تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :(۱)  عُشرکے ضروری مسائل کیا ہیں؟(۲) باغ فروخت ہوا ،اب عُشر فروخت کرنے والے کے ذمہ ہے یا خریدار کے ذمہ؟ (۳) باغ پر دوا پاشی وغیرہ پر جو خرچہ آتا ہے وہ منہا کیا جائے یا نہیں؟ (۴) کوئی عُشر کا مستحق نہ ہو تو وہ عُشر لے سکتا ہے یا نہیں؟(۵) کیا عُشر مسجد میں ،مدرسہ کی کسی تعمیر میں، مکتب میں خرچ کرسکتے ہیں؟ نذیر احمد لون ۔رفیع آباد عُشر کی حقیقت اور اس کے مسائل جواب :اسلام نے جیسے اہل ایمان مالداروں پر زکواۃ لازم کی ہے اسی طرح زمین اور باغوں کی پیداوار پر عُشر بھی لازم کیا ہے ۔عُشر کی ادائیگی کا حکم قرآن پاک میں بھی ہے اور احادیث میں بھی۔عُشر کی ادائیگی اُسی طرح فرض ہے جیسے زکواۃ فرض ہے البتہ عُشر چونکہ زمین کی پیداوار اناج ،سبزیاں وغیرہ اور باغوں کی پیداوار پھلوں پر لازم ہوتا ہے ،اس لئے اس کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ زمین عُشری ہونی چاہئے۔ زمینوں میںعُشری زمین

تربیتِ اولاد سے غافل نہ رہیں

ہمیں اپنی اولاد سے محبت ہے، محبت ہونی ہی چاہیے۔ہمیں اپنی اولاد کی چاہت ہے ،ہونی ہی چاہیے۔ہماری آنکھ کا نور دل کا سرور ہے، یقینا ایسا ہی ہونا چاہئے۔ہماری اولاد ہمارا چین، ہمارا صبر و قرار ہے ،گھر کی بہار ہے ،رونقِ ہستی ہے ،دم زندگی ہے ،جان محفل ہے۔ اولاد کے بغیر زندگی ایک اجڑا ہوا گلستاں ہے جس میں دلکشی ہے نہ خوبصورتی، دل آویزی ہے نہ دل بستگی، زندگی کی بے کراں تنہائیوں اور حیات  مستعار کے وسیع وعریض صحراء میں ساری بہار ساری دلکشی بچوں کے دم سے ہے۔ انہی سے ویرانوں میں بہار آجاتی ہے،مردہ کلیاں کھل اٹھتی ہیں، زندگی کے سونے سونے دن ،سونی سونی راتیں یکایک آباد ہوجاتی ہیں، جگمگا اٹھتی ہیں، پھول مسکراتے ہیں، فضا خوشبوؤں سے معطر ہوجاتی ہے ،ہر طرف زندگی ہی زندگی دکھائی دیتی ہے۔ بچے نہ ہو تو زندگی بے کیف، بے سود نظر آتی ہے، کمانا بے فائدہ دکھائی دیتا ہے ،انسان اپنی زندگی میں ادھورا

تازہ ترین