تازہ ترین

گلاسگو ماحولیاتی کانفرنس۔مطالبات و توقعات

ماحولیاتی تبدیلی پر گلاسگو کانفرنس ایک سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے اگر ترقی یافتہ ممالک اپنی نقصاندہ گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے کے لیے ترقی پذیر اور غریب ممالک کی مدد کرنے کے لیے گلاسگو میں کسی پرعزم نظام کو قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔عالمی پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلی سے رونما ہونے والے منفی اثرات سے کس طرح نبرد آزما ہوا جائے، اس کے بارے میں کوئی نئی حکمت عملی ترتیب دینے اور اس کے لیے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ملکوں کے نمائندوں کی تجاویز پر غور کرنے اور انھیں کوئی عملی جامہ پہنانے کے لیے اور گزشتہ اہداف کو ناپانے کے تئیں غوروغوض کرنے کے لیے تقریباً 190ملکوں کے سربراہان 31؍اکتوبر سے 12نومبر تک اقوامِ متحدہ کی زیرِ قیادت اور برطانیہ کی زیر میزبانی برطانیہ کے گلاسگو شہر میں جمع ہوں گے۔ CoP-26 (Conference of Parties -26) نام سے جانے والے ان اجلاس

حرام کو حلال سمجھنے کا رُجحان

جب کوئی گناہ عام ہو جائے تو اس کی نفرت دلوں سے نکل جاتی ہے اور جب کسی گناہ کی نفرت دل سے نکل جائے تو کسی کو اس گناہ میں مبتلا کرنے کے لئے شیطان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب اس گناہ کی نفرت بھی دل میں نہیں ہوتی تو توبہ کی توفیق مشکل ہو جاتی ہے۔ تصویر کشی کا بھی یہی معاملہ ہے کہ جاندار کی تصویر بنانا، چاہے کسی بھی آلہ (چھنی ہتوڑی، قلم، کیمرہ) سے ہو حرام ہے۔ لیکن آج کل دیندار لوگ بھی کئی حیلہ سازیوں سے اس گناہ میں مبتلا ہو رہے ہیں، جو نہایت ہی افسوس ناک ہے۔ اُمت ِ مسلمہ آج جن حرام اعمال میں مبتلا ہے، ان میں سے ایک ''تصویر کشی ''بھی ہے۔ اس بدترین شوق نے اُمت ِ مسلمہ کی روحانیت پر زبردست حملہ کیا ہوا ہے، یہاں تک کہ عظیم ترین علمی ہستیاں بھی اس میں بری طرح ملوث ہیں۔بلکہ سچ کