تازہ ترین

پانچ ریاستوں میں الیکشن

 الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تواریخ کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ آسام ، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور کیرالا کے ساتھ پڈو چیری میں ہونے والے یہ انتخابات اس لئے اہمیت کے حامل ہیں کہ ان انتخابات کے نتائج ملک کی سیاست پرگہرے اثرات مرتب کریں گے۔ مرکز میں بر سر اقتدار بی جے پی جہاں ان ریاستوں میں اپنی طاقت کو بڑھانے میں کوئی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتی ہے وہیں ملک کی اپوزیشن پارٹیوں نے بھی نو شتہ ِ دیوار پڑھتے ہوئے آپس میں مفاہمت کا رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  آسام میں بی جے پی کی حکومت ہے اور اب وہاں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار پر آنے سے روکنے کے لئے کانگریس کی قیادت میں 6اہم سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتحاد ہوا ہے۔ ان میں لالو پرساد کی آر جے ڈی، سی پی آئی، سی پی آئی ( ایم ) اور دیگر پار ٹیوں کے علاوہ م

جنگلی حیات اور ہمارا رویہ

 کرۂ ارض میں انسانی زندگی کے لیے جہاں ہوا، پانی اور بہتر ماحول کی ضرورت ہوتی ہے وہیں پیڑ پودے اور جنگلات کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے۔ دنیا کے نقشہ پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ زمین کے بیشتر حصوں پر گھنے جنگلات موجود ہیں۔ ان جنگلات میں طرح طرح کے پیڑ پودے، مختلف انواع و اقسام کے جانور، چرند پرند، بلند و بالا پہاڑ اور خوبصورت پھول حسین نظارہ پیش کرتے ہیں۔ یہاں قدرت کے حسین و جمیل نظارے اپنی پوری تابناکی کے ساتھ خوش کن اور دل ربا انداز میں نظر آتے ہیں۔ جنگلات کی الگ دنیا ہے، جہاں ہزاروں مخلوق آباد ہیں۔ جہاں شیر ڈھاڑتا ہے، پرندے مست خرامی کے ساتھ فضا کی وسعتوں میں محو سفر رہتے ہیں، وہیں دیگر جانور بھی اپنی زندگی میں مگن رہتے ہیں۔ جنگلات سے انسان کی شروع دن سے ہی اٹوٹ وابستگی رہی ہے۔ انسان نے ابتدائی دور میں جنگلات میں ہی اپنی زندگی بسر کی۔ آج اکیسویں صدی میں سائنس و ٹ

ناسور بن گئی ہے لعنت جہیز کی !

 جہیز ایک ایسا ناسورہے جس کی وجہ سے ملت کی کئی بیٹیاں سپرد خاک ہوگئی۔ کہتے تو ہم سب ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس پر عمل پیرا کوئی نہیں ہوتا۔ اس ناسور کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا، اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کی کوئی ترکیب نہیں کی جاتی۔ ہمارے مولوی حضرات، علماء کرام اور باقی سب جہیز کے خلاف تو بولتے ہیں لیکن عمل کوئی نہیں کرتا، جب لینے کی باری آتی ہے تو سب دل کھول کر لیتے ہیں لیکن کوئی لڑکی والوں سے یہ نہیں کہتا کہ آپ نے اپنی بیٹی، اپنے جگر کا ٹکڑا ہمیں دے دیا یہی کافی ہے۔ نہیں! بلکہ بات کو گھما پھرا کر کہا جاتا ہے ہمیں کچھ نہیں چاہیے باقی آپ لوگ اپنی بیٹی کو جو دینا چاہتے ہیں وہ دے دیجیے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ارے اللہ کے بندو ذرا شرم کرو اور یہ دیکھنے کی کوشش کرو کہ لڑکی کا باپ اپنے داماد کو دینے کے بجائے بیٹی کو ہی کیوں نہ دے لیکن وہ دے تو رہا ہے نا اس کو دینا تو

’ دریائے نیل سے بحرِ قلزم تک‘

 قرآنی قصص کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ان قصوں میں عظیم ہستیوں کی زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ خاص کر نوجوان نسل کو بہترین اسلوب میں ان قصص سے بہرہ ور کیا جائے تاکہ ان کی زندگی پرسکون ہو اور معاشرہ خوشگواربنیادوںپراستوارہو۔ ان قرآنی قصص کو بہترین اسلوب دینے کی کوشش برادرعبد العظیم معلم ندوی نے کی ہے۔زیر تبصرہ کتاب’ دریائے نیل سے بحر قلزم تک‘ (حق و باطل کی معرکہ آرائی کی ایک دلچسپ اور ناقابل فراموش داستان) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی سرگزشت ہے۔اکثر واقعات قرآن کریم سے لیے گئے ہیں، فرضی اور من گھڑت واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے۔اس سے پہلے انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر دو خوبصورت کتابیں لکھی ہیں۔ بانی و ناظم’ ادارہ امام حسن البنا شہید بھٹکل‘ کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں: ’

سرحدوں پر جمی یخ پگھلنے لگی

چند روز قبل ہی ہند پاک افواج کے درمیان سرحدوں پر جنگ بندی کے اعلان نے دنیا کو نہ صر ف چونکا دیا ہے بلکہ متحیر بھی کردیا ہے اور خصوصاً خطہ جنوبی  ایشیاء کے ممالک کے لئے یہ اچنبھے اور خوشگوار بات رہی ہوگی ۔مرکزی سرکار کاہر کام اور ہر قدم اب تک ناگاہ اور اچانک ہی وقوع پذیر ہوتا رہا ہے اور یہ حالیہ قدم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہی مانا جاسکتا ہے۔دراصل اس سے کام کرنے کا ’’ مودی سٹائل ‘‘ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔اعلان دونوں طرف سے مختصر اور مخصوص کچھ جملوں سے ہوا ہے ،اور آر پار یہ اس لئے حیرت کا باعث بناہوا ہے کہ بظاہر ہندوپاک کے مابین حالیہ دور میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے آثار اور کسی واضح عندیہ کے نشانات کہیں دور دور تک بھی نظر نہیں آرہے تھے ۔ اس لئے اس اعلان کے منصۂ شہود پر آتے ہی سیاسی میدانوں میں کھلبلی حق بجانب قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ اعلان اس پس ِ منظر میں بھی حیرا

انسانی عقل

  انسان کی شخصیت اُس کی سوچ سے بنتی ہے ،لہٰذا عقل کی تطہیر لازمی ہے۔ دراصل سر تا پا انسان کا پورا جسم ہی عقل کے ماتحت ہے،کیوں کہ یہ عقل ہی ہے جس کے اشارے سے ایک انسان کا جسم متحرک ہوتاہے۔ اور عقل کی بدولت ہی ایک انسان علم و انکشافات کے مختلف مرحلے طے کرتا ہے۔ لہٰذا انسان کے پاس عقل کا ہوناقدرے اہم ہے۔  عقل (intellect)اصل میں عرنی زبان کا لفظ ہے اور اردو میں 1503ء سے مستعل ملتا ہے۔کہتے ہے کہ اشرف بیابانیؔ کی مشہور و معروف اردو مثنوی ’’نوسرہار‘‘ میں یہ لفظ پہلی بار استعمال ہوا ہے۔عقل کے لغوی معنی شعور،فہم،دانشمندی ،نفس ِ ناطقہ اور ادراک کے ملتے ہیں۔جبکہ فارسی زبان میں اسے ـ’خرد‘بھی کہا گیا ہے۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ عربی زبان میں ’لُبْ‘کا لفظ بھی عقل کے ہم معنی ملتاہے،البتہ دونوں میں ایک واضح فرق ہے جسے مولانا عبدالحفیظ بلیاو

محبت فاتح عالم

سولہویں صدی کے انگریزی شاعر جان للی کا یہ محاورہ، جو اس نے Euphues میں برتا ہے کہ "الفت اور عداوت میں سب کچھ جائز ہے یعنی Everything is fair in love and war اکثر زبان زد عام رہتا ہے۔ تاہم اس محاورے کا اطلاق اور استعمال اکثر اوقات میں دھوکہ دہی اور فریب کاری کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ باور کیا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ کسی بھی اصول کی پابندی اور پاسداری سے ماوراء ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سوچ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محبت اور جنگ میں انسان بالکل اندھا بن جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ میدان الفت اور میدان کارزار میں انسان اپنے ہوش و حواس پر قابو رکھنے سے معذور ہوجاتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ الفت اور عداوت انسانی زندگی اور انسانی معاشرت کے دو ایسے میدان ہیں جو پوری انسانی فکر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اس لئے ان میدانوں میں ہمارا برتا گیا رویہ ایک باضا

