تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

وحی،الہام اور کشف کی تصریح۔قرآن و حدیث کی روشنی میں  سوال  :وحی کیا ہوتی ہے؟ اس کے کیا طریقے تھے؟ الہام کیا ہوتا ہے، کس کو ہوتا ہے؟ اور کشف کسے کہتے ہیں؟ یہ اگرچہ علمی سوالات ہیں مگر بہرحال دین کا حصہ ہیں کہ جن کا تعلق عوام اور خواص دونوں کے ساتھ ہے۔ اس لئےان کی مختصر مگر واضح تشریح فرمائیں۔ عبد الکبیر قاسمی سرینگر جواب: وحی وہ خاص ذریعہ علم ہے جو صرف کسی نبی یا رسول کو ہوتا ہے ۔جس وقت یہ وحی آتی ہے اُس وقت وہ شخصیت جس پر وحی کا نزول ہوتا ہے، اوصاف بشری سے بالاتر ہو کر صفات ملکویت سے آراستہ ہوتی ہے یعنی اُس وقت وہ ملائکہ کے اوصاف سے متصف ہوتا ہے۔ جب نزول وحی کی کیفیت اختتام کو پہونچتی ہے تو وہ نبی اپنی انسانی صفات کی حالت میں واپس آجاتا ہے۔ چنانچہ احادیث میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کے نزول کے وقت کی کیفیات منقول ہیں کہ سخت سردی کے وقت پسینہ

نیک کام میں دیر کیسی؟

انسان اس دنیا میں جب آتا ہے تو فطرت لے کر آتا ہے،جسے قرآن حکیم ’’فطرت اللہ‘‘ قرار دیتا ہے،ازروئے الفاظِ قرآنی:’’قائم ہوجائیں اس فطرت پر جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے‘‘(الروم۔۳۰) یہی حقیقت حدیثِ پاک میں بایں الفاظ میں بیان کی گئی ہے:  ’’(نسل انسانی کا) ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،لیکن یہ اس کے والدین ہیں جو اسے یہودی،نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘‘(بخاری) اس فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے لیکن اندھا دھند دنیوی محبت میں مبتلا ہوکر اس فطرت میں کجی آکر بالآخر یہ بے راہ روی(Perversion) کا شکار ہوجاتی ہے۔زنگ آلود ہونے کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں مفقود ہو جاتی ہیں اور انسان ایک حیوان نما جانور کی شکل اختیار کر کے اپنے دن رات کاٹنے میں ہی مصروف رہتا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

گری پڑی رقم کا صحیح استعمال  ج:تقریباً چھ ماہ پہلے میں نے ایک سڑک پر سے ایک بڑی رقم اٹھائی ۔ چند دنوں کے انتظار کے بعد جب کوئی بھی مالک نہ نکلا تو میںنے  مسجدوں میں اعلان کرایا ،اس پر  بھی کوئی مالک سامنے نہ آیا تو اخبار میں مشتہر کروایا لیکن آج تک کوئی بھی مالک نہیں نکلا۔اب بہت سی فلاحی تنظیمیں جو کہ بیوائوں، یتیموں وغیرہ کی مدد کرتے ہیں ، مجھے یہ رقم انہیں دینے کی ترغیب دے رہے ہیں لیکن مجھے کچھ نہیں سوجھتا کہ میں کس طرح یہ رقم صرف کروں ۔ یہ رقم اپنے پاس رکھنے میں خیر نہیں سمجھتاہوں ۔ آپ سے التماس ہے کہ مجھے تفصیل سے بتائیں کہ یہ رقم کس طرح میں خرچ کروں ۔    جی ایچ بٹ …کپوارہ  پ:اس رقم کو شریعت میں لُفطہ کہتے ہیں یعنی جس کا مالک معلوم نہ ہو وہ رقم لفطہ کہلاتی ہے ۔ لفطہ کا حکم یہ ہے کہ اگر اصل مالک نہ ملے تو غریبوں میں یہ رقم صدقہ کی

