تازہ ترین

مقامی صحافت :ماضی اور حال کے آئینے میں۔۔۔۔قسط پنجم

 گیارہ سال پہلے نومبر کے ہی مہینے میں یکے بعد دیگرے جموں و کشمیر میں دنیائے صحافت کی دو بڑی شخصیات اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں ۔پہلے صوفی غلام محمد اور اس کے بعد خواجہ ثناء اللہ بٹ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زندگی کی جنگ ہار گئے ۔دونوں ایک دوسرے کے پیشہ ورانہ حریف تھے لیکن ایک دوسرے کے دوست بھی تھے ۔ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی دھن دونوں کے سروں پر سوار تھی لیکن دونوں ایک دوسرے کی ہر مشکل میں کام بھی آتے تھے ۔خواجہ ثناء اللہ بٹ کو کشمیر کا بابائے صحافت کہا جاتا ہے ،وہ اس لئے کہ انہوں نے عام کشمیریوں میں اخبار پڑھنے کی عادت ڈال دی ۔گزشتہ صدی کی پچاس کی دہائی میں انہوں نے بے سروسامانی کی حالت میں کشمیر کی وادی میں روزنامہ آفتاب کا اجراء کیا تھا ۔اس سے پہلے وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہفت روزہ اخبار ’’کشیر‘‘شائع کرتے تھے ۔ چونکہ وہ خود مختار اور آزاد

حقیقت کا ادراک کریں

سماج کو درپیش مسائل میں اِس وقت رشتوں کا انتخاب بالخصوص لڑکیوں کی شادی ایک بہت اہم مسئلہ بن چکا ہے ۔کئی والدین چاہتے ہوئے بھی اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہیں کرپارہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ غیر اسلامی اور غیر انسانی رسم و رواج کی وجہ سے غرباء کی بیٹیاں بے بسی اور بے چارگی کی چادر اوڑھے چار دیواری میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہورہی ہیں۔اس بات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ لڑکی کا دنیا میں پہلا روپ ہی رحمت ہے ،جو بیٹی بن کر خاندان کے دلوں پر راج کرتی ہے۔بہن بن کر بھائی کی سچی اور مخلص دوست اور ماں کا بازو بن کر رہ جاتی ہے۔ بیوی ہوتی ہے تو ایک پختہ اور ہمیشہ ساتھ نبھانے والی اور جب وہ ماں بنتی ہے تو اللہ اس کا رتبہ اتنا بلند کر دیتا ہے کہ جنت کو اٹھا کراس کے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔  معاشرے میں اس(عورت) کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا موضوع زمانہ قدیم سے ہی مختلف معاشروں اور تہذیبوں میں زیر بحث رہ

روشنی ایکٹ… نفاذ سے منسوخی تک

حال ہی جموں وکشمیر میں اراضی سے متعلق قوانین میں بڑے پیمانے پر ردِوبدل کیا گیا۔ کچھ پرانے قوانین سرے سے ہی منسوخ کئے گئے یا ان میں ترمیمات کی گئیں اور کچھ نئے قوانین نافذ کئے گئے۔9 اکتوبر 2020ء کو ہائی کورٹ کی طرف سے روشنی ایکٹ کے نفاذ کے خلاف  دائر شدہ مختلف کیسوں کی سماعت کے بعدہائی کورٹ نے اس قانون کو ہی کالعدم قرار دیاجس کے بعد لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کی طرف سے31 اکتوبر 2020ء کو روشنی ایکٹ کو بھی اسی ردِ بدل میں منسوخ کیا گیا۔ یہ قانون سال 2001 ء میں نیشنل کانفرنس کے دور اقتدار میں پاس کیا گیاتھا۔ اْس وقت یہ بتایا گیا تھا ریاست میں کہ 20,64,972 کنال سرکاری/ سٹیٹ لینڈ مختلف لوگوں کے ناجائز قبضے میں ہے جسکی مالیت 25,448 کروڑ روپیہ ہے۔ روشنی ایکٹ کے تحت اْس وقت 1990ء یا اس سے پہلے جن لوگوں کا اس زمین پر ناجائز قبضہ تھا ان سے سرکار کی طرف سے مقرر کردہ ریٹ کے مطابق قیمت حاصل کرکے مال

’دیرلس ارتغرل‘سے ’ممالک النار‘تک

دیرلس ارتغرل ایک ترک تاریخی ڈرامہ سیریز ہے جس کے مصنف اور تخلیق کار مہمت بوزداگ ہیں ۔انگن الٹن Engin Altinنے اس سریز میں بطورِ ارتغرل کے مرکزی اداکار کارول ادا کیا ہے۔ یہ ڈرامہ سلطنت ِعثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد ارتغرل غازی کی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ عثمانی روایات کے مطابق ارتغرل سلیمان شاہ کا بیٹا تھا ، جو اوغزOguz ترکوں کے ’’کییKIE‘‘ قبیلے کا رہنما تھا جنہوں نے منگول قتل عام سے بچنے کے لئے وسطی ِایشیا سے ہجرت کی تھی۔ پچھلے کئی برسوں سے اس ڈرامہ سیریز نے60 سے زائد ممالک میں اپنی کامیابی کا لوہا منواتے ہوئے کثیر تعداد میں لوگوں کو اپنا مداح بنایا ہے ۔ مشرقی وسطیٰ سے لے کر جنوبی افریقہ  ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے بیشتر ممالک کے لوگوں کواس ڈرامہ سریز نے اپنا گرویدہ بنایا ہوا ہے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس سریز کو اسلامی ممالک میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