کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : آج کل بھیڑ کے گوشت کی قلعت ہے ۔کئی علاقوں میں دیگر ہلال جانوروں کا گوشت فروخت کیا جارہا ہے ۔ چند روز قبل ایک علاقہ میں اونٹ کا گوشت دستیاب تھا ،چنانچہ یہ گوشت لایا گیا اور پکاکر کھایا بھی گیا ،پھر اس بارے میں پتہ چلا کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور یہ بھی سُنا کہ یہ حدیث میں بھی ہے۔عرض ہے کہ کیا واقعتاً اس بارے میں کوئی حدیث ہے،اگر ہے تو وہ کیا ہے اور کہاں کس کتاب میں ہے؟ نیز اب اسکے بارے میں حکمِ شرعی کیا ہوسکتا ہے ۔اگر کسی باوضو نے اونٹ کا گوشت کھایا ہو تو کیا اس شخص کا وضو باقی ہے یا نیا وضو کرنا لازم ہے؟ لطیف احمد گوجر۔نروال جموں   اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنا۔۔۔ معاملے کی توضیح جواب :اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کے متعلق حدیث مسلم،ترمذی ،مسند احمد اورطبرانی میں ہے۔حدیث یہ ہے: حضرت براء ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ

فکری اختلاف …متوازن رویہ۔۔۔۔۔ قسط 2

۱۔ تبلیغی جماعت  : بیسویںصدی کی تیسری دہائی میںہندوستان کے دیہاتوںمیںآریوںکی کوششوںسے ارتدادکی وبابڑے زوروںپرتھی۔اس آگ کوبجھانے کے لئے ہندوستان کے یمین ویسارسے مسلمان انجمنیںسرگرم عمل ہوئیں۔انہی حالات میںمولانامحمدالیاس نےؒخاموشی کے ساتھ اس وباسے مسلم اذہان کومحفوظ رکھنے کے لئے مبنی برخلوص جدوجہدشروع کی۔مولاناالیاس مرحوم نے اپنامرکز’میوات‘کوبنایااورایک دہائی کے اندراندروہاںکی کایاہی پلٹ دی۔’میو‘قوم دہلی کے گردونواح اورقرب وجوارمیںآبادتھے۔میوات کے مسلمانوںکی مذہبی حالت کے بارے میںانیسویںصدی کے ایک انگریزآفیسرومؤرخ میجر پائولٹ لکھتے ہیں:  ’’میوات تمام ترمسلمان ہیںلیکن برائے نام۔ان کے گائوںکے دیوتاوہی ہیںجوہندوزمینداروںکے ہیں۔وہ ہندوئوںکے کئی ایک تہوارمناتے ہیں۔ہولی میواتیوں میںمذاق اورکھیل کھیلنے کازمانہ ہے اوراتناہی اہم اورضروری

سفرِ معراج ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

یوں تو اس سفر کو لوگ عام طور پر معراج ہی کے نام سے جانتے ہیں لیکن علماء بتاتے ہیں کہ یہاں درحقیقت دو سفر پیش آئے۔ ایک وہ سفر جب نبی مکرم، فخر مجسم، شافع امم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مسجد اقصیٰ تک تشریف لے گئے۔ یہ سفر ’’اسراء‘‘ ہے اور دوسرا سفر وہ ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمان و مکان کی حدوں سے بلند ہو کر سدرۃ المنتہیٰ اور عرشِ معلّٰی تک تشریف لے گئے یہی سفر ’’معراج‘‘ ہے۔ کسی بھی قوم کی بد قسمتی کی انتہاء یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادات کو بھی تفریح کا رنگ دیدے۔ جب لوگوں کی ذاتی خواہشات، حکم الٰہی اور سنت ِ رسول  ﷺ پر غالب آجائیں تو پھر عجیب و غریب بدعات کا ظہور ہوتا ہے کیونکہ انسان کو فطری طور پر مجاہدہ نفس کے بجائے نفس پرستی ہی میں مزہ آتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ہاں بھی مختلف دنوں اور راتوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔ انہی مواقع

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : آج کل موبائل فون پر کئی سارے  (Fantasy App)ایپلیکیشن چل رہے ہیںجن میں کھیلنے پر پیسہ ملتا ہے ۔ان ایپلیکیشن میں پیسہ کمانے کا سسٹم یہ ہے کہ کسی بھی کھیل کے مختلف مقابلے لگتے ہیں،جس میں کھیلنے کے لئے کچھ فیس ہوتی ہے اور اس مقابلہ میں کئی سارے لوگ شامل ہوتے ہیں ،جن میں ہر کسی کی اپنی اپنی ٹیم ہوتی ہے۔پھر جس کسی کی ٹیم کے کھلاڑی زیادہ اچھا کھیلتے ہیں اس کو زیادہ نمبر (Points)ملتے ہیں اور انہی پوائنٹس کی بنیاد پر اُن کو پوزیشن (Position)بھی ملتی ہے۔پہلی ،دوسری اور اسی طرح ہر Positionکا انعام طے ہوتا ہے ۔کچھ لوگ کم Pointsلینے کے باعث کوئی Positionحاصل نہیں کرپاتے ہیں اور انہیں کوئی پیسہ بھی نہیں ملتا بلکہ اُن کی فیس کی رقم بھی واپس نہیں ملتی ۔تو کیا اس طرح کی اپلیکیشنز(Applications)سے پیسے کمانا جائز ہے یا نہیں؟ظاہر ہے کہ جو پیسہ فیس کے طور پر لوگوں سے لیا جاتا ہے ،اُسی رقم میں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال  : ملازمین کے لئے قانون یہ ہے کہ وہ اپنے فوت ہونے کے بعد ملنے والی رقوم کے لئے اپنے اہلِ خانہ میں سے کسی بھی فرد کا نام مشخص کردیتے ہیں۔اس کی وجہ سے جی پی فنڈ(G.P.Fund)،این پی ایس(NPS) اورپینشن(Pension)وغیرہ کی سب رقوم اسی شخص کے اکاونٹ(Account)میں آجاتی ہیں ،جس کا نام اُس نے طے کیا ہو۔مثلاً اگر کسی نے اپنے والد کا نام بطور نامِنی (Nominee)رکھا ہے تو رقوم اُسی کے نام ،اور اگر کسی نے اپنی والدہ کا نام رکھا ہوا ہو تو وہ رقم اُسی کے کھاتے میں آتی ہے اور اگر کسی نے اپنی زوجہ کونامِنی رکھا ہو تو رقم اُسی کو دی جاتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ نامنی کی بنیاد پر ملنے والی رقم کس کا حق ہے؟کیا اس رقم میں دوسرے ورثاء بھی شریک ہیں یا یہ رقم صرف اُسی ایک فرد ،چاہے وہ باپ ہو ، ماںہو،بیوی ہو یا اولادکا حق ہے؟ اس بارے میں بہت سارے گھرانوں میں اختلاف ِ رائے ہے بلکہ نزاع بھی ہوتا ہے۔

خرافات کو بدعات ِ حسنہ کا نام نہ دیں!

اللہ تعا لیٰ نے قرآنِ مجید میں فضول خرچی کرنے پر سختی سے منع کیا ہے حتیٰ کہ یہاں تک فرمایا کہ "فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شْکرگزارہے" ۔گویا ہم یہ کہ سکتے ہے کہ فضول خرچی کرنے والا اللہ کے دربار میں گنہگار کی حیثیت سے روزِ محشر میں پیش ہوگا۔ انسان کے سوا جو کائنات ہے وہ نہایت محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ کائنات کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ وہ ہمیشہ اس ضابطہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے تکمیل کے مرحلہ تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی کے لئے بھی قدرت کا ایک مقرر کیا ہوا ضابطہ ہے جو انسان اس ضابطہ کی پیروی کرتا ہے ہے وہ اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے اور جو آدمی اس مقرر ضابطہ حیات سے انحراف کرتا ہے وہ یہاں ناکام و نا مراد ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب ہم خرافات کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں کہ ہم کس چیز کو صحیح قرار دیں او

