تازہ ترین

پیپلز الائنس:پلیٹ فارم صحیح ،بیانیہ غلط | واحد ایجنڈا اتحاد کی بجائے کثیر المقصد سیاسی پلیٹ فارم زیادہ سودمند

پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے ذریعہ منظور کردہ قراردادجس صورت میں سامنے آئی ،اُس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ اس کے بالکل نہیں سوچا گیا تھا۔ کیا کچھ کہا جارہا ہے کہ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ جموں ، کشمیر اور لداخ کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے آئینی جنگ لڑے گی۔ کیا یہ پہلے سے نہیں ہو رہا ہے؟  سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں موجود ہیں جن میں مختلف بنیادوں پر منسوخی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ 300 دنوں میں اس کیس کو سماعت کے لئے لسٹ بھی نہیں کیا ہے ، اس سے پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو اندازہ ہونا چاہئے کہ آئینی جنگ کہاں جارہی ہے۔ یقینا یہ ایک آئینی جنگ ہے لیکن اسے سیاسی طور پر لڑنا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جوپیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو متعلق بنائے گی۔  مزید یہ کہ 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن کی بحالی کے لئے کیا پیپلز الائنس برائے گپکار ا

جی ۔20مذہبی رہنمائوں کے سیاسی رول کی تجویز | متعدد عالمی مسائل کے حل میں مذہبی رہنمائوں کے رول کی اہمیت پر زور

دنیا کے مختلف مذاہب اور بین المذاہب نیٹ ورکوں اور کمیونٹیز کے نمائندوں کا ایک پانچ روزہ غیر معمولی اجلاس اکتوبر کے وسط میں منعقد ہوا۔ اس فورم کے اجلاس کی مختلف نشستوں کے دوران کووڈ ۔19، ماحولیاتی تبدیلی، سماجی، نسلی اور اقتصادی عدم مساوات، ماحولیاتی چیلنجز ، مقدس مقامات بشمول عبادت گاہوں کے رکھ رکھاو اور تحفظ کے علاوہ آج دنیا کو درپیش دیگر اہم مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اجلاس گوکہ اس سال جی۔ 20چوٹی کانفرنس کے میزبان ملک سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونا تھا تاہم کورونا وائرس کی عالمی وبا کے مدنظر اسے ورچوئلی منعقد کیا گیا۔اس کانفرنس میں 90ملکوں سے 2000سے زائد افراد نے شرکت کی ۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مذہبی رہنماوں اور بین المذاہب شراکت داری کو ایک میز پر لانے اور تبادلہ خیال کرنے میں کلیدی رول ادا کیا ، تاکہ دنیا کو درپیش مسائل کا کوئی حل

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | کیا قرآن و سائنس میں مطابقت ہے؟

قرآن اور سائنس میں آپسی مطابقت کے حوالے سے ایک حقیقت کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے جو انسان کو اس دنیا میں اپنی اصلی حیثیت سے متعارف کرانے کا معتبر ذریعہ بن سکتی ہے۔وہ یہ کہ انسان سائنس کا فیصلہ حتمی تسلیم نہ کرے بلکہ اس کو محض انسان کی ذہانت و فطانت کا ایک رخ سمجھے جس کا مقصد مادی کائنات کی مسلسل تسخیر ہے۔اس عملِ تسخیر میں تیر کا خطا کرنا یا تیر کا نشانے پر لگنا دونوں امکانات موجود ہیں ۔سائنس انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور انسان چونکہ ہر اعتبار سے محدود ہے اس لئے اس کا اخذ شدہ نتیجہ بھی محدود اور ناقص ہو سکتا ہے تاآنکہ مسلسل کوششوں کی وجہ سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائے جو قرآن سے مطابقت رکھتا ہو۔انسان کا علم چونکہ محدود ہے اس لئے اس کے علم کی ہر کامیابی کو حتمی تسلیم نہ کیا جائے ۔اسی پس منظر میں سائنس کی کامیابیوں کی وجہ سے سائنسی علوم کو علمِ وحی سے بالاتر سمجھنااور بالآخر انسان کو مذہب