سرحدی جنگ بندی معاہدہ

22فروری کو بھارت ۔پاکستان کی افواج کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز کی ہاٹ لائن پر بات چیت کی جس کے بعد جمعرات کو دونوں طرف سے 2003 کے سیز فائر معاہدے پر جلد سے جلد عملدرآمد کرنے کا اعادہ کیا گیا۔ ایک طرف جہاںجموں و کشمیر کی مین اسٹریم و علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسکا خیر مقدم کیا گیا ہے وہیں دوسری طرف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کی عام عوام کے دلوں میں امید کی ایک کرن جاگی ہے کیونکہ اس معاہدہ کے طفیل اب یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ کم از کم ہندوپاک سرحدوںپر سکون لوٹ آئے گا اور سرحدی آبادی کو طویل عرصہ بعد چین سے سونے کا موقعہ میسر آئے گا۔سرحدی آبادی اب کئی برسوں نے توپ کی رسد بن چکی تھی اور آئے روز کی گولہ باری سے سرحدی آبادی کا جینا دوبھر ہوچکا تھا۔گزشتہ دو ایک برسوں کے دوران جنگ بندی خلاف ورزیوںکے معاملات کے سارے پرانے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے اور اب ایسا لگ رہاتھا ک

یہ کشمیر ہے ! یہ کشمیر ہے!!

فروری کی19تاریخ کو مشتبہ جنگجوئوں نے سرینگر کے باغات برزلہ علاقے میں دو پولیس اہلکاروں پر انتہائی قریب سے گولیاں چلاکر دونوں کو ہلاک کردیا۔یہ پہلا موقعہ نہیں تھا جب پولیس اہلکار جنگجویانہ حملے کا شکار ہوگئے ،بلکہ عسکری تحریک کے ابتدائی عرصہ کو چھوڑ کر اب کم و بیش اڑھائی دہائیوں سے مقامی پولیس اور جنگجو ایک دوسرے کیخلاف بر سر پیکار ہیں۔دونوں ایک ہی سر زمین کے شہری ہیں لیکن فکر وعمل میںطرفین کا فرق۔ایک سرکاری نوکری کی انجام دہی اور ملک کے دفاع میں مصروف تو دوسرا ’اجتماعی مفاد‘ کیلئے تگ و دو کرنے کا دعویدار،اور دونوں اپنے اپنے ماننے والوں کے ہاں ’شہید‘۔ ہمارے یہاں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیںجہاں ایک مسلح معرکہ آرائی کے دوران ایک ہی ضلع یاعلاقے سے تعلق رکھنے والے سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹر جاں بحق ہوگئے۔کہا جاتا ہے کہ تنازعات سے متعلق یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ

بینک کے بغیر ڈیجیٹل انڈیا کا خواب ادھورا

جموں و کشمیر یوٹی کے موجودہ لیفٹنٹ گورنر منو ج سنہا نے جب سے بطور ایل جی جموں و کشمیر یو ٹی کا عہدہ سنبھالا ہے ،اس کے بعد سے یوٹی میں بہت کچھ بدلتا دکھائی دے رہاہے۔ بدلائوکا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔عوام میںبھی کچھ بدلنے کی امیدیں بڑھی ہیں ، چاہے وہ یوٹی میں حال ہی میں ہوئے ضلع ترقیاتی کونسل کے پر امن چنائو ہوں ، یا طویل عرصہ بعد4 جی سروس کی شروعات ہو ۔ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں پھر ایسی بہاریں دیکھنے کی امیدیں ٹوٹنے لگی تھیں لیکن جب سے منوج سنہا جموں و کشمیر کے ایل جی ہیں تو کچھ امیدیں ضرور مسکرائی ہیں ، لیکن ابھی بھی ایل جی انتظامیہ سے کئی امیدیں وابسطہ ہیں ۔اسی سلسلہ میں سرحدی پٹی پر شب و روز گزارنے والے مکینوں کی امیدیں بھی بڑھنے لگی ہیں کہ شاید اب ہماری باری بھی آ جائے ۔تاہم سرحدی مکینوں کے مسائل اور مشکلات کی فہرست گنوانا قدر مشکل ہے لیکن اس بار سرحدی باشندگان بھی

