تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :(۱)  عُشرکے ضروری مسائل کیا ہیں؟(۲) باغ فروخت ہوا ،اب عُشر فروخت کرنے والے کے ذمہ ہے یا خریدار کے ذمہ؟ (۳) باغ پر دوا پاشی وغیرہ پر جو خرچہ آتا ہے وہ منہا کیا جائے یا نہیں؟ (۴) کوئی عُشر کا مستحق نہ ہو تو وہ عُشر لے سکتا ہے یا نہیں؟(۵) کیا عُشر مسجد میں ،مدرسہ کی کسی تعمیر میں، مکتب میں خرچ کرسکتے ہیں؟ نذیر احمد لون ۔رفیع آباد عُشر کی حقیقت اور اس کے مسائل جواب :اسلام نے جیسے اہل ایمان مالداروں پر زکواۃ لازم کی ہے اسی طرح زمین اور باغوں کی پیداوار پر عُشر بھی لازم کیا ہے ۔عُشر کی ادائیگی کا حکم قرآن پاک میں بھی ہے اور احادیث میں بھی۔عُشر کی ادائیگی اُسی طرح فرض ہے جیسے زکواۃ فرض ہے البتہ عُشر چونکہ زمین کی پیداوار اناج ،سبزیاں وغیرہ اور باغوں کی پیداوار پھلوں پر لازم ہوتا ہے ،اس لئے اس کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ زمین عُشری ہونی چاہئے۔ زمینوں میںعُشری زمین

تربیتِ اولاد سے غافل نہ رہیں

ہمیں اپنی اولاد سے محبت ہے، محبت ہونی ہی چاہیے۔ہمیں اپنی اولاد کی چاہت ہے ،ہونی ہی چاہیے۔ہماری آنکھ کا نور دل کا سرور ہے، یقینا ایسا ہی ہونا چاہئے۔ہماری اولاد ہمارا چین، ہمارا صبر و قرار ہے ،گھر کی بہار ہے ،رونقِ ہستی ہے ،دم زندگی ہے ،جان محفل ہے۔ اولاد کے بغیر زندگی ایک اجڑا ہوا گلستاں ہے جس میں دلکشی ہے نہ خوبصورتی، دل آویزی ہے نہ دل بستگی، زندگی کی بے کراں تنہائیوں اور حیات  مستعار کے وسیع وعریض صحراء میں ساری بہار ساری دلکشی بچوں کے دم سے ہے۔ انہی سے ویرانوں میں بہار آجاتی ہے،مردہ کلیاں کھل اٹھتی ہیں، زندگی کے سونے سونے دن ،سونی سونی راتیں یکایک آباد ہوجاتی ہیں، جگمگا اٹھتی ہیں، پھول مسکراتے ہیں، فضا خوشبوؤں سے معطر ہوجاتی ہے ،ہر طرف زندگی ہی زندگی دکھائی دیتی ہے۔ بچے نہ ہو تو زندگی بے کیف، بے سود نظر آتی ہے، کمانا بے فائدہ دکھائی دیتا ہے ،انسان اپنی زندگی میں ادھورا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :-کُتّوں کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں کتنے مسائل پیدا ہورہے ہیں ،یہ آئے دن اخبارات میں آتا رہتا ہے۔ اس حوالے سے چند سوالات ہیں ۔ کتوں کے متعلق اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ۔ ماڈرن سوسائٹی میں فیشن کے طور پر کتّے پالنے کا رواج روز افزوں ہے۔اس کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے ؟کتّے کا جھوٹا اسلام کی نظر میں کیا ہے ؟کچھ حضرات اصحابِ کہف کے کتّے کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ کتّے رکھنے میںکیا حرج ہے؟ یہ استدلال کس حد تک صحیح ہے ۔ اس سلسلے میں ایک جامع جواب مطلوب ہے ۔  جاوید احمد…سرینگر فیشن کیلئےکتّے پالنا حرام  اس پر آنے والے خرچ اور وقت کیلئے اللہ کے حضور حساب طلب ہوگا جواب: ایمان کی کمزوری ، مقصدحیات سے لاعلمی ، آنکھیں بند کرکے گمراہ قوموں کی نقالی اور سراسر بے فائدہ کاموں میں شوق اور فخر کے ساتھ پھنس جانا اور پھراُس پر خوشی محسوس کرنا ۔ اس صورتحال کا ٹھ