زبان کی لُکنت | لوگ کیوں ہکلاتے ہیں؟

ہکلاہٹ یا زبان کی لکنت نے لوگوں کی زندگیوں، اسکول کے زمانے، ملازمتوں اور معاشرتی زندگیوں کو کس طرح متاثر کیا ہے، اس حوالے سے ہم سب کے پاس ضرور کسی نہ کسی کی کہانی ہوگی۔ متاثرہ افراد کو اس سے نمٹے اور دوسروں کی جانب سے مذاق اڑائے جانے کی وجہ سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  حالانکہ ہکلاہٹ اتنا عام مرض نہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے اِردگِرد ایسے کئی افراد ہوتے ہیں، جو اس مرض میں مبتلا ہیں۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 7 کروڑ سے زائد افراد (تقریباً دنیا کی ایک فیصد آبادی) ایسے ہیں جو ہکلاتے ہیں یا جن کی زبان میں لکنت ہے۔ وہ گفتگو کے دوران کسی ایک حرف کی آواز کو بار بار دْہراتے ہیں، کسی لفظ میں موجود ایک حرف (عموماً شروع کا حرف) کو ادا نہیں کر پاتے اور بڑی مشکل سے اپنا جملہ مکمل کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو دیگر مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے، جیسے کے آن

جدید ٹیکنا لوجی انسانی زندگی کا ایک اہم جزو

انسان کو اس لئے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے کہ وہ قدرت کے مظاہر کو اظہار کا لبادہ بخش سکے ،سائنس کے عجائب اور ٹیکنا لوجی کے کرشمے دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کس قدر عظیم ہوگا جس نے مٹھی بھر انسانی ذہن کو اس قدر خصائل سے نوازا ۔یہ سب کمال میرے رب کا ہے ،ورنہ انسان کی اور اس کی بساط کیا ۔مٹی اور راکھ کا ساٹھ سالہ ڈھیر جو بالآخر خود بھی مٹی میں مل جاتا ہے ۔اس کے بنائے ہوئے کارنامے کئی سو سال تک زندہ و تابندہ رہ جاتے ہیں ۔  اُس دور کو گذرے کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے جب زندگی سادہ ضرور ہوا کرتی تھی لیکن مشکلات سے بھری پڑی تھی ۔جب سفر مختلف صعوبتوں کے ساتھ گذار کر کئی دنوں پر محیط ہوا کرتا تھا اُس وقت کو گذرے بھی زیادہ وقت نہیں ہوا جب ہم دنیا ومافیہا سے بے خبر رہا کرتے تھے اور یہ بات بھی کل کی ہی لگتی ہے جب کافی عرصہ تک دور بیٹھے اپنے پیاروں کی آواز سننے کے

وحشی سعید کے افسانوں کے ترجمے کی انگریزی کتاب

ادبی رشتہ جب دائمی رشتے میں بدل جاتا ہےتو جو صورت پیدا ہوتی ہے اسے وحشی ـ۔ظہیر کے نام سے جانتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسی باتیں جنہیں صیغۂ راز میں رکھنا ہوتی ہیں وہ بھی ایک دوسرے پر منکشف ہو جاتی ہیں۔وحشی سعید شدید خواہش رکھتے تھے کہ اُن کے چنندہ افسانے انگریزی میں منتقل ہوںتاکہ زیادہ سے زیادہ افراد تک اُن کے خیالات اور تجربات کی رسائی ممکن ہوسکے اور ممکن ہے کہ کچھ لوگ اِس کا اثر بھی لیں اور سبق بھی۔یہ الگ بحث ہے کہ افسانے سبق لینے کے لئے لکھے جاتے ہیں یا محض سیر و تفریح اور تفنن طبع کے لئے۔بہرکیف اُنہوں نے ایک دو ترجمے کروائے جس سے اُنہیں اطمینان نہیں ہوا۔اپنی دختر کو دکھایا ،وہ بھی مطمئن نہیں ہوئیں۔بیٹی نے کہا کہ لائیے!میں ترجمہ کرتی ہوں۔اُن کا ترجمہ کیا ہوا ایک پورا افسانہ میرے پاس ہے۔یہ ترجمہ ظاہر ہے کہ پہلے سےکافی بہتر تھا اور مناسب بھی۔پہلی بار یہ انکشاف ہوا کہ بی بی انگر

