تازہ ترین

مذہب کے نام پر خوں ریزی

دنیا میں رونما ہونےوالی زیادہ تر جنگوں کی دو اہم وجوہات رہی ہیں ۔مذہب اور عورت ۔ بادشاہوں نے کسی ایک خوبصورت عورت کے حصول کے لیے ملک کے ملک تباہ کردیے ۔اسی طرح مذہب کے نام پر ہونے والی جنگوں نے زمین پر خوں ریزی اور انسان کشی کے واقعات میں اضافہ کیا ۔عورت کے نام پر ہونے والی جنگیں اتنی خطرناک نہیں ہوتی تھیں جس قدر مذہب کے نام پر ہونے والی جنگوں کے ہول ناک نتائج سامنے آئے ۔استعماری طاقتوں اور ہوس پرست سماج نے عورت کے حصول کو اس قدر آسان بنادیا کہ اب جنگیں فقط مذہب کے نام پر رونما ہوتی ہیں ۔عورت کا حاصل کرنا اب اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہا جتنا سمجھا جاتا تھا ۔آج استعماری طاقتیں اپنے آلۂ کاروں کے لیے حسین ترین عورتوں کا انتظام کرتی ہیں اور انہیں تعیش پرستی کے تمام تر اسباب و سائل مہیا کرائے جاتے ہیں ۔اسی طرح دیگر ملکوں کے سیاسی رہنمائوں اور سرمایہ داروں کے لیے بھی عورت کا حصول بہت مشکل کا

روز رُلاتی ہے نوجواں کی بے حِسی

 کل صبح بھی جب اخبار اٹھایا تو ایک خبر پہ نظر پڑی، چند نوجوان منشیات کی خرید و فروخت کے جرم میں گرفتار کئے گئے تھے ۔ روزانہ ایسے واقعات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں دیکھنےاور پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ ایسے بدترین واقعات کو پڑھتے پڑھتے اب آنکھیں تھک چکی اور زبان گنگ ہو کر رہ گئی ہے۔ جب نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد ان ناجائز اور غیر قانونی کاموں میں مبتلا ہو جائے توقوم کے زوال میں دیر نہیں لگتی۔ قوم تباہی کے دلدل میں پھنس جاتی ہے اور آنے والی نسلیں بھی مختلف خرابیوں اوربُرائیوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں ۔حق بات تو یہی ہے کہ ہر ماں باپ اپنے بچوںکو نیک سیرت انسان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے یہاںتو اب باوا آدم ہی نرالا ہوا ہے۔ اول توبچوں کو اچھی تربیت کی گائڈینس ہی نہیں ملتی اور دوم بہتر رہبری کرنے والوں کا جیسے کال پڑچکا ہے۔۔نتیجتاًہمارے بچے کمسنی میں ہی فحش کاموں میں مبتلا ہو جاتے

ایک شاخ کے دو پھول

میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا پہلا مقدس رشتہ ہے۔میاں بیوی دونوں ایک ہی شاخ کے دو پھول ہیں ،یہ ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔خالق کائنات نے سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور جنت میں داخل کیا ،جہاں اس کے لئے عیش و آرام کا سارا سامان مہیا تھا،ہر قسم کی ضیافتیں میسر تھیں،جو چیز چاہتا وہ حاضرتھا ۔وہاں کسی بھی قسم کی کوئی پریشان نہیں تھی ۔لیکن اس کے باوجود آدم علیہ السلام کو کسی چیز کی کمی محسوس ہورہی تھی ۔وہ پوری طرح سے مطمئن نہیں تھا،دل میں بےاطمینانی موجود تھی،ایک انجانی چیز کی چاہ تھی ،جس کو خدا کے بغیر کوئی سمجھ ہی نہیں پاتا ۔بلا ٓخر خالق کون و مکاں نے کا ئنات کی پہلی عورت حضرت حواؑ کو پیدا کیا اور حضرت آدم کے پاس میں بیٹھنے کا حکم دیا ۔آدم علیہ السلام جب نیند سے بیدار ہوئے تو پاس میں ایک حسین و جمیل خاتون اول کو دیکھ کر خوشی سے مسکرانے لگے ۔روح کو سکون ملا اور دل کو اطمینان ۔بعد