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : موجودہ سماج میں نوجوان نسل خاص طور پراور بڑی عمر کے بہت سارے افراد طرح طرح کی نشہ آور چیزوں کی لَت میں مبتلا ہیں۔منشیات کے استعمال کی پھیلتی ہوئی اس خطرناک وَباء کے نتائج کیا ہونگے ؟یہ واضح ہے کہ منشیات کے مسلسل پھیلائو سے بے شمار گھر تباہ ہوچکے ہیں۔بیشتر نوجوان اب تعلیم ،صحت اور روز گار سے بھی لاتعلق ہوچکے ہیںجبکہ سُدھار کی اُمید بھی معدوم ہورہی ہے۔ براہِ کرم اس کے متعلق تفصیلی جواب سے مشکور و ممنون فرمایئے۔ امتیاز احمد میر۔سرینگر منشیات کی پھیلتی وبا :  سماجی بیداری کے لئے ہمہ گیر مہم چلانے کی ضرورت محلہ جاتی سطح پر اینٹی ڈرگ فورم تشکیل دیئے جائیں جواب : منشیات میں ہر وہ کھانے ،پینے ،سونگھنے اور انجگشن کے ذریعہ جسم میں داخل کرنے کی چیزیں شامل ہیں ،جن کی وجہ سے جسم میں ایک خاص قسم کا ہیجان پیدا ہو اور دماغ میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم اور صرف ایک سر

استقامت

اُمت کے موجودہ حالات پر غور کرنے کے بعد جو سب سے بڑی کمی اور خامی مجھے نظر آئی وہ یہ ہے کہ یہ ملّت اپنے کسی بھی معاملے میں ’’استقامت‘‘ کا مظاہرہ کرنے سے قاصردکھائی دے رہی ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ مختلف پیرایوں سے مسلمانوں کو استقامت پر رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورہ ھود آیات ۱۱۲ تا ۱۱۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’پس اے نبی ؐ تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ٹھیک ٹھیک اور راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور بندگی کی حد سے تجاوزنہ کرو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجائو گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔‘‘ ’’استقامت‘&

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

عہدِ جدید میں سڑکوں پر بڑھتے ٹریفک کے مسائل اسلام میں سڑک کے غلط استعمال کی گنجائش نہیں دوسروں کو ضرر پہنچانے والا اللہ کے ضرر کا مستحق سوال : کیا اسلام میں ٹریفک قوانین کے متعلق کچھ احکام ہیں؟ اُن قوانین کی بنیاد قرآن و حدیث میں کہاں ہے؟جبکہ اُس دور میں آج جیسا ٹریفک کا مسئلہ بھی نہ تھا ۔ہمارے پیارے نبی ؐ نے اس بارے میں جو ہدایات دی ہیں،اُن کی تفصیل کیا ہے؟ کتاب و سُنت کی روشنی میں واضح حکم جوعہدِ حاضر سے منسلک ہو ،تحریر فرمایئے۔ وسیم حُسین۔باغِ مہتاب ،سرینگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب : دین ِ حق میں جس طرح انسان کی زندگی تمام شعبوں کے متعلق مفصل اور فطرت انسانی سے ہم آہنگ اور انسان کی شخصی و اجتماعی زندگی کے متعلق واضح احکام موجود ہیں ،ٹھیک اُسی طرح ٹریفک کے متعلق بھی اصولی احکام بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:خبردار! راستو