دنیا کی حقیقت قرآن واحادیث کی روشنی میں

یہ حسین ورنگین دنیا،عیش وعشرت کے سامان، بارونق بازار ،نظر کو خیرہ کرتی ہوئی تہذیب ،بھڑکیلے لباس، چمچاتے زیورات، ہنستے، مسکراتے اور قہقہہ لگاتے چہرے، اِٹھلاتے اور اِتراتے ہوئے لوگ، عالی شان عمارتیں، آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں، اونچے اور وسیع وعریض محلات، حویلیاں اور بالاخانے ،پھلوں اور پھولوں سے لدے باغات، وسیع شاہراہیں، لمبی چوڑی سڑکیں، کھیل کود،تفریح، جشن وجلوس کسے اچھے نہیں لگتے ہیں، کون اسے دیکھ کر للچاتا نہیں، کسے یہ تمنا نہیں ہوتی کہ زندگی کبھی ختم نہ ہو اور دنیا کی رونق سے ہم برابر لطف اندوز ہوتے رہیں۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ ساری چیزیں فانی ہیں، سب ایک دن ختم ہوجانے والی ہیں، ہم روز دیکھتے ہیں کہ دنیا تغیر و تبدّل کی آماجگاہ ہے ، ہر آن یہاں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، بچہ جوان ہوتا ہے ،جوان بوڑھا ہوتا ہے اور ایک دن دنیا سے چلاجاتا ہے۔پودے اگتے ہیں ،بڑھتے ہیں، اپنے شباب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ ٹوٹنے پرتحائف کی واپسی کا مسئلہ  سوال:- کبھی اختلاف کی وجہ سے نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ پہلے ہی مرحلے پر ٹوٹ جاتاہے اس کے بعد اختلاف اس پر ہوتے ہیں کہ جو تحفے تحائف لئے دیئے ہوئے ہیں اُن کا حکم کیا ہے ۔بعض دفعہ ایک فریق دوسرے سے جرمانے کا مطالبہ کرتاہے اور جو تحفے زیورات وغیرہ ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی شدید نزاعات ہوتے ہیں ۔اسی طرح کھلانے پلانے کا جو خرچہ ہوا ہوتاہے اس کے لئے بھی مطالبہ ہوتاہے کہ اس کی رقم بصورت معاوضہ ادا کیا جائے ۔ اس بارے میں شرعی اصول کیا ہے؟ محمد یونس خان جواب :-نکاح سے پہلے جو تحائف دئے جاتے ہیں۔ اُن کی حیثیت شریعت میں ہبہ باشرط یا ہبہ بالعوض کی ہے ۔ یعنی یہ تحائف اس شرط کی بناء پر دئے جاتے ہیں کہ آئندہ رشتہ ہوگا ۔ اب اگر آگے نکاح ہونے سے پہلے ہی رشتہ کا انکار ہوگیا تو جس غرض کی بناء پر تحفے دیئے گئے تھے وہ چونکہ

’ مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت‘

’مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت‘پروفیسر سعود عالم قاسمی کی ۲۹۹صفحات پر مشتمل کتاب ہے۔موصوف سابق ڈین فیکلٹی آف دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ اور درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی دیگر تصانیف کی طرح زیرِتبصرہ کتاب بھی منفرد علمی کاوش ہے۔ کتاب پڑھ کر ہی محسوس ہوتا ہے کہ بڑی محنت سے کتاب کے لئے مواد جمع کیا گیا ہے۔   دور نبوت ﷺہی سے مسلمانوں کا دوسرے حاملین مذاہب سے مکالمہ ثابت ہے۔ دین کے پیروکاروں نے ہمیشہ سے ہی نہ صرف دیگر مذاہب کی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے بلکہ دوسرے  مذاہب سے وابستہ اشخاص سے مذہبی مکالمہ بھی جاری رکھا، امت مسلمہ کا یہ ایک درخشاں پہلو ہے۔دور نبوت میں ہم پاتے ہیں کہ کس طرح حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ یہودیوں کی عبرانی زبان سیکھیں، اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسا کیا۔دور خلفائے راشدین میں مسلمانوں نے دیگر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 امام کے مقام کا احترام لازم  سوال:۔ ائمہ مساجد کے محلہ والوں پر کیا حقوق ہیں؟کیا ائمہ مساجد بھی نائب رسول کے زمرے میں آتے ہیں یا صرف علمائے کرام ، وضاحت فرمائیں؟۔ائمہ مساجد کی کیا حیثیت ہے اور امام مسجد کیسا ہونا چاہئے؟۔ محمد سلطان بٹ   جواب:۔ مقتدی حضرات پر امام کے حقوق یہ ہیں ۔ امام کا احترام کرنا ۔ اس سے محبت کرنا اس کو معقول اور ضروریات پورا کرنے کی مقدار کے برابرتنخواہ دینا۔ اس کے رہنے سہنے کا مناسب اور آرام دہ انتظام کرنا۔ اس پر بے جا حکم نہ چلانا۔ غیر ضروری کاموں کا اُسے مکلف نہ بنانا۔ آپسی رسہ کشی میں امام کو طرف داری کرنے پر مجبور کرنے سے پرہیز کرنا، امام میں جس بات کی صلاحیت نہ ہو اُس بات کے پورا کرنے کا اُسے حکم نہ دینا ، امام کو کوئی ناگہانی ضرورت پڑے تو محلے والے اجتماعی طور پر اس ضرورت کو پرا کرنے پر سرگرم ہو جائیں۔ امام سے غلطی کوتاہی ہ

