کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اسلام میں بنائو سنگھار اور زیب و زینت کی اجازت مگر اعتدال لازمی بالوں کی ٹرانسپلانٹیشن، رنگ چڑھانے اور آرائش کا جدید رجحان۔ مسائل اور ان کی توضیح سوال: شریعت اسلامی کا امتیاز احکام میں اعتدال کا ہے۔ وہ فطرت کی پوری رعایت بھی کرتا ہے اور ایک حد تک انسان کو اپنے طبعی جذبات کو پوری کرنے کی اجازت دیتا ہے، مگر وہ ایسے غلو اور افراط کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اخلاقی حدیں پامال ہو جائیں یعنی انسان اسراف میں مبتلا ہو جائے اور جو چیزیں انسانی زندگی کے لئے ضروری نہیں ہیں، ان کو ضرورت کا درجہ دینے لگے، یہی راہ اعتدال جو انسان کو افراط و تفریط سے بچائے رکھے، شریعت اسلامی کا اصل مزاج ہے اور تزئین و آرائش کے باب میں بھی اس نے اسی راہ پر چلنے کی تلقین کی ہے۔ آج کل ایک طرف گنجے پن کا مرض بہت پیدا ہو رہا ہے ا ور اسی کے ساتھ لوگوں میں فیشن اور زینت کا شوق بھی بہت زیادہ بڑھ رہا ہے اس لئے موج

فکری اختلاف…متوازن رویہ

 ۳۔  جاویداحمدغامدی  : پاکستان کی سرزمین علمی وفکری شخصیات فراہم کرنے کے اعتبارسے کبھی بنجرنہیںرہی۔ان نابغہ روزگارشخصیات میںایک جاویداحمدغامدی صاحب بھی ہیں۔غامدی صاحب کی شخصیت کی نرمی،سادگی،علمیت،منطقیت پُرکشش ہے۔قاری ہویاسامعی غامدی صاحب ’کششِ ثقل‘کی طرح اُن کواپنی طرف کھینچ ہی لیتے ہیں۔لیکن فی الوقت وہ ایک ایسے ’شجرِممنوعہ‘تصورکئے جاتے ہیںجن کی صحبت،گفتگو،تحریرات سے کچھ لوگوںکو’فتنہ‘کاپھل ہی ملنے کاگمان ہوتاہے۔علم وفکر کی راہ میںیہ کوئی نئی بات نہیںہے۔ہماری تاریخ کے کئی ’اوراق‘ایسے اہلِ علموںسے بھرے پڑے ہیںجن کی مخالفت یاتنقیدشدّت سے کی گئی۔ دورِ حاضرمیں غامدی صاحب بھی ان میںسے ایک ہیں۔خطاونسیان ،تنقیدواختلاف سے غیرِنبی کومفرنہیں۔تنقیدذہنی اُفق کووسیع کرتی ہے۔یہ ایک علمی تحفہ ہے۔تنقیداوراختلاف سے انسان خودکودریافت کرس

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:- بعض لوگ کہتے ہیں کہ آج کل قرآن کریم جو حفظ کیا جارہاہے اور بلاترجمہ پڑھا جارہاہے اور بلا سمجھے اس کو رٹتے ہیں ۔ یہ سب منتر کے برابر ہے کیونکہ قرآن کا سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا قرآن بلا سمجھے پڑھنا اور حفظ کرنابیکارہے ؟ جاوید احمد بٹ  تلاوت یا حفظ قرآن کا منکر  قرآن کی حقیقت سے ناواقف جواب :-قرآن کریم اللہ کی نازل کردہ وہ واحد کتاب ہے جو اپنے الفاظ وکلمات کے ساتھ محفوظ ہے۔اس کے الفاظ وکلمات کو بغیر سمجھے بھی اگرتلاوت کیا جائے تو اس پر عظیم اجربھی ملتا ہے اور صرف پابندی سے یہ تلاوت بھی انسان کی ہدایت کا سبب ہوتی ہے۔ خود قرآن کریم میں بھی تلاوت کرنے کا حکم ہے ۔قرآن حفظ کرنا قرآن کا امتیاز ہے۔ اس کا پہلا حافظ  خود اللہ کی ذات اقدس پھر حضرت حضرت نبی کریم علیہ السلام ۔اُس کے بعد ہزاروں صحابہ ولاکھوں تابعین اور پھر یہ تعداد کر