سبیل القرآن۔ ایک تفسیر،ایک دعوت

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بے مثال کلام نازل فرمایا۔وہ قرآن نازل فرمایا جو ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ معرفت کا خزینہ ہے۔ ایک لامثال معجزہ (Ultimate Miracle) ہے ۔ایک ایسا معجزہ ہے جو قیامت کی صبح تک انسانیت کو معجزات سے نوازتا رہے گا۔ ہر زمانے میں انسانیت کو ہدایات سے مالامال کرتا رہے گا۔ دنیا کتنا ہی ترقی کرے ، یہ کبھی غیر متعلق  (Irrelevant) نہیں ہو پائے گا۔ اللہ پاک نے ہر زمانے میں ایسے پاک نفوس پیدا کئے ، جنھوں نے راتوں کی نیند (Mid night oil) جلا کر اس مقدس کلام کو سہل و آسان بنا کر بندگان خدا پہنچا یا ۔ قرون خیر سے آج تک ہزاروں کی تعداد میں اور دنیا کی قریب قریب ہر چھوٹی بڑی زبانوں میں اس کے تراجم اور تفاسیر لکھے گئےاور لکھے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ غیر مسلموں نے بھی یہ فریضہ انجام دیا ہے۔ ایسے میں اردو زبان جو ایک عالمی زبان کا درجہ رکھتی ہے ، میں بھ

مشتاق مہدی کا افسانوی مجموعہ۔’’آنگن میں وہ ‘‘

کشمیر میں اردو افسانہ آج کامیابی کے جس پائیدان پر ہے ،اس کو یہاں تک پہنچانے میں جن انشا پروازوں نے قلم کی جولانیاں دکھائیں۔ اُن میں مشتاق مہدی کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ مشتاق مہدی پانچ دہائیوں سے اردو اور کشمیری ادب کی آبیاری کر رہے ہیں۔پہلے مشتاق احمد مشتاق کے قلمی نام سے لکھا کرتے تھے،1977 ء میں یہ نام ترک کرکے مشتاق مہدی رکھ لیا۔ مشتاق مہدی نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ غزلوں اور ڈراموں کے علاوہ ٹی وی سریل بھی لکھے ہیں لیکن بطور افسانہ نگار ادبی حلقوں میں پہچان بنائی۔ اب تک آپ کے دو افسانوی مجموعے مٹی کے دِیے  1975ء ( یہ افسانوی مجموعہ تین دوستوں نے مل کر شائع کیا تھا اور اس مجموعے میں مشتاق مہدی کے علاوہ سید یعقوب دلکش اور غلام نبی شاہد کے افسانے بھی شامل ہیں) اور’’ آنگن میں وہ‘‘2010ء میں شائع ہوچکا ہے۔ ’آنگن میں وہ‘ کو م

اسلام میں مساجد کا مقام اور ان کی عظمت و اہمیت

حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: احَبُّ البلاد اِلى اللّٰه مَساجِدُها ۔ (ترجمہ(’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہترین جگہیں مسجدیں ہیں‘‘۔(صحیح مسلم) مساجد روئے زمین کی سب سے مقدس جگہیں ہیں، ان کی حیثیت روئے زمین پر ایسی ہی ہے جیسے جسم میں روح کی ،جسم کی بقاءروح کے بغیر نہیں ،اسی طرح مساجد کے اختتام کے ساتھ روئے زمین بھی ختم ہوجائے گی، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےقیامت کے وقوع کی قریبی اور بڑی علامتوں میں سے ایک،ام المساجد کعبہ شریف کا انہدام بتایا ہے۔ جس طرح ارواح جسم کے فناہونے کے بعد بھی محفوظ رہتی ہیں، نیکوں کی روح علیین میں اور بروں کی سجین رکھی جاتی ہیں، اسی طرح دنیا کے ختم ہونے کے بعد بھی مساجد باقی رہیں گی اوران کی جگہیں ایک دوسرے سے ملا کر ایک کردی جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا’&rsqu

نیکی کا حُکم اور بُرائی کا سدِ باب

ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقینا ًان کے لئے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ (سورہ ٔآل عمران،:۱۱۰)اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے امت محمدیہ کی باقی تمام امتوں اور قوموں کے مقابلے میں فضیلت وشان بیان فرمائی ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ مخلوق خدا کو نفع پہنچانے کے لئے وجود میں آئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نفع یہ ہے کہ یہ مخلوق کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کی فکرکرتی ہے اور یہ اس امت محمدیہ کا فریضہ منصبی ہے۔ اگر چہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر( یعنی لوگوں کو نیکیوں کا حکم کرنے اور برائیوں سے روکنے) کا حکم پچھلی امتوں کو بھی دیا گیا تھا،لیکن اس کی تکمیل اسی امت کے

