تازہ ترین

لہو لہو فلسطین

گذشتہ دنوں غزہ‘ فلسطین میں اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کے بعد قبلۂ اول‘ بیت المقدس اور فلسطین ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی نظروں کے سامنے آگئے۔ تحریکِ جہادِ فلسطین کی داستان تقریباً ایک صدی پر پھیلی ہوئی ہے‘ جس سے آج ہماری نئی نسل بالکل ناواقف ہے۔ اہل ِ فلسطین کی کہانی روشنائی سے نہیں اُن کے مقدس لہو سے لکھی گئی ہے۔ فلسطین کے ہر چپہ بھر زمین پر قربانیوں کی ایسی لازوال داستانیں نقش ہیں جس سے وہاں کے باشندوں کی جرائت غیرت اور استقامت کا پتہ چلتا ہے‘ فلسطین کے معصوم بچے‘ قابلِ عزت مائیں بہنیں اور جوان‘ بوڑھے سب ہی جس ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں اُس کے بارے میں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بزبانِ حال یہی کہہ سکتے ہیں:   ؎ تم شہرِ اماں کے رہنے والے! درد ہمارا کیا جانو! ساحل کی ہوا‘تم موج صبا‘ طوفان کا دھارا کیا جانو! بیت ا

لاک ڈاؤن میںنماز عید کی مختصر جماعت کا جواز

 لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت کے مسلمان ابھی ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ عید کی آمد ہے اور مسجدوں اور میدانوں میں اجتماع اور جماعت پر پابندی عائد ہے ۔ ایسے میں مسلمان پریشان ہیں کہ وہ عید کی نماز کیسے ادا کریں؟ کئی  علماء کرام نے ذاتی طور پر اور کئی اداروں نے بھی اس سلسلہ میں فتوے جاری کئے ہیں اور چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے کی بات کہی ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اگر کسی جگہ جماعت ممکن نہ ہو یا کوئی نماز پڑھانے کے لائق نہ ہو تو لوگ چار رکعتیں چاشت کی نیت سے ادا کریں۔ سوشل میڈیا پر اس پر بحثیں جاری ہیں اور بہت سے لوگ مطمئن نہیں معلوم ہوتے ۔ اس لئے احقر نے آثار سے چند شواہد کو جمع کیا ہے جس سے لوگوں کے مطمئن ہوجانے کی امیدہے ۔ لیکن احقر بصد احترام علماء کی اس رائے سے کہ اختلاف رکھتا ہے کہ وہ لوگ جو جماعت نہیں قائم کرسکتے

کورونا وائرس کے سائے میں عید

رمضان المبارک 1442ہجری اختتام کو پہنچ رہا ہے اور اس مقدس مہینے کی تکمیل پرعید اللہ تعالیٰ سے انعامات پانے کا دن ہے تو اس سے زیادہ خوشی و مسرت کا موقع کیا ہوسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اْمت مسلمہ میں اِس دن کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے۔عید الفطر دراصل بہت سی خوشیوں کا مجموعہ ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں کی خوشی، قیام الیل کی خوشی، نزول قرآن اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزہ داروں کیلئے رحمت، مغفرت، بخشش اور جہنم سے آزادی کی خوشی۔بہرحال اس عید سے قبل جانے کتنی ہی عیدیں ہم اپنی خواہشات کے مطابق منا چکے ہیںلیکن گزشتہ سال کی طرح آج بھی ہم کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے نتیجے میں عیدالفطر چار دیواری کے اندر ہی منارہے ہیں۔آج بھی اس خوشی کے موقع پرہر کوئی اداس ہے اوراس فکرمیں ہے کہ اس مرتبہ عید کیسی ہوگی کیونکہ کورونا کا قہر بڑھتا ہی جا رہاہے۔ ہر کوئی پریشان ہے۔بھارت سمیت بعض ممالک میں صورتحال ا

