محصولات کی رکاوٹوں سے کچھ نہ ملے گا

کسی زمانے میںنوکیا موبائل فون ہینڈ سیٹس میں دنیا کالیڈر تھا۔ اس کاسب سے بڑا مینوفیکچرنگ پلانٹ ہندوستان میں ایک خصوصی معاشی زون کا حصہ کے طور سریپرمبدور میں واقع تھا۔ چھ سال کی مدت میں اس نے500 ملین سے زیادہ ہینڈسیٹ بنائے جن میں سے زیادہ تر برآمد کئے گئے۔ نوکیا بالواسطہ ملازمت سمیت 30ہزار لوگوںکو روزگار دے رہا تھا اور ان میں خواتین ملازمین کا ایک بڑا حصہ تھا۔ نوکیا واقعتا  ہندوستان کو ایک مینوفیکچرنگ ہب بنانے کی عمدہ مثال تھا۔ یہ ایک عالمی برانڈ کے اعلی معیار کی مصنوعات اور اعلی معیار کے روزگار کے لئے ماناجاتاتھا جس نے اس وقت کے برانڈ کو 'میڈ ان انڈیا' میں شامل کیا۔ لیکن ‘میک ان انڈیا’ نعرہ بننے سے بہت پہلے نوکیا پلانٹ بند ہوگیاتھا۔ یہ اب بزنس اسکولوں میں سنڈریلا کی کہانی کے عین مخالف ایک کیس سٹیڈی بن چکا ہے کہ کس طرح ایک کامیاب خواب جیسی کہانی بے سود بن سکتی ہ

علامہ اقبال اور حیات وممات کا تصور

حیات بعد ِ موت اسلام کا ایک اساسی تصور ہے جس کا پرچار قرآن اور احادیث میں اونچے درجے پر کیا گیا ہے۔ اور ایک انسان اُس وقت تک مومن کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا جس وقت تک وہ توحیدِ خالص کے ساتھ ساتھ حیات بعدِ موت پر یقینِ کامل نہ رکھتا ہو۔ یہ بات اظہر من الشمس  ہے کہ ہر ذی حس کو موت کی کڑوی مگر تعین شدہ حقیقت کا سامنا ضرور کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔’ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘(سورہ- آلِ عمران- 185 ) حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو دنیاوی زندگی ایک مختصر ساوقفہ ہے کہ جس کے بعد اصل منزل موت اور اور موت کے بعد آخرت کی زندگی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں رسول اللہؐ کا فرمان ہے کہ اس دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی مسافر کسی جگہ پرپڑاؤ ڈالتا ہے۔ اس فرمانِ رسولؐ سے یہ حقیقت سورج کی مانند واضح ہوجاتی ہے کہ دنیاوی زندگی محض ایک پڑاؤ ہے منزل ہر گز نہیں ہے‘ م

وہ بھی کیادن تھے کہ جب ڈاکیہ چٹھی لے کر آتا تھا

 ڈاک او رڈاک خانہ کی اہمیت ہر دور میںمُسلّم رہی ہے ۔زمانہ کبھی بھی ایک ہی ڈگر او ریکسان نہیں رہتا ہے ۔یہ دُور کی بات نہیں ہے بلکہ دو تین دہائیوں کی قبل کی طرف جب ہم چشم تصور سے جھانکتے ہیں تو صاف طور پر یہ نظر آتاہے کہ آج کی جدید ترین سہولیات کی نسبت بہت کچھ ڈاک پر ہی منحصر ہوتاتھا۔متوسطہ درجے کے لوگ عمومی طور پر بینکوں سے زیادہ اپنی چھوٹی چھوٹی رقمیں بچا کر ڈاک خانہ میںکھاتہ کھول کر ان رقوم کو محفوظ رکھتے تھے۔Small Saving Scheme کے تحت اکثر غریب او رنادار لوگ اپنی بچت شدہ رقم کو ڈاک خانہ میں کھولے گئے کھاتوں میں ڈال کر بوقتِ ضرورت ایک بڑی رقم سے استفادہ کرتے تھے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں او رلاکھوں کی رقوم سے بھی کھاتہ کھول کر یہ معیاد بند سرٹفکیٹ کی صورت میں لوگ روپیہ جمع کرتے تھے ۔بچت بنک کے علاوہ ڈاک خانوں میں کثیر المقاصد خدمات میسر رہتی تھیں۔ جوکہ آج بھی بہت حد تک جاری و سا