درس و تدریس ۔پاکیزہ پیشہ

درس و تدریس ایک عظیم مقدس  ہے۔اس پیشہ سے منسلک لوگ جو نونہالانِ قوم و ملت کے بچے اور بچیوں کو عصری تعلیمات کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں نیز سماج و معاشرہ کے طلباء و طالبات جس درس گاہ، جس تدریسی مرکز سے وابستہ ہیں، خصوصاً زیر تعلیم ہیں، اُن کے منتظمین اور تدریسی عملے کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہزیر تعلیم بچوں و بچیوںکی اخلاقی تربیت بھی کریں۔کیونکہ زیر تعلیم بچوںکی زندگی بنانے اور سنوارنے کی بے لوث خدمت ایک معلم ہی کرسکتا ہے۔ایک معلم جہاں اپنی اخلاقی و ملّی فریضہ کے تحت ایمان دارانہ طریقے سے درس و تدریس کے فرائض انجام دینے سے ہی اس جہاں میں ایک مثالی معلم کی حیثیت رکھتا ہے۔ معلم اپنی صلاحیت کا اگر طلباء و طالبات پر صحیح استعمال کرتا ہے تو انھیں واقعی معلم صاحبان کی محنتوں کا ثمرہ ملتا ہے ۔جو والدین اپنے بچے اور بچیاں یعنی اپنی اولاد کو کسی درس گاہ یا کسی معلم کے حوالہ کرتے ہیں کہ اُن

حضرت سید سکندر اندرابیؒ

سرزمین کشمیر صدیوں سے ریشیت اور تصوف کی سرزمین رہی ہے۔ عظیم ریشیوں، صوفیا اور راہ حق کے طلبگاروں نے قدرت کی اس عظیم اور حسین شاہکار کو اپنا مسکن بنایا ہے۔ یہاں کے ہر علاقے اور بستی میں کسی نہ کسی ولی اللہ کا مزار،زیارت گاہ یا خانقاہ نظر آتا ہے، جہاں عقیدت مندوں کا آنا جانا رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک بستی ضلع پلوامہ کا ترچھل گائوں ہے ،جہاں ایک ولی اللہ حضرت سید محمد سکندر اندرابی رحمتہ اللہ علیہ کا آستانہ ہر خاص و عام کا مرجع بنا ہوا ہے   حضرت سید محمد سکندر اندرابی رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت پلوامہ ضلع کے ہی پوچھل گائوں میں لگ بھگ انیسوی صدی کے آخری عشرے کے (1897کے آس پاس)میں ہوئی?۔حضرت  سید سکندر اندرابی ?کا شجرہ حضرت میر میرک اندرابی رحمتہ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ آخرالذکر کے ایک بیٹے میرسید احمد قاسم اندرابی ?پوچھل میں ہی مدفن ہیں ۔انکے تین بی

اسوۂ نبوی کے مطابق نکاح آسان بنایئے

دین اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں ہماری رہنمائی کرتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہر شعبہ میں حلال و حرام کی حد بندیوں کاخیال رکھیں ، بطور خاص اپنے معاملات کودرست رکھیں، ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کریں اور اپنے معاشرتی امور کو شریعت کے مطابق انجام دیں، خصوصاً اسوۂ نبوی کے مطابق نکاح کا انعقاد کریں۔ ان نصیحت آمیز جملوں کا اظہار حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب نے کل ہند مشاورتی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا،جواصلاح ِمعاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے زیر اہتمام ۷؍ستمبر کو منعقدہوا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں نے دین کو عبادات کی حد تک محدود کر دیاہے اور معاشرتی امور میں غفلت برتی جارہی ہے، شادیوں میں جہیز کا لین دین ہورہا ہے اور اسراف سے کام لیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اسلام اور اسلامی شریعت کی بدنامی ہو رہی ہے، مسلمانوںک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