عبد اللہ…یعنی اللہ کا بندہ

 مومن اللہ سے بڑا شدید محبت کرتے ہیں۔(المائدۃ: 54) ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کوئی مومن اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے مال اور اس کی اولاداور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائو۔ (بخاری شریف۔حدیث۔ 12 ۔مسلم شریف۔ 44)اور یہ واضح ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرنا دین کا سب سے اہم حصہ ہے۔اور جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے اور نہ تنگی اور اس کے درمیان کی معتدل راہ اختیار کرتے ہیں.(سورہ۔فرقان۔آیت۔67)اور قرابتداروں کو ان کا حق ادا کرو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی (دو) اور (اپنا مال) فضول خرچی سے مت اڑاؤ۔ بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔(سورہ بنی اسرائیل۔ 26، 27) درحقیقت فضول خرچی، رب کریم کی ناشکری اور اس کی بے انتہانعمت کی ناقدری ہے، کیوں کہ اپنے مال و اسباب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال  :تصوف کی حقیقت کیا ہے،اس کی ضرورت کیوں ہے ؟ کیا یہ شریعت سے الگ کوئی چیز ہے؟ بیعت کیوں کی جاتی ،اس کا ثبوت کہاں ہے؟کیا بیعت کے بغیر ایک مسلمان مکمل مسلمان نہیں بن سکتا ،کیا علم تصوف شرعی علوم میں سے ہے۔کیا ہمارے نبی ؐ بھی اس طرح بیعت کرتے  تھے ،جس طرح اہلِ تصوف کے یہاں بیعت ہوتی۔اس بیعت سے کیا حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ امید ہے کہ جواب مکمل ، جامع اور تشفی بخش ہوگا ۔ غلام محی الدین میر ۔مقیم حال جموں تصوف: انسان کے باطنی اعمال کے اصلاح کے اصول کا بیان جواب :حضرت امام غزالی ؒ نے تصوف کی مفصل حقیقت بیان کی ہے،اُس کا جامع خلاصہ علامہ شامیؒ نے یوں بیان کیا ہے۔تصوف وہ علم ہے جس سے اخلاق ِ ِحمیدہ کی اقسام اور اُن کو حاصل کرنے کا طریقہ اور اخلاقِ رذیلہ کی اقسام اور اُن سے بچنے کا طریقہ معلوم ہو۔دلوں کی طہارت ،روح کی صفائی اور نفس کا تزکیہ حضرت نبی کریم علیہ السلام کا

عبد،معبود اور عبدیت

اور ہر ایک کوشش کرنے والا اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے یقینا بے نیاز ہے(سورہ العنکبوت۔آیت۔6) اس آیت مبارکہ میں دین کے راستے میں کی ہوئی ہر محنت داخل ہے، چاہے وہ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرنے کی محنت ہو یا تبلیغ ودعوت کی محنت، یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کی محنت۔مجاہدہ کے معنی کسی مخالف طاقت کے مقابلہ میں کش مکش اور جدوجہد کرنے کے ہیں، اور جب کسی خاص مخالف طاقت کی نشان دہی نہ کی جائے ،بلکہ مطلقاََ مجاہدہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ہمہ گیر اور ہر جہتی کش مکش ہے، مومن کو اس دنیا میں جو کش مکش کرنی ہے اس کی نوعیت یہی کچھ ہے۔ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے جو اس کو ہر آن نیکی کے نقصانات سے ڈراتا اور بدی کے فائدوں اور لذتوں کا لالچ دلاتا رہتا ہے، اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے جو اسے ہر وقت اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لیے زور ل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

دعوت دین:مخاطب کے مزاج اور فہم کو ملحوظ رکھنے اور شفقت و خیر خواہی کا رویہ اپنانے کی ضرورت سوال : اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے ہم کچھ ساتھی غیر مسلم لوگوں میں دعوت کاکام کرتے ہیں۔ہم کو اس دوران حیرت ناک کامیابی بھی ملتی ہے اور کچھ اُلجھنیں بھی پیش آتی ہیں۔براہِ کرم ان چند باتوں میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ ۱۔ دعوت میں کن موضوعات کو غیر مسلم انسان کے سامنے پیش کرنا مفید ہوگا اور اس بارے میں ہمارا دین کیا رہنمائی کرتا ہے۔ ۲۔ کسی غیر مسلم شخص کی طرف سے طرح طرح کے اعتراضات پیش کئے جاتے ہیں،اُن اعتراضات میں اہم اعتراض خود مسلمانوں کی غیر اسلامی اور غیر اخلاقی زندگی بھی ہے۔ایسے وقت کیا جواب دیا جائے۔ ۳۔اسلام کے کسی حکم مثلاً عورتوں کے پردہ اور کسی کو مسلمان بنانا یا جمہوریت کا انکار وغیرہ ،ان کا کیا جواب دیا جائے۔ ۴۔ دعوت دیتے وقت کن باتوں کا خیال رکھا جائے۔ ابو ندیم

