تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ ٹوٹنے پرتحائف کی واپسی کا مسئلہ  سوال:- کبھی اختلاف کی وجہ سے نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ پہلے ہی مرحلے پر ٹوٹ جاتاہے اس کے بعد اختلاف اس پر ہوتے ہیں کہ جو تحفے تحائف لئے دیئے ہوئے ہیں اُن کا حکم کیا ہے ۔بعض دفعہ ایک فریق دوسرے سے جرمانے کا مطالبہ کرتاہے اور جو تحفے زیورات وغیرہ ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی شدید نزاعات ہوتے ہیں ۔اسی طرح کھلانے پلانے کا جو خرچہ ہوا ہوتاہے اس کے لئے بھی مطالبہ ہوتاہے کہ اس کی رقم بصورت معاوضہ ادا کیا جائے ۔ اس بارے میں شرعی اصول کیا ہے؟ محمد یونس خان جواب :-نکاح سے پہلے جو تحائف دئے جاتے ہیں۔ اُن کی حیثیت شریعت میں ہبہ باشرط یا ہبہ بالعوض کی ہے ۔ یعنی یہ تحائف اس شرط کی بناء پر دئے جاتے ہیں کہ آئندہ رشتہ ہوگا ۔ اب اگر آگے نکاح ہونے سے پہلے ہی رشتہ کا انکار ہوگیا تو جس غرض کی بناء پر تحفے دیئے گئے تھے وہ چونکہ

’ مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت‘

’مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت‘پروفیسر سعود عالم قاسمی کی ۲۹۹صفحات پر مشتمل کتاب ہے۔موصوف سابق ڈین فیکلٹی آف دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ اور درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی دیگر تصانیف کی طرح زیرِتبصرہ کتاب بھی منفرد علمی کاوش ہے۔ کتاب پڑھ کر ہی محسوس ہوتا ہے کہ بڑی محنت سے کتاب کے لئے مواد جمع کیا گیا ہے۔   دور نبوت ﷺہی سے مسلمانوں کا دوسرے حاملین مذاہب سے مکالمہ ثابت ہے۔ دین کے پیروکاروں نے ہمیشہ سے ہی نہ صرف دیگر مذاہب کی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے بلکہ دوسرے  مذاہب سے وابستہ اشخاص سے مذہبی مکالمہ بھی جاری رکھا، امت مسلمہ کا یہ ایک درخشاں پہلو ہے۔دور نبوت میں ہم پاتے ہیں کہ کس طرح حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ یہودیوں کی عبرانی زبان سیکھیں، اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسا کیا۔دور خلفائے راشدین میں مسلمانوں نے دیگر

تازہ ترین