مطلقہ یا بیوہ سے نکاح کرناباعث ِ اَجرو ثواب

بدلتے حالات اور بدلتے زمانے نے ہمارے لئے ڈھیر ساری آسانیاں اور مختلف کاموں میں سہولتیں پیدا کی ہیں، گزشتہ زمانے کے مقابلے ہم مختلف جہتوں سے چین و سکون اور آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے ، لیکن اس دنیا کی رنگینیوں اور چکا چوند نے ہمیں اپنی سابقہ روایات کی پاسداری، معاشرتی حسن و خوبی اور اسلامی تہذیب و تمدن سے یکسر غافل کر رکھا ہے اور ہم بھی اس ذلت آمیز اور فانی دنیا کو اپنی حقیقی اور دائمی دنیا سمجھ کر اس میں مدہوش سرگرداں ہیں۔ تقریبا ایک صدی قبل جب سے مغربی تہذیب نے ہمارے درمیان جگہ بنائی ،تب سے ہم اسلامی کلچر اور اپنے معاشرے میں اچھائی اور بھلائی کے کاموں سے کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس رنگین دنیا اور بدلتے زمانے میں جہاں ایک طرف بہت سے ایسے طور طریقے ہمارے درمیان رائج ہو چکے ہیں، جنھیں کبھی اسلام میں غلط اور ناگوار تصور کیا جاتا تھا لیکن آج ان پر کثرت سے عم

جمہوریت۔ ہمارے ملک کی پہچان ہے

  15 اگست 1947 کو وطن عزیز کے مجاہدینِ آزادی کی ناقابل فراموش جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے بعد ہمارا ملک آزاد ہوا اور ہمیں آزادی کی عظیم نعمت ملی۔ آج ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریتوں میں سے ایک ہے، جہاں تمام مذاہب کے لوگ ایک خاندان کی طرح بڑی محبت کے ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں اور ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ، جین وغیرہ اپنے اپنے مذہبی تہوار بڑے دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ تاہم گزشتہ سات دہائیوں سے لگاتار دو قومی تہوار یوم آزادی اور یوم جمہوریہ ایسے ہیں ،جنہیںمنانے میں ملک کا ہر شہری فخر محسوس کرتا ہے۔ یوم جمہوریہ جمہوریت سے جڑا ہوا ہے اور ہندوستان جیسے ملک کے لیے ایک سو تیس کروڑ کی وسیع آبادی، مختلف مذاہب، نسلوں، زبانوں اور یہاں تک کہ مختلف قومیتوں کے لیے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام حکومت نہیں ہو سکتا۔ یوم جمہوریہ ہر سال 26 جنوری کو پورے ملک میں جوش و خروش سے منایا

قائم رہے ہمیشہ جمہور کی داستاں!

یہ حقیقت ہے کہ علماء کرام کی بدولت ہی بھارت انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا ہے اور آج بھی مدارس میں ملک سے وفاداری کی تعلیم دی جاتی ہے،امن و سلامتی کا پیغام دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی مسئلہ درپیش آیا ہے تو مسلمانوں نے آگے بڑھ کر ملک کی حفاظت کی ہے، اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیا ہے، اس لئے نہ تو مسلمانوں پر شک کی گنجائش ہے اور نہ ہی دینی مدارس پر انگلی اٹھانے کی گنجائش ہے۔ آج جس طرح مرکزی و ریاستی حکومت نئے نئے قوانین بنا رہی ہے اور احتجاج و مظاہرے کو طاقت کے استعمال کے ساتھ روک رہی ہے، یہ جمہوریت کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش ہے۔ اس لیے کہ سیاسی پارٹیوں اور حکومت کے فیصلوں پر احتجاج و خیر مقدم دونوں کا اختیار ملک کے آئین نے دیا ہے اور آئین تب بنا ہے، جب سبھی مذاہب کے ماننے والوں نے ایک ساتھ ہوکر انگریز جیسی ظالم قوموں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور ہندوستان کو

پوشیدہ صلاحیتوں کو اُجاگر کیجئے!

