مقامی صحافت:ماضی اور حال کے آئینے میں۔۔۔۔ قسط دوم

 گزشتہ ہفتے مقامی صحافت پر ’’ سرکار نوازی ‘‘کے الزامات کے موضوع پر بات شروع کرتے ہوئے صحافت کے ماضی اور حال کا تذکرہ اس کا لازمی حصہ بن گیا تھا اور مین سٹریم لیڈر شپ ،جو آج مقامی صحافت پر یہ الزامات عاید کرنے میں پیش پیش ہے ،کی جمہوری سرکاروں نے مقامی صحافیوں اور اداروں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ،اس کا تذکرہ کرتے ہوئے بات اس موڑ پر پہنچ گئی تھی جہاں صحافت مجبوری ، بے بسی اور لاچاری کا عنوان بن گئی تھی ۔عسکری دور شروع ہونے کے بعد صحافت کا احوال بیان کرنے سے پہلے اس بات کی مختصر سی وضاحت کرنا بھی موضوع کا تقاضا ہے کہ صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دینے والوں نے کسی ترنگ میں آکر ایسا نہیں کیا بلکہ انہیں معلوم تھا کہ جمہوریت کی روح کو آلودگیوں سے بچانے اور وقت کی گرد شو ںسے محفوظ رکھنے میں جو چند ایک ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ان میں صحافت کا کردار

اب بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا!

روزگار کا غم کسے نہیں ہوتا۔جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ایک انسان کو روزگار کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے،گویا کہ غمِ روزگار اور جوانی کا آپس میں ایک اٹوٹ رشتہ ہے،چولی دامن کا ساتھ ہے۔روزگار کی تلاش میں ہم کیا کچھ نہیں کرتے ۔والدین کی عمر بھر کی جمع پونجی اولاد کی تعلیم پرخرچ ہوتی ہے۔ وہ یہ آس لگائے ہوتے ہیں کہ پڑھ لکھ کر اولاد خود کمانے کے قابل ہوجائے گی اور اُن کے کندھوں سے ایک بہت بڑا بوجھ اُترے گا۔کچھ رقم بچ بھی جائے تو وہ پھر افسران کو رشوت کھلانے میں صرف ہوتی ہے تاکہ اولاد کے ہاتھ چھوٹا موٹا ہی سہی،کوئی روزگار آجائے۔ مگر ان ساری چیزوں کے باوجود بھی نتیجہ ندارد۔یہ سب باتیں تو آپ سب جانتے ہی ہیں مگر میں جس بات کا خلاصہ کرنے جارہا ہوں ممکن ہے کہ وہ آپ کے لیے سونے پہ سہاگا ثابت ہو ۔میں آپ کو ایک نسخہ دینے والا ہوں جو راتوں رات آپ کو لَکھ پتی بنا سکتا ہے اور آپ کے روزگار کا مسئل

آپ کا وجود ہے وجہ ِ وجو د ِکائنات

حضرت عیسیٰ بن مریم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس دنیا میں آمد کو تقریباً پانچ سو برس سے بیشتر عرصہ ہوچکا تھا، پوری انسانیت ذلالت وگمراہی کے عمیق گڑھے میں گرچکی تھی، روئے زمین پر تاریکی اورظلمت کا راج تھا،انسان اپنے مقصد تخلیق کو فراموش کر چکا تھا، یہودیت وعیسائیت صرف چند ظاہری رسم و رواج کو دین کا نام دے کر دین موسوی و عیسوی کو پوری طرح ترمیم کر چکی تھی،انجیل وتورات کا صرف نام باقی رہ گیا تھا، اس میں ہزاروں طرح کے تحریفات پیدا کئے جاچکے تھے، مذہبی پیشوا،راہ نمایانِ قوم وملت، اور عمائدینِ سیاست خدائی احکام کو بجز چند ٹکڑوں کے خاطر فروش کرچکے تھے، نفس پرستی اوردین بیزاری نے چند روپے پیسوں کے خاطر دین سے دست بردار کردیا تھا تو دوسری طرف ان سے زیادہ دگرگوں اورقابل رحم حالت میں اہل عرب، اصنام پرست، لات و منات کے پجاریوں کی ایک لمبی قطار تھی،جو دنیا کے کسی نقشے پر نہیں شمار کیے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے دنیا پر اثرات

 جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس مٹ جانے والی دنیا میں تشریف لائے تو پوری دنیاپر اس کے اثرات پڑے۔ واقعات تو بہت ہیں ہم صرف چند واقعات مختصراً پیش کرتے ہیں ۔ سب سے پہلا اثر سلطنت فارس ( حالیہ ایران و اعراق اور آس پاس کا علاقہ ) کے حکمراں کسریٰ ( یاد رہے سلطنت فارس کے حکمرانوں کا لقب کسریٰ ہوتا تھا۔) کے محل کے چودہ کنگورے گر گئے اور سلطنت فارس کا سب سے بڑا آتش کدہ ( سلطنت فارس کے لوگ آگ کی پوجا کرتے تھے۔ اور اسے مسلسل جلائے رکھتے تھے۔ جو ہزار سال سے روشن تھا۔ وہ بجھ گیا۔ اور دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔ سیرت میں اور بھی بہت سے واقعات مذکور ہیں۔  حضرت عبد المطلب نے محمد نام رکھا   حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں تشریف فر ما تھے۔ کہ سیدہ آمنہ نے انھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا میں شتریف لانے کی خبر بھیجی۔ اور وہ خوشی خوشی گھر آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے

رسول اکرمؐ کا ساتھ چاہئے؟ ۔۔۔۔ قسط دوم

اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات میں سے حضرات انبیاء علیہم السلام کا انتخاب فرمایا،پھر ان سب میں سے خاتم النبیین، شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت، نصرت اور معیت کیلئے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوچن لیا۔صحابہ کرام ؓ کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور صحبت کا جو شوق تھا،اس کی چند جھلکیاں گزشتہ کالم میں پیش ہوچکی ہیں۔ ہم لوگ اگرچہ دنیا میں تو اس نعمت ِ عظمیٰ اور سعادتِ کبریٰ سے محروم رہے لیکن کون سا مسلمان ایسا ہو گا جس کا دل جنت میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کیلئے نہیں تڑپتا ہو گا۔ جس دل میں ایمان ہو گا،اُس میں یہ چاہت ،یہ لگن اور یہ ولولہ ضرور ہو گا۔یہ دولت اتنی عظیم ہے کہ ساری دنیا کے خزانے دے کر اور ساری زندگی کی صلاحیتیں لگا کر بھی اگر مل جائے تو بخدا بہت ہی سستا سودا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ محض ا

تازہ ترین