ہوائوں کا رخ موڑنا کوئی سیکھنے ان سے

اسلام دینِ حق  ہے اور حق(Truth)اس کا پابند نہیں ہوتا کہ کوئی اسے قبول کرے یا نہ کرے،کوئی اسکا ساتھ دے یا نہ دے۔ اگر لوگ حق کا ساتھ نہ دیں گے تو حق ناکام نہیں بلکہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے حق کو حق جاننے کے باوجود بھی اسے ٹھکرادیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بہت سارے جوانمردوں(Gallants)نے اس کی سربلندی میں ہی اپنی نجات سمجھی اور بالآخر اپنی تاریخ خود اپنے ہاتھوں بنا ڈالی،اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ سچ مچ بہادر تھے اور تاریخ بنانا تو واقعتًا بہادر مردوں ہی کا کام ہوتا ہے ۔سکے برعکس بزدل لوگ تو بس باتیں بنانے میں ہی اپنے دن رات کاٹتے چلے آئے ہیں۔ آج بھی نوعِ انسانی میں قلیل تعداد حق کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور حق کی ترویج و اشاعت اور اس کے غلبے کے لیے اپنی قیمتی سے قیمتی متاع کو بھی قربان کر ڈالتے ہیں اور یہی لوگ اپنے اندر تاریخ کا دھارا تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے

لہر نے نگلے شہر یہ میرے، قہربپا ہے ہو سو جاری

آج کل کچھ الفاظ ہرکسی فردِبشرکی نوک زبان پر ہیں۔ لہر،ماسک،سوشل ڈسٹنس،سینیٹایزر وغیرہ وغیرہ۔ان الفاظ میں ماسک، ڈسٹینس اور سینیٹایزر اقدامات کے طور استعمال کئے جاتے ییں اور تقریباً 90فی صد آبادی ان چیزوں کا استعمال احتیاطی تدابیر کے طور کرتی ہے لیکن لفظ لہر کے خوف سے ہر خاص و عام پر ایک رعب اور خوف طاری ہوچکا ہے۔ پہلی لہر،دوسری لہر اور اب تیسری لہر کا وقوع پذیر ہونا ماہرین نے اسکی تصدیق کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ لفظ لہر نے ابتداء اور ثانوی مراحل میں شہر میں قہر بپا کیا،ہوا ہے،شہرو دیہات میں زہر اْگلاہے،گلی گلی ،کوچہ کوچہ ،شہر شہر اور نگر نگر میں ایک قیامت صغرا بپا کی ہے توتیسری لہر میں حالت کتنی بھیانک ہوگی۔ دوسری لہر نے ہسپتالوں کی پول کھول دی،ڈاکٹروں کو تھکا دیا،مریضوں کو دم بخود کردیا، لوگوں کو تڑپا تڑپا کر ماردیا تو تیسری لہر کے تھپیڑوں سے کس کی خیر ہوگی۔ فی الاصل لہر اپنے آپ میں ایک ط

مصرفِ زکوٰۃ کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن اور اسلامی نظام معیشت کا ستون ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر نماز کے ساتھ کیا گیا ہے۔ نماز فحش ومنکرات سے روکتی ہے تو زکوٰۃ اقتصادی نابرابری کو کم کرتی ہے۔ نماز جسم کی اور زکوٰۃمال کی عبادت ہے۔ رب کائنات نے دولت مندوں کے مال میں غریبوں، مسکینوں، کمزوروں اور بے سارا لوگوں کا حصہ رکھا ہے۔ یہ حصہ صرف دولت میں نہیں بلکہ کھیتی، موسمی پھلوں، تجارت کے جانوروں اور سامان میں بھی ہے۔ اس کی ادائیگی پر مال کی حفاظت وترقی کی ضمانت، کوتاہی یا ادا نہ کرنے پر بربادی، دقتوں وپریشانیوں کا سامناطے ہے۔ زکوٰۃسے غریبوں کی مدد، ہمدردی اور محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، انا پر لگام لگتی ہے۔ اہل دولت فقرا ء ومعذوروں کو دھتکارنے کے بجائے ان کی عزت کرتے ہیں۔ اس طرح غریبوں کو بہتر زندگی ملتی ہے اور سماج سے غریبی دور ہوتی ہے۔ قرآن نے زکوٰۃپر پہلا حق فقراء ومساکین کا بتایا ہے۔ پیغمبر اسلام ؐنے بھ