مقامی صحافت:ماضی اور حال کے آئینے میں

پراسرار ویب سائٹوں پر کشمیر میڈیا کی کردار کشی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی اس مہم میںان کے ساتھ شامل ہوئے جب انہوں نے کشمیر ٹائمز کی انورادھا بھسین کے ایک ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی سمجھ میں آگیا ہے کہ کشمیر میڈیا کیوں سرکارنوازی پر اتر آیا ہے ۔ کشمیر میںخاص طور اخبارات پر سرکار نوازی کایہ الزام نیا نہیں ہے۔جب عمر عبداللہ کی حکومت تھی ،تب بھی مختلف حلقوں کی طرف سے یہ الزام اخبارات پر عاید کیا جاتا تھااور عمر صاحب اُس وقت مقامی اخبارات کے خلاف وہ سب اقدامات کرنے میں مصروف تھے جو آج روبہ عمل لائے جارہے ہیں ۔سچ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کشمیر میڈیا کو سرکار نوازی پر مجبور کرنے کے لئے ہر وہ حربہ اختیار کیا جو وہ کرسکتے تھے ۔جس کشمیر ٹائمز کا فلیٹ سربمہر کرنے پر انہیں آج افسوس ہورہاہے اور جسے وہ آزاد صحافت پر حملہ قرار دے رہے ہیں، اسے فلیٹ خالی کرنے

جبری ریٹائرمنٹ

حکومت نے سِول سروس ضابطوں میں ترمیم کرکے سرکاری افسروں کو فعال اور مزید جوابدہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق کوئی افسر ملک کی سالمیت اور سلامتی کے حوالے سے باغیانہ افکار کا حامل ہوکر ان خیالات کا کھلے عام اظہار کرے تو اْسے 48 سال کی عمر یا 22 سالہ سروس کو پہنچتے ہی تین ماہ کا نوٹس اور تنخواہ واگذار کرکے جبری ریٹائر کیا جاسکتا ہے۔  اس ضمن میں اگر افسر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرے یا عہدے پر فائز رہنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اْس پر بھی نئے ضابطوں کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے سروس رْولز پہلے ہی بہت سخت تھے اور کوئی بھی افسر یاملازم سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ نہیں لے سکتا نہ ہی وہ ایسے خیالات کا پرچار کرسکتا ہے جو عوام میں حکومت مخالف رجحانات کو بھڑکانے کا سبب بنے۔  اس نئے فیصلے کے دو پہلو ہیں۔ اظہار رائے اور عوامی خدمت۔ یعنی حکومت مخالف خیالات کی تشہیر اور ع

گوشہ اطفال|24اکتوبر 2020

بے زبان پر رحم   کہانی   عائشہ یاسین علی اپنے محلے کا سب سے شرارتی بچہ تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کو تنگ کرتا رہتا۔ کلاس میں بھی سب اس سے بہت پریشان رہتے تھے۔ استانی صاحبہ بھی روز اس کو کسی نہ کسی بات پر سزا دیتی تھیں۔ کبھی کرسی پر کھڑا کر دیتی تو کبھی کلاس سے باہر بھیج دیتی اور کبھی مرغا بھی بنا دیا کرتی تھیں لیکن علی اپنی شرارتوں سے باز نہ آتا۔ اسکول سے آتے ہی وہ دن بھر گلی میں آوارہ لڑکوں کے ساتھ گھومتا رہتا۔ کبھی کسی کے گھر کی بیل بجا کے بھاگ جاتا تو کبھی کسی بچے کی چیز چھین لیتا۔ آج جب علی اسکول سے واپس آیا تو کھانا کھاتے ہی باہر کھیلنے چلا گیا۔ آج محلے میں سناٹا تھا۔ سخت گرمی ہورہی تھی۔ علی راستے میں پتھروں کو ٹھوکر مارتا ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ کہ اچانک اس کو ایک گھر کے کونے میں ایک بلی بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ علی نے دور سے اس کو ڈرانے کی کوشش کی

پیپلز الائنس برائے گُپکار اعلامیہ

 دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر میں ہر طرح کا بدلائو نظر آ رہا ہے ۔وہ چاہے تجارت ہو یا سیاست ،تعلیم ہو یا زبان ،ہر چیز میں ایسی تبدیلیوں کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ،جن کا کبھی یہاں کے سیاسی رہنمائوں نے گمان بھی نہیں کیا تھا ۔چند ماہ قبل تک ایسالگ رہا تھاکہ سیاسی کھلاڑیوں کے لیے اب یہاں سیاسی کھیل کھیلنے کا موقعہ مشکل ہی سے مل پائے گا۔ لیکن حالیہ کئی دنوں سے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔جموں کشمیر میں دفعہ کی منسوخی سے ٹھیک ایک دن قبل یعنی ۴؍ اگست 2019ء کو فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر سوائے بی جے پی ،باقی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370اور 35 ؍اے کو مکمل طور پر ختم کیا گیا یا ریاست کو تقسیم کرنے کی کوشش کوئی کی گئی تو اس کے خلاف متحدہ طور پر جد