ۥ فکری اختلاف .........متوازن رویّہ

غلبہ دین کی جدوجہد میں’ تدریج کی حکمت عملی ‘کی اہمیت اور اس کے بنیادی اصولوں کو واضح کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں: ’’اسلامی نظام زندگی جن لوگوں کو قائم کرنا اور چلانا ہو، انھیں آنکھیں بند کر کے حالات کا لحاظ کیے بغیر پورا کا پورا نسخہ اسلام یک بارگی استعمال نہ کر ڈالنا چاہیے بلکہ عقل اور بینائی سے کام لے کر زمان ومکان کے حالات کو ایک مومن کی فراست اور فقیہ کی بصیرت وتدبر کے ساتھ ٹھیک ٹھیک جانچنا چاہیے۔ جن احکام اور اصولوں کے نفاذ کے لیے حالات سازگار ہوں، انھیں نافذ کرنا چاہیے اور جن کے لیے حالات سازگار نہ ہوں، ان کو موخر رکھ کر پہلے وہ تدابیر اختیار کرنی چاہییں جن سے ان کے نفاذ کے لیے فضا موافق ہو سکے۔ اسی چیز کا نام حکمت یا حکمت عملی ہے جس کی ایک نہیں، بیسیوں مثالیں شارع کے اقوال اور طرز عمل میں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت دین بدھووں کے کرنے کا کام

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

شب برات۔ دُعائیں قبول ہونے کی رات گُناہوں سے توبہ کر کے مغفرت، رحمتوں اور نعمتوں کا مستحق بننے کا وقت سوال : پندرہویں شعبان کی رات جس کو شب برات کہا جاتا ہے، کے متعلق ہمارے معاشرے میں مختلف نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں اور طرز عمل بھی مختلف رہتا ہے۔ براہ کرم اس سلسلے میں احادیث کی روشنی میں صحیح اور مدلل نقطۂ نظر واضح فرمائیں۔ مدثر احمد آخون، رفیع آباد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب: شب برات کے متعلق فضیلت کی چند احادیث یہ ہیں: ۱۔ حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں تاریخ کی رات کو مخلوقات کی طرف توجہ فرماتے ہیں، مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ تمام مخلوقات کو معاف فرما دیتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح ابن حبان، بیہقی، طبرانی اور الترغیب میں ہے ۔ اس حدیث کے متعلق علوم حدیث کے مشہ

قرآن کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

 کلام ِ الٰہی ، قرآن مجید کا نزول تاریخ انسانی کے لئے ایک عظیم انقلاب ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہماری بلکہ سارے انسانوں کی رہنمائی کرنے والا قرآن عظیم ہمارے درمیان موجود ہے۔ قرآن مجید رمضان المبارک میں لوحِ محفوظ سے منتقل ہوکر آسمان اول پر لایا گیا،جہاںسے آہستہ آہستہ23؍سال میں محمد الرسول اللہؐر نازل ہوا ۔ انسانوں کی ہدایت کے لئے اس میں صاف صاف بیانات و احکامات ہیں۔ قرآن کریم کے23نام ہیں جن میں ایک نام فرقان ہے۔ یعنی کافروں ومومن، حلال وحرام میں فرق کرنے والی کتاب۔ ترجمہ:رمضان کامہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کی ہدایت کے لئے اور رہنمائی کے لئے اور فیصلہ کی روشن باتیں ہیں اس میں۔(سورۃ البقرہ، آیت184)  قرآن کریم کسی خاص قوم یا ملک کے لئے نہیں نازل ہوا بلکہ ھدی اللناس تمام اولادِ آدم کے لئے ہادی و مرشد ہے اور اس کی ہدایت کی روشنی اتنی کھلی ہے کہ حق او رباطل بالکل ممتاز

اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا

عام طور پر جب جبر و ظلم بڑھ جاتا ہے اور ظالم کی عمر لمبی ہوجاتی ہے تو دنیا پریشان ہوجاتی ہے۔ مظلوم کے اندر مایوسی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تسلی دیتا ہے کہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ ظالموں کو ڈھیل دینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ ان پر عذاب شدید نہیں آئے گا۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ ظالم قوموں پر سخت ترین عذاب آیا ہے اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے۔ ہر ظالم کے ساتھ اللہ کا عتاب و عذاب یکساں ہوتا ہے۔ قرآن عظیم میں اللہ کا فرمان ہے :  ’’اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو د

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اسلامی لباس کے اصول وشرائط اسلام نے کوئی مخصوص وضع اور ہیئت کا لباس یقیناََ مقرر نہیں کیا  اگر لباس کی کسی خاص وضع یا ہیئت کا تعین کردیا جاتا تو ہر جگہ کے مسلمانوں کیلئے اس امر کی پابندی مشکل ہوتی سوال : - اسلامی لباس کس لباس کو کہتے ہیں ؟ کیا کُرتا پاجامہ یا قمیص شلوار کواسلامی لباس کہا جائے گا اور کیا ٹوپی بھی اسلامی لباس میں داخل ہے۔ مو جودہ زمانہ میں عام رائج لباس پتلون ،شرٹ وغیرہ کے بارے میںکیا حکم ہے۔مہربانی کرکے مفصل جواب دیں۔ محمد مقبول بٹ…بارہمولہ   جواب :-لباس انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ انسانی تاریخ کے کسی بھی متمدن دور میں انسان نے بغیر لباس کے زندگی گزاری ہو ، عمومی طور پر تاریخ میں ایسا کہیں نہیں پایا گیا ۔ لباس انسان کی جسمانی ضرورت بھی ہے موسمی ضرورت بھی ، سماجی ضرورت بھی اور معاشرتی ضرورت کے ساتھ ساتھ م

دعوتِ الی اِللہ

سورہ فصلّت جو ’’سورہ حم سجدہ ‘‘کے نام سے بھی مشہور ہے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے{وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا الی اللّٰہِ وَعَمَلَ صَالِحًا وَقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ}یعنی اور اُ س شخص سے بات کا اچھا کون ہوگا جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔اس آیت میں دعوتِ الی اللہ کو ایک احسن عمل بتایا گیا ہے اور فی الحقیقت اس سے بہتر عمل ہی کوئی نہیں ۔رسول اللہ ؐ نے ایک دفعہ حضرت علی ؓ سے فرمایا تھا کہ اے علی ؓ اللہ کی قسم اگر تمہاری وجہ سے اللہ کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے(البخاری/ 4210)۔ دعوتِ الی اللہ کی فضیلت اور افادیت کے ساتھ ساتھ اس آیت میں اُن لوگوں کا رد بھی ملتا ہے جو کسی مسلک یا کسی مخصوص جماعت اور فرقے کی طرف بلاتے ہیں۔کیوں کہ دعوتِ الی اللہ سے مراد قرآ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : ہمارے بہت سارے اصاغر علماء اپنے آج کے اکابر علماء کے متعلق بہت اونچے درجے کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔اُن الفاظ کو پڑھ کر بہت سارے اپنے بھی اس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کیا واقعتاً آج کی یہ شخصیات اپنے بڑے پن کے باوجود ان صفات کی حامل ہوسکتی ہیں؟ مثلاً ’’علامہ،محقق العصر،عارف باللہ،علامہ الدھر،عارف کامل ،روشن ضمیر ‘‘جیسے کلمات آج کی کسی شخصیت کے متعلق لکھنے اور استعمال کرنے کا رواج چل پڑا ہے اور جلسوں کے اشتہارات میں تو مبالغہ آرائی زیادہ ہی ہوتی ہے۔اسی طرح بہت سارے اپنے امام کو ’مولوی صاحب‘ کہہ دیتے ہیں ۔بہت سارے لوگ باقاعدہ علوم ِ دینیہ پڑھے ہوئے نہیں ،پھر بھی لوگ اُنہیں ’مولانا صاحب‘ لکھتے ہیں ۔کچھ علاقوں میں ایسے افراد جو ڈاکٹر نہیں مگر اُن کو ’ڈاکٹر صاحب‘ کہتے ہیں۔بعض جگہ لوگ آج کی شخصیات کے ناموں کے ساتھ ’&r

