تازہ ترین

نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوںکا احتجاج

 غالباًیہ ہندوستان کی تاریخ کا پہلا موقع تھا، جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں،بلکہ لاکھوں سکھوں نے اپنا سب سے بڑا تہوار کسان تحریک کے درمیان سڑکوں و خیموں میں منایا۔جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ پچھلے کئی دنوں سے دہلی و ہریانہ کی سرحد پر پنجاب سے لاکھوں کسان آئے ہوئے ہیں ،جو مرکز کی جانب سے حال میں بنائے گئے زرعی اصلاحات کے کئی قوانین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔پنجاب سے دہلی آنے والے اِن کسانوں میں سکھوں کی تعداد خاصی ہے،جنہیں گرونانک دیوجی کا یوم پیدائش کے موقع پر گرودواروں میں عبادت اور خوشی کا موقع حاصل نہ ہوسکا۔ گرونانک دیوجی سکھوںکے پہلے مذہبی گرو تھے، جن کی پیدائش شہر نانکانہ صاحب( پاکستان)میں 15اپریل 1469 کو ہوئی تھی۔اس باران کا551واں یوم ولادت تھا،جس کی عظمت سکھ کمیونٹی کیلئے ہی نہیں بلکہ عالم انسانیت کیلئے خاص تھی۔خیال رہے کہ کارتک پورن ماشی کے دن منائے ج

معذورین احساسِ محرومی کے شکار کیوں؟

انسانی جسم میں کسی بھی عضو یا جسم کے کسی بھی حصے یا جسمانی صحت کے بنیادی اصول سے محرومی کے حامل افراد معذور کہلاتے ہیں۔معذوری ذہنی ،جسمانی،پیدائشی اور حادثاتی بھی ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے ہر سال ۳ دسمبر کو معذور افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کے منانے کا خاص مقصدمعذوروں کے مسائل و ضروریات اور ان کی صلاحیتوں اور کار کردگی سے متعلق معاشرے اور حکومت کو متوجہ کرنا ہے تاکہ سماج میں انہیں بھی ویسا ہی مقام اور حقوق عطا کئے جائیں جیسے کہ ایک عام آدمی کوحاصل ہیں۔ معذور افراد انسانی معاشرے کا وہ حصہ ہے جنہیں عام لوگوں سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگرچہ اللہ تعالی نے ان اشخاص کو کسی نعمت سے محروم رکھا ہے لیکن پھر بھی یہ اپنے اندر ایسے گوہر سنبھالے ہوتے ہیں کہ اگر انہیں ذرا سا بھی تراشا جائے تو ایسے کمالات کر کے دکھا سکتے ہیں جو کہ ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔لیکن اس کے باوجود بھی

معذوری انسانی تنوع کا حصہ

 معذور افراد کی روئیداد اجتماعی طور پر معاشرے کے سرہانے ہے اگرچہ معاشرہ اس سے باخبر ہو یا محو ِ غفلت۔آج یعنی3 دسمبر ، معذور افراد کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، اور یہ ان کی تنظیموں کے جلوسوں اور دیگرانجمنوں کے ذریعہ فقط کچھ پریس ریلیز کی کارگزاری کے سِوا نہیں گزرنا چاہئے۔ بلکہ اس جدید سائنسی دور میں ہم عام لوگوں کو اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو آگے بڑھنے اور اس انسانی مسئلے میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ مدد ایک مسکراہٹ سے شروع ہوتے ہوئے ایک عساء کے چلتے سائنسی پیشرفت کے ذریعہ ایک آرام دہ زندگی پر رکتی ہے۔ جیسے اوزار ، تکنیک اور ان کی طرف رخ کرنے کا رجحان۔  رویہ: سب سے اہم یہ ہے کہ تبدیلی کے لئے عقیدے کا رویہ اور جو لوگ خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ ایک یا دوسرا تعلق رکھتے ہیں ، صبر ، استقامت اور مثبت سوچ کے مقصد کو پہنچنے کے راز کو برقرار رکھتے ہیں۔  سروے: جم

تازہ ترین