تازہ ترین

علامہ شبلی نعمانی کامذہبی فہم

علامہ شبلیؔ ایک نابغہ تھے۔ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ بڑی خوبصورتی اورنزاکت سے اپنے مقصد کواس طرح پیش کرتے ہیں کہ زبان میں مولویانہ یاواعظانہ انداز پیدا نہیں ہوتا بلکہ ان کامحققانہ انداز برابر باقی رہتاہے ۔ مولاناکے قلم میں ایک توازن ہے۔ وہ اپنوںکے بارے میں لکھ رہے ہوں یامغربی مستشرقین کے بارے میں،کسی اعتراض کاجواب دے رہے ہوں یااس پرخود اعتراض کررہے ہوں، وہ اعتدال کادامن ہاتھ سے نہیںجانے دیتے۔ ان کے ’مقالات‘ میںسنجیدگی اوررکھ رکھاؤ برابرنظرآتاہے اورکہیں جذباتی ہوئے نہیںنظرآتے بلکہ جوکچھ کہتے ،بڑے اعتماد ،وثوق اورتحقیق کے ساتھ ہی کہتے ہیں۔ مقالات کی پہلی جلد’مذہبی معاملات ‘پرمشتمل ہے۔ان مقالات میںکچھ تو ایسے ہیں، جن میںیورپ کے مستشرقین کے اعتراضات کاجواب دیا گیا ہے اورکچھ ایسے مقالات بھی ہیں جن میںاپنوںکی بعض غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش کی گئی ہے ۔ ’

آج کاکسان اور انصاف کا تقاضا

لکھیم پور میں کسان کشی سانحہ کے بعد حکومتی عہدیداروں اور بی جے پی لیڈروںکی تقاریر اور بیانات اس بات کا بھرپور خلاصہ کررہی ہیں کہ مرکزی سرکارکسانوں کے تئیں اپنے موقف پر بدستور قائم ہےاور کسی بات پر سمجھوتہ کرنے کی موڈ میں نہیںہے۔بیشتر عوامی حلقےکسانوں کے مطالبات کی اَن دیکھی اور ان کے خلاف سرکار کا رویہ کو حیرت ناک قرار دے رہے ہیںکیونکہ سرکاریں لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے وجود میں آتی ہیں ،عوام کے دُکھ درد دور کرنے کے لئے اقدامات اٹھاتی ہیںاور انہیں درکار بنیادی ضروریات کی حصولیابی کے کئے سہولیات فراہم کرتی ہیں، اُن کی خوشحالی اور ترقی کے لئے منصوبے بناتی ہیںاور اُن کی بھلائی کے لئے حکمت ِ عملیاں ترتیب دیتی ہیں۔ مگر جب سے موجودہ مرکزی سرکار اقتدار میں آئی ہے عوام کے مسائل کم ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔مختلف معاملوں میںاُن کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہےجبکہ مہنگائ

تعلیم کی اقسام، درجہ بندی اور خصوصیات

تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ علم، مہارت، اقدار یا رویوں کے علم کے حصول کو آسان بنایا جاتا ہے۔ تعلیم مختلف سیاق و سباق میں پائی جاتی ہے، اسے مختلف شکلوں میں پیش کیا جاسکتا ہے اور یہ مشمولات میں بھی مختلف ہوسکتی ہے ، لیکن مقصد ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ تعلیم کی اقسام:    اگرچہ تعلیم ایک آفاقی تصور ہے، لیکن باقاعدہ تعلیم ایک ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ، ہر ثقافتی سیاق و سباق تعلیم کی راہ میں فرق پیدا کرتا ہے ۔ تعلیم رسمی اور غیررسمی انداز میں دی جاسکتی ہے۔ رسمی تعلیم :  رسمی تعلیم باقاعدہ تعلیم ہے۔ یہ تعلیمی مراکز میں پڑھائی جاتی ہے اور اس کی تین نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں: رسمی تعلیم منظم انداز میں دی جاتی ہے، یہ ارادی طور پر دی جاتی ہے اور اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔رسمی تعلیم کو قانون کے ذریعہ باقاعدہ بنایا جاتا ہے۔ تعلیمی ایکٹ کے