صفوں کو درست رکھیں

صفوں کو درست کرنے کے ایک تو یہ ہو سکتا ہے کہ انسان اجتماعی مفاد کے لیے نظریاتی اختلافات کے باوجود آپس میں مل جل کر رہیں اور اتحاد کی فضا کو قائم رکھیں۔دوسرے اور عام معنی اس کے یہ ہیں کہ جماعت کی نماز میں مل مل کر اور کندھے سے کندھا ملا کر اس طرح کھڑا ہوا جائے کہ درمیان میں خالی جگہ باقی نہ رہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اِس ظاہری معنی میں صفوں کی درستگی کے اہتمام کی تاکید بھی اصلاً اْس پہلے معنی میں صفوں کے درستگی کی خاطر کی گئی ہے۔پر افسوس اس میں کوتاہی اس قدر عام ہے کہ اللہ کی پناہ! بعض لوگ ایسی بے توجہی و بے رغبتی کے ساتھ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ انھیں نہ صفوں کے اتصال کا خیال ہوتا ہے اور ان کی درستگی کا۔ جب کہ صفوں کی درستگی نماز کی صحت میں داخل ہے۔ بعض حضرات اس طرف توجہ دلائے جانے کو عار محسوس کرتے ہیں تو بعض ائمہ بھی اس جانب ویسی توجہ نہیں دیتے، جیسی دینی چاہیے۔ اقامت سے قبل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :گذشتہ جمعہ کے کالم میں آپ نے تھان کے متعلق جواب لکھا تھا ،مگر اس میں تھا ن کا پورا پسِ منظر نہیں لکھا گیا ہے۔یہ کیسے شروع ہوا۔پہلے تھان میں کیا کیا دیا جا تاتھا اور اب تھان میں کیا دیاجارہا ہے ۔جو کچھ تھان کے نام پر دیا جاتا ہے وہ کس کا حق ہے۔یہ وضاحت کے ساتھ لکھنے کی ضرورت ہے۔ علی محمد ،نوشہرہ سرینگر تھان کی اصطلاح۔معنیٰ اور مقاصد نکاح نامے میں وضاحت کرنا بہتر اور افضل جواب:کشمیر کے پچھلے ادوار کے متعدد واقف ِحال حضرات سے سُنا گیا ہے کہ پچھلے دور میں جب دلہن کے لئے تحفے بھیجے جاتے تو اہتمام سے کپڑے بھی ہوا کرتے تھے۔چونکہ غربت کی بنا پر عام طور پر لڑکی والے اپنی بیٹی کے لئے اچھے کپڑوں کا انتظام نہیں کرپاتے تھے ۔اس لئے لڑکے والے ہی اپنا فرض سمجھتے تھے کہ دلہن ہمارے گھر آنے والی ہے اس لئے اُس کے بنائو سنگھاراور اچھے کپڑوں کا انتظام بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ

قرآن کی تفہیم ایمان کاحصہ

 قرآن کریم وہ کتاب ہے جس سے کبھی بھی ہم بے نیازنہیں ہوسکتے۔ ابتدائے اسلام ہی سے اس کی افہام وتفہیم اوراس میں غوروفکر کا ایک طویل سلسلہ قائم ہے۔ ہرفرد اورہرگروہ نے اپنے ظرف اوراپنی صلاحیتوں کے مطابق اس صحیفہ ربانی کوسمجھنے کی کوشش کی۔ قرآن فہمی سے بے اعتنائی اورغفلت سنگین قسم کاجرم ہے۔ قرآن کوجب تک خاص اس کی اپنی روح اوراپنے مفہوم کے ساتھ نہ سمجھاجائے،حق وانصاف پرقائم رہناحددرجہ مشکل ہے۔ قرآن، علم ، تفقّہ، تعقّل، تذکراورتدبر وتفکر پرزوردیتاہے اورہم نے ان سب کی راہیں مسدودکردیں۔فکری وعلمی ارتقاء پرروک لگادی۔  حق کاسب سے بڑاحق یہ ہے کہ اسے سمجھاجائے اوراس کی روشنی میں اپنے فکروعمل کامحاسبہ کیاجائے۔ قرآن فہمی کی راہ میں مختلف قسم کی رکاوٹیں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے پوراپورافائدہ اٹھاناآسان نہیں رہا۔ تفسیری روایات واقوال قرآن کی تفہیم وتفسیر میں بجائے معاون ہونے کے با

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

حدیث۔۔۔ اقسام و افہام کی توضیح سوال: حدیث کیا ہوتی ہے ۔اس حدیث کو سند سے بیان کیا جاتا ہے،یہ سند کیا ہوتی ہے ۔اس سند میں کیا کمیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے ، اس سند میں ضعف ہے۔یہ ضعف کیا ہوتا ہے ،اس کی وجہ سے سے حدیث ضعیف کیسے ہوجاتی ہے۔پھر آگے سوال یہ ہے کہ حدیث ضعیف کیا ہوتی ہے ۔کیا حدیث کی کتابوں میں ضعیف احادیث درج ہوتی ہیں؟ حدیث پر عمل کرنے کے متعلق حکم شریعت کے کن مسائل میں حدیث ضعیف معتبر مانی جاتی ہے اور کن مسائل میں یہ غیر معتبر ہوتی ہے؟اُمید ہے کہ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں گے۔ جنید احمد قاسمی ،مقیم حال سرینگر ََََََََََََََََََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جواب :حدیث حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم کے مبارک قول یا آپ کے کسی عمل کو کہتے ہیں۔ نیز اگر آپ کے سامنے کسی مسلمان نے کوئی کام کیا اور آپ نے سکوت اختیار فرمایا تو وہ بھی حدیث ہے۔اس کو اصولِ حد

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

عقل و شعور کو متاثر کرنے والی اشیاء پر شرعی حکم بھنگ اور چرس کی کاشت اورتجارت حرام، اس کی کمائی کا چندہ مساجد میں استعمال کرنا ناجائز سوال:ہمارے علاقے میں بڑے پیمانے پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے جس سے چرس اور گانجا تیار کیا جاتا ہے اور اس کے کاروبار کے ساتھ کافی لوگ منسلک ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث میں چرس اور بھنگ کی حرمت کا کہیں ذکر نہیں لہٰذا یہ جائز ہے۔ اس کاروبار سے لوگ لاکھوں کی دولت کما چکے ہیں اور مکانات، باغات ، دکانات ،گاڑیاں اور بڑی بڑی جائیداد حاصل کر چکے ہیں۔ کئی ایک تو معززبن کر مساجد کی انتظامیہ کمیٹیوں میں بھی شامل ہوئے ہیں۔ براہ کرم ہمیں آگاہ کریں کہ کیا قرآن اور حدیث کی رُو سے بھنگ کی کاشت جائزہ ہے یا حرام۔ اس کا روبار سے پیدا کی گئی جائیداد، زمینیں اور انکی پیداوار میوہ جات وغیرہ حلال ہیں یا نہیں ۔اگر کوئی یہ کمائی مسجد شریف پر خرچ کرے یا اسی کمائی

شہیدِ مصلائے رسول ؐ

مرادِ رسول رحمت ؐ شہید محراب ومنبر خلیفہ دوم حضرت سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمات اسلام، جرات و بہادری، عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کردار اور کارناموں سے اسلام کا چہرہ روشن ہے، اورتاریخ عالم میں بہت کم شخصیات ایسی ملتی ہیں جن کی ذات میں اس قدر صلاحیتیں اور خوبیاں ایک ساتھ ہوں کہ ایک طرف فتوحات اور نظام حکومت میں مساوات، عدل و انصاف، مذہبی رواداری اپنی انتہا ء پر ہو،اورتاریخ اسلام کی اتنی ولولہ انگیز اور ہمہ جہت شخصیت تھے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی سیرت ،اوصاف ، کردار ،بلند حوصلے ،خداداد شجاعت ،غیر معمولی فراست اور کارناموں کو اختصار سے بیان کرنا ممکن نہیں۔  اسم مبارک عمر، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نسب نویں پشت میںحضرت نبی اکرمؐسے جا ملتا ہے۔حضرت عمر بن خطاب ؐسے قبل چالیس مرد اور گیارہ عورتیں نور ایم