سخاوت اور اس کی فضیلت

 اعمالِ صالحہ میںسے سخاوت ایک عجیب اور انتہائی عظیم شئے ہے۔ فقط سخاوت کی بنا پر ایک معمولی شخص علماء، فضلاء، امراء، شیوخ ومعتبر پہ بھاری پڑ سکتا ہے اور بازی لے جا سکتا ہے۔ سخی ہونا فضلِ اِلٰہی ہے۔ اور اس فضل کا کوئی جوڑ نہیں۔ایثار سخاوت کی معراج ہے۔سخاوت تو یہ ہے کہ جس چیز کی انسان کو بقدر ضرورت احتیاج نہ ہو، اُسے اﷲ کی راہ میں کسی کو دیدے۔ جبکہ ایثار یہ ہے کہ اپنی ضرورت کی چیز کسی دوسرے شخص کو دیدے، جبکہ وہ شخص خود اسکا سخت محتاج ہو۔ نبی کریم ٖﷺ نے فرمایا’’ دو خلق ایسے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ دوست رکھتا ہے۔ ایک سخاوت اور دوسری نیک خوئی۔ اور دو خلق ایسے ہیں جن کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ ایک بخل اور دوسری بد خوئی‘‘۔آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ  ’’ سخاوت بہشت کا ایک درخت ہے، جسکی شاخیں دنیا میں لٹک رہی ہیں۔جو مرد سخی ہے وہ ان ڈالیوںمیں سے ایک ڈالی کو پکڑ

دل کھول کر اپنے مال کی زکوٰۃدیں

اسلام اعتدال کا دین ہے۔ ایسا نہیں کہ کچھ لوگ عیش و عشرت کی زندگی بسر کریں اور دوسرے مفلوک الحال رہیں۔ اسلام کے معاشی نظام کی اساس ’’بیت المال‘‘ پر ہے جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ معاشرہ کے نادار، معذور، بیوہ، مستحق اور ضرورت مند افراد کی کفالت کرنا ہے۔ بیت المال مسلمانوں کے لئے موجودہ دور کی کوآپریٹیو سوسائٹی یا محکمہ فلاح و بہبود سے بڑھ کر وہ فلاحی ادارہ ہے، جہاں اثر و رسوخ کے بغیر ، مذہب و ملت، جنس، رنگ و نسل اوع علاقہ جات کے بغیر مستحقین کی مالی امداد کی جاتی ہیں۔ یہ مسلمانوں کی انشورنس کمپنی اور جی پی فنڈ سے بھی بڑھ کر مددگار ادارہ ہے جو مستحقین کی باز آبادکاری کے لئے مؤثر اقدامات پیش کرتا ہے ۔ بیت المال ضرورت مندوں کی ایک امید ہے۔ بے روزگاروں کے لیے سرمایہ اعانت ہے۔ معذور و ناتواں، اپاہجوں، بیماروں، یتیموں اور بیواؤں کے لیے زریعہ معاش ہے۔ یہ لاوارثوں

ملازمت کا جھانسہ د ے کر لُٹے کتنے! | آن لائن فراڈیوں سے ہوشیار باش

آن لائن فراڈیوں کا پورا ایک جال ہے جو لوگوں کو نوکریوں کی لالچ دے کر لوٹتا ہے۔ آئیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ نیٹ ورک کیسے کام کرتا ہے۔پھر اختتام ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے خوشاب مخدومی کی چھوٹی سی کہانی پر کریں گے کہ وہ کس طرح ایک مہینہ کے اندر تیس ہزار روپے لٹا بیٹھا اور نوکری بھی نہ ملی۔ انٹرنیٹ پر یوں تو بے شمار ایسی فیک ویب سایٹز ہیں جو نوکریوں کے بہانے لوگوں سے روپے لے کر راہ فرار اختیار کر لیتی ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے دہلی پولیس نے گروگرام سے آپریٹ کرنے والے چار لوگوں کے ایسے ایک گروہ کو پکڑا بھی تھا۔ یہ لوگ نوکریوں کے نام پر بیروزگاروں سے فی آدمی 20 لاکھ روپے لیتے اور مختلف کمپنیوں میں ملازمت دلوانے کی جھوٹی یقین دہانی کرواتے تھے ۔ آج ہم صرف سوشل میڈیا فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام اور واٹس ایپ وغیرہ پر ایسے فیک نیٹ ورک کا جائزہ لیتے ہیں ۔ سوشل میڈیا باالخصوص فیس ب