موبائل فونوں کی بھرمار اور ہمارا معاشرہ

آج کے زمانے میں موبائل فون کے مضمرات،بُرے اثرات یا نقصانات کے بارے میں نکتہ چینی کرنا باعث ِشرمندگی ہی تصور کیا جائے گا،جس کی بڑی وجہ یا یوں کہیئےکہ سیدھی سادھی وجہ، موجودہ زمانے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی مضبوط پکڑ ہے۔ پتھر کے زمانے سےآج تک انسان نے ہی انسانوں کی بھلائی اور بُربادی کے لئےکارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ اپنی ذہنی توانائیوں کے ذریعے قدرتی وسایل کو بروئے کار لاکربے شمار ایجادات کئے ہیں اور مختلف ایجادات کے تحت ایسے انقلابات لائے ہیں کہ جن کی بدولت انسان ترقی کی منزلیںطے کر کے موجودہ زمانے میں قدم رکھ چکا ہے۔ظاہر ہے ہر عروج کا زوال بھی آتا ہے،ہر خوشی کے ساتھ غم بھی ہوتا ہے۔اسی طرح ہرفایدہ مند چیز نقصان دہ بھی بن جاتی ہے۔کسی بھی چیز کے غلط یا بے جا استعمال سے نقصان بھی پہنچتا ہے۔مشاہدہ میں بھی یہی آرہا ہے کہ ہر ترقی کے ساتھ کوئی نہ کوئی خرابی بھی پیدا ہوجاتی ہےاور ہر خر

دینی علوم سے محرومی افسوس ناک امر

علم دین کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ علم دین سے مراد وہ ضروری مسائل ہیں ،جس کا جاننا ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے۔ علم حاصل کرنے کے متعلق قرآن وحدیث میں بہت تاکید آئی ہے اور اس کی اہمیت و فضیلت کو ہمارے نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوب اُجاگر کیا ہے مگر موجودہ دور میں دینی تعلیم سے نا آشنائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ بہت سارے لوگ وضو اور غسل کے فرائض سے بھی نا واقف ہیں جو ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے کافی شرمناک ہے،اس محرومی کی سب سے بڑی اور اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں والدین کی تربیت کا ڈھنگ بدل چکا ہے ،اب وہ اپنے بچوں کو پہلے انگریزی زبان اور مغربی تہذیب و تمدن سے آشنا کروانا پسند کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بچپن ہی سے دینی تعلیم سے محروم ہونے کے سبب اسلام اور اس کی تعلیمات سے بہت دور ہو چکے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ حرام و حلال کی تمیز بھی نہیں کر پاتے، جس کے ذمہ دار

گلاسگو ماحولیاتی کانفرنس۔مطالبات و توقعات

ماحولیاتی تبدیلی پر گلاسگو کانفرنس ایک سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے اگر ترقی یافتہ ممالک اپنی نقصاندہ گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے کے لیے ترقی پذیر اور غریب ممالک کی مدد کرنے کے لیے گلاسگو میں کسی پرعزم نظام کو قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔عالمی پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلی سے رونما ہونے والے منفی اثرات سے کس طرح نبرد آزما ہوا جائے، اس کے بارے میں کوئی نئی حکمت عملی ترتیب دینے اور اس کے لیے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ملکوں کے نمائندوں کی تجاویز پر غور کرنے اور انھیں کوئی عملی جامہ پہنانے کے لیے اور گزشتہ اہداف کو ناپانے کے تئیں غوروغوض کرنے کے لیے تقریباً 190ملکوں کے سربراہان 31؍اکتوبر سے 12نومبر تک اقوامِ متحدہ کی زیرِ قیادت اور برطانیہ کی زیر میزبانی برطانیہ کے گلاسگو شہر میں جمع ہوں گے۔ CoP-26 (Conference of Parties -26) نام سے جانے والے ان اجلاس