اسلام کا اخلاقی نظام اور ہماری ذمہ داریاں

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف یعنی بہتر کا درجہ روزِ اول سے ہی دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً پیغمبر علیہ سلام بھی بھیجے تاکہ انسان اللہ کی نافرمانی کا مرتکب نہ ہو ۔جب انسان کو کوئی عہدہ یا ذمہ داری دی جاتی ہے تو اس کے اصول بھی وضع کئے جاتے ہیں تاکہ وہ انسان سب ذمہ داریوں پر کھرا اُترے۔ اسی طرح اشرف المخلوقات کی صف میں شامل ہونے کیلئے اخلاقی نظام پر چلنے والوں کو ہی تعریف کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے۔سچائی، انصاف، پاسِ عہد اور امانت کو ہمیشہ سے انسانی اخلاقیات میں تعریف کا مستحق سمجھا گیا ہے اور جھوٹ، ظلم ،بد عہدی اور خیانت کوہمیشہ نا پسند کیا گیا ہے۔ خود غرضی، سنگ دلی، بخل اور تنگ نظری کو کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں ہوا۔ انسان ہمیشہ سے اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لئے اپنے آپ کو اُن لوگوں میں شامل کرتا ہے جن میں اُسے وقارو عزت ملے یا یوں کہئے کہ جہاں احساس کمتری کا شکار ہونے کا خطرہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: موت برحق ہے ،اس لئے کسی کی موت پر تعزیت کا سلسلہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم عمل ہے ۔اس بارے میں بہت افراط و تفریط ہوتی ہے۔براہ کرم تعزیت کے سلسلے میں اسلامی احکام بھی بیان کریں اور اصلاح طلب امور کی بھی وضاحت کریں۔   مشتاق احمد جانبازامیرا کدل سرینگر تعزیت کو عبادت کا درجہ حاصل  پُرسا دینے کا شرعی طریقہ جواب: کسی کے گھر میں موت کا حادثہ پیش آئے تو اُس کی غمخواری کرنا ،اُسے تسلی دینا،صبر و برداشت کرنے کی تلقین کرنا اور فوت شدہ شخص کی اچھائیاں بیان کرکے اس کے لئے دعا ئےمغفرت کرنا تعزیت کہلاتا ہے ۔شریعت اسلامیہ میں اس کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔چنانچہ اسلام میں عیادت اور تعزیت دونوں باعثِ اجر و ثواب عمل ہیں۔حدیث میں ہے جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی اللہ اُس کو نور کی چادر اُوڑھائینگے۔دوسری حدیث میں تعزیت کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔لہٰذا ت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کا فرعون

  حضرت یوسف علیہ السلام کے بعدبھی بنی اسرئیل ملک مصر کا انتظام سنبھالتے تھے اور بادشاہ یعنی فرعون صرف نام کا فرعون ہوتا تھالیکن دھیرے دھیرے بن اسرائیل میں عیش پسندی اور آرام پسندی پیدا ہوتی گئی اور حکومت پر سے اُن کی گرفت چھوٹتی گئی اور مختلف علاقوں میں قبطیوں نے انتظامات سنبھالنے شروع کردیئے ۔ اس طرح دونوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہو گئی اور ملک مصر میں بد نظمی پھیلنے لگی اور حکومت کے اہم عہدے قبطی حاصل کرنے لگے اور بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے انتظامات کے عہدے چھوٹنے لگے۔یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بیس(۲۰)یا پچیس(۲۵)سال پہلے حکومت کے تمام عہدے بنی اسرائیل سے چھین لئے گئے تھے اور حکومت کے اہم عہدوں پر مصری فائز ہوچکے تھے اور بنی اسرائیل عام عوام کی حیثیت سے رہنے لگے تھے۔جن کی تعداد کئی لاکھ تھی۔ایسے حالات میں ولید بن مصعب فرعون بنا۔اُس کے فرعون بننے کی کہانی بھی کاف

