تازہ ترین

بائی لائن ’مدثر علی‘ معدوم

کسی قریبی شخص کے انتقال کے صدمے سے دو چار ہونا ایک ایسا تکلیف دہ تجربہ ہے جس سے جلد یا بدیر ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ کسی قریبی ہستی کا انتقال ہو جاتا ہے تو انسان پر جو گزرتی ہے اُس کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔کچھ ایسا ہی احساس صحافی مدثر علی کی اچانک موت سے اُن کے ہر جاننے والے کو ہوا ہے۔حالانکہ راقم کو مدثر کے ساتھ بہت زیادہ قریبی مراسم نہیںتھے لیکن کئی برس کی پیشہ ورانہ شناسائی نے مجھے اُن کے ساتھ ایک گہرے اور انجانے رشتے میں جوڑا تھا ۔ کسی بھی چیز کے کھو جانے یا خاص طور پر کسی قریبی انسان کی موت کے بعد انسان غم کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ یہ تمام مراحل اپنا وقت لیتے ہیں ۔ہم عموماً زیادہ دکھی تب ہوتے ہیں جب کسی ایسے شخص کو کھو تے ہیں جسے ہم کچھ عرصے سے جانتے ہوں۔ لیکن دیانتدار صحافی مدثر ایک ایسی شخصیت کا مالک تھے جس کی موت کی خبر نے اُن کو سر کی آنکھوں سے نہ دیکھنے وا

ذوقِ تجلی اور شوقِ ادراک

ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں  غافل تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے حکیم الامت کا یہ شعر فکر و ادراک کی وادی میں سرگرم انسان کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی ایک کوشش ہے کہ انسان کا وجود خاکی محض فکر کی جولانیوں سے مطمئن ہوسکتا ہے اور نہ ہی حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ خاک کا یہ پتلا، جو عقل و دل کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے، ادراک کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی اگر کسی چیز میں سکون پاسکتا ہے تو وہ ذات باری کی تجلی ہے، جس سے ہر انسان اپنی استطاعت اور صلاحیت کے مطابق مستفید ہوسکتا ہے اور ہوتا آیا ہے۔ قرآن کی آیات نہ صرف انسان کی فکر و ادراک کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں بلکہ ان کو ایک ایسی سمت اور جہت عطا کرتی ہیں کہ انسان ہمیشہ فکر کی پرواز کو برقرار رکھنے کے لئے تجلء رب کا متلاشی اور طلبگار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآں فکر کی صلاحیت پر اترانے والے انسان کی نفسیات کو یوں بیا

سیرت نگاری کاآغاز و ارتقاء

لفظ سیرت کی تعریف و تاریخ-: عربی زبان میں لفظ’ سیرت‘ یا’ سیرہ‘ اس کے صیغہ فعل ساز، یسیر،سیراََ سے نکلا ہے جس کے معنیٰ چلنے پھرنے یا سفر کرنے کے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے معنیٰ طریقہ، شکل و صورت، راستہ، روش اور چال و چلن کے بھی ہیں۔ کسی ایک انسان کی سیرت کا مطلب اس کی زندگی کے سفر کا راستہ ہے، جس پر چل کر وہ اپنی زندگی کے مختلف مراحل طے کرتا ہے، ماں کی کوک سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک۔ اس لئے سیرت کا لفظ سوانح حیات کے معنیٰ میں بھی بولا جاتا ہے، تاریخ بیان کرنے کے معنیٰ میں بھی اور ذاتی زندگی کے معاملات بیان کرنے کے معنیٰ میں بھی۔ قرآن پاک میں بھی لفظ سیرت کا استعمال مختلف معانی میں ہوا ہے۔ مثلاََ سورۃ طٰہٰ/۲۱ ؍میں لفظ’ سیرتھا‘آیا ہے جو حالت و ہیت کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح سورۃ نحل/۳۶ ؍میں لفظ’ سیرو‘ آیا ہے جہاں پر اس کا

کانہء والَے

سرینگر کے ٹائیگور ہال میں29 اکتوبر 2020 کو ڈاکٹر شوکت شفا کے کشمیری شاعری مجموعے"کانہ والَے" اور حمدیہ البم "سونچہ سْدرک ملَر‘‘کی رسمِ رونمائی ایک پْر ہجوم ،پْر رونق اور پروقار تقریب میں ہوئی۔تقریب کا اہتمام جموں وکشمیر کلچرل اکادمی اور مراز ادبی سنگم نے مشترکہ طور کیا تھا۔ ڈاکٹر شوکت شفا کی کتاب " کانہ والے " چھ حصوں یا چھ ابواب پر مشتمل  ہے۔ہر ایک باب کا افتتاح حمد، نعت،سلام اور دعا سے کیا گیا ہے۔اس کے بعد ہی تہذیب، ثقافت، نظریے، رویّے اور معاشرے کے بات کی گئی ہے۔یوں ڈاکٹر صاحب بیک وقت نظریے اور ثقافت کے شاعر نظر آتے ہیں۔آپ کی شاعری سے انقلابی روح ، معاشرے کی اصلاح اور ثقافتی ورثہ کی بازیابی جھلکتی ہے۔" کانہ والے" میں آپ کی سوچ اور درد کا سنگم نظر آتا ہے۔ڈاکٹر شوکت شفا اکیسویں صدی کے شاعر نظر آتے ہیں مگر اپنے ثقافتی ورثہ سے

گرافک ڈیزائننگ اور انیمیشن میں کیرئیر کے مواقع

تکنیکی ترقی نے جن کورسیس میں انقلابی تبدیلی اور روزگار کے کثرت سے مواقع پیدا کیے ہیں ان میں گرافک ڈیزائننگ، اینیمیشن، وی ایف ایکس، اسپیشل افیکٹس، سائونڈ اور ویڈیو ایڈیٹنگ، ایڈورٹائزنگ کے شعبے اہم ہیں۔ ان شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے ٹیلیویژن، فلموں، آن لائن پلیٹ فارمس، نیوز چینلس ، میڈیا، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کا حامل ایک گرافک ڈیزائنریا اینیمیٹرکسی فلم ، میڈیا کمپنی میں ملازمت بھی کرسکتا اور اسے خود روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ایسے طلبہ جن میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہوں ، ٹیکنالوجی سے شغف ہو، انھیں ان کورسیس کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ آئیے ان کورسیس کا جائزہ لیں۔  گرافک ڈیزائنر (Graphic Designer)  ایک گرافک ڈیزائنر انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، پبلشنگ اور میڈیا ہائوسیس، ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے لیے تصویر