حرام کو حلال سمجھنے کا رُجحان

جب کوئی گناہ عام ہو جائے تو اس کی نفرت دلوں سے نکل جاتی ہے اور جب کسی گناہ کی نفرت دل سے نکل جائے تو کسی کو اس گناہ میں مبتلا کرنے کے لئے شیطان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب اس گناہ کی نفرت بھی دل میں نہیں ہوتی تو توبہ کی توفیق مشکل ہو جاتی ہے۔ تصویر کشی کا بھی یہی معاملہ ہے کہ جاندار کی تصویر بنانا، چاہے کسی بھی آلہ (چھنی ہتوڑی، قلم، کیمرہ) سے ہو حرام ہے۔ لیکن آج کل دیندار لوگ بھی کئی حیلہ سازیوں سے اس گناہ میں مبتلا ہو رہے ہیں، جو نہایت ہی افسوس ناک ہے۔ اُمت ِ مسلمہ آج جن حرام اعمال میں مبتلا ہے، ان میں سے ایک ''تصویر کشی ''بھی ہے۔ اس بدترین شوق نے اُمت ِ مسلمہ کی روحانیت پر زبردست حملہ کیا ہوا ہے، یہاں تک کہ عظیم ترین علمی ہستیاں بھی اس میں بری طرح ملوث ہیں۔بلکہ سچ کہوں تو علما کی وجہ سے تصویر کشی کا گناہ عوام کی نظر میں اب گناہ بھی نہیں رہا-لوگ دھڑادھڑ سے ف

کباب کلچر کتاب کلچر کو نگل رہا ہے

اس کالم کی تحریک دو کالموں سے ملی ہے۔ ایک کالم ہندوستانی ہے اور دوسرا پاکستانی۔ ہندوستانی کالم نگار شاہد لطیف ہیں جو روزنامہ انقلاب ممبئی کے ایڈیٹر ہیں۔ دوسرے کالم نگار حسن نثار ہیں جو پاکستان کے معروف دانشور، صحافی اور قلمکار ہیں۔ دونوں میرے پسندیدہ رائٹر ہیں۔ میں ان کے کالموں سے بہت کچھ سیکھتا اور اپنے اندرون کو روشن کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایڈیٹر انقلاب کا کالم 16؍ اکتوبر کو روزنامہ انقلاب میں شائع ہوا جبکہ دوسرا کالم 18؍ اکتوبر کو روزنامہ جنگ کراچی میں شائع ہوا ہے۔ اول الذکر کا عنوان ہے ’’دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ‘‘۔ ثانی الذکر کا عنوان ہے ’’سائبان تحریک: کتابیں پڑھیں خرید کر پڑھیں‘‘۔ دونوں کالموں میں بہت زیادہ تو نہیں لیکن کسی حد تک مماثلت ضرور ہے۔ البتہ دونوں کا درد ’’دردِ مشترک‘‘ ہے۔ اول الذکر کالم میں

سورج اور زمین - کون متحرک کون ساکن ؟

ایک نا ایک دن فناہوجانے والے اس کائنات میں اللہ ربّ العزت کی تخلیق کے مظاہر بے شمار ہیں۔ اَجرامِ سماوِی اور ان مجموعہ ہائے نجوم کی بے شمار موجودگی کائنات کے حسن کو نکھارتے ہوئے اُسے ایک خاص انداز میں متوازن رکھتی ہے۔توازن ہی کائنات کا حقیقی حسن ہے، جس کے باعث مادّہ  (Matter)  اور ضدِمادّہ  (Antimatter)  پر مشتمل کروڑوں اربوں کہکشاؤں کے مجموعے  (Clusters) بغیر کسی حادثہ کے کائنات کے مرکز کے گرد محوِ گردش ہیں۔ ان کلسٹرز میں کہکشاؤں کا ایک عظیم سلسلہ اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے اپنے اپنے نظام پر مشتمل سیاروں کا ایک گروہ لئے کُنْ فَیَکُوْن کی تفسیر کے طور پر خالقِ کائنات کے اوّلیں حکم کی تعمیل میں محوِ سفر ہیں۔حرکت اِس کائنات کا سب سے پہلا اُصول ہے۔ حرکت کو ہی اِس کائنات میں حقیقی دوام اور ثبات حاصل ہے۔ حرکت زندگی ہے اور سکون موت ہے۔کائنات کے ماڈل کے متعلق کے سائ

معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا کیسے ممکن؟

تیزابیت یا ایسیڈیٹی نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو بظاہر تو ایک معمولی طبی مسئلہ لگتا ہے، مگر جس شخص کو اس کا سامنا ہوتا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اس مسئلہ کے پیش نظربے حد پریشان نظرآتی ہے۔ تیزابیت کی عام وجوہات :  اس کی عام وجوہات میں تناؤ، بہت زیادہ مسالے اور گوشت وغیرہ کا استعمال، تمباکو نوشی، بے وقت کھانے کی عادت، معدے کے مختلف عوارض اور مخصوص ادویات وغیرہ کا استعمال شامل ہے۔ تیزابیت میں مفید غذائیں:    صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے بہتر غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔ایسی غذائیں جن میں ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے انھیں کھانے کے بعد ایسیڈیٹی کی شکایت ہونے کااندیشہ رہتاہے۔عموماً وہ افراد جن کی غذائی نالی کمزور یعنی عضلاتی نالی جوحلق سے پیٹ تک جاتی ہے، اس میں مقعد کوبند کرنے والاپٹھاہوتاہے جس کے سکڑنے