نامیاتی خورا ک اور کووڈ۔19

 ماضی میں لڑی جانے والی بیشتر بڑی جنگیں معدنیات ، تیل اور زمین جیسے قیمتی وسائل کے کنٹرول کے لیے لڑی جاتی رہی ہیں۔لیکن پچھلے کچھ برسوں میں یہ تصویر بدلنا شروع ہوگئی تھی جب مسلح تصادم تیزی سے پانی کے وسائل کو حاصل کرنے پر مرکوز تھے۔ لیکن اب توقع کی جارہی ہے کہ مستقبل کے بحران کے پیچھے معیاری خوراک کی کمی بھی ایسی ایک اہم وجہ ہو نے جا رہی ہے۔  غیر معمولی CoVID-19 وبائی بیماری اور اس کے بہت زیادہ اثرات نے ہماری روزمرہ کی زندگی پر پہلے ہی ڈرامائی اثرات مرتب کیے تھے جس میں خوراک کا معیار اور حفاظتی تدابیر دو اہم عوامل شامل تھے جو عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سب کے لئے صحتمند کھانا مہیا کرنا انسانیت کے لئے سب سے اہم ترین مسئلہ ہے۔ تاہم کوویڈ 19 کے پھیلنے کے بعد اس مسئلے نے اس وقت کافی حدتک اور زیادہ سوچنے پر مجبور کر لیا ہے۔ آج کل کی بڑھتی ہوئ

وداعِ رمضان اور استقبالِ عید

ماہ ِ مبارک اپنی تمام رعنائیوں، بہاروں اور رونقوں کے ساتھ تیزی سے رخصت ہو رہا ہے۔ مبارک ہو اُن اہل ایمان کو جنہوں نے گرم روزوں کے ذریعے اپنے دل کو ٹھنڈا کیا اور انعامات ِ الٰہی کے حق دار بن گئے۔ مبارک ہو اُن اہل قرآن کو جنہوں نے رات کے طویل قیام میں تھکاوٹ برداشت کر کے ہمیشہ کی راحت حاصل کر لی۔ مبارک ہو اُن دین کے علمبرداروں کو جنہوں نے اس ماہِ مبارک گلی گلی، قریہ قریہ، شہر شہر، بستی بستی غزوئہ بدر اور فتحِ مکہ کی دعوت امت تک پہنچا کر ہزاروں لوگوں کے ایمان کو محفوظ کر لیا۔ مبارک ہو اُن رب کے عاشقوں کو جنہوں نے اپنے گھر بار کو چھوڑ کر دس دن کیلئے‘ رب کے گھر کو ہی اپنا گھر بنا لیا، کتنا مہربان میزبان ہے اور کتنے خوش نصیب مہمان ہیں۔ مبارک ہو اُن سب کو جن کے دامن نیکیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور اُن کا یہ رمضان بھی زندگی کا ایک یاد گار اور قیمتی رمضان بن گیا ہے۔ باقی رہ گئے ہم جیسے ب