معراج…سعادتوں کا سفر

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے انتہا معجزات و کمالات عنایت فرمائے اور انہیں قربت کی ان منازل پر فائز فرمایا جن پر متمکن ہونا باعث افتخار بھی ہے اور باعث برکت بھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید قرار پایا جس کے اعجاز کے سامنے دنیا کے تمام علماء ، حکماء ، دانشور اور فلسفی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک علم و تحقیق کا معجزہ بصورت قرآن عطا کیا گیا۔ قیامت تک انسان جس چیز کو بھی اپنے علم و فن اور اپنی تخلیق و تحقیق کے ذریعے ایجاد کرے گا۔ اس کی اصل کا ذکر کسی نہ کسی طرح قرآن میں ضرور ہوگا۔ان بے شمار معجزات میں ایک اہم اور نمایاں معجزہ معراج ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پہلے مسجد اقصیٰ اور اس کے بعد آسمانوں کی سیر کرائی اور بالآخر اپنے دیدار سے مشرف فرما

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : آج کل بھیڑ کے گوشت کی قلعت ہے ۔کئی علاقوں میں دیگر ہلال جانوروں کا گوشت فروخت کیا جارہا ہے ۔ چند روز قبل ایک علاقہ میں اونٹ کا گوشت دستیاب تھا ،چنانچہ یہ گوشت لایا گیا اور پکاکر کھایا بھی گیا ،پھر اس بارے میں پتہ چلا کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور یہ بھی سُنا کہ یہ حدیث میں بھی ہے۔عرض ہے کہ کیا واقعتاً اس بارے میں کوئی حدیث ہے،اگر ہے تو وہ کیا ہے اور کہاں کس کتاب میں ہے؟ نیز اب اسکے بارے میں حکمِ شرعی کیا ہوسکتا ہے ۔اگر کسی باوضو نے اونٹ کا گوشت کھایا ہو تو کیا اس شخص کا وضو باقی ہے یا نیا وضو کرنا لازم ہے؟ لطیف احمد گوجر۔نروال جموں   اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنا۔۔۔ معاملے کی توضیح جواب :اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کے متعلق حدیث مسلم،ترمذی ،مسند احمد اورطبرانی میں ہے۔حدیث یہ ہے: حضرت براء ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ

فکری اختلاف …متوازن رویہ۔۔۔۔۔ قسط 2

۱۔ تبلیغی جماعت  : بیسویںصدی کی تیسری دہائی میںہندوستان کے دیہاتوںمیںآریوںکی کوششوںسے ارتدادکی وبابڑے زوروںپرتھی۔اس آگ کوبجھانے کے لئے ہندوستان کے یمین ویسارسے مسلمان انجمنیںسرگرم عمل ہوئیں۔انہی حالات میںمولانامحمدالیاس نےؒخاموشی کے ساتھ اس وباسے مسلم اذہان کومحفوظ رکھنے کے لئے مبنی برخلوص جدوجہدشروع کی۔مولاناالیاس مرحوم نے اپنامرکز’میوات‘کوبنایااورایک دہائی کے اندراندروہاںکی کایاہی پلٹ دی۔’میو‘قوم دہلی کے گردونواح اورقرب وجوارمیںآبادتھے۔میوات کے مسلمانوںکی مذہبی حالت کے بارے میںانیسویںصدی کے ایک انگریزآفیسرومؤرخ میجر پائولٹ لکھتے ہیں:  ’’میوات تمام ترمسلمان ہیںلیکن برائے نام۔ان کے گائوںکے دیوتاوہی ہیںجوہندوزمینداروںکے ہیں۔وہ ہندوئوںکے کئی ایک تہوارمناتے ہیں۔ہولی میواتیوں میںمذاق اورکھیل کھیلنے کازمانہ ہے اوراتناہی اہم اورضروری

