تازہ ترین

علامہ شبلی نعمانی کامذہبی فہم

علامہ شبلیؔ ایک نابغہ تھے۔ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ بڑی خوبصورتی اورنزاکت سے اپنے مقصد کواس طرح پیش کرتے ہیں کہ زبان میں مولویانہ یاواعظانہ انداز پیدا نہیں ہوتا بلکہ ان کامحققانہ انداز برابر باقی رہتاہے ۔ مولاناکے قلم میں ایک توازن ہے۔ وہ اپنوںکے بارے میں لکھ رہے ہوں یامغربی مستشرقین کے بارے میں،کسی اعتراض کاجواب دے رہے ہوں یااس پرخود اعتراض کررہے ہوں، وہ اعتدال کادامن ہاتھ سے نہیںجانے دیتے۔ ان کے ’مقالات‘ میںسنجیدگی اوررکھ رکھاؤ برابرنظرآتاہے اورکہیں جذباتی ہوئے نہیںنظرآتے بلکہ جوکچھ کہتے ،بڑے اعتماد ،وثوق اورتحقیق کے ساتھ ہی کہتے ہیں۔ مقالات کی پہلی جلد’مذہبی معاملات ‘پرمشتمل ہے۔ان مقالات میںکچھ تو ایسے ہیں، جن میںیورپ کے مستشرقین کے اعتراضات کاجواب دیا گیا ہے اورکچھ ایسے مقالات بھی ہیں جن میںاپنوںکی بعض غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش کی گئی ہے ۔ ’

آج کاکسان اور انصاف کا تقاضا

لکھیم پور میں کسان کشی سانحہ کے بعد حکومتی عہدیداروں اور بی جے پی لیڈروںکی تقاریر اور بیانات اس بات کا بھرپور خلاصہ کررہی ہیں کہ مرکزی سرکارکسانوں کے تئیں اپنے موقف پر بدستور قائم ہےاور کسی بات پر سمجھوتہ کرنے کی موڈ میں نہیںہے۔بیشتر عوامی حلقےکسانوں کے مطالبات کی اَن دیکھی اور ان کے خلاف سرکار کا رویہ کو حیرت ناک قرار دے رہے ہیںکیونکہ سرکاریں لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے وجود میں آتی ہیں ،عوام کے دُکھ درد دور کرنے کے لئے اقدامات اٹھاتی ہیںاور انہیں درکار بنیادی ضروریات کی حصولیابی کے کئے سہولیات فراہم کرتی ہیں، اُن کی خوشحالی اور ترقی کے لئے منصوبے بناتی ہیںاور اُن کی بھلائی کے لئے حکمت ِ عملیاں ترتیب دیتی ہیں۔ مگر جب سے موجودہ مرکزی سرکار اقتدار میں آئی ہے عوام کے مسائل کم ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔مختلف معاملوں میںاُن کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہےجبکہ مہنگائ

تعلیم کی اقسام، درجہ بندی اور خصوصیات

تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ علم، مہارت، اقدار یا رویوں کے علم کے حصول کو آسان بنایا جاتا ہے۔ تعلیم مختلف سیاق و سباق میں پائی جاتی ہے، اسے مختلف شکلوں میں پیش کیا جاسکتا ہے اور یہ مشمولات میں بھی مختلف ہوسکتی ہے ، لیکن مقصد ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ تعلیم کی اقسام:    اگرچہ تعلیم ایک آفاقی تصور ہے، لیکن باقاعدہ تعلیم ایک ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ، ہر ثقافتی سیاق و سباق تعلیم کی راہ میں فرق پیدا کرتا ہے ۔ تعلیم رسمی اور غیررسمی انداز میں دی جاسکتی ہے۔ رسمی تعلیم :  رسمی تعلیم باقاعدہ تعلیم ہے۔ یہ تعلیمی مراکز میں پڑھائی جاتی ہے اور اس کی تین نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں: رسمی تعلیم منظم انداز میں دی جاتی ہے، یہ ارادی طور پر دی جاتی ہے اور اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔رسمی تعلیم کو قانون کے ذریعہ باقاعدہ بنایا جاتا ہے۔ تعلیمی ایکٹ کے

موبائل فونوں کی بھرمار اور ہمارا معاشرہ

آج کے زمانے میں موبائل فون کے مضمرات،بُرے اثرات یا نقصانات کے بارے میں نکتہ چینی کرنا باعث ِشرمندگی ہی تصور کیا جائے گا،جس کی بڑی وجہ یا یوں کہیئےکہ سیدھی سادھی وجہ، موجودہ زمانے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی مضبوط پکڑ ہے۔ پتھر کے زمانے سےآج تک انسان نے ہی انسانوں کی بھلائی اور بُربادی کے لئےکارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ اپنی ذہنی توانائیوں کے ذریعے قدرتی وسایل کو بروئے کار لاکربے شمار ایجادات کئے ہیں اور مختلف ایجادات کے تحت ایسے انقلابات لائے ہیں کہ جن کی بدولت انسان ترقی کی منزلیںطے کر کے موجودہ زمانے میں قدم رکھ چکا ہے۔ظاہر ہے ہر عروج کا زوال بھی آتا ہے،ہر خوشی کے ساتھ غم بھی ہوتا ہے۔اسی طرح ہرفایدہ مند چیز نقصان دہ بھی بن جاتی ہے۔کسی بھی چیز کے غلط یا بے جا استعمال سے نقصان بھی پہنچتا ہے۔مشاہدہ میں بھی یہی آرہا ہے کہ ہر ترقی کے ساتھ کوئی نہ کوئی خرابی بھی پیدا ہوجاتی ہےاور ہر خر

دینی علوم سے محرومی افسوس ناک امر

علم دین کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ علم دین سے مراد وہ ضروری مسائل ہیں ،جس کا جاننا ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے۔ علم حاصل کرنے کے متعلق قرآن وحدیث میں بہت تاکید آئی ہے اور اس کی اہمیت و فضیلت کو ہمارے نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوب اُجاگر کیا ہے مگر موجودہ دور میں دینی تعلیم سے نا آشنائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ بہت سارے لوگ وضو اور غسل کے فرائض سے بھی نا واقف ہیں جو ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے کافی شرمناک ہے،اس محرومی کی سب سے بڑی اور اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں والدین کی تربیت کا ڈھنگ بدل چکا ہے ،اب وہ اپنے بچوں کو پہلے انگریزی زبان اور مغربی تہذیب و تمدن سے آشنا کروانا پسند کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بچپن ہی سے دینی تعلیم سے محروم ہونے کے سبب اسلام اور اس کی تعلیمات سے بہت دور ہو چکے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ حرام و حلال کی تمیز بھی نہیں کر پاتے، جس کے ذمہ دار