آہ ! عنبر بہرائچی | منفرد لہجے کے شاعر کا سانحۂ ارتحال

’’غزل آشرم‘‘ کے باسی نے کل ۷ مئی کو اتنے چپکے سے اپنی آخری سانسیں گن لیں کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ ’’گمنام جزیروں کے تمکنت‘‘ کا خالق اتنا گمنام ہوسکتا ہے میں نے کبھی سوچا نہ تھا۔ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ اور اپنے شعر وسخن کے مشک وعنبر سے گلشن ادب کو مہکانے والے البیلے شاعرکے ارتحال سے ادبی فضا میںاتنی خاموشی چھائی رہے گی اس کا مجھے بالکل اندازہ نہ تھا۔ شاعروں ادیبوں اورنقادوں بلکہ ایسے ویسوںکے بھی انتقال پر لرز جانے والے فیس بک کے پایوں میں کل جنبش تک نہ ہوئی۔ مجھے عنبر صاحب کے انتقال سے زیادہ تکلیف اردو والوں کی ان سے بے خبری پر ہوئی۔کسی صاحب نے فیس بک پر ان کے انتقال کی خبر کوبڑے ابہام سے پیش کیا۔ میں چشم تحیر بن کر تکتارہا۔ فیس بک کو الف سے بڑی یا تک اسکرول کرکے ایک ایک صفحے کو دیکھ ڈالا کہیں بھی ان پر کوئی نوحہ خواں نظر نہی

سرکاری ملازمین کا عوام سے رویہ…ایک جائزہ

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسان اپنے روئیے سے پہچانا جاتا ہے۔ اسی بات سے اندازہ لگا کر انسان کو اچھائی یا برائی کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ آجکل سرکاری ملازمین کا رویہ عوام الناس نے منفی ہوتا جا رہا ہے۔جن سرکاری ملازمین کو عوام کی خدمت کے عوض ایک اچھی خاصی اْجرت دی جاتی ہے۔ وہ سرکاری ملازمین اسی عوام سے بات کرنا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ تکبر کے نشے میں چور ایسے ملازمین عوام یہاں تک کہ بزرگوں کو گھنٹوں انتظار کرواتے ہیں۔اور اکثر اوقات یہ سب محض اپنی اہمیت جتانے کے لیے کیا جاتا ہے۔اس طرح کا منفی رجحان اگر چہ ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے تاہم کشمیر میں ملازمین کا اس طرح کا منفی ردعمل کچھ زیادہ ہی بڑھتا جا رہا ہے۔کچھ دفتروں کے ملازم حضرات تو عوام کی بات بھی نہیں سنتے۔ جب تک کی کوئی جان پہچان نہ ہو یا کسی کی سفارش نہ ہو اور اگر سنتے بھی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے سرکاری ملازمین عوام

کوونا وائرس عذاب یا آزمائش

کوونا(کرونا)وائرس کی دوسری لہر نے ایک بار پھر پورے ملک میں قہر برپا کیا ہوا ہے۔ان گنت وبے شمار لوگ لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔بلا امتیاز رنگ ونسل، مذہب وملت سبھی اس وباء کا شکار ہورہے ہیں۔پورے ملک میں عجیب سی مہاماری کی کیفیت طاری ہے۔لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ ڈرے ہوئے ہیں۔پہلے تو صرف بزرگ یا بڑی عمر کے لوگ اس وبا کا شکار ہوتے تھے لیکن اب حالت یہ ہے کہ چھوٹے بڑے، عورت مرد، جوان بزرگ، عالم جاہل، پڑھے لکھے ان پڑھ سبھی اس وبا کا شکار ہورہے ہیں۔ان گنت وبے شمار لوگ لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔ ہر سو ماتم کا سماں ہے۔ لوگ اپنوں کے کھودینے پررنج والم کا شکار ہیں اورخود اپنی جان کے تحفظ کے لیے خوف و دہشت کے عالم میں مبتلا ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وائرس عالم انسانیت کے لیے عذاب کے مترادف ہے یا یہ ایک آزمائش سے عبارت ہے یا پھر تمام بیماریوں کی طرح سے یہ ایک مہلک بیماری ہے؟ بعض علماء کا خیال ہے کہ کر