ادیبوں پر کنجوسی کا الزام

ادیبوں کی طرف منسوب بہت ساری باتوں میں سے ایک بات ان کی طرف بخالت کی نسبت بھی ہے۔عرب وعجم کے بے شمار ادباء پر کنجوسی کا الزام لگایاگیا۔ ہمارے ایک ساتھی تھے۔ انہیں لوگ کنجوس کہتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ لوگ ان کے بارے میں ایسا سوچتے ہیں تو انہوں نے کوشش کی کہ وہ اس الزام سے خود کو بری ثابت کرسکیں۔عرب وعجم کے بے شمار ادباء ایسے ہیں جن پر کنجوسی کا الزام لگایا گیا۔ احمد حسن زیات عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ ان کی کتاب تاریخ ادب عربی ہندوستان میں بہت مقبول رہی ہے۔عصری جامعات سے وابستہ شاید باید ہی کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے اس کتاب سے استفادہ نہ کیا ہو۔ان پر کنجوسی کا الزام لگایاگیا۔ان کی کنجوسی کے بارے میں ڈاکٹر طہ حسین کہتے ہیںکہ ’’ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کنجوس یا بخیل تھے درست نہیں ہے۔ میں نے کتنی مرتبہ ان کے یہاں شام کا کھانا کھایا ہے۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ غ

تعمیراتی صنعت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی

گزشتہ عشرے میں ڈیجیٹل ترقی نے تمام صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے، جسے چوتھا صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے۔ میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ ای کامرس کے بڑے اداروں ایمزون اور علی بابا نے اینٹ اور پتھر سے بنے ریٹیلرز کو ماضی کا قصہ بنا دیا ہے۔  اسی طرح ڈیجیٹل موبلٹی کمپنیاں، آٹو مینوفیکچررز کو چیلنج کررہی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجیز بہتر تفریح، بہتر خریداری اور بہتر آمدورفت کے لیے صارفین کی ضروریات کو پورا کررہی ہیں بلکہ اختراع اور جدت نے ان کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت اور پائیداری کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ساتھ ہی جدید دور کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز ہنر اور صلاحیت کو بھی نئے معنی دے رہی ہیں۔ البتہ، اس عرصے میں تعمیراتی صنعت زیادہ تر اسی طرح کام کررہی ہے، جس طرح اس صنعت میں 50برس پہلے کام ہوتا

مضاربہ اور اس کے اصول

مضاربت ایک قسم کی تجارتی شراکت ہے جس میں ایک جانب سے سرمایہ اور دوسری جانب سے محنت ہو، اس معاہدے کے تحت اسے کاروبار کے نفع میں ایک متعین نسبت سے حصہ ملے گا نیز سرمایہ فراہم کرنے والے اور محنت کرنے والے متعدد افراد ہوسکتے ہیں۔شرعی اصطلاح میں مضاربت اس معاہدے کو کہتے ہیں جس میں ایک فریق کی جانب سے مال ہو اور دوسرے کی جانب سے عمل ہو اور نفع میں دونوں شریک ہوں۔ لغت کی رو سے مضاربت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنا مال کسی کو اس شرط پر تجارت کی غرض سے دے کہ نفع میں باہمی سمجھوتے کے مطابق دونوں شریک ہوں گے اور نقصان مال والا (صاحب مال) برداشت کرے گا۔لفظ ’’مضاربت‘‘ مادہ ضرب سے نکلا ہے جس کے معنی’’ سفر‘‘ کے ہیں کیونکہ کاروبار تجارت میں بالعموم سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ روپے پیسے میں اضافہ کرنے اور اسے بڑھانے کے لئے اسے کسی کاروب