دنیا میں آتے ہی ہر انسان کو یہ فکر دامن گیر ہوجاتی ہے کہ وہ اپنا روزگار کیسے اور کہاں سے حاصل کریگا ،اسی سوچ کو لے کر وہ کئی طرح کی تدابیریں کرتا رہتا ہے، پھر کچھ لوگ ان ہی تدابیروں کو لے کر کامیاب ہوجاتے ہیں تو کچھ لوگ تھک ہار کر گوشۂ گزیں کی حالت اختیار کرتے ہیں۔ حالانکہ دنیا میں جو کوئی بھی آیا، باصلاحیت آیا ۔قدرت نے ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور رکھی، وہ صلاحیت اس لئے تاکہ اسے وہ معاش حاصل کر سکیں اور اپنی زندگی آرام سے بسر کرسکیں۔ ہر انسان کے اندر چھپی صلاحیت اس کے لیے روزگار ہوتا ہے اور اُن ہی صلاحیتوں کے سہارے ہمیں جینے کو کہا گیا۔ اب یہ ہماری زمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو پہچانے اور اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو جاننے کی کوشش کریں اور پھر ان ہی صلاحیتوں کو ایک بہتر راستے پر چلانا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہمیں اپنی روزی روٹی حاصل ہوجائے۔ جب آپ اپنی صلاحیتوں کو نکھ

سیکولر پارٹیاں، موہوم اُمیدیں اورہندوستانی مسلمان

      مسلمانوں کے خلاف ہندو منافر تنظیموںکی موشگافیاں تو آزادی کے قبل ہی شروع ہو چکی تھیں اور مسلمانوں کا ایک حلقہ آزاد ہندوستان میں اپنے مستقبل کو لیکر اندیشوں میں مبتلا ہوتا جا رہا تھا ۔مسلم لیگ نے اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی تقسیم کی مانگ شروع کی اور آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بتانے میں  مصروف رہے۔ کچھ مسلمانوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی اور تقسیم ِہندکے بعد پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے اپنے وطن عزیز کی مٹی سے جدا ہونا گوارہ نہ کیا۔وہ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے تھے،بھلے ہی عبادت کے طریقے الگ ہوں لیکن انکی تہذیب مشترک تھی۔ زبان، لباس اور رسومات میں یکسانیت تھی۔خوشیوںاور غموں میں ایک ساتھ تھے ۔لیکن آزادی کے بعد بتدریج بدلتے حالات نے ثابت کیا کہ تقسیم کی بنیادکے اندیشے بالکل ہی بے بنیاد نہ تھے۔ اگرچہ ہندوستان

محکمۂ بجلی کے عارضی ملازمین

       ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ موسم سرما شروع ہوتے ہی جموں و کشمیر بالخصوص وادی کے لوگوں کو گونا گوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جن میں ایک اہم مشکل بجلی کی عدم فراہمی ہے۔ظاہر ہے جونہی وادی کے اطراف واکناف میں باری برفباری ہوجاتی ہے تو جہاں مختلف علاقوں کے لئے عبور و مرور کا سلسلہ مسدود ہوکر رہ جاتا ہے تو وہیںبرف باری سے مختلف دور درا ز اور دشوار گزار علاقوں میں بجلی کے کھنبے گرنے ،ترسیلی لائنیںٹوٹنےاور نصب شدہ بجلی ٹرانسفارمرز خراب ہوجانے سے بجلی سپلائی کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہےاور صارفین بجلی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ اکیسویں صدی میں بجلی انسانی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت بن کر رہ گئی ہے اور اس کے بغیر زندگی کا نظام ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔چنانچہ اس صورت ِ حال کو پیش ِ نظر محکمہ بجلی، صارفین کے لئے بجلی سپلائی بحال رکھنے میں ہمہ جہت کام میں ل

دعا ہی سبیل ِ واحد | دعا۔درحقیقت ترک ِ گناہ کا نام ہے

سابق اقوام بھی جب غیر اللہ کو پُکارنے کی روش اختیار کرنے لگے اور آخرت کے حوالے سے شفاعت کا غلط تصور لئے ہوئے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنے لگے تو اللہ تعالیٰ کا تازیانہ حرکت میں آنے لگا اور ان کی جڑ کاٹ دی گئی۔کائنات میں جو بھی چیز قائم کردہ حدود کو پھلانگتے ہوئے تجاوز اختیار کر لیتی ہے تو عین وقت اسے تباہی و بربادی سے کوئی بچا بھی نہیں پاتا اور بالآخر اُسے چوٹ کھانی ہی پڑتی ہے۔قرآنِ پاک میں ذیل کی آیتِ مبارکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ مختلف ظالم قوموں کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ آنے والے لوگ عبرت پکڑ کر اپنی نجات کا راستہ لیں۔وہ معبودانِ باطل پر بھروسہ کر کے اپنا سارا وجود اور اپنے سارے معاملات ان کے حوالے کر چکے تھے لیکن بحکمِ خدا جب عذاب اپنی اصلی شکل میں رونما ہوا تو یہ خود ساختہ معبود ان کے کچھ کام نہ آسکیں بلکہ انہوں نے ان کی بربادی میں مزید اضافہ کر دیا۔اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی نشاندہی ان