رشوت ایک معاشرتی ناسور

عصر حاضر میں کسی کام کیلئے استحقاق صرف اْسی کا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں رشوت دے۔ رشوت ایک مہلک معاشرتی ناسور ہے جو تمام بدعنوانیوں کی جڑ ہے۔اخلاقی انحطاط کے شکار معاشرہ میں رہتے ہوئے انسان کو قدم قدم پر رشوت ستانی اور بدعنوانی سے واسطہ پڑتا ہے۔جو لوگ رشوت نہ دیں انہیں اپنے کام حل کرانے میں اکثر پریشانیوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رشوت وہ چیز ہے جو کسی کو اپنا مطلب نکالنے کیلئے دی جاتی ہے۔ یہ رقوم و تحائف دینے کا وہ عمل ہے جو وصول کنندہ کے طرز عمل کو متاثر کرتا ہے۔یہ ایک ایسا معاوضہ ہے جو کسی کو خلاف قانون کارروائی کرنے کے صلے میں دیا جاتا ہے تاکہ وہ بد دیانتی سے کسی حقدار کو محروم کرکے رشوت دینے والے کو فائدہ پہنچائے ۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات کے مشاہدات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ رشوت اور بد عنوانی کا زہر پورے معاشرے میں سرایت کرچکا ہے۔آج ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں رشوت نے

مسابقتی امتحانات اور کشمیر ی اُمیدوار

 وادیٔ کشمیر کی مردم خیز بستی میں زرخیز نسل نو گزشتہ تیس برسوں سے تیغوں کے سائے میں پل کر جوان ہوچکی ہی۔گزشتہ تیس برسوں سے چل رہے نامساعد حالات کی وجہ سے ایک غیر یقینی صورتِ بن چکی ہے۔ وادی میں کبھی ہرتال،کبھی کرفیو،کبھی کریک ڈاون،کبھی لاک ڈاون،کبھی انکاونٹر اور کبھی اور کوئی نا خوش گوار واقعہ رونما ہونے کی وجہ سے تعلیمی ادارے اکثر مقفل رہتے ہیں۔ چنا نچہ اس شورش زدہ علاقہ میں گزشتہ کہیں دہائیوں سے زندگی کے جملہ شعبہ جات کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبہ بْری طرح سے متا ثر ہوچکا ہے۔ہزاروں نوجوان طرفین کی تنا تنی کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کرسکے۔ ایک طرف سے سیاسی اْتھل پتھل اور دوسری طرف سے تعلیمی اداروں میں تد ریسی عملہ کی کمی،بہتر تعلیمی ماحول کی عدم دستیابی اور غربت و عسرت کے باوجود بھی وادی کے ہزاروں طلباء ہر سال مختلف امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے

’بکھرے رنگ ‘

''بکھرے رنگ'' ڈاکٹر عقیلہ کے خوبصورت افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر عقیلہ دل والوں کے شہر یعنی دلّی سے تعلق رکھتی ہیں۔ دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد آپ جموں وکشمیر کے ضلع راجوری کی یونیورسٹی بابا غلام شاہ بادشاہ میں بحیثیت معلمہ کم کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر عقیلہ کا یہ پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو منظر عام پر آیا ہے۔ اس کتاب کے کل صفحات 141 ہیں اور یہ مجموعہ حسب ترتیب گیارہ افسانوں پر مشتمل ہے۔پیڑ کا جن، بکھرے رنگ، قاتل، طلاق، فریب، آخر میں نے پا لیا تجھے، سرجو، چھوٹی سی محبت، شادی کا تحفہ، پچھتاوے کا  بھنور اور چال۔ ان سبھی افسانوں میں کسی نہ کسی سماجی پہلو کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ افسانہ نگار چونکہ عورت ہیں، اس لئے ان افسانوں میں خواتین کے مسائل کو ابھارنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔ ان افسانوں کو پڑھنے کے دوران قاری کبھی زور زور ٹھاٹھے ما