سفرِ معراج ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

یوں تو اس سفر کو لوگ عام طور پر معراج ہی کے نام سے جانتے ہیں لیکن علماء بتاتے ہیں کہ یہاں درحقیقت دو سفر پیش آئے۔ ایک وہ سفر جب نبی مکرم، فخر مجسم، شافع امم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مسجد اقصیٰ تک تشریف لے گئے۔ یہ سفر ’’اسراء‘‘ ہے اور دوسرا سفر وہ ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمان و مکان کی حدوں سے بلند ہو کر سدرۃ المنتہیٰ اور عرشِ معلّٰی تک تشریف لے گئے یہی سفر ’’معراج‘‘ ہے۔ کسی بھی قوم کی بد قسمتی کی انتہاء یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادات کو بھی تفریح کا رنگ دیدے۔ جب لوگوں کی ذاتی خواہشات، حکم الٰہی اور سنت ِ رسول  ﷺ پر غالب آجائیں تو پھر عجیب و غریب بدعات کا ظہور ہوتا ہے کیونکہ انسان کو فطری طور پر مجاہدہ نفس کے بجائے نفس پرستی ہی میں مزہ آتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ہاں بھی مختلف دنوں اور راتوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔ انہی مواقع

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : آج کل موبائل فون پر کئی سارے  (Fantasy App)ایپلیکیشن چل رہے ہیںجن میں کھیلنے پر پیسہ ملتا ہے ۔ان ایپلیکیشن میں پیسہ کمانے کا سسٹم یہ ہے کہ کسی بھی کھیل کے مختلف مقابلے لگتے ہیں،جس میں کھیلنے کے لئے کچھ فیس ہوتی ہے اور اس مقابلہ میں کئی سارے لوگ شامل ہوتے ہیں ،جن میں ہر کسی کی اپنی اپنی ٹیم ہوتی ہے۔پھر جس کسی کی ٹیم کے کھلاڑی زیادہ اچھا کھیلتے ہیں اس کو زیادہ نمبر (Points)ملتے ہیں اور انہی پوائنٹس کی بنیاد پر اُن کو پوزیشن (Position)بھی ملتی ہے۔پہلی ،دوسری اور اسی طرح ہر Positionکا انعام طے ہوتا ہے ۔کچھ لوگ کم Pointsلینے کے باعث کوئی Positionحاصل نہیں کرپاتے ہیں اور انہیں کوئی پیسہ بھی نہیں ملتا بلکہ اُن کی فیس کی رقم بھی واپس نہیں ملتی ۔تو کیا اس طرح کی اپلیکیشنز(Applications)سے پیسے کمانا جائز ہے یا نہیں؟ظاہر ہے کہ جو پیسہ فیس کے طور پر لوگوں سے لیا جاتا ہے ،اُسی رقم میں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال  : ملازمین کے لئے قانون یہ ہے کہ وہ اپنے فوت ہونے کے بعد ملنے والی رقوم کے لئے اپنے اہلِ خانہ میں سے کسی بھی فرد کا نام مشخص کردیتے ہیں۔اس کی وجہ سے جی پی فنڈ(G.P.Fund)،این پی ایس(NPS) اورپینشن(Pension)وغیرہ کی سب رقوم اسی شخص کے اکاونٹ(Account)میں آجاتی ہیں ،جس کا نام اُس نے طے کیا ہو۔مثلاً اگر کسی نے اپنے والد کا نام بطور نامِنی (Nominee)رکھا ہے تو رقوم اُسی کے نام ،اور اگر کسی نے اپنی والدہ کا نام رکھا ہوا ہو تو وہ رقم اُسی کے کھاتے میں آتی ہے اور اگر کسی نے اپنی زوجہ کونامِنی رکھا ہو تو رقم اُسی کو دی جاتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ نامنی کی بنیاد پر ملنے والی رقم کس کا حق ہے؟کیا اس رقم میں دوسرے ورثاء بھی شریک ہیں یا یہ رقم صرف اُسی ایک فرد ،چاہے وہ باپ ہو ، ماںہو،بیوی ہو یا اولادکا حق ہے؟ اس بارے میں بہت سارے گھرانوں میں اختلاف ِ رائے ہے بلکہ نزاع بھی ہوتا ہے۔

خرافات کو بدعات ِ حسنہ کا نام نہ دیں!