بغیر کسی معاہدہ  کےایک دوسرے کی آمدنی پر حق جتلانا شرعاً جائز نہیں کرایہ داروں سے دکان یا مکان کے لئے پگڑی یامٹھائی کے نام سے رقومات لینے کا مسئلہ سوال(۱) ایک شخص کے دو بیٹے ہیں،ایک ملازم دوسرا تاجر ہے۔ ملازم تنخواہ لیتا ہےاور تاجر  اپنی تجارت کرتا ہے ۔  سوال یہ ہے کہ کیا ملازم بیٹے کی تنخواہ اور جی پی فنڈ وغیرہ میں تاجر بیٹے کا اور تجارت کرنے والے بیٹے کی کمائی اور نفع میں ملازم کا کوئی حق ہے  یا نہیں؟یہ مسئلہ  بڑے نزاع کا سبب بنتا ہے۔حقائق سے آگاہ فرمائیں۔ سوال(۲)اگر کوئی شخص دوکان کرایہ پر لیتا ہے تو دوکان کا مالک اس سے کرایہ کے علاوہ ’’مٹھائی ‘‘کے نام پر ایک بڑی رقم لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مٹھائی لینا جائز ہے اور  اگر مٹھائی کسی نے لی ہو تو شرعا ً اس کے لئے کیا حکم ہے؟ تفصیل سے شرعی احکام بیان فرمائیں تاکہ حق

انسان کو ہمیشہ اللہ پر توکل رکھنا چاہئے

توکل کے معنیٰ ہےاعتماد اور بھروسہ کرنا۔یہ درحقیقت دل کی حالتوں میں سے ایک حالت ہے اور خالق کی وحدانیت و مہربانی پر ایمان لانے کا ثمر ہے ،یعنی اللہ کی وحدانیت اس کی قدرت اور فضل و حکمت پر کامل یقین ہونا چاہیے۔ توکل کی تعریف یوں ہے کہ اسباب و تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے فقط اللہ تبارک و تعالی پر اعتماد اور بھروسہ کیا جائے اور تمام کام کو اس کے سپرد کر دیا جائے۔ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اللہ تعالی نے یہ عمل فرمایا کہ توکل کرنے والوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے، ایک جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے(ترجمہ)اللہ تعالی توکل کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔اسطرح ارشاد ہے:(ترجمہ) جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ حدیث پاک میں یہ بھی وارد ہے کہ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایسا توکل رکھو جیسا کہ توکل رکھنے کا حق ہے تو حق تعالیٰ تمہیں اس طرح روزی پہنچائے گا ،جس طرح پرندوں کو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

شرک اور اس کی اقسام  سوال :-کفروشرک کیا ہے ۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کی کچھ اقسام ہوتی تو ان کو ضروری تفصیل وتحقیق سے تحریر کریں ۔ محمداعظم ملک …جموں جواب:-شرک یہ ہے کہ اللہ کی ذات میں یااُس کی صفات میں کسی بھی مخلوق کو اس کا شریک ، مثیل، نظیر یا مماثل مانا جائے ۔ اور کفر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا یا اُس کی کسی لازمی صفت کا سرے سے ہی انکار کردیاجائے ۔ اللہ کی ذات کے علاوہ کسی اور ذات کو بھی ماننا جیسے عیسائی تین خدائوں کے قائل ہیں یا اکثر ہندو کروڑوں خدائوں کو مانتے ہیں تو شرک فی الذات ہے ۔ اللہ کی مخصوص صفات میں سے کسی صفت کو کسی مخلوق کے حق میں تسلیم کرنا یہ شرک فی الصفات ہے ۔مثلاً کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ جیسے اللہ اپنی ذات کے اعتبارسے زندہ ہے اور جیسی غیر فانی زندگی اُسے حاصل ہے یا جیسے اس کی حیات کسی کی محتاج نہیں اسی طرح مخلوق میں سے کسی کی زندگی

کربلا۔۔۔۔قلم کی جولانگاہ

حوادث کی اس دنیامیں جو کچھ اولادِ آدم کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اْس سے ایک محدود زمان و مکان میں متاثر ہوکر بالآخر اس پیش آمدہ واقعے کو بھول جانا انسانی فطرت کا خاصہ رہا ہے۔ کیونکہ رفتہ رفتہ اس واقعہ کے اثرات زائل ہوجاتے ہیں۔مگر انسانی تاریخ میں انگشت شمار چند واقعات  ایسے بھی ہیں۔ جو اس قاعدہ کلیہ سے مثتثنیٰ ہے۔ بالفاظِ دیگر ان اشتثنائی واقعات کے اثرات تادیر باقی رہتے ہیں۔ اور ان کی یاد کو محو کردینا انسانی قلب و ذہن کے بس کی بات نہیں۔زمانے کی نیرنگی ، لیل و نہار کی آمد و رفت،معاشرت کا ارتقاء اور انسانی سوچ اوراپروچ میں تغیر و تبدل بھی اس قبیل کے واقعات پر اثر انداز نہیں ہوپاتا ہے۔ سانحہ ٔ کربلا متذکرہ واقعات میں سر فہرست ہے۔ صدیاں گذر جانے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کل پرسوں ہی واقعہ کربلا پیش آیا ہو۔ شہدائے کربلا کے خون کی تازگی اب بھی باقی ہے۔ اس کی حرارت و حرکت معدو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

