تازہ ترین

پیپلز الائنس:پلیٹ فارم صحیح ،بیانیہ غلط | واحد ایجنڈا اتحاد کی بجائے کثیر المقصد سیاسی پلیٹ فارم زیادہ سودمند

پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے ذریعہ منظور کردہ قراردادجس صورت میں سامنے آئی ،اُس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ اس کے بالکل نہیں سوچا گیا تھا۔ کیا کچھ کہا جارہا ہے کہ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ جموں ، کشمیر اور لداخ کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے آئینی جنگ لڑے گی۔ کیا یہ پہلے سے نہیں ہو رہا ہے؟  سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں موجود ہیں جن میں مختلف بنیادوں پر منسوخی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ 300 دنوں میں اس کیس کو سماعت کے لئے لسٹ بھی نہیں کیا ہے ، اس سے پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو اندازہ ہونا چاہئے کہ آئینی جنگ کہاں جارہی ہے۔ یقینا یہ ایک آئینی جنگ ہے لیکن اسے سیاسی طور پر لڑنا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جوپیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو متعلق بنائے گی۔  مزید یہ کہ 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن کی بحالی کے لئے کیا پیپلز الائنس برائے گپکار ا

جی ۔20مذہبی رہنمائوں کے سیاسی رول کی تجویز | متعدد عالمی مسائل کے حل میں مذہبی رہنمائوں کے رول کی اہمیت پر زور

دنیا کے مختلف مذاہب اور بین المذاہب نیٹ ورکوں اور کمیونٹیز کے نمائندوں کا ایک پانچ روزہ غیر معمولی اجلاس اکتوبر کے وسط میں منعقد ہوا۔ اس فورم کے اجلاس کی مختلف نشستوں کے دوران کووڈ ۔19، ماحولیاتی تبدیلی، سماجی، نسلی اور اقتصادی عدم مساوات، ماحولیاتی چیلنجز ، مقدس مقامات بشمول عبادت گاہوں کے رکھ رکھاو اور تحفظ کے علاوہ آج دنیا کو درپیش دیگر اہم مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اجلاس گوکہ اس سال جی۔ 20چوٹی کانفرنس کے میزبان ملک سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونا تھا تاہم کورونا وائرس کی عالمی وبا کے مدنظر اسے ورچوئلی منعقد کیا گیا۔اس کانفرنس میں 90ملکوں سے 2000سے زائد افراد نے شرکت کی ۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مذہبی رہنماوں اور بین المذاہب شراکت داری کو ایک میز پر لانے اور تبادلہ خیال کرنے میں کلیدی رول ادا کیا ، تاکہ دنیا کو درپیش مسائل کا کوئی حل

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | کیا قرآن و سائنس میں مطابقت ہے؟

قرآن اور سائنس میں آپسی مطابقت کے حوالے سے ایک حقیقت کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے جو انسان کو اس دنیا میں اپنی اصلی حیثیت سے متعارف کرانے کا معتبر ذریعہ بن سکتی ہے۔وہ یہ کہ انسان سائنس کا فیصلہ حتمی تسلیم نہ کرے بلکہ اس کو محض انسان کی ذہانت و فطانت کا ایک رخ سمجھے جس کا مقصد مادی کائنات کی مسلسل تسخیر ہے۔اس عملِ تسخیر میں تیر کا خطا کرنا یا تیر کا نشانے پر لگنا دونوں امکانات موجود ہیں ۔سائنس انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور انسان چونکہ ہر اعتبار سے محدود ہے اس لئے اس کا اخذ شدہ نتیجہ بھی محدود اور ناقص ہو سکتا ہے تاآنکہ مسلسل کوششوں کی وجہ سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائے جو قرآن سے مطابقت رکھتا ہو۔انسان کا علم چونکہ محدود ہے اس لئے اس کے علم کی ہر کامیابی کو حتمی تسلیم نہ کیا جائے ۔اسی پس منظر میں سائنس کی کامیابیوں کی وجہ سے سائنسی علوم کو علمِ وحی سے بالاتر سمجھنااور بالآخر انسان کو مذہب

زبان کی لُکنت | لوگ کیوں ہکلاتے ہیں؟

ہکلاہٹ یا زبان کی لکنت نے لوگوں کی زندگیوں، اسکول کے زمانے، ملازمتوں اور معاشرتی زندگیوں کو کس طرح متاثر کیا ہے، اس حوالے سے ہم سب کے پاس ضرور کسی نہ کسی کی کہانی ہوگی۔ متاثرہ افراد کو اس سے نمٹے اور دوسروں کی جانب سے مذاق اڑائے جانے کی وجہ سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  حالانکہ ہکلاہٹ اتنا عام مرض نہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے اِردگِرد ایسے کئی افراد ہوتے ہیں، جو اس مرض میں مبتلا ہیں۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 7 کروڑ سے زائد افراد (تقریباً دنیا کی ایک فیصد آبادی) ایسے ہیں جو ہکلاتے ہیں یا جن کی زبان میں لکنت ہے۔ وہ گفتگو کے دوران کسی ایک حرف کی آواز کو بار بار دْہراتے ہیں، کسی لفظ میں موجود ایک حرف (عموماً شروع کا حرف) کو ادا نہیں کر پاتے اور بڑی مشکل سے اپنا جملہ مکمل کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو دیگر مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے، جیسے کے آن

جدید ٹیکنا لوجی انسانی زندگی کا ایک اہم جزو

انسان کو اس لئے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے کہ وہ قدرت کے مظاہر کو اظہار کا لبادہ بخش سکے ،سائنس کے عجائب اور ٹیکنا لوجی کے کرشمے دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کس قدر عظیم ہوگا جس نے مٹھی بھر انسانی ذہن کو اس قدر خصائل سے نوازا ۔یہ سب کمال میرے رب کا ہے ،ورنہ انسان کی اور اس کی بساط کیا ۔مٹی اور راکھ کا ساٹھ سالہ ڈھیر جو بالآخر خود بھی مٹی میں مل جاتا ہے ۔اس کے بنائے ہوئے کارنامے کئی سو سال تک زندہ و تابندہ رہ جاتے ہیں ۔  اُس دور کو گذرے کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے جب زندگی سادہ ضرور ہوا کرتی تھی لیکن مشکلات سے بھری پڑی تھی ۔جب سفر مختلف صعوبتوں کے ساتھ گذار کر کئی دنوں پر محیط ہوا کرتا تھا اُس وقت کو گذرے بھی زیادہ وقت نہیں ہوا جب ہم دنیا ومافیہا سے بے خبر رہا کرتے تھے اور یہ بات بھی کل کی ہی لگتی ہے جب کافی عرصہ تک دور بیٹھے اپنے پیاروں کی آواز سننے کے

تازہ ترین