بائی لائن ’مدثر علی‘ معدوم

کسی قریبی شخص کے انتقال کے صدمے سے دو چار ہونا ایک ایسا تکلیف دہ تجربہ ہے جس سے جلد یا بدیر ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ کسی قریبی ہستی کا انتقال ہو جاتا ہے تو انسان پر جو گزرتی ہے اُس کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔کچھ ایسا ہی احساس صحافی مدثر علی کی اچانک موت سے اُن کے ہر جاننے والے کو ہوا ہے۔حالانکہ راقم کو مدثر کے ساتھ بہت زیادہ قریبی مراسم نہیںتھے لیکن کئی برس کی پیشہ ورانہ شناسائی نے مجھے اُن کے ساتھ ایک گہرے اور انجانے رشتے میں جوڑا تھا ۔ کسی بھی چیز کے کھو جانے یا خاص طور پر کسی قریبی انسان کی موت کے بعد انسان غم کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ یہ تمام مراحل اپنا وقت لیتے ہیں ۔ہم عموماً زیادہ دکھی تب ہوتے ہیں جب کسی ایسے شخص کو کھو تے ہیں جسے ہم کچھ عرصے سے جانتے ہوں۔ لیکن دیانتدار صحافی مدثر ایک ایسی شخصیت کا مالک تھے جس کی موت کی خبر نے اُن کو سر کی آنکھوں سے نہ دیکھنے وا

ذوقِ تجلی اور شوقِ ادراک

ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں  غافل تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے حکیم الامت کا یہ شعر فکر و ادراک کی وادی میں سرگرم انسان کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی ایک کوشش ہے کہ انسان کا وجود خاکی محض فکر کی جولانیوں سے مطمئن ہوسکتا ہے اور نہ ہی حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ خاک کا یہ پتلا، جو عقل و دل کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے، ادراک کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی اگر کسی چیز میں سکون پاسکتا ہے تو وہ ذات باری کی تجلی ہے، جس سے ہر انسان اپنی استطاعت اور صلاحیت کے مطابق مستفید ہوسکتا ہے اور ہوتا آیا ہے۔ قرآن کی آیات نہ صرف انسان کی فکر و ادراک کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں بلکہ ان کو ایک ایسی سمت اور جہت عطا کرتی ہیں کہ انسان ہمیشہ فکر کی پرواز کو برقرار رکھنے کے لئے تجلء رب کا متلاشی اور طلبگار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآں فکر کی صلاحیت پر اترانے والے انسان کی نفسیات کو یوں بیا

سیرت نگاری کاآغاز و ارتقاء

لفظ سیرت کی تعریف و تاریخ-: عربی زبان میں لفظ’ سیرت‘ یا’ سیرہ‘ اس کے صیغہ فعل ساز، یسیر،سیراََ سے نکلا ہے جس کے معنیٰ چلنے پھرنے یا سفر کرنے کے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے معنیٰ طریقہ، شکل و صورت، راستہ، روش اور چال و چلن کے بھی ہیں۔ کسی ایک انسان کی سیرت کا مطلب اس کی زندگی کے سفر کا راستہ ہے، جس پر چل کر وہ اپنی زندگی کے مختلف مراحل طے کرتا ہے، ماں کی کوک سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک۔ اس لئے سیرت کا لفظ سوانح حیات کے معنیٰ میں بھی بولا جاتا ہے، تاریخ بیان کرنے کے معنیٰ میں بھی اور ذاتی زندگی کے معاملات بیان کرنے کے معنیٰ میں بھی۔ قرآن پاک میں بھی لفظ سیرت کا استعمال مختلف معانی میں ہوا ہے۔ مثلاََ سورۃ طٰہٰ/۲۱ ؍میں لفظ’ سیرتھا‘آیا ہے جو حالت و ہیت کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح سورۃ نحل/۳۶ ؍میں لفظ’ سیرو‘ آیا ہے جہاں پر اس کا

