ہیں ۔ اگر نمازیں اس عمر میں چھوٹی ہوئیں ہوں تو کیا وہ ادا کرنا لازمی ہے اور اگر یہ نمازیں ادا کرنا لازمی ہے تو ان نمازوں کے ادا کرنے کا طریقہ بتائیے۔ ہر نماز کایعنی فجر سے لے کر عشاء تک بیان کیجئے کہ کس وقت میں نماز قضائے عمر پڑھی جائے ۔ اس کا مسنون طریقہ بیان کیجئے ۔ محمد اقبال شاہ ،بڈگام جواب:-نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام ایمان کی علامت اور قضاء شدہ نمازوں کو ادا کرنے کی فکر مو

تازہ ترین