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال1:۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی مسجد شریف میں امام صاحب قرأت شروع کرتے ہیں تو کسی نہ کسی کے فون کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔ بہت سارے اصحاب کو یہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ وہ فون جیب سے نکالتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کال کس نے کی ہے یا یہ مسیج(Message) کہاں سے آئی ہے، پھر فون بند کرکے جیب میں ڈالتے ہیں ۔ براہ کرم یہ فرمائے کہ کیا نماز میں ایسا کرنا صحیح ہے۔ اس سے نماز میں کوئی خلل تو نہیں پڑتا ہے؟ سوال2:۔ ثواب دارین حاصل کرنے کیلئے ہم قرآن شریف۔ دلائل الخیرات۔ حزب البحر، حزب الاعظم۔ مناجات مقبول، اوراد قادریہ، اوراد فتحیہ وغیرہ کی روز تلاوت کرتے ہیں ۔ان کے علاوہ بھی چند ایک کتابوں کا حوالہ دیجئے جن کی تلاوت سے ثواب کمائیں جاسکتے ہیں؟ محمد اسلم سہروردی  نماز میں بجتے موبائیل کو سنبھالنے کا مسئلہ  جواب1:۔ نماز شروع کرنے سے پہلے موبائل کا سوئچ بند

محبت محض اللہ کیلئے

والدین کو اولاد سے الفت ہوتی ہے اور اولاد کو ماں باپ کے ساتھ محبت ہوتی ہے۔بھائی بہن بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔اسی طرح رشتہ داروں کے درمیان محبت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ یہ فطری محبت ہے جو انسان کی سرشت میں رکھ دی گئی ہے۔یہ وہ جبلی محبت ہے جو انسانوں کے علاوہ تمام جانداروں، چرندوں، پرندوں اور درندوں کے درمیان بھی موجود ہے۔ہر جانور اپنے بچوں سے محبت رکھتا ہے اور بچوں کو بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ محبت ہوتی ہے۔یہ محبت جاندار مخلوق کی زندگی کے لئے ناگزیر ضرورت ہے اور ایک جبلی تقاضا ہے۔ ایک محبت وہ ہے جو کسی کے حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی اور احسان کے نتیجے میں پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک شخص کسی کو خطرے سے نکا لتاہے یا مشکل میں اس کی مدد کرتا ہے یا اس کی کوئی مالی ضرورت پوری کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس محسن کے ساتھ محبت پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ یہ محبت ایسی ہے جو نیکوں اور بُروں،فاسقوں، فاج

اﷲ تعالیٰ قرآن پاک کا محافظ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کتاب کی حفاظت  اللہ رب العزت نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ترجمہ’’بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن پاک) کو نازل کیا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘(سورہ الحجر آیت نمبر ۹؎)۔اس آیت کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔’’تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن پاک کی حفاظت کچھ اس طرح سے کی ہے کہ اگر مسلمان عمل سے دور ہو گئے۔اور انہوں نے خدمت قرآن کو چھوڑ دیا تو اللہ نے دشمنان قرآن کو ایمان کی دولت سے نواز کر محافظ قرآن بنا دیا۔اس کی سب سے بڑی مثال ۱۳ویںتیرھویںصدی کا وہ عظیم الشان تاریخی واقعہ ہے ،جب تاتاریوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی۔مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کئے گئے ،خون کی ندیں بہا دی گئیں۔ان کے کتب خانے اور ان کی علمی کاوشوںکو تا تاریوںنے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔کب

کتاب وسنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۱-قربانی کس پر لازم ہے اور جس پر قربانی لازم نہ ہو اگر وہ قربانی کرے گا تو کتنا ثواب ہوگا او رجس پرقربانی لازم ہو وہ نہ کرے تو اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے ؟ سوال :۲-آج کل بہت سے دینی ادارے بھی اور فلاحی امدادی یتیم خانے قربانی کا اجتماعی نظام کے لئے اپیلیں کرتے ہیں ۔کیا اس طرح قربانی ادا ہوجاتی ہے ؟ اگر کسی کو اس طرح کے ادارے سے قربانی کرنے کی ضرورت ہوتو اس بارے میں کیا حکم ہے اور اگرکوئی بلاضرورت صرف رقم کم خرچ کرنے کے لئے ایسا کرے تو کیا حکم ہے ؟ عبدالعزیز خان ……کپوارہ،کشمیر قربانی کن پر واجب ؟ جواب: جس شخص کے پاس مقدارِ نصاب مال موجود ہو اُس پر قربانی واجب ہے ۔ نصاب 612گرام چاندی یا اُس کی قیمت ہے۔ اس کی قیمت آج کل کشمیر میں ساڑھے پینتیس ہزار روپے ہے ۔اب جس شخص کے پاس عیدالاضحی کے دن صبح کو اتنی رقم موجود ہو تو اُس شخص کو شریعت اسلامیہ میں صاحب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