سیول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں؟

یوپی ایس سی سیول سروسز امتحان کے مختلف مرحلوں یعنی پرلمز ،مینز اور انٹرویو پر اس اس سے قبل بات ہوچکی ہے۔اس بات پر بھی روشنی ڈالی جاچکی ہے کہ یوپی ایس سی کی چاہ رکھنے والے طلاب میں کون سے خصائص ہونے چاہئیں۔اب آئیں دیکھتے ہیں کہ کیاسیول سروسز میں پہلی بار ہی کامیاب ہونا شرط ہے؟یعنی ایک بار اس امتحان میں شامل ہوئے تو کیا یہ شرط ہے کہ آپ کو بہر صورت کامیاب ہونا ہی ہے؟اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یوپی ایس سی نے آپ کے لئے دروازہ کھلا رکھا ہے اور وہ آپ کو موقعہ فراہم کرتا ہے کہ ناکام ہونے کی صورت میں آپ کئی بار اس امتحان میں از سر نو شامل ہوسکتے ہیں۔اب یو پی ایس سی تو آپ کو موقعہ دے رہا ہے،پر کیا آپ بھی چاہیں گے کہ ہم اس امتحان میں بار بار ناکام ہوجائیں اور یوپی ایس سی نے اس امتحان میں بار بار شامل ہونے کی جو سہولیت فراہم کی ہے ،اُس کا فائدہ اُٹھائیں؟ہر گز نہیں۔کم از کم اتنا بے وقو

نئی تکنیک نے غریبوں کو راشن سے محروم کردیا

غریبی کی سطح سے نیچے گزر بسر کرنے والے لوگ سرکاری طور پردئے جانے والے راشن سے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ تین طرح کی درجہ بندی کے ساتھ یہ راشن فراہم کیاجاتاتھا۔جن میں انتودیہ ،غریبی سطح سے نیچے گزر بسر کرنے والوں کے لئے خصوصی سکیم بی پی ایل کے علاوہ اے پی ایل، جس میں سرکاری نرخوں کے مطابق راشن جن میں چاول،گیہوں یاآٹا،شکر،تیل وغیرہ فراہم کیا جاتا تھا جو 2014تک لگاتار طے شدہ قاعدہ کے مطابق دیاجاتارہاہے۔ لیکن 2014کے بعد دئے جانے والے راشن میں اتار چڑھاؤ آنا شروع ہوگیا۔2017ء میں ان راشن کارڈوں کو آن لائین کروانے کا کام شروع کیاگیا۔اس وقت کے وزیر امور صارفین نے اس قانون کو سختی سے نافذ کرنے اور اس کے نفاذ پر اہم پیش رفت کے لئے اقدام اٹھائے۔ جس کے بعد نفری کے مطابق راشن فراہم کیا جانے لگا۔ انتودیہ کو 20کلو چاول اور 15کلو آٹا یاگیہوں جبکہ بی پی ایل کو ایک نفر پر تین کلو چاول اور دو کل

اسلام ،میڈیا اور مسلمان

بہت سے حقائق اور فضیلت کی باتیں ناپید ہوگئی ہوتیں اور انسانیت وحشی درندوں کا ایک ریوڈ بن گئی ہوتی اگر اسلام رونما نہ ہوا ہوتا۔اسلام اللہ کا دین ہے اور اس دین سے ناواقف لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہئے کہ یہ دین ِ فطرت ہے کیونکہ زندگی کے مختلف پہلوئوں سے متعلق اس کی تعلیمات فطرت ِ سلیمہ اور صحت مندانہ نظریات کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں اور اس کے اصول و ضوابط انسان کو درجۂ کمال تک پہنچانے اور اُسے سکون و اطمینان میسر کرنے کے لئے ہی ہیں۔ لفط فطرت کے تعلق سے اختلاف ِ رائے ہوسکتا ہے ،یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی طبیعت کے مطابق کسی چیز کو اچھا قرار دے اور کوئی اپنی طبیعت کے مطابق بُرا ،مگر فطرت کا لفظ جب بھی بولا جائے گا اس سے مُراد فطرت ِ سلیمہ ہی ہوگی،اگر اس میں کوئی خرابی دَر آئے تو اُسے قابل لحاظ نہیں سمجھا جائے گا ۔فطرت میں جو بھی نقص لاحق ہوگا وہ شاذ سمجھا جائے گا اور اس پر چُپ رہنے او

