تازہ ترین

عجم پر عالمِ عرب کی سرگرمیوں کے اثرات

دنیائے عرب کے اندر ماضی قریب میں دو ایسی پیش رفت وقوع پذیر ہوئیں جن کے اثرات سے جنوب ایشیا ،خاص طور سے بر صغیر ہند و پاک کا خطہ بہت حد تک متاثر ہوسکتا ہے۔ذرائع ابلاغ میں شائع اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ20ریال کے اُس کرنسی نوٹ کو تبدیل کررہا ہے جس میں آر پارجموں کشمیر کو بھارت اور پاکستان سے الگ خطہ دکھایا گیا تھا ۔مذکورہ کرنسی نوٹ کے اُلٹے طرف بنے اس نقشے کو لیکر نئی دلی نے سخت ناراضگی جتائی تھی۔اس نوٹ کی اجرائی سعودی عرب نے حالیہ جی۔20اجلاس کے موقع پر یادگار کے طور پرکیا تھا۔  ادھر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ رشتوں کی باضابطہ استواری کے بعد اسلام آباد پر بھی ایسا ہی کرنے کا دبائو بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاں کے قوانین تک کو بدلنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ماہ ستمبر میں متحدہ عرب امارات کے اندر اسرائیل کی نیم برہنہ ماڈلز کو اپنے ملک کا پر چم لہراتے ہ

کیا انتظامیہ کو ڈائٹنگ کی ضرورت ہے؟

جموں کشمیر ہندوستان میں واحد خطہ ہے جہاں سرکاری ملازمین کی فی کس نسبت (Per Capita Ratio) سبھی ریاستوں سے زیادہ ہے۔ مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک ، اْتر پردیش اور بِہار جیسی ریاستوں میں ہر سرکاری ملازم کے مقابلے شہریوں کی تعداد3500 سے 4000 کے آس پاس ہے جبکہ ہمارے یہاں ہر800 شہریوں کے مقابلے ایک سرکاری ملازم ہے۔ جموں کشمیر میں ہر شہری کے مقابلے  ملازمین ہیں اور جموں کشمیر مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک ، اْتر پردیش اور بہار وغیرہ سے نہ صرف رقبہ بلکہ آبادی کے لحاظ سے بھی بڑی ریاستیں ہیں۔ اور اْدھر شہری۔ملازم کی نسبت ہمارے سے بہت کم کے باوجود وہاں انتظامیہ کا یہ حال نہیں جو ہمارے یہاں ہے۔  جموں کشمیر کا سالانہ بجٹ ایک لاکھ بیس ہزار کروڑ تک ہے اور اْس میں سے ہم40 ہزار کروڑ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ کرتے ہیں۔ بتایا تو جاتا ہے کہ بہت بڑی رقم تعمیراتی

وحشی سعید… رومانیت سے حقیقت تک

جموں و کشمیر اردو ادب کا ایک اہم دبستان ہیں جس نے اردو ادب کی تاریخ کو اپنی نگارشات سے مالا مال کیا ۔یہاں کے ادباء اور شعراء نے یہاں سے گزرتے ہوئے برصغیر میں بھی اپنی ایک شناخت قائم کی، غنی کاشمیری سے لے کر عصر حاضر میں ترنم ریاض تک ایسے کئی قلم کار ہیں جنہوں نے اپنے فن کی بدولت اردو زبان و ادب کو وسعت عطا کی ۔جموںوکشمیر میںجب بھی فکش خاص کر اردو افسانہ کی بات کی جائے تو وحشی سعید ساحل کا نام یہاں کے نامور افسانہ نگاروں کے ساتھ لیا جاتاہے۔ انہوں نے اردو افسانے کی خدمت کر کے اپنی ایک پہچان قائم کی ۔ انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز اپنی تعلیم کے دوران ایس پی کالج کے معروف میگزین ’’ پرتاپ ‘‘ سے کیا ۔شروع شروع میں ان کے افسانوں میں رومانیت کا عنصر زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے،اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ افسانے انہوں نے عنفوان شباب کے زمانے میں لکھے ہیں۔یہ افسانے ان

جواہر نوودیہ ودیالیہ

ملک کے ہر بچے کو اچھی تعلیم ملے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہری علاقوں میں سرکاری اور نجی اسکولوں کا جال بچھا ہوا ہے ان اسکولوں میں مکمل سرکاری امداد پر چلنے والے، جزوی طور پر حکومتی امداد یافتہ پرائیویٹ اسکول اور مکمل نجی یا پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم ہمارے ملک میں عام ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بالخصوص دیہی علاقوں میں پچھڑے اور قبائلی طبقات کے ذہین طلبہ کے ٹیلنٹ کو ابھارنے اور انھیں بھی اعلیٰ تعلیم دینے کی غرض سے ۱۹۸۶؁ء کی ایجوکیشن پالیسی کے مطابق ایسے دیہی ضلعوں میں رہائشی اسکولوں کا قیام کرنے کا آغاز کیا گیا ان اسکولوں کو ’’جواہر نو ودیہ ودیالیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اسکول براہِ راست مرکزی وزارت انسانی وسائل کے زیرِ انتظام اور مقامی اسکول منیجمنٹ کمیٹی ، جس کے چئیرمن اس ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہوتے ہیں، کی نگرانی میں ملک کی مختلف ریاستوں رہائشی طرز پر بالکل مفت جاری

’عالمی زبان ‘ کا پروفیسر گوپی چند نارنگ نمبر

ڈاکٹر سیفی سرونجی علم و ادب کی ایک کہکشاں کا نام ہے جن کی بدولت ایوان ادب میں ہر سو روشنی پھیل رہی ہے۔ انھوں نے ایک عرصہ سے ’’انتساب‘‘اور ’’عالمی زبان‘‘کا اجرا کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے جو کام کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ’’انتساب‘‘ کے خاص نمبروں نے پوری دنیا میں ایک تہلکہ مچا رکھا ہے۔ وہ ’’انتساب ‘‘ کا بھی ایک ضخیم نمبر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے لیے نکال چکے ہیں ۔ ان کے فکر و فن پر ڈاکٹر سیفی سرورنجی کی دو کتابیں ’’ گوپی چند نارنگ او راردو تنقید ‘‘ اور ’’ مابعد جدیدیت او رگوپی چند نارنگ ‘‘ بھی منصہ شہود پر آچکی ہیں ۔ 17 نومبر 2020ء کو انھوں نے ’’عالمی زبان‘‘ کا ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نمبر شائع کر کے ایک بہ