کووِڈ۔19سے متاثرہ صحت یاب لوگ | ایک سال بعد بھی دِل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ

کووڈ کے شکست دینے کے ایک سال بعد بھی مریضوں کے دل کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ماہرین کی تحقیقی رپورٹوں کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں کے دل کو پہنچنے والا نقصان بیماری کے ابتدائی مراحل تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے شکست دینے کے ایک سال بعد بھی ہارٹ فیلیئر اور جان لیوا بلڈ کلاٹس (خون جمنے یا لوتھڑے بننے) کا خطرہ ہوتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ویٹرنز افیئرز سینٹ لوئس ہیلتھ کیئر سسٹم کی اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے افراد (ایسے مریض جن کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی) میں بھی یہ خطرہ ہوتا ہے۔ امراض قلب اور فالج پہلے ہی دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات بننے والے امراض ہیں اور کووڈ 19 کے مریضوں میں دل کی جان لیوا پیچیدگیوں کا خطرہ ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 کے

اچھے اعمال انسان کو خدا سے ملادیتے ہیں

ایک انسان کی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ وہ مستقبل کے حوالے سے فکر مند رہتا ہے اور اس بات کو مدِ نظر رکھ کر وہ مختلف چیزیں جمع کرنے کے چکر میں لگ جاتا ہے۔شاہراہِ زندگی پر سفر کرتے ہوئے اگرچہ اسے نشیب وفراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے وہ ان چیزوں کی پرواہ کئے بغیر اپنا سفر جاری و ساری رکھتا ہے۔مستقبل کا خوف اسے چین سے سونے نہیں دیتا اور حالات پر کڑی نظر رکھ کر وہ وقت سے فائدہ اٹھا کر اپنی ضروریاتِ زندگی جمع کرنے میں ہی اپنی نجات سمجھتا ہے۔مستقبل کے حوالے سے متفکر رہنا انسان ہی میں نہیں بلکہ یہ ہمیں چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے،جن میں سرفہرست ’چیونٹی‘ ہے۔چیونٹی ایک عام معاشرتی مکوڑا ہے،جو تقریباً دنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے۔یہ حشرات الارض کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے،چیونٹیوں کا شمار دنیا کے مشقت کرنے والے مخلوقات میں ہوتا ہ

رسول رحمت ؐ۔ لاثانی قائد

ولادت باسعادت پوری عالم انسانیت کےلئے فیض برکت اور مقدس ترین دن ہے ۔پیغمبر آخر الزمان ؐنے اخوت ومحبت کا ایسا معاشرہ قائم کیا جو چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام خدا کے حکم سے مرکز توحید یعنی خانہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے تو اس وقت حضرت ابراہیم ؑکے دل سے یہ دعا بے ساختہ نکلی: اے خدا ہماری نسل سے امت مسلم کو اٹھا ،تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ڈھائی ہزار سال کے بعد 12ربیع الاول (20اپریل 570عیسوی)بروز سوموار کی وہ مبارک صبح تھی، جب رحمت ِالٰہی کے فیصلے کے مطابق اس باسعادت ہستی یعنی پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے ۔تقریباً ساٹھ پشتوں کے واسطے سے آپ کا حسب و نسب حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام سے مل جاتا ہے۔اس نورِ نبوت نے جب اُجالا شروع کیا ہے تو دنیا طرح طرح کی تاریکیوں اور