جذبات اور منطق

جذبہ (Emotion)اُردو میں عربی سے ماخوذ لفظ ہے جس کے معنی کشش یا کھنچاو کے ہیں۔جذبات جمع ہے جذبہ کی او ر جذبہ اُس وقت پیدا ہو تا ہے جب بیرونی عوامل(Factors)انسانی شعور کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔مثال کے طور پر عشق ایک جذبہ ہے او ر یہ اُس وقت تک اپنا صحیح اثر نہیں دکھا سکتا جب تک یہ انسانی شعور کو اپنے اندر جذب نہ کرلے۔ ہم ہر لمحہ کسی نہ کسی جذبہ کے تجرِبے سے گزر رہے ہوتے ہیںیا کوئی جذباتی کیفیت محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ جذبات یا احساسات دو قسم کے ہوتے ہیں…مثبت یا منفی(Positive or Negative) اور  تعمیری یا تخریبی (Constructive or Destructive) ۔ انسان کی خوشی ، راحت او ر کامیابی میں در حقیقت اُس کے جذبات یا جذباتی کیفیات سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جذبات ہو نا کوئی بُری چیز نہیں ہے۔ آخر ایمان بھی تو ایک جذبہ ہی ہے۔لیکن جذبات میں بہہ کر کوئی غلط قدم اُٹھانا غلط ہے۔جذباتی

والدین اور شاگرد نجی تعلیمی ٹکسالوں کے یر غمال

۱۵گست ۲۰۱۹ سے کشمیر اب تک پہلے تو سیاسی لحاظ اور اس کے چند ماہ بعد کوؤڈ کی مار مسلسل سہہ رہا ہے  اور اس میں ابھی تک کوئی اور کسی طرح کی کمی نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگ موت و حیات سے بے نیاز ہوچکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ بھی ایک طرح کا ٹروما ہی ہے۔مجموعی طور پر تمام نجی تعلیمی ادارے بھی پچھلے چودہ مہینوں سے بند ہیں ، کہیں بھی کسی قسم کا تعلیمی و تدریسی عمل ہونے کا ابھی کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس بیچ پچھلے ایک دو مہینوں سے نجی اداروں نے والدین کے لئے احکامات جاری کئے کہ ہم اب آن لائن کلاسوں کا اہتمام کر رہے ہیں ، اس کے باوجود کہ کشمیر میں فور جی پر پابندی عائد ہے اور براڈ بینڈ کا ٹو جی خراماں خراماں اپنی مرضی اور منشا پر کبھی چلتا  ہے تو کبھی نہیں ۔ ایک سیدھا سا سوال ہے کہ کیا ہر طالب علم کے گھر میں یہ ٹو جی ہے ؟ زمینی سطح پر یہ طریق کا ر ہماری جیسی سر زمین کے لئے

انسانی جان کا احترام

 انسانی تمدن کی بنیاد جس چیز پر قائم ہے اس کی پہلی دفعہ یہی ہے کہ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہو۔ انسان کو جینے کا حق دیا جائے۔جب انسان سے اس کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ خوف ، ہراس اور بد امنی کی صورت میں نکلتا ہے۔ دُنیا میں جتنی شریعتیں اور مذہب قوانین ہیں اُن میں انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے۔ انسان کی ضروریات زندگی تب ہی پوری ہو سکتی ہیں جب کہ اس کی جان محترم ہو اور ضروریات زندگی سے قطع نظر کر کے اگر خالص انسانیت کی نظر سے دیکھا جائے تو روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ قتلِ نا حق احسنِ تقویم سے گر کر اسفل السّٰفلین میں پہنچنے کا نام ہے۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس میں احترام نفس کے متعلق صحیح اور مؤثر تعلیم دی گئی ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ مختلف پیرایوں سے اس تعلیم کو دل نشین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سورۃ المائدہ میں ارشاد ربّانی ہے:&rsquo

تاخیر سے شادی نوجوان نسل کی تباہی

شادی ایک پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے جس سے کئی رشتے وجود میں آجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر شادی کو تمام انسانی رشتوں کی ماں کہا جائے تو نا مناسب نہ ہوگا۔ شادی اگر مناسب وقت پر کی جائے تو بہتر، افضل و خیر ہے اور تاخیر سے کی جائے تو کئی ایک مسائل کو اپنے ساتھ لے آتی ہے۔ شادی اگر بر وقت ہو تو اس سے وجود میں آنے والا خاندان اپنے فرائض بہتر انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔ اسلام نے شادی کے سلسلے میں بہت زیادہ تاکید کی اور اسے انسانی سماج کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے نیز مرد و عورت کی تکمیل کا ذریعہ گردانتے ہوئے اپنے وقت پر انجام دینے پر زور دیا ہے۔ بلکہ اس سے آسان سے آسان تر بنانے کی تاکید اسلامی تعلیمات میں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہے۔  سورۃ النور آیت نمبر 32 کے اندر سرپرستوں (Guardian) سے خطاب ہے کہ وہ اپنی زیر ولایت غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی تدبیر و سعی کریں، رشتوں کی تل