جل شکتی یا جل سختی؟ | محکمے نے مرکز کی بہترین سکیم کو بھی بیمار کردیا

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے صحت عامہ کے حوالے سے پینے کے پانی اور صفائی و ستھرائی سے متعلق بعض انقلابی سکیمیں جاری کی ہیں۔ جل جیون مشن ان ہی سکیموں میں سے ایک ہے۔ اس سکیم پر براہ راست 50 ہزار کروڑ روپے اور پنچایتی اداروں کے ذریعے 26 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی جارہی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ21/2020 کے مالی سال کے لئے جموں کشمیر کے محکمہ جل شکتی کی خاطر 6346 کروڑ روپے کے بجٹ مصارف منظور کئے گئے۔ پارلیمنٹ میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے بتایا کہ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے لئے منطور کی گئی رقم سے 5102 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے اس رقم میں محکمہ جل شکتی کے ملازمین کی تنخواہ، پینشن، گاڑیوں اور دیگر اثاثوں کے رکھ رکھائو کا خرچہ شامل ہے، لیکن بجٹ میں اضافہ کا مطلب ہیکہ مرکزی حکومت جل جیون مشن کے بارے میں نہایت سنجیدہ ہے۔  دو سال قبل مرکزی

ہم بھارت کے لوگ کبھی سدھرنہیں سکتے

جس ملک ہم میں رہتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہاں انسان کی کوئی قیمت نہیں ، جی ہاں یہ سچ ہے کہ ہمارے ملک میں انسان کی کوئی قیمت نہیں، روزانہ میڈیا یعنی سوشل میڈیا میں آنے والی تصویریں ہمیں ڈراتی ہیں، اخبارات کی سرخیاں اور ٹیلی ویزن کے ڈیبیٹس ذہن ودماغ کو جھنجھوڑتے ہیں، ایک عام آدمی کی زندگی جہنم بن چکی ہے، ترقی اور کامیابی کے سارے نعرے بے معنی ہوچکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم جنگل راج میں پوری طرح واپس آچکے ہیں۔ بلکہ کبھی کھبی ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ ، حکومت اور پورے سسٹم نے عام لوگو ں کا مذاق بنا رکھا ہے۔  کرونا کی وبا بے قابو ہوچکی ہے، حکومتوں کو ہمارے کورٹوں نے بہت ہی سخت الفاظ میں پھٹکار لگائی ہے، صوبای حکومتیں ، مرکزی حکومت اور اب تو ہسپتال بھی کورٹ پہونچنے لگے ہیں، الزام در الزام کا دور جاری ہے، اور یہ سب کیوں ہورہا ہے سب کو سمجھ میں آرہا ہے، مگر کسی کی ہمت نہیں کہ وہ

کورونا کے بدلتے تیور اور اس کا علاج

کورونا(کرونا) نے جو تباہی مچائ ہے وہ آپ سب کے سامنے موجود ہے۔ اس عالمی وبا نے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کو تباہ و تاراج کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ حکومتیں جو جوہری طاقت سے لیس ہیں۔ ایک خوردبینی جرثومہ یعنی وائرس کے آگے بے بس و لاچار نظر آتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ اس وائرس سے ہونے والی بیماری پر مزید روشنی ڈالوں، اس وائرس کا تھوڑا سا تعارف ہوجائے۔ یہ ایک RNA وائرس ہے جو سردی، زکام اور فلُو کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کا اصل نام SARS-CoV-2 ہے اور اس سے ہونے والی بیماری کو COVID-19 کہا جاتا ہے۔ یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہُوا ہے۔ اسکے اوپری سطح پر نوکدار کیل یا کانٹے دار اجسام ہوتے ہیں (اسی لئے اس کو کرونا وائرس Coronavirus سے بھی پکارا جاتا ہے) جو پروٹین کے سالمات سے بنتے ہیں اور یہی نوکدار پروٹین کے ذریعہ وائرس ACE2 receptor کے ذریعے شُشی خلیوں یا پھیپھڑوں کے خلیوں میں داخل ہوتا ہے۔ ی