حدیث۔۔۔ اقسام و افہام کی توضیح سوال: حدیث کیا ہوتی ہے ۔اس حدیث کو سند سے بیان کیا جاتا ہے،یہ سند کیا ہوتی ہے ۔اس سند میں کیا کمیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے ، اس سند میں ضعف ہے۔یہ ضعف کیا ہوتا ہے ،اس کی وجہ سے سے حدیث ضعیف کیسے ہوجاتی ہے۔پھر آگے سوال یہ ہے کہ حدیث ضعیف کیا ہوتی ہے ۔کیا حدیث کی کتابوں میں ضعیف احادیث درج ہوتی ہیں؟ حدیث پر عمل کرنے کے متعلق حکم شریعت کے کن مسائل میں حدیث ضعیف معتبر مانی جاتی ہے اور کن مسائل میں یہ غیر معتبر ہوتی ہے؟اُمید ہے کہ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں گے۔ جنید احمد قاسمی ،مقیم حال سرینگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جواب :حدیث حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم کے مبارک قول یا آپ کے کسی عمل کو کہتے ہیں۔ نیز اگر آپ کے سامنے کسی مسلمان نے کوئی کام کیا اور آپ نے سکوت اختیار فرمایا تو وہ بھی حدیث ہے۔اس کو اصولِ حدیث میں تقریر کہتے ہی

تفرقہ پروری قرآن اور صاحبِ قر آن ؐ کی نظر میں

جسدِملت میں تفرقہ پروری اور فرقہ پرستی کازہر اس حد تک اثر کر چکا ہے کہ نہ صرف اس کے خطرناک اثرات کا کما حقہ احساس و ادراک ہر شخص کے لئے ضروری ہے بلکہ اس کے تدارک اور ازالے کے لئے موثر منصوبہ بندی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے ارد گرد تیزی سے جو حالات رونماہو رہے ہیں ان کی نزاکت اور سنگینی ہمیں اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم نوشتہ دیوار پڑھ لیں اور اپنے درمیان سے نفرت ،بغض، نفاق،اور انتشار و افتراق کا قلع قمع کرکے یکجہتی اوراتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کریں کہ اسی میں ہماری فلاح اور بقاء اور نجات مضمر ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:(ترجمہ )’’ اے ایمان والو !اللہ سے ڈرو، جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہونا ،یاد رکھو اللہ کی وہ نعمت (جو اس نے) تم پر فرمائی، جب تم ایک دوسرے کے دشم

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

انٹرنیٹ حد سے زیادہ مفید لیکن بے انتہا خطرناک بھی اسلامی معلومات کیلئے مستند سائٹس کا انتخاب کرناضروری س:-میں ایک نوجوان ہوں ۔ جدید تعلیم سے وابستہ ہوں ۔آج کل بہت سارے نوجوان انٹرنیٹ سے جڑ ے ہوئے ہیں ۔اس بارے میں آپ سے گذارش ہے کہ کیا ہم کسی اسلامی ویب سائٹس سے اسلام کے متعلق  معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔اس بارے میں آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور جو ضروری باتیں ہوںگی وہ ضرور بتائیں ۔  کامران سجاد  جواب:-انٹرنیٹ ہرقسم کی معلومات حاصل کرنے کی ایک پوری کائنات کاخزانہ ہے ۔ یہ بے انتہا مفید بھی ہے اور حد سے زیادہ خطرناک بھی ۔اس مفید ترین ذریعہ سے معلومات کا بڑے سے بڑا ذخیرہ بھی حاصل کیاجاسکتاہے اور اس کے ذریعہ انسان اُن خرابیوں اورخباثتوں کا شکار بھی ہوسکتاہے جن کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ گندی اور فحش ویب سائٹس کا حال توجیساہے وہ بتانے کی ضرورت ن