تصوف:فکر ِ اقبال کی روشنی میں

مجاہدانہ حرارت رہی نہ صوفی میں بہانہ بے عملی کا بنی شرابِ الست دانائے راز، رومی ہند، حکیم الامت حضرت علامہ اقبال کا شمار دنیا کے معتبر، کثیر الجہات اور جامع الصّفات شخصیات میں ہوتا ہے۔ علمی ،فکری اور نظری بنیادوں پر انہوں نے جو وسیع و عریض تخلیقی میرات اُمت مسلمہ کو تفویض کیا۔ اُس سے یہ بات بلا خوف و تردد کہی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اقبال کے قدآور اور مایۂ افتخار ہستی ہونے کی یہ احسن دلیل ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے تمام پُر اسرار گوشوں سے واقف تھے۔ایک وسیع المطالعہ، دقیق النظر، سربرآوردہ مفکر کی حیثیت سے وہ اقوام وملل کے مدوجزر کے تمام عوامل و عواقب کا تجزیہ و تحلیل کرچکے تھے۔ اقبال تنہا ایسے مفکر تھے جو اپنی قوم کو تیغ بُرّاں دیکھنے کے آرزومند تھے ۔ اقبال کی قلب و روح ملتِ اسلامیہ کے لئے دھڑکتی تھی ۔ وہ اعلیٰ انسانی قدروں کے وارث و امین تھے۔ اُنہوں نے اپنی خلاقانہ صلا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

مساجد کے لئے زور زبردستی چندہ جمع کرنا غیر شرعی سوال:-مساجد یا مدارس کے لئے سڑکوں پر چندہ جمع کرنا کیساہے ۔ شہر سرینگر کے قدیم علاقوں میں آج کل کچھ مقامات پر پرانی مساجد کو شہید کرکے از سر نو تعمیر کیا جارہاہے اور سڑکوں پر باقاعدہ طور حصولِ چندہ کے لئے ایک گروپ متعین کیا جاتاہے جو لائوڈ اسپیکر لے کر سڑکوں پر ڈیرہ جماتے ہیں اور ہرآنے جانے والی گاڑی کو روک کر ان سے چندہ کے لئے اپیل کرتے ہیں ۔شریعت اور اخلاقیات کے اعتبار سے ایسی کارروائی/سرگرمی کی کیا حیثیت ہے ، براہ کرم جواب عنایت کریں۔ جاوید احمد……سرینگر جواب:- مساجدیا مدارس کے لئے سڑکوں پر چندہ جمع کرنے کا یہ طریقہ غیر شرعی بھی ہے اور طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ بھی ہے ۔ مسجدوں کی تعمیر میں حصہ لینا ایک نفلی عبادت ہے اور نفلی عبادت انجام دینے کے لئے صرف ترغیب دے سکتے ہیں خصوصاً وہ نفلی عبادت جومالی عبادات م

اسلام میں نماز اور ادب کا مقام

 حضرت نظام الدین اولیاء ؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے کہ ’’ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا‘‘۔ پھر غش کھا جاتے- ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟ آپؒنے فرمایا ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر پریس کر کے واپس محل پہنچا دیاکرتے تھے، ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا، کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے، جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا، محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے اطوار تبدیل ہو گئے، وہ شہزادی کے کپڑ ے الگ کرتا انہیں خوب اچھی طرح دھوتا، انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کر کے رکھتا، سلسلہ چلتا رہا آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا ا

مطالعہ ٔ سیرتِ رسولِ اکرم ؐ ضروری کیوں؟

 سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے بے شمار فوائد ہیں، ان میں سے ایک اہم اور بنیادی فائدہ یہ ہے کہ سیرت نبی کا مطالعہ کرنے والا کبھی بھی اسلام، احکام اسلام اور عقائد اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ انبیاء کرام کی زندگی سراپا یقین وایمان کی پکار ہے، اسی لئے قرآن کریم نے جابجا انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات زندگی اور طرز حیات کو پیش فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سابقہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں کا مجموعہ اور نمونہ ہے؛ لہٰذا اگر ایک صاحب استعداد شخص آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر چھوٹی سے چھوٹی کتاب بھی زیر مطالعہ رکھتا ہے تو اس کا اسلام کے متعلق شک واضطراب میں مبتلا ہونا محال قطعی ہے۔  مولانا ابوالکلام آزا دنے اپنی کتاب  ''تذکرہ'' میں علامہ ابن کثیر کے حوالہ سے شیخ ا

تازہ ترین