کوروناوائرس ویکسین کے تعاقب میں

پوری دنیا اس وقت بے چینی کے عالم میں ہے۔ اگر یہ بھی کہا جائے کہ دنیا تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے تو یہ بات بھی سو فیصد درست ہے۔ کورونا وائرس کی تباہ کاریوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا وائرس ہے جس نے کئی اور مصیبتوں کو جنم دے کر پورا نظام درہم برہم کر دیا۔ ہم اس دور میں جی رہے ہیںجہاں آدمی کو دوسرے آدمی پر اعتماد نہ رہا، جہاں امن و سکون نام کی چیز باقی نہ رہی اور جہاں زندگی کے تمام شعبے اسیری کا مزہ چکھ رہے ہیں۔ کہنے کو مُشتِ پرَ کی اسیری تو تھی مگر   خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا پورا عالم اسی انتظار میں تھا کہ کب اس وبائی مرض کا ویکسین تیار ہوجائے تاکہ وہ زنجیریں جن میں لوگوں کے پیرجکڑے ہوئے ہیں،نیست و نابود ہوجائیں۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک اس کارنامے کو انجام دینے میں مصروف رہے۔ پہلے ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ کب اس لہر کو قابو کرنے میں کامیاب ہوج

کورونا مہاماری سے مچی تباہی | مصیبت کی ان گھڑیوں میں مسیحا بننے کی ضرورت

 گزشتہ ہفتے میرا ایک کالم اس مہلک بیماری کے حوالے سے کشمیر عظمیٰ میں شائع ہواتھا۔اور آج مجبوراً اسی طرح ملک کے درد انگیز حالات کودیکھتے ہوئے ایک اور مضمون لکھنے پہ مجبور ہو گیا۔ملکی حالات اس وقت قابل رحم بنے ہوئے ہیں ،لاشوں کے انبار ایسے لگ گئے ہیں جیسے کسی ہول سیل دکان پہ لاشوں کی خریدوفروخت ہو رہی ہے ۔سب اپنے غم میں مبتلا ہو گئے ہیں ، کوئی اپنے جوان بیٹے کی نعش اُٹھا رہا ہے تو کوئی بُزرگ اپنی بیوی کی نعش کو ایمبولینس نہ ملنے  کے سبب اپنی سائیکل پہ شمشان گھاٹ کی اورلے جا رہا ہے ۔کوئی آکسیجن کے لئے تڑپ رہا ہے تو کوئی اسپتال میں بیڈ نہ ملنے کے سبب سرِ راہ موت کی آغوش میں جا رہا ہے ۔غرض پورے ملک میں اس بیماری نے حکمرانوں کی بے حسی کے سبب تباہی مچا دی ہے۔ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی غریب اور مجبور عوام ہوتی ہے ،مجبوروں اور بے بسوں کو اس وقت خاصی پریشانیوں کا سامنا

قدرتی آکسیجن اور مصنوعی آکسیجن | شجر کاری سے ہو ا صاف و شفاف رہتی ہے

جب سے عالمی وبا کورونا وائرس دنیا میں پھیلی ہے تب سے عالم ِدنیا اس کے دفع کے لئے ہر ممکن کوشش میں لگی ہے ۔کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ دنیا میں متعدد امراض جنم لئے ہیں اوروبائی امراض سے لا کھوں افراد لقمہ اجل بھی بن چکے ہیں۔ ۲۰۱۹ ہی میں کورونا نے اپنی پہچان شہر اوہان سے کرائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ماہرین کے مطابق اس وبا پر شکنجہ بھی کسا گیا مگراپریل ۲۰۲۱ میں پھر سے کورونا وائرس بڑی تیزی کے ساتھ کئی ملکوں کو لاک ڈائون کرنے پر مجبور کردیا ۔انہی ملکوںمیں ایک ملک ہندوستان بھی ہے۔ اب کورونا کے بڑھتے معاملات میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔ اپریل۲۰۲۱ میں کورونا کا ایسا قہر جاری ہے کہ ایک دن میں ساڑے تین لاکھ سے بھی زائد کورونا مثبت پائے جارہے ہیں۔کورونا کی دوسری لہر کا قہر اتنی شدت کے ساتھ قائم ہے کہ کہیں کورونا سے انسانوں کی ا موات واقع ہورہی