اُردو اَدب میں نعت گوئی –

نعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی تعریف و توصیف کے ہیں لیکن عربی ،فارسی،اردو اور مسلمانوں کی دوسری زبانوں میں لفظ نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف اور مدح کے لئے مخصوص ہوگیا ہے۔اب جب بھی ہم نعت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ پارۂ شاعری ہے، جس میں سرور کونین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات کی توصیف و مدح کی گئی ہو۔ نعت کے لئے کوئی مخصوص ہیئت مقرر نہیں ہے۔یہ کسی بھی صنف سخن کی ہیئت میں لکھی جا سکتی ہے۔یہ صنف سخن قصیدہ اور مثنوی بھی ہوسکتی ہے ۔غزل،قطعہ،رباعی یا کوئی اور صنف سخن بھی ہوسکتی ہے۔ حضرت ِنبی کریم ؐکی ذات و صفات کے منظوم اظہار کا نام نعت ضرور ہے اور بادی النظر میں بہت آسان بھی ہے لیکن حقیقتاً یہ مشکل اور نازک ہے۔ سہل اس اعتبار سے کہ سرکار دوعالمؐ سے خلوص و محبت کے نتیجے میں ہونے والے جذبات و احساسات کو شاعر کسی بھی صنف شا

کتاب و سنت کے حوالے سےمسائل کا حل

فیشن کیلئےکتّے پالنا حرام اوراس پر آنے والے خرچ اور وقت کیلئے اللہ کے حضور حساب طلب ہوگا سوال :-کُتّوں کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں کتنے مسائل پیدا ہورہے ہیں ،یہ آئے دن اخبارات میں آتا رہتا ہے۔ اس حوالے سے چند سوالات ہیں ۔ کتوں کے متعلق اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ۔ ماڈرن سوسائٹی میں فیشن کے طور پر کتّے پالنے کا رواج روز افزوں ہے۔اس کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے ؟کتّے کا جھوٹا اسلام کی نظر میں کیا ہے ؟کچھ حضرات اصحابِ کہف کے کتّے کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ کتّے رکھنے میںکیا حرج ہے؟ یہ استدلال کس حد تک صحیح ہے ۔ اس سلسلے میں ایک جامع جواب مطلوب ہے۔  جاوید احمد…سرینگر جواب: ایمان کی کمزوری ، مقصدحیات سے لاعلمی ، آنکھیں بند کرکے گمراہ قوموں کی نقالی اور سراسر بے فائدہ کاموں میں شوق اور فخر کے ساتھ پھنس جانا اور پھراُس پر خوشی محسوس کرنا ۔ اس صورتحال کا ٹھیک مشاہد

!! مسلمان اور مسلمان میں فرق | تم سبھی کچھ ہو بتائو مسلمان بھی ہو؟

مسلمانوں کی نوے پنچانوے فیصد آبادی یا مسلم ممالک بحیثیت مجموعی قولاً ایک حد تک مسلمان رہنا پسند کرتے ہیں مگر عملاً نہیں۔ عادتاً وہی سب کچھ کرتے ہیں جو مسلمان نہیں ہیں، یہ سب قانونی مسلمان تو ہو سکتے ہیں حقیقی مسلمان ہر گز نہیں ہوسکتے: ’’سچے مسلمان تو وہ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرزتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں، جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے ان میں سے ( ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کیلئے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں، قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے‘‘(سورہ انفال 2-4)۔ ہر شخص جو ایمان کا دعویدار ہے مذکورہ آیات کی روشنی میں آیات کا متن یا ترجمہ پڑھ کر آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ وہ حقیقی مسلمان ہے یا قانونی مسلمان۔