قربانی اسلام کا تاکیدی حکُم موجودہ حالات میں عمل ترک نہ کرنے پر معتمد اور مُستند علماء کا اتفاق سوال :  وبائی وائرس کے پھیلائو اور لاک ڈاون کی صورت حال میں سوال یہ ہے کہ قربانی کے متعلق کیا حکُم ہے ۔کیا اس میں شرعاً کوئی رخصت ہے؟ اس پُر خطر صورت حال میں جانور مہیا کرنا ،انہیں ذبح کرنا اور پھر گوشت تقسیم کرنا ،تینوں بہر حال مشکل کام بھی ہیں اور اس میں وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔اس لئے فی الوقت عوامی حلقوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے ۔علماء کرام سے اس حوالے سے سوالات بھی کئے جارہے ہیں۔لہٰذا اس پر تفصیل سے جواب مطلوب ہے، جو مسئلہ کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہو۔ عبدالمجید خان ۔بمنہ سرینگر جواب :  قربانی اسلام کا وہ تاکیدی حکم ہے جو مسلمانوں کا شعار ہے ۔قرآن کریم میں کئی مقامات پر قربانی کا حکم دیا گیا ہے ۔سورہ الکوثر میں نماز اور قربانی دونوں کو ادا کرنے ک

ابو لہبؔ۔۔۔۔

تکبر بالاجماع ایک شیطانی جذبہ اور ایک گمراہ کُن صفت ہے۔سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا تکبر حق کو جھٹلانے اور لوگوں کو حقیر و ذلیل سمجھنے کا نام ہے۔ پیغمبرِاسلام حضرت محمدعربی ؐ پر جب یہ آیت اُتری ’’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبَیْنَ‘‘ (اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراتے رہو)۔تو رسول اللہ ؐ وادیٔ بطحا کی طرف گئے اور وہاں موجود ’’صفا‘‘ نامی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھے اور آواز دی’’یاصباحاہ‘‘یہ وہ الفاظ ہیں جو اہلِ عرب اُس وقت پکارتے تھے جب کسی خطرہ کا انداشہ ہوتا۔آواز سنتے ہی اہلِ قریش پیاڑی کے نیچے جمع ہوگئے۔اوررسول اللہؐ نے اُن سے خطاب کرتے ہوئے وہ تاریخی خطبہ دیا جو سیرتِ نبویؐ میں ایک انقلابی نقطہ آغاز کی حیثیت رکھتا ہے۔آپؐ نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ اگر میں تم لوگوں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

پانی مخلوقاتِ عالم کا مدارِ حیات اس کو آلودہ کرنے پر لعنت کی وعید سوال :-کشمیر میںجہاںدیکھیں جھیلیں ،ندی نالے،چشمے اور دریاموجود ہیںاوران سے وافر مقدار میں پانی برآمد ہوتا ہے ،جو زندگی کی رفتار کو آگے بڑھانے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے ،لیکن برسہا برس سے پانی کے ان ذرائع اور ذخائر کے ساتھ ہم نے کیا کچھ کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔آج بھی اس حوالے سے ہمارا رویہ کیسا ،وہ عیاں و بیاں ہے۔ تقریباً پورا کشمیر پاک و صاف اور بہترین پانی کے ذخیروں کے خزانوں سے بھر پور ہے مگر اس پانی کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے ۔اس کی تفصیل بتایئے اور اس رویہ کی خرابیاں اور اُس کے نتایج بھی بتایئے اوراس بارے میں اسلام کا حکم بھی بتایئے ۔میں ایک سوشل ادارے سے وابستہ ہوں اور بہت درد مندی سے یہ سوال کررہا ہوں۔ فہیم احمد خان ۔سرینگر جواب :-پانی اللہ کی وہ نعمت جس کی بنیاد پر ہر مخلوق کی زندگی قائم ہے ،کیڑ