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے ہیں

اولاد اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔ہر شادی شدہ جوڑے کی خواہش رہتی ہے کہ اللہ ان کا دامن خوشیوں سے بھر دے اور یہ اس عظیم دولت سے مالا مال ہوجائے ۔اولاد کی خوشی نصیب ہونے کے بعد ہر والدین کی چاہت رہتی ہے کہ ان کا بچہ اچھی اور اعلی تربیت حاصل کرکے زندگی میں بہترین کامیابیاں حاصل کرکے ان کا نام روشن کردے جوکہ واقعی ایک محنت طلب مسئلہ ہے اور حقایق کی روشنی میں اگر دیکھا جاے تو زندگی کی سب سے بہترین انویسٹمنٹ بھی یہی ہے، جس کا اجر وفیض والدین کو بعد از مرگ بھی ملتا رہتا ہے۔ اس تعلق سے کہنا مناسب رہے گا کہ بچوں کی تربیت کرنا ہر دور میں اپنے اپنے تقاضوں کے مطابق دلچسپ عمل رہنے کے ساتھ ساتھ مشکل کام بھی گردانا گیا ہے۔ ہر دور کے اپنے اصول وضوابط طے پائےگئے ہیں۔ اپنی عملی زندگی کے مطابق،پیشہ وارانہ ضرورت نیز سماجی اقدار یا قایم شدہ ویلیوز کی بنیاد پر جہاں زندگی کو مختلف  ادوار میں

جوانی نعمت ہے، ضائع مت کیجئے!

زندگی رب کائینات کی ایک عطا کی ہوئی ایک نعمت ہے۔یہ ﷲ تعالی کی طرف سے ہمارے پاس ایک امانت ہے اور ہمیں اس عظیم امانت کی خیانت نہیں کرنی چاہئیے۔ہمیں یہ یاد رہنا چاہئیے کہ ایک دن ہمیں یہ امانت ﷲ کو واپس کرنا ہے۔ اس زندگی کے کچھ مرحلے(Stages) مرحلے ہوتے ہیں :    (1)بچپن ۔اس عمر میں ایک بچہ کھیلنے کودنے میں مسروف ہوتا ہے(2)جوانی ۔اس عمر میں ایک جوان سر پر آسمان لے کر پھرتا ہے(3)بڑھاپا۔اس عمر میں ایک انسان پچھتاوے میں ہوتا ہے۔کاش میں نے نوجوانی میں کوئی اچھا کام کیا ہوتا۔ قیامت کے دن اس نوجوانی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت ا بن مسعود سے وہ نبی کریم ؐسے راوی فرمایا:’’ قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتی کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال کیا جاوے گا، اس کی عمر کے بارے میں کہ کس چیز میں خرچ کی اور اس کی جوانی کے متعلق کہ کس کام میں گزاری، اس

تحقیقی مقالے کے تقاضے

’’تحقیق‘‘کو میں سچ کا کاروبار کہتا آیا ہوں۔لفظ تحقیق کے معنی حقیقت کی تلاش یا کھوج کے ہیں ۔یہ کائنات اور اس کی ہر شے انسان سے تحقیق کا تقاضہ کرتی ہے ۔تحقیق کا جذبہ وہ پاک جذبہ ہے جو انسان کو نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ انسان کو عقل وشعور ،فکر وبصیرت اور تہذیب وشائستگی سے بھی روشناس کراتا ہے ۔مزید برآں یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دُنیا میں جتنی بھی عظیم اور حیرت انگیز ایجادات ہوئی ہیں ۔وہ سب تحقیقی جذبے کا نتیجہ ہیں۔ابتدائے آفرینش سے تحقیق کا جذبہ انسان کی زندگی میں کار فرما رہا ہے کیونکہ مظاہر فطرت کی تمام پوشیدہ طاقتوں کو جاننے ،اُن پہ سوچنے ،اُن سے فیضیاب ہونے اور خوب سے خوب تر کی جستجو اور کرید کا جذبہ فطری طور پر انسان کی سرشت میں موجود ہوتا ہے ۔چنانچہ یہ وہ جبلی قوت ہے جس نے تہذیبی ،ادبی ،تمدنی اورسائنسی سفر کو جاری رکھنے کے لئے انسان کو ہر دور م