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

وکالتاََ قربانی کرانے کا نظام شرعاََ درست اداروں پر امانت اور دیانت لازم سوال: قربانی کے سلسلے میں ہمارے کشمیر میں چند سال سے کچھ ادارے ، کچھ مدارس اور کچھ رفاہی و سماجی فورم اجتماعی قربانی کرتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف ضرورت مند افراد سے قربانی کی مناسب قیمت لیتے ہیں، پھر ان کی طرف سے قربانی کرتے ہیں۔ اس میں ان کو بہت محنت و مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے۔ بہرحال اس طرح کی قربانی سے بہت سارے افراد کو بڑی سہولت مل جاتی ہے۔ لیکن اس طرح قربانی پر بہت سارے ہمارے بھائیوں کو تحفظات اور اشکالات بھی ہیں۔ اس لئے برائے مہربانی اس قربانی کے متعلق صاف واضح بیان تحریر فرمادیں۔ ۔۔فقط  شبیر احمد رعناواری سرینگر جواب: قربانی خود کرنا یقیناً افضل ہے مگر دوسرے کے ذریعہ قربانی کرانا بھی شرعا درست ہے۔ خود حضرت نبی کریم علیہ السلام نے حجۃ الوداع میں سو اونٹ قربان کئے، جن میں تریسٹھ (63 )اپن

حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی بے مثال اور یادگار قربانی

’’ابراہیم نے کہا’’ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی میری رہنمائی کر ے گا ۔ اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحین میں سے ہو۔‘‘ ( اس دعا کے جواب میں) ہم نے اس کو ایک حلیم (بُردبار) لڑکے کی بشارت دی۔ وہ لڑکا جب اس کے دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیاتو (ایک روز) ابراہیم نے اس سے کہا ’’بیٹا! میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟‘‘  اس نے کہا ’’اباجان، جو کچھ آپ کو حکم دیاجا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے‘‘۔ (سورہ الصفٰت 99-102) ’’سعی‘‘ سے مراد یہاں دوڑنے پھرنے کی عمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فرزند عزیز جب باپ کے ساتھ دوڑنے پھرنے کی عمر کو پہنچا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ ان کو الل

قربانی اللہ تعالی کو پسند ہے؟

کیا قربانی اللہ تعالی کو پسند ہے؟جی ہاں! قربانی اللہ تعالی کو پسند ہے۔ کیسے؟ آئیے اس پر دینی اور دنیاوی دونوں جہت سے نظر ڈالتے ہیں۔مذہبی نکتۂ نظر:  اللہ نے اپنےبندوں کو سمجھ بوجھ دی، پھر بندوں کے دل میں اپنی محبت کو پختہ کرنے کے لئے کئی امتحان اور آزمائشیں بھی رکھیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ سارے انسان ایک ہی نوع کے نہیں ہوتے ، اس نے اپنے ایک بندے (حضرت ابراہیم علیہ السلام) سے کہا کہ میرے لیے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دو، یہ بہت بڑا امتحان تھا لیکن وہ بندہ تیار ہو گیا اور چھری چلا دی، بر وقت اللہ تعالی نے ایک دُنبہ بھیجا اور اس بچے کو ہٹا لیا،اللہ تعالی کو اپنے بندے کا یہ جذبہ اتنا پسند آیا کہ اسے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔  قربانی کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ پالتو جانور ذبح کیا جائے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ بندہ اللہ کے لیے اپنی پیاری چیزوں کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔۔

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

پانی مخلوقاتِ عالم کا مدارِ حیات اس کو آلودہ کرنے پر لعنت کی وعید سوال :-کشمیر میںجہاںدیکھیں جھیلیں ،ندی نالے،چشمے اور دریاموجود ہیںاوران سے وافر مقدار میں پانی برآمد ہوتا ہے ،جو زندگی کی رفتار کو آگے بڑھانے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے ،لیکن برسہا برس سے پانی کے ان ذرائع اور ذخائر کے ساتھ ہم نے کیا کچھ کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔آج بھی اس حوالے سے ہمارا رویہ کیسا ،وہ عیاں و بیاں ہے۔ تقریباً پورا کشمیر پاک و صاف اور بہترین پانی کے ذخیروں کے خزانوں سے بھر پور ہے مگر اس پانی کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے ۔اس کی تفصیل بتایئے اور اس رویہ کی خرابیاں اور اُس کے نتایج بھی بتایئے اوراس بارے میں اسلام کا حکم بھی بتایئے ۔میں ایک سوشل ادارے سے وابستہ ہوں اور بہت درد مندی سے یہ سوال کررہا ہوں۔ فہیم احمد خان ۔سرینگر جواب :-پانی اللہ کی وہ نعمت جس کی بنیاد پر ہر مخلوق کی زندگی قائم ہے ،کیڑ

تازہ ترین