سیمینار سے ویب نار تک

آدھے برس سے زیادہ عرصے سے ساری دنیا لاک ڈاؤن موڈ پر ہے۔ بازاروں میں چہل پہل نہیں۔ دانش گاہوں میں گہما گہمی نہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں اور عالمی وباء سے بچنے کی تدبیر کررہے ہیں۔ لیکن ایسے ساکت وصامت ماحول میں ہاتھ پر ہاتھ دھرکربیٹھا بھی نہیں جاسکتا۔ The show must go on کے فلسفے کے تحت اس دنیا کو آگے بھی جانا ہے۔چنانچہ اہل علم وفن، مفکر، مدبر اوردانشور حضرات خاص طور سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر اخذ وعطا ، افادے واستفادے اور علمی وادبی، ثقافتی وتمدنی، تعلیمی وتجارتی مصروفیات کو آن لائن جاری رکھ کر کائنات کو بھاری بھرکم خسارے سے بچانے کی پوری تگ ودومیں ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ادبی سرگرمیاں بھی جاری ہیں اور علمی بھی۔ شعر وسخن کی محفلیں بھی جوان ہیںاور علم وفن کی مجلسیں بھی۔  کرونا سے قبل کی دنیا کی علمی وادبی سرگرمیوں کا ایک اہم جزء مختلف علمی وادبی اکیڈمیوں، کالجو

عالمی تجارت کے ہر روز بدلتے انداز

حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر بین الاقوامی تجارت اور اس سے جڑے مسائل، میڈیا اور ہیڈ لائنز کی زینت بن رہے ہیں۔ زیادہ تر بحث کا مرکز عالمی تجارتی جنگ کے خطرات، ردِ عمل میں تجارتی ٹیرف کا اطلاق اور اس کے نتیجے میں عالمی تجارت کا مستقبل رہا ہے۔ ہرچند کہ، یہ بحث اپنی جگہ انتہائی اہم ہے، تاہم اسی دوران عالمی تجارت کے حوالے سے کئی ایسے روشن پہلو بھی اْبھر کر سامنے آرہے ہیں، انھیں بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے۔ یہ روشن پہلو، چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں سامنے آنے والی جدت سے بھرپور ٹیکنالوجیز کے مرہونِ منت ہیں، جو تجارت کے عمل کو زیادہ مشمولہ اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ عالمی تجارتی نظام ( System  Trade  Global )میں ٹیکنالوجی کے تغیر ( Disruption  Technological)کا آنا کوئی نئی بات نہیں۔ بھاپ کی طاقت سے جنم لینے والے انقلاب نے دنیا کو کچھ ایسے بدلا کہ اس

’عوامی اتحاد‘ کو عوامی اعتماد کا فقدان!

جموں کشمیر کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں، نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی نے آخری انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے ہاتھ ملایا ہوتا تو علاقائی مفادات کا تحفظ بھی ممکن ہوتا اور عوام کے’ وقار‘ کو بھی بر قرار رکھنے میں مدد ملتی۔نیز دونوں پارٹیوں کو شاید نئی دلی کے ہاتھوں اُس ہزیمت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔اب دونوں نے باقی ماندہ چھوٹی پارٹیوں کے ہمراہ ایک ایسے وقت ’عوامی اتحاد‘ عمل میں لایا ہے جب جموں کشمیر کی سابقہ پوزیشن کی بحالی کیلئے فقط عدلیہ کا واحد دروازہ کھلا ہے۔عوامی حلقوں کو شکوہ ہے کہ این سی اور پی ڈی پی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کا مقصداول روز سے حصول اقتدار رہا ہے اور اس کیلئے دونوں نے کبھی بھی عوامی جذبات، احساسات اور مفادات کو خاطر میں نہیں لایا ہے۔ جموں کشمیر کی سب سے بڑی اور تاریخی سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ&r

تازہ ترین