جب ہند میں راہ حق کا سورج طلوع ہوا

تواریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام آنے کی کئی وجوہات ہیں جیسے کہ ہندوستان میں اسلام اوّل جنوبی ہندوستان میں تاجروں کےذریعے اور پھر سندھ میں عربوں کی فتح کے بعد اور آخر میں ترکوں کی فتح کے بعد شمالی ہندوستان میں آیا ۔ تواریخ کے مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں جہاں اسلامی فتوحات ہوئیں اور جو جو ممالک فتح ہوئےوہاں سیاسی قوت کے ساتھ اسلام کو استحکام ملتا گیا۔ 600 عیسوی کے لگ بھگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے عرب اور ہندوستان کے لوگ آپس میں تجارت کے سلسلے سے آتے جاتے تھے ۔عرب تاجر باقاعدگی سے ہندوستان کے مغربی ساحلوں پر اشیا  بیچتے تھے اور جب عربوں نے اسلام قبول کیا تو قدرتی طور پر اسلام تاجروں کےذریعے ہندوستان کے ساحلوں پر پھیلنا شروع ہوگیا،لیکن حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں اسلام کی تاریخ اس سے بہت زیادہ پرانی ہے۔ڈاکٹر عبد القدیر خان نے 1

۔100کروڑ شہریوں کی ٹیکہ کاری

بھارت نے 21 اکتوبر 2021 کو 100 کروڑ شہریوں کی ٹیکہ کاری کا ہدف مکمل کر لیا، جب کہ اس ٹیکہ کاری مہم کو شروع ہوئے ابھی صرف 9 مہینے ہی ہوئے ہیں۔ کووڈ۔19 سے نمٹنے کا یہ ایک شاندار سفر رہا ہے، خاص کر ایسے وقت میں جب ہمارے ذہن میں سال 2020 کے ابتدائی دنوں کی یادیں ابھی بھی تازہ ہیں۔ انسانوں کو 100 سال کے بعد اس قسم کے وبائی مرض کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور کسی کو اس وائرس کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ کیسے غیر متوقع طور پر ہمیں اچانک ایسی حالت کا سامنا کرنا پڑا، کیوں کہ ایک نامعلوم اور نظر نہ آنے والا دشمن تیزی سے اپنا حلیہ بدلتا جا رہا تھا۔ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم کی بدولت یہ سفر پریشانی سے یقین دہانی میں تبدیل ہو چکا ہے اور ہمارا ملک مضبوط بن کر ابھرا ہے۔یہ واقعی میں اجتماعی کوشش تھی جس میں معاشرہ کے کئی حصے شامل رہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی اس کوشش ک

چناب ویلی ۔ بنیادی سہولیات کا فقدان

کسی بھی علاقہ کی ترقی کے لئے وہاں تمام تر بنیادی سہولیات کا ہونا لازم ہے۔لیکن اگر ہم چناب ویلی کے حوالے سے بات کریں تو اس ڈیجیٹل دور میں بھی یہاں لوگ بنیادی سہولیات محروم ہیں۔ جہاں ایک طرف کروانا وائرس(کویڈ۔19) کے دور نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ،وہیں دوسری جانب جناب ویلی کے ضلع ڈوڈہ اور کشتواڑ کے پہاڑی علاقہ بجلی، پانی اور سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رہےہیں۔ آج کے دور میں انسان کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور نایابی سے انسان کا گذر بسر کرنا لامحال ہے جبکہ بنیادی ضروریات زندگی کے فقدان سےکسی بھی انسان کے لئے جینے کا احساس ادھورا ہوجاتا ہے۔ظاہر ہے کہ ہوا کے بعد پانی انسانی زندگی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،اگر ہم یہاںمحض پانی کے حوالے سے ہی بات کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ زندگی کا ایک اہم سرمایہ ہے۔یہ انسان کی بنیادی سہولیات میں سے اولین سرمایہ ہے۔جہاں ایک

خُلقِِ عظیم اور اسوہ ٔحسنہ

قرآن کے اسی اخلاقی ماڈل، جس کے اجزائے ترکیبی انبیاء علیہ السلام کے اخلاق رہے ہیں، کو مد نظر رکھتے ہوئے پتا چلتا ہے کہ اس کی تکمیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر ہوئی۔ اس سلسلے میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کا ایک قول مشہور و معروف ہے کہ جب آپ ؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے جواب دیا: "کان خلقہ القرآن یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق وہی تھا جو کچھ قرآن میں مندرج ہے!" اس کا مطلب ہے کہ آپ ؐ قرآن مجسم تھے۔ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس طرح بیان فرمایا ہے: "بعثت لاتم مکارم الاخلاق" یعنی "مجھے اعلی اخلاق کی تکمیل (اتمام) کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔" یہی مفہوم اس حدیث میں بھی تمثیلی طور پر بیان کیا گیا ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو "پیغمبرانہ عمارت کی آخری اینٹ