اللہ تعا لیٰ نے قرآنِ مجید میں فضول خرچی کرنے پر سختی سے منع کیا ہے حتیٰ کہ یہاں تک فرمایا کہ "فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شْکرگزارہے" ۔گویا ہم یہ کہ سکتے ہے کہ فضول خرچی کرنے والا اللہ کے دربار میں گنہگار کی حیثیت سے روزِ محشر میں پیش ہوگا۔ انسان کے سوا جو کائنات ہے وہ نہایت محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ کائنات کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ وہ ہمیشہ اس ضابطہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے تکمیل کے مرحلہ تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی کے لئے بھی قدرت کا ایک مقرر کیا ہوا ضابطہ ہے جو انسان اس ضابطہ کی پیروی کرتا ہے ہے وہ اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے اور جو آدمی اس مقرر ضابطہ حیات سے انحراف کرتا ہے وہ یہاں ناکام و نا مراد ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب ہم خرافات کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں کہ ہم کس چیز کو صحیح قرار دیں او

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال : موجودہ سماج میں نوجوان نسل خاص طور پراور بڑی عمر کے بہت سارے افراد طرح طرح کی نشہ آور چیزوں کی لَت میں مبتلا ہیں۔منشیات کے استعمال کی پھیلتی ہوئی اس خطرناک وَباء کے نتائج کیا ہونگے ؟یہ واضح ہے کہ منشیات کے مسلسل پھیلائو سے بے شمار گھر تباہ ہوچکے ہیں۔بیشتر نوجوان اب تعلیم ،صحت اور روز گار سے بھی لاتعلق ہوچکے ہیںجبکہ سُدھار کی اُمید بھی معدوم ہورہی ہے۔ براہِ کرم اس کے متعلق تفصیلی جواب سے مشکور و ممنون فرمایئے۔ امتیاز احمد میر۔سرینگر منشیات کی پھیلتی وبا :  سماجی بیداری کے لئے ہمہ گیر مہم چلانے کی ضرورت محلہ جاتی سطح پر اینٹی ڈرگ فورم تشکیل دیئے جائیں جواب : منشیات میں ہر وہ کھانے ،پینے ،سونگھنے اور انجگشن کے ذریعہ جسم میں داخل کرنے کی چیزیں شامل ہیں ،جن کی وجہ سے جسم میں ایک خاص قسم کا ہیجان پیدا ہو اور دماغ میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم اور صرف ایک سر

استقامت

اُمت کے موجودہ حالات پر غور کرنے کے بعد جو سب سے بڑی کمی اور خامی مجھے نظر آئی وہ یہ ہے کہ یہ ملّت اپنے کسی بھی معاملے میں ’’استقامت‘‘ کا مظاہرہ کرنے سے قاصردکھائی دے رہی ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ مختلف پیرایوں سے مسلمانوں کو استقامت پر رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورہ ھود آیات ۱۱۲ تا ۱۱۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’پس اے نبی ؐ تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ٹھیک ٹھیک اور راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور بندگی کی حد سے تجاوزنہ کرو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجائو گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔‘‘ ’’استقامت‘&

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

عہدِ جدید میں سڑکوں پر بڑھتے ٹریفک کے مسائل اسلام میں سڑک کے غلط استعمال کی گنجائش نہیں دوسروں کو ضرر پہنچانے والا اللہ کے ضرر کا مستحق سوال : کیا اسلام میں ٹریفک قوانین کے متعلق کچھ احکام ہیں؟ اُن قوانین کی بنیاد قرآن و حدیث میں کہاں ہے؟جبکہ اُس دور میں آج جیسا ٹریفک کا مسئلہ بھی نہ تھا ۔ہمارے پیارے نبی ؐ نے اس بارے میں جو ہدایات دی ہیں،اُن کی تفصیل کیا ہے؟ کتاب و سُنت کی روشنی میں واضح حکم جوعہدِ حاضر سے منسلک ہو ،تحریر فرمایئے۔ وسیم حُسین۔باغِ مہتاب ،سرینگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب : دین ِ حق میں جس طرح انسان کی زندگی تمام شعبوں کے متعلق مفصل اور فطرت انسانی سے ہم آہنگ اور انسان کی شخصی و اجتماعی زندگی کے متعلق واضح احکام موجود ہیں ،ٹھیک اُسی طرح ٹریفک کے متعلق بھی اصولی احکام بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:خبردار! راستو

تازہ ترین