تازہ ترین

لوح بھی تُو قلم بھی تُو تیرا وجود الکتاب

 پھر ایک بار فرانسیسی سرکار نے اپنے تعاون اور اشتراک سے رسول مقبول ﷺ کی شان ِ اقدس میں گستاخی کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل پیرا ہوکر مسلم دنیا اور کروڑوں مسلمانوں کے جگر کو چیر کر رکھ دیا ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا پہلی بار ہورہا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ عصری دور میں جب آپ تھوڑا سا ماضی میں جھانکیں گے اور تھوڑا سا حافظے پر زور دیں گے تو آپ کو یاد آئے گا کہ پچھلی دہائیوں کے اندر اس طرح کی بے شمار گستاخانہ حرکتیں ہوئی ہیں جو کہ ان مغربی ممالک کے اپنے قوانین کی رو سے بھی ایک ناقابل معافی جرم کا ارتکاب ہے ، لیکن افسوس کہ یہ ممالک ان قوانیں اور ساری دنیا میں تسلیم شدہ بہتر اقدار اور معیارات کی خلاف ورز یوںکے مواقع پر اپنی آنکھیں موند لیتے ہیں اور ان تمام نازیبا اور دل آزار مکروہ منصوبہ بند سازشوں کو آزادی رائے سے تشبیہ دے کر مسلم دنیا کے خلاف میڈیا کی جنگ چھیڑ دیتے ہیں بلکہ م

شانِ رسالتؐ میں گُستاخی اور مجروح جذبات

رسول اللہ ؐ کی ذات مبارک پر حرف رکھنا اور توہین رسالت کا مرتکب ہونا دور جہالت کی نشانیاں ہیں جو آج بھی برقرار ہیں اور جس کا مظاہرہ فرانس نے حال ہی میں کیا۔ مدت دراز سے یورپی ممالک کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اشتعال دینے ، بدنام کرنے اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔مذہب اسلام اور اس کے ماننے والوں کو بدنام کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ پیغمبروں کی توہین کی جاتی ہے۔اس بار یہ گھناؤنا کام فرانس نے انجام دیا۔رسول ؐ کا مضحکہ خیز خاکہ بنا کر دیواروں پر چسپاں کرنا اور بڑے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرکے اسے آزادیٔ اظہار کا نام دینا حماقت ہے۔ اس حماقت کے پیچھے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں، یہ واضح نہیں ہے۔جب بھی اس اقسام کی شرم ناک حرکات سامنے آتی ہیں اور مسلمانوں کے خلاف بیان بازیوں کے نشتر چلائے جاتے ہیں تو اس کا  شدید ردعمل ضرور سامنے آتا ہے۔اس غم و غصہ اور ناراضگی

تازہ ترین