کشمیریوں کو بجلی کےبحران سے نجات ملے گی؟

ہم بچپن سے یہ بات سُنتے آرہے ہیں کہ انسان کوزندگی گزارنے کے لئے روٹی ،کپڑا اور مکان کی ضرورت ہوتی ہےمگر جُوں جُوں ہماری عمر بڑھتی گئی اور جوانی میں قدم رکھا، توآہستہ آہستہ اُ ن باتوں کا احساس ہونے لگا کہ روٹی ،کپڑے اور مکان کے علاوہ بھی بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جوزندگی گذارنے کے لئے ضروری ہیں ،جن کے بغیر انسانی زندگی ناپائیدار ہے۔خاص طور پر موجودہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میںکیا محض اُنہی چیزوں پر زندگی گذاری جاسکتی ہے جن کا نام ہم بچپن سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ ہم اس مضمون میں ضروریات زندگی کی اُن تمام چیزوں پر بات کرسکیں،جو انسانی  زندگی میں اہمیت کی حامل ہیں۔ہم یہاں صرف موجودہ دور میں درکار دو اہم چیزوں پر ہی بات کرلیں تو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ کیا واقعی روٹی کپڑے اور مکان کی موجودگی میں ہماری زندگی کا گزر بسر ہوسکتا ہے؟ جبکہ زندگی کا نظام چلانے کے لئے

سبزیوں کی کاشت کیجئے | اپنی آمدنی کو بڑھاوا دیجئے

آجکل کشمیر کے سیب مالکان، تاجر اور کاشت کار پریشان ہیں کہ بھارت کی میوہ منڈیوں میں ایرانی سیبوں کی وافر مقدار میں در آمد سے کشمیری سیبوں کا مستقبل اب خطرے میں پڑگیا ہے۔ یہاں کے سیب مالکان اور کولڈ اسٹور مالکان کہہ رہے ہیں کہ انہیں یا تو قیمت کم مل رہی ہے یا پھر مانگ ہی نہیں ہے۔ابھی صرف ایک ملک کے سیب نے یہاں کی میوہ صنعت کو ہلا دیا، اگر دیکھا جائے گزشتہ ایک دہائی سے میوہ صنعت میں کوئی نہ کوئی پریشانی ہوتی آرہی ہے۔ ناشپاتی، چری، خوبانی میں ہر سال بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، ایسے میں ضرورت ہے کہ کشمیر سے وابستہ کسان کچھ دوسرے اوپشنز(متبادلات) پر غور کریں۔ ایک بہترین اوپشن میوہ سے سبزی کی طرف رخ کرنے کی ضرورت ہے۔ سبزی کا لوکل(مقامی) مارکیٹ کافی وسیع ہے اورسبزیاں دیگر ریاستوں میں بھی بیچی جا سکتی ہیں۔ سبزیاں ہر گھر کی ضرورت ہے اور ہر گھر میں استعمال ہوتی ہیں، اس کے برعکس میوہ ہر گھر م

کچھ توذہنی سکون کا بھی خیال کریں

ہم انسانوں کو غار میں رہنے والے اپنے اُن آباو اجداد پر ترس آتا ہے جن کے پاس سمارٹ فون تھا نہ لیپ ٹاپ۔ ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رابطہ ہی نہ تھا۔بندے شکار کرنے نکلتے ،واپسی میں کوئی گم ہی ہوجاتا، پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس گڑھے میں گر کے مر گیا ہے۔ آج کا انسان ...Connectedہے،مطلب ہر وقت رابطے میں رہتا ہے ،ٹیکنالوجی کی مدد سے۔ پہلے زمانے میں لوگ ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے۔ محبت کرنے والے جب دوردراز کے شہروں میں اپنے شریکِ حیات کو خط لکھتے ،تو سسرال کی تلخ باتوں کو پی جایا کرتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تار والے فون آئے، پھر دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک انٹرنیٹ کی تار بچھا دی گئی۔سٹیلائٹ کے ذریعے لوگ ہر لمحہ رابطے میں رہنے لگےاور پھرموبائل فون آیا ، واٹس ایپ آئی اور فیس بک، گویا دنیا ہی بدل گئی۔ اب شوہر دفتر میں کام کر رہا ہوتاہے کہ بیوی کا پیغام ملتا ہے:میں تمہاری ماں کے ساتھ گزارا