حضرت علیؓ شیرِ خدا

اسلامی تاریخ میںحضرت علی رضی اللہ عنہ کا شمار انتہائی اہم اور عظیم شخصیات میںہوتا ہے ۔آپ ؓ نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین ساتھی تھے بلکہ آپؐ کے چچہیرے بھائی بھی تھے ،ساتھ ہی آپؓ کو حضور پاک ؐ کے داماد کا شرف بھی اُس وقت حاصل ہوا جب آنحضرت ؐ نے اپنی پیاری دختر حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح آپؓ سے کردیا ۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ کی پرورش کی ذمہ داری اُس وقت لے لی جب آپؓ کی عمر دس سال کی تھی اور اس طرح حضرت علیؓ نے اپنا دورِ بچپن حضور اکرم ؐ کے زیر سایہ گزارااورحضور اکرمؓ سے ہی براہِ راست تعلیم و تربیت حاصل کی ۔حضرت علیؓ کی نبی اکرم ؐ کے ساتھ نزدیکی قربت کے باعث آپ ؓ نے نبی اکرمؐ کے اوصافِ حمیدہ کو بخوبی دیکھا  اور سمجھاتھا جس کے نتیجہ میںعمر بھرآپؓ بھی اُنہیں اصولوں پرکاربند رہ کر عمل پیرا رہے۔جناب ِ رسول اکرم ؐ

اپنی خواہشات کیلئے بچوں کی خواہشات قربان نہ کریں

چندروز قبل یعنی 26؍فروری کی صبح کوبورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے دسویں جماعت کے امتحان کے نتائج جیسے ہی منظر عام پر لائے تو سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ چار سُو لوگ ایک دوسرے کو مبار ک بادی کے پیغامات دینے شروع ہو گئے ۔کہیں پہ غربت کے باوجود کسی بچے کو امتخان میں کامیابی کی مبارک باد دی جا رہی تھی تو کہیں پہ قوت گویائی اور سماعت سے محروم اننت ناگ کے ایک مضافاتی گائوں کی ایک معذور بچی کا حیرت انگیز طریقے سے90فیصد نمبرات سے کامیاب ہونے پر اسکو فیس بُک صارفین کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔اس امتحان میں بھی ایک بار پھر لڑکیوں نے لڑکوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اچھے نمبرات حاصل کیے۔بورڈ حکام کے مطابق 75فی صد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔اعداد و شمار کے مطابق لڑکوں میں کامیابی کی شرح 74.04فیصد جب کہ لڑکیوں میں 76.09فیصدرہی ۔اخباری رپورٹس کے مطابق اس امتحان میں مجموعی طور پر 75132اُمیدوار شامل

انڈین اکنامک سروس اور انڈین سٹیٹسٹیکل سروس

مسابقتی امتحانات کی اہمیت سے ہم تمام واقف ہیں۔ ملک کے تمام بڑے انتظامی عہدوں کیلئے جس قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے ان کی جانچ کے لیے ملک میں مختلف مسابقتی امتحانات مرکزی اور ریاستی سطح پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ مرکزی سطح پر یونین پبلک سروس کمیشن جبکہ ریاستی سطح پر مختلف ریاستوں کے پبلک سروس کمیشن کے تحت یہ امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریلوے کی اسامیوں کو پُر کرنے کے لئے ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ، مختلف مرکزی محکموں میں گریڈ بی کی سطح کی اسامیوں کوپُر کرنے کے لئے ایس ایس سی (اسٹاف سلیکشن کمیشن) ، عوامی شعبہ کی بینکوں میں پروبیشنری آفیسرس کی تقرری کے لیے آئی بی پی ایس (انڈین بینکنگ پرسونل سلیکشن) ، فوج میں شمولیت کے لیے این ڈی اے، کمبائنڈ ڈیفینس سروس و غیرہ کے تحت امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان تمام مسابقتی امتحانات میں کسی مخصوص شعبہ کی تعلیمی قابلیت  یا ڈگری کی ضرورت نہیںہوتی۔ ا

کیا ہم مسلمان ہیں ؟

اگر اقوام عالم کی تاریخ کا موازنہ مسلمانوں کی تاریخ کے ساتھ کیا جائے تو مسلمان وہ واحد ملت ہوگی جسکی تواریخ میں اپنے فرائض کے تئیں وفادار کم اور منافق وغدار زیادہ ہونگے ۔ یہ بات اظہر من الشمس کی طرح عیاں و بیاں ہے کہ مسلمانوں نے جتنی بھی جنگیں لڑی اور فتوحات حاصل کیں وہ ظاہری اسباب مثلاً افواج کی تعداد و لوہے کی بنیادپر حاصل نہیں کیں بلکہ اللہ پاک پر راسخ ایمان و اعتماد ہونے کی وجہ سے حاصل کی پھر چاہے میدان بد ہو یا کوئی اور اُسکے بعد ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ میدان بدر رونما ہونے کے بعد پیغمبر اعظم ﷺ کے مبارک دور میں پھر اسکے بعد خصوصاً خلیفہ اول و دوم کے ادوار میں جس طرح مسلمان فتوحات سے ہمکنار ہوتے چلے گئے، تواریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے شائد اب ایک قلیل عرصے میں ہی پوری دنیا پر اسلامی نظام نافذ ہونے والا ہے مگر بدقسمتی سے یہ نہ ہوسکا جسکی وجہ خاصکر مسلمانوں میں

! یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا

دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے 23؍ فروری کو ٹول کِٹ کیس میں گرفتار کی گئی ماحولیات کی جہد کار دِ شا روی کی درخواستِ ضمانت یہ کہتے ہوئے منظور کر لی کہ حکومت کے خلاف ناراضگی کا مطلب ملک سے غداری نہیں ہے۔ دہلی عدالت کے جج نے یہ ریمارک بھی کیا کہ ملک کا دستور شہریوں کو اظہار خیال کی آز ادی دیتا ہے اور اگر کوئی شہری دستور کے چوکھٹے میں اپنی اس آ زادی کا استعمال کرتا ہے تو اسے جیل میں نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ 22سالہ دِ شا روی نے کسانوں کے احتجاج کی تائید کر تے ہوئے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ کسانوں سے اپنا اظہار یگانگت ظاہر کیاتھا۔سیکورٹی ایجنسیوں کو ان کی یہ بہادری پسند نہیں آئی اور فوری دشا اور ان کے دو ساتھیوں پر غداری کا مقدمہ دائر کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا اور عدالت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ دشا اور ان کے ساتھی، بیرونی ممالک کے ملک دشمن عناصر کے اشاروں پر ملک میں بد امنی پھ

امریکہ میں مودی کی مقبولیت کے ڈنکے

ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی تعداد امریکہ میں تارکین وطن میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ گذرتے وقت کے سا تھ ہندوستانی۔ امریکی گروپ نے امریکہ میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں کافی اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی وہ امریکہ کی داخلی سیاست میں بھی کافی  سرگرم رول ادا کرتے ہیں۔  اس کے ساتھ ہی یہ گروپ جس کی موجودہ تعداد چالیس لاکھ سے زیادہ ہے، اپنے مادرِ وطن یعنی ہندوستان کی سیاست میں بھی کافی دلچسپی لیتا ہے۔ چنانچہ ہندوستانی-امریکی ہندوستان اور امریکہ کی مختلف پالیسیوں اور سیاسی منظر نامہ پر ہونے والی تبدیلیوں پر کیا رائے رکھتے ہیں، اور ان کے کیا خیالات اور کیا سوچ ہیں یہ ہندوستانی امریکہ دونوں ہی ملکوں کے پالیسی سازوں کے لیے جاننا ضروری ہوتا ہے۔   کارنیگی انڈومنٹ کی جانب سے گزشتہ سال ایک سروے کرایا گیا تھا،جس کی تفصیلات حال ہی میں شائع کی گئی ہیں۔ اس سروے کا مقصد ہندوستا

بیٹی کی پیدائش پر عورت ہی قصور وار کیوں؟ | جنین کی جنس مرد کا کروموزوم طے کرتا ہے ،عورت کا نہیں

دنیا کے رسم و رواج بھی بڑے عجیب ہوتے ہیںجہاں فطری اصولوں کے بجائے غیرفطری رسموں کو اہمیت اور فوقیت دی جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے سماج میں آئے روز دیکھنے کو ملتا ہے کہ لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیع دی جا رہی ہیں۔ لڑکی کی پیدائش کو نہ صرف جاہلانہ عرب میں بلکہ آج کل کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ ان کے ساتھ یہ غیر منصفانہ سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد سے یہی معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ 'کیا آیا لڑکا ہوا ہے یا لڑکی ہوئی ہے؟ '۔ مبارک باد پیش کرنے والے بھی لڑکی کی پیدائش پر ہمت و حوصلہ دیتے رہتے ہیں جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لڑکی کی پیدائش کو آج بھی سماج کھلے دل سے قبول نہیں کرتا ہے۔ اس کے برعکس اس سے ایک بوجھ سمجھا جاتا تے ہے۔ اِن کی پیدائش کے وقت باپ کے ساتھ دیگر رشتہ داروں کو نہ صرف چہرے پر ناراض