تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کا تدارُک و سدِباب

کل کائنات ایک مکمل وحدت ہے، اس میں کارفرما نظام باہم ایک دوسرے سے مربوط اور بندھا ہوا ہے۔اللہ عزوجل نے کائنات کی ہر چیز کی تخلیق میں اس خصوصیت کا بھرپور خیال رکھا ہے کہ وہ چیز انسانی حیات اور انسان کے ساتھ زمین پر رہنے والی زندہ مخلوق کی حیات کے لئے مفید ہو،چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تخلیق صحیح متعین مقدارمیں مناسب انداز پر مکمل موزونیت کے ساتھ کی ہے ۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :’’اور ہم نے پر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے‘‘۔ (سورۃ القمر: ۴۹)نیز اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:’’اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیے ، اور اس میں ہر قسم کی (ضرورت کی ) نباتی چیز ایک متعین مقدار سے اُگائی‘‘۔(سورۃالحجر: ۱۹)اسلامی تعلیمات اس حقیقت کی مظہر ہیں کہ دینِ فطرت نے ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے خاص تاکید فرمائی ،اسلام نے ایسا نظام او

’موسمِ سرما‘

اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے چار موسم بنائے ہیں‘ بہار‘ گرمی‘ خزاں اور سردی۔ بہار میں کائنات کھل اٹھتی ہے، نئی کو نپلیں پھوٹتی ہیں،پھول نکلتے ہیں اور پھل لگتے ہیں۔گرمی آتی ہے تو فصلیں پکتی ہیں، پھلوں میں رس پڑتا ہے،فصلیں کٹنے کےلئے تیار ہوتی ہیں اور درختوں کے پتے ہوا اور سایہ دیتے ہیں۔ خزاں کے موسم میں ہر چیز مرجھا جاتی ہے، گھاس سوکھ جاتی ہے، پتے گر جاتے ہیں، شاخیں جھک جاتی ہیں، پھول غائب ہو جاتے ہیں، پانی کم ہو جاتا ہے اور چوتھا موسم سردی کا ہوتا ہے۔ سردی کے موسم میں پالے پڑتے ہیں، کہرازمین کو ڈھانپ لیتا ہے اور برف زندگی کو منجمد کر دیتی ہے۔ سردی ہو یا گرمی! ہر موسم عبادت کا موسم ہے، لیکن سردیوں میں کم وقت میں زیادہ ثواب کمانا نسبتاً آسان ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: موسمِ سرما مؤمن کا موسمِ بہار ہے کہ اِس میں دن چھوٹے ہوتے ہیں تو مؤ

تازہ ترین