یوم جمہوریہ اور مقام ِتفکر

   لمبے عرصے تک ہم گوروں سے بر سر پیکار رہے، پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برادران وطن بھی ساتھ آتے گئے اور قافلہ بڑھتا گیا۔ پھر کیا ہونا تھا ،جب انگریزوں نے ہمارے اتفاق کو دیکھا تو انہوں نے بہ خوبی سمجھ لیا کہ اب ہمیں بھارت کو چھوڑ نا ہوگا، اور اگر راج برقرار رکھنا ہے تو ان ہندوستانیوں کے مابین دھرم اور مذہب کی بنیاد پر پھوٹ ڈالنا ہوگا۔ بعد ازاں انگریزوں نے پھوٹ ڈالنے کی بہت کوششیں کیں، کچھ ہم وطن لوگ اس دام فریب میں پھنس کر عام لوگوں کو برانگیختہ کرنے کی کوشش کرنے لگے لیکن ہاتھ کیا لگا، بدنامی، غداری، ایمان فروشی اور گوروں کا چاپلوسی اور بھی اسی طرح کے بہت سے الفاظ جمیلہ ،جو ان جیسے لوگوں کے اوصاف قبیحہ کو واضح اور ظاہر کرتے ہیں۔ جب انگریزوں نے اچھی طرح بھانپ لیا کہ یہ فریب کے جال میں پڑنے والے نہیں ہیں تو ایک دوسرا شوشہ چھوڑا کہ دو مختلف قومیں ایک ساتھ گذر بسر نہیں کر سکتی ہ

سوشل میڈیا کا بے جا استعمال | خدا گنجے کو ناخُن نہ دے !

  بنی آدم کے ارتقائی سفر میں جن بیش بہا نعمتوں نے ترقی کی رفتار کو تیز کر دیا ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی قابلِ ذکر ہے۔ موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عروج کا دور ہے جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہی عمل دخل لگ بھگ ہر شعبے میں ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ رفتہ میں کسی شخص کے تعلیم یافتہ ہونے کی دلیل اُس کی تعلیمی اسناد کے ساتھ ساتھ اس کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سوجھ بوجھ میں مضمر مانی جاتی ہے۔ عام الفاظ میں کہیں تو کمپیوٹر کی جانکاری کے بغیر اونچی تعلیم حاصل کرنے والا شخص بھی انپڑ ھ تصور کیا جاتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی یا اطلاعاتی تکنالوجی میں ہر وہ چیز شامل ہے جس کے ذریعے ایک انسان  مختلف طرز کی معلومات  یعنی عکسِ ساکن ( تصویر)، عکسِ متحرک (ویڈیو) ، یا معلوماتِ تحریری کی تخلیق، تبادلہ ، نقل یا زخیرہ گری کر سکتا ہے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے 1958

مسلم اتحاد کا نعرہ الیکشن پر ہی کیوں ؟ | اُمّت کے رہبروںکی ناکار ہ سوچ کا نتیجہ

اترپردیش میں انتخابی ماحول ہے صبح سے شام تک خوب تبصروں کی ہوا چلتی ہے اور اسی بیچ مسلمانوں کی زبان پر یہ لفظ بار بار آتا ہے کہ ہمارا کوئی قائد نہیں ہے، ہمارا کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہے مگر کبھی بھی اس پہلو پر غور نہیں کیا جاتا ہے کہ کیا ہم کسی کو لیڈر تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جب بھی انتخابات آتے ہیں تو پسماندہ طبقات کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پسماندہ مسلمانوں کی شناخت کو چھپانے کی پوری پوری کوشش کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے نام پر اتحاد کا نعرہ لگایا جاتا ہے جو ہوا ہوائی ثابت ہوتاہے اور مسلم قیادت منہ کے بل گرجاتی ہے۔ پھر پانچ سال تک رونا رویا جاتا ہے مگر پھر بھی ذہن میں یہ بات نہیں بٹھائی جاتی کہ حقیقت کو تسلیم کرلیا جائے اور یہ نعرہ لگایا جائے کہ دلت پچھڑے ایک سمان چاہے ہندو ہوں یا مسلمان۔ جس طرح ہندؤں میں برادریاں ہیں، اسی طرح مسلمانوں میں بھی برادریاں ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہندو

تازہ ترین