کانہء والَے

سرینگر کے ٹائیگور ہال میں29 اکتوبر 2020 کو ڈاکٹر شوکت شفا کے کشمیری شاعری مجموعے"کانہ والَے" اور حمدیہ البم "سونچہ سْدرک ملَر‘‘کی رسمِ رونمائی ایک پْر ہجوم ،پْر رونق اور پروقار تقریب میں ہوئی۔تقریب کا اہتمام جموں وکشمیر کلچرل اکادمی اور مراز ادبی سنگم نے مشترکہ طور کیا تھا۔ ڈاکٹر شوکت شفا کی کتاب " کانہ والے " چھ حصوں یا چھ ابواب پر مشتمل  ہے۔ہر ایک باب کا افتتاح حمد، نعت،سلام اور دعا سے کیا گیا ہے۔اس کے بعد ہی تہذیب، ثقافت، نظریے، رویّے اور معاشرے کے بات کی گئی ہے۔یوں ڈاکٹر صاحب بیک وقت نظریے اور ثقافت کے شاعر نظر آتے ہیں۔آپ کی شاعری سے انقلابی روح ، معاشرے کی اصلاح اور ثقافتی ورثہ کی بازیابی جھلکتی ہے۔" کانہ والے" میں آپ کی سوچ اور درد کا سنگم نظر آتا ہے۔ڈاکٹر شوکت شفا اکیسویں صدی کے شاعر نظر آتے ہیں مگر اپنے ثقافتی ورثہ سے

گرافک ڈیزائننگ اور انیمیشن میں کیرئیر کے مواقع

تکنیکی ترقی نے جن کورسیس میں انقلابی تبدیلی اور روزگار کے کثرت سے مواقع پیدا کیے ہیں ان میں گرافک ڈیزائننگ، اینیمیشن، وی ایف ایکس، اسپیشل افیکٹس، سائونڈ اور ویڈیو ایڈیٹنگ، ایڈورٹائزنگ کے شعبے اہم ہیں۔ ان شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے ٹیلیویژن، فلموں، آن لائن پلیٹ فارمس، نیوز چینلس ، میڈیا، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کا حامل ایک گرافک ڈیزائنریا اینیمیٹرکسی فلم ، میڈیا کمپنی میں ملازمت بھی کرسکتا اور اسے خود روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ایسے طلبہ جن میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہوں ، ٹیکنالوجی سے شغف ہو، انھیں ان کورسیس کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ آئیے ان کورسیس کا جائزہ لیں۔  گرافک ڈیزائنر (Graphic Designer)  ایک گرافک ڈیزائنر انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، پبلشنگ اور میڈیا ہائوسیس، ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے لیے تصویر

نیند کی کمی موٹاپے کا باعث

نیند صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔ یہ توانائی کو بحال کرتی اور خلیوں اور نسیجوں (Tissues)کی مرمت و درستگی کرتی ہے۔ جب نیند پوری نہ ہو تو انسان چڑ چڑا ہو جاتا ہے، توجہ کے ارتکاز میں کمی اور تھکاوٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ نیند کیا ہے؟ نیند چوبیس گھنٹے کے دوران وہ باقاعدہ وقفہ ہے جب ہم اپنے ماحول سے بے خبر ہوتے ہیں اور اس کا احساس نہیں رکھتے۔ نیند کی دو بڑی اقسام ہیں۔ تیز حرکت ِ چشم نیند ( sleep  eye  movement  Rapid):  یہ رات بھرمیں کئی مرتبہ وقوع پذیر ہوتی ہے اور ہماری نیند کے دورانیے کا تقریباً پانچواں حصہ ہوتی ہے۔ آر ای ایم نیند کے دوران ہمارا دماغ کافی مصروف ہوتا ہے اور پٹھے بالکل ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔ ہماری آنکھیں تیزی سے دائیں بائیں حرکت کرتی ہیں اور ہم خواب دیکھتے ہیں۔ بغیر تیز حرکت ِ چشم کے نیند(Non- REM sleep) : اس میں دماغ تو پْرسکون ہوتا ہے م

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | قرآن، نفسیات اور سائنس

انسان مختلف اعتبارات سے ایک پیچیدہ مخلوق ہے۔ اس کی جسمانی، نفسیاتی اور روحانی تنظیم کا حقیقی جائزہ لینے سے انسان خود قاصر ہے۔جسمانی پہلو کی طرف جہاں بیشمار محققین متوجہ ہیں وہیں نفسیاتی اور روحانی پہلو پر بھی بڑے پیمانے پہ علمی و تحقیقی کام جاری ہے۔آج کے مضمون میں ہم انسان کی نفسیاتی پہلو کا علوم جدیدہ اور قرآن کی روشنی میں مختصر جائزہ لینے کی سعی کرتے ہیں۔انسان کے نفسیاتی پہلو کی تفہیم کے لئے موجودہ دور میں اس حوالے سے محققین کی ایک قطار کھڑی ہے لیکن اختلاف رائے کا یہ عالم ہے کہ کسی ایک نتیجہ پر یہ حضرات متفق نہیں۔ایک ایک موضوع پر بے شمار مفکرین کے آراء نے تضادات کی ایک ایسی دنیا قائم کی ہے کہ جس کا مشاہدہ کرنا بھی پریشان کن ہے۔قرآن مجید نے انسان کی نفسیات کے اہم ترین گوشوں کا اس قدر عمیق اور جامع جائزہ لیا ہے کہ انسان دھنگ رہ جاتا ہے۔انسان کے لئے اس معاملے سوائے حیرت کے اور کوئی

! سبزیاں صحت کی دوست،جم کر کھائیں

کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے۔ اسی لئے انسان دنیا میں زندہ رہنے کیلئے مختلف قسم کی غذؤں کا استعمال کرتا ہے اور مختلف قسم کی ورزشیں بھی کرتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے انسان تندرست رہتا ہے اور تندرست انسان کے جسم میں دماغ بھی تندرست ہوتا ہے۔ اسی لئے انسان کو ایسی غذاؤں کا استعمال کرنا چاہئے جن سے اس کے صحت پر برے اثرات نہ پڑ سکیں ۔انہی غذائوں کو سائنس نے متوازن غذا کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا خوبصورت بنائی ہے اور اسی دنیا میں اپنے بندوں کی خاطر ایسی چیزیں مہیا کی ہیں جن کے استعمال کرنے سے انسان کی صحت اچھی رہ سکتی ہے ۔اس نے میوے اور سبزیاں اگائی ہیں تاکہ انسان ان سے بہرہ مند ہوجائیں ۔ان میوؤں اور سبزیوں میں وٹامن، پوٹاشیم، ڈائٹری فائبر اور فولک ایسڈ جیسے کارآمد اجزاء پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے بہت ہی ضروری ہیں ۔یعنی ان متوازی غذائی اجزاء کا انسان کی نشونما کے ساتھ گہرا تعلق ہ

! کشمیر میں سب کچھ ہے پیارے

کوہساروں، آبشاروں،مرغزاروں،پہاڑوں ،بیابانوں ،کھلے میدانوں، دلفریب نظاروں کے علاوہ یہاں خراب حالات اور افراتفری ہے۔یہاں سیاست دان زیادہ ہیں یا بیرونی مزدور، وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔سیاست دانوں اوران غیر مقامیوںمیں ایک مطابقت ہے کہ دونوں استحصال کرتے ہیں، سیاست دان عوام کا اور غیر مقامی یہاں کے مزدور طبقے کا۔جس طرح کام کے لحاظ سے ان غیر مقامیوںکی سو قسمیں ہیں، اسی طرح یہاں کے سیاست دان بھی کئی اقسام کے ہیں: 1۔سیاست دان جو صرف سیاست ہی کرتے ہیں،اس کے علاوہ ان کو کچھ کرنا بھی نہیں آتا۔ 2۔سیاست دان جو صرف اپنے اور اپنی پارٹی کی بھلائی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ان کی سوچ فائدے اور منافع سے آگے نہیں جاتی۔ 3۔ سیاست دان جو سیاست میں آ تو گئے ہیں لیکن جیت کے گھوڑے پر کبھی نہیں چڑھے۔یہ اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب ان کے نصیب جاگیںگے۔ 4۔ سیاست دان جو عوام کے لیے بھی سوچت

ہندوستانی مدارس ۔ نئی جہت

گذشتہ تقریباً دس پندرہ برسوںیا اس سے کچھ زیادہ عرصے سے مدارس کے تئیں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے اور تعلیمی و تحقیقی دونوں ہی حلقوں میں نیز میڈیااور عوامی اور سیاسی حلقوںمیں مدرسہ تعلیم کے موضو ع پر کافی بحث ہوتی رہی ہے۔ہندوستان میں مدارس کے آغاز کے بعد سے اس کے نصاب میں بہت کم تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی آج کے مسائل کا مدلل جواب دینے کے لیے مدارس کا موجودہ نصا ب ناکافی نظر آتا ہے۔گوکہ یہ بات بڑی حد تک عمومی ہوسکتی ہے لیکن یہ بہر حال ایک حقیقت ہے کہ اس ضمن میں جب کبھی بھی کوئی نئی تبدیلی کی بات کی گئی تو ابتدا میں ہی اس کی مزاحمت شروع ہوگئی ۔ اداروں کے ارباب حل و عقد کسی نئی تبدیلی کے لیے آسانی سے آمادہ نہیں ہوتے اور وہ یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ اور جیسا کچھ بھی چل رہا ہے اسے چلتے رہنے دینا چاہئے، خواہ یہ چیزیں ازکار رفتہ ہی کیوں نہ ہوچکی ہوں۔ یہ بات تاہم باعث اطمینان ہے ک

معروف ڈرامہ نگار سجود سیلانی

 وادی کے مشہور و معروف ڈرامہ نگا ر، مصور ، کہہ مشق شاعر، افسانہ نگار اور جدید آر ٹ کے خالق سجود سیلانی 85 برسوں کی مایۂ ناز زندگی گزار کر 17؍ نومبر 2020ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ مرحوم نہ صرف کشمیری تمدن، ثقافت ، آرٹ اور زبان کو فروغ دینے میں مصروف العمل رہے بلکہ اُنہوں نے تا حیات ڈرامہ نگاری سے وابستہ تنظیموں ، فن کے شائقین اور نئی نسل کا حوصلہ بڑھایا۔ کشمیری تھیٹر کو پنپنے اور تھیٹر کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر مقبول بنانے میں سجود سیلانی نے انتھک کوشش کی۔ مرحوم ، جن کا اصلی نام غلام محمد وانی تھا، ادبی ، فنی اور ڈرامہ نگاری کے میدان میں سجود سیلانی کے نام سے مشہور ہوئے۔ان کی پیدائش سری نگر کے ڈل گیٹ علاقے میں ہوئی اور شہر سری نگر میں ہی پرورش پائی اور وفات بھی اپنے آبائی رہائش گاہ پر ہی ہوئی ۔مختلف سرکاری محکموں میں اُنہوں نے بحیثیت مصور، رنگ ساز اور سائن

گوشہ اطفال|21نومبر 2020

حقوقِ اطفال اور انسانی سماج عمل ماقوف ہو تو علامتی تقریروں سے کیا ہوگا؟ یوم اطفال   مجتبیٰ شجاعی   کل یعنی20نومبر کو پوری دنیا میںبچوں کا عالمی دن منایا گیا۔ یہ دن منانے کابنیادی مقصد بچوں کی صحیح تعلیم وتربیت اور ان کے حقوق کے حوالے سے شعور اجاگرکرنا ہے تاکہ بچہ بڑا ہوکر معاشرے کا ایک بہترین انسان اور ذمہ دار شہری بن سکے جب بچہ ایک ذمہ دار شہری بن جائے تبھی اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ معاشرہ بھی صاف و پاک بنے ۔حدیث نبوی ؐ ہے کہ’’ بچہ فطرتِ اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے‘‘۔چونکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو دو طرح کے حقوق بجالانے کا حکم دیتا ہے، ایک حقوق اﷲ اور دوسرا حقوق العباد ۔قرآن و احادیث کی رو سے حقوق اﷲ کے بعد سب سے زیادہ اہمیت جس چیز پر دی گئی ہی وہ حقوق العباد ہے ۔حقوق العباد سے مراد بندوں پر بندوں کے حقوق یعنی والدین ک

مقامی صحافت :ماضی اور حال کے آئینے میں

گزشتہ قسط میں مقامی میڈیا کے سفر کی کہانی کوکہ پرے کی قیادت میں اخوان کے ظہور اوران کی طرف سے دو سینئرصحافیوں کے اغوا کے بعد مقامی صحافیوں سے ان کی رہائی کے بدلے اس تنظیم کے پریس نوٹ نمایاں طور پر شائع کرنے کے وعدے تک پہنچی تھی ۔اس کے آگے پاپا کشتواڑی اورجاوید شاہ ،جو اس تنظیم سے الگ ہوئے تھے ،کے ناز اٹھانا بھی مقامی میڈیا کی مجبوریوں میں شامل ہوا ۔یہ وہ خونخوار قوتیں تھیں جنہوں نے میڈیا کے ان زخموں کو بھلا دیا جو بندوق کی آمد کے بعد اس کا مقدر بنے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب کے مین سٹریم کے جمہوری قائدین سے ذاتی مراسم تھے ۔یہ کشمیر کا سب سے بڑا المیہ رہا ہے کہ قایدین نے نہ انسانی قدروں اور نہ ہی انسانی ، جمہوری یا اخلاقی اصولوں کوکبھی خاطر میں لایا ۔شاید اس لئے کہ ان کی فکری سطح اتنی بلند نہیں تھی کہ ان کے پاس قدروں اور اصولوں کا کوئی تصور ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ مقامی میڈیا کی اہمیت ک

ولادت با سعادت حضور پُر نور ؐ…ایک پہلو

ولادت باسعادت کے فوراً بعد ہی آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ نے آپ ﷺ کو دودھ پلایا اور پھر ثوبیہ جو ابولہب کی آزاد کردہ کنیز تھی نے آپﷺ کو دودھ پلایا ۔ یہاں اس بات کی وضاحت کرنا اور بھی لازمی ہے کہ جب ابو لہب نے آپﷺ کی ولادت کی خبر سنی تو خوشی کے الم میں اُس نے ثوبیہ کو اپنی غلامی سے آزاد کر دیا۔ ثوبیہ نے ہی آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ ؓ کو آپ سے پیشتر اپنا دودھ پلایا تھا۔ اس طور پر حضرت حمزہ ؓ آپ ﷺ کے رضاعی بھائی بھی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد ثوبیہ نے ابو سلمہ کو بھی دودھ پلایا۔ حضور ﷺ ثوبیہ کا احترام اور اکرام اس قدر کرتے تھے کہ ہجرت کے بعد بھی اُن کے لئے مدینہ منورہ سے ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو آپ ﷺ نے ثوبیہ اور اُس کے بیٹے مسروح کے بارے میں دریافت فرمایا آپﷺ سے یہ عرض کیا گیا کہ اُن کا انتقال ہوا ہے پھر آپﷺ نے معلوم فرمایا کیا اُس کے خویش و اقارب میں سے کوئی زندہ