تازہ ترین

محصولات کی رکاوٹوں سے کچھ نہ ملے گا

کسی زمانے میںنوکیا موبائل فون ہینڈ سیٹس میں دنیا کالیڈر تھا۔ اس کاسب سے بڑا مینوفیکچرنگ پلانٹ ہندوستان میں ایک خصوصی معاشی زون کا حصہ کے طور سریپرمبدور میں واقع تھا۔ چھ سال کی مدت میں اس نے500 ملین سے زیادہ ہینڈسیٹ بنائے جن میں سے زیادہ تر برآمد کئے گئے۔ نوکیا بالواسطہ ملازمت سمیت 30ہزار لوگوںکو روزگار دے رہا تھا اور ان میں خواتین ملازمین کا ایک بڑا حصہ تھا۔ نوکیا واقعتا  ہندوستان کو ایک مینوفیکچرنگ ہب بنانے کی عمدہ مثال تھا۔ یہ ایک عالمی برانڈ کے اعلی معیار کی مصنوعات اور اعلی معیار کے روزگار کے لئے ماناجاتاتھا جس نے اس وقت کے برانڈ کو 'میڈ ان انڈیا' میں شامل کیا۔ لیکن ‘میک ان انڈیا’ نعرہ بننے سے بہت پہلے نوکیا پلانٹ بند ہوگیاتھا۔ یہ اب بزنس اسکولوں میں سنڈریلا کی کہانی کے عین مخالف ایک کیس سٹیڈی بن چکا ہے کہ کس طرح ایک کامیاب خواب جیسی کہانی بے سود بن سکتی ہ

علامہ اقبال اور حیات وممات کا تصور

حیات بعد ِ موت اسلام کا ایک اساسی تصور ہے جس کا پرچار قرآن اور احادیث میں اونچے درجے پر کیا گیا ہے۔ اور ایک انسان اُس وقت تک مومن کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا جس وقت تک وہ توحیدِ خالص کے ساتھ ساتھ حیات بعدِ موت پر یقینِ کامل نہ رکھتا ہو۔ یہ بات اظہر من الشمس  ہے کہ ہر ذی حس کو موت کی کڑوی مگر تعین شدہ حقیقت کا سامنا ضرور کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔’ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘(سورہ- آلِ عمران- 185 ) حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو دنیاوی زندگی ایک مختصر ساوقفہ ہے کہ جس کے بعد اصل منزل موت اور اور موت کے بعد آخرت کی زندگی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں رسول اللہؐ کا فرمان ہے کہ اس دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی مسافر کسی جگہ پرپڑاؤ ڈالتا ہے۔ اس فرمانِ رسولؐ سے یہ حقیقت سورج کی مانند واضح ہوجاتی ہے کہ دنیاوی زندگی محض ایک پڑاؤ ہے منزل ہر گز نہیں ہے‘ م

وہ بھی کیادن تھے کہ جب ڈاکیہ چٹھی لے کر آتا تھا

 ڈاک او رڈاک خانہ کی اہمیت ہر دور میںمُسلّم رہی ہے ۔زمانہ کبھی بھی ایک ہی ڈگر او ریکسان نہیں رہتا ہے ۔یہ دُور کی بات نہیں ہے بلکہ دو تین دہائیوں کی قبل کی طرف جب ہم چشم تصور سے جھانکتے ہیں تو صاف طور پر یہ نظر آتاہے کہ آج کی جدید ترین سہولیات کی نسبت بہت کچھ ڈاک پر ہی منحصر ہوتاتھا۔متوسطہ درجے کے لوگ عمومی طور پر بینکوں سے زیادہ اپنی چھوٹی چھوٹی رقمیں بچا کر ڈاک خانہ میںکھاتہ کھول کر ان رقوم کو محفوظ رکھتے تھے۔Small Saving Scheme کے تحت اکثر غریب او رنادار لوگ اپنی بچت شدہ رقم کو ڈاک خانہ میں کھولے گئے کھاتوں میں ڈال کر بوقتِ ضرورت ایک بڑی رقم سے استفادہ کرتے تھے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں او رلاکھوں کی رقوم سے بھی کھاتہ کھول کر یہ معیاد بند سرٹفکیٹ کی صورت میں لوگ روپیہ جمع کرتے تھے ۔بچت بنک کے علاوہ ڈاک خانوں میں کثیر المقاصد خدمات میسر رہتی تھیں۔ جوکہ آج بھی بہت حد تک جاری و سا

ادیبوں پر کنجوسی کا الزام

ادیبوں کی طرف منسوب بہت ساری باتوں میں سے ایک بات ان کی طرف بخالت کی نسبت بھی ہے۔عرب وعجم کے بے شمار ادباء پر کنجوسی کا الزام لگایاگیا۔ ہمارے ایک ساتھی تھے۔ انہیں لوگ کنجوس کہتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ لوگ ان کے بارے میں ایسا سوچتے ہیں تو انہوں نے کوشش کی کہ وہ اس الزام سے خود کو بری ثابت کرسکیں۔عرب وعجم کے بے شمار ادباء ایسے ہیں جن پر کنجوسی کا الزام لگایا گیا۔ احمد حسن زیات عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ ان کی کتاب تاریخ ادب عربی ہندوستان میں بہت مقبول رہی ہے۔عصری جامعات سے وابستہ شاید باید ہی کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے اس کتاب سے استفادہ نہ کیا ہو۔ان پر کنجوسی کا الزام لگایاگیا۔ان کی کنجوسی کے بارے میں ڈاکٹر طہ حسین کہتے ہیںکہ ’’ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کنجوس یا بخیل تھے درست نہیں ہے۔ میں نے کتنی مرتبہ ان کے یہاں شام کا کھانا کھایا ہے۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ غ

تعمیراتی صنعت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی

گزشتہ عشرے میں ڈیجیٹل ترقی نے تمام صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے، جسے چوتھا صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے۔ میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ ای کامرس کے بڑے اداروں ایمزون اور علی بابا نے اینٹ اور پتھر سے بنے ریٹیلرز کو ماضی کا قصہ بنا دیا ہے۔  اسی طرح ڈیجیٹل موبلٹی کمپنیاں، آٹو مینوفیکچررز کو چیلنج کررہی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجیز بہتر تفریح، بہتر خریداری اور بہتر آمدورفت کے لیے صارفین کی ضروریات کو پورا کررہی ہیں بلکہ اختراع اور جدت نے ان کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت اور پائیداری کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ساتھ ہی جدید دور کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز ہنر اور صلاحیت کو بھی نئے معنی دے رہی ہیں۔ البتہ، اس عرصے میں تعمیراتی صنعت زیادہ تر اسی طرح کام کررہی ہے، جس طرح اس صنعت میں 50برس پہلے کام ہوتا

مضاربہ اور اس کے اصول

مضاربت ایک قسم کی تجارتی شراکت ہے جس میں ایک جانب سے سرمایہ اور دوسری جانب سے محنت ہو، اس معاہدے کے تحت اسے کاروبار کے نفع میں ایک متعین نسبت سے حصہ ملے گا نیز سرمایہ فراہم کرنے والے اور محنت کرنے والے متعدد افراد ہوسکتے ہیں۔شرعی اصطلاح میں مضاربت اس معاہدے کو کہتے ہیں جس میں ایک فریق کی جانب سے مال ہو اور دوسرے کی جانب سے عمل ہو اور نفع میں دونوں شریک ہوں۔ لغت کی رو سے مضاربت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنا مال کسی کو اس شرط پر تجارت کی غرض سے دے کہ نفع میں باہمی سمجھوتے کے مطابق دونوں شریک ہوں گے اور نقصان مال والا (صاحب مال) برداشت کرے گا۔لفظ ’’مضاربت‘‘ مادہ ضرب سے نکلا ہے جس کے معنی’’ سفر‘‘ کے ہیں کیونکہ کاروبار تجارت میں بالعموم سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ روپے پیسے میں اضافہ کرنے اور اسے بڑھانے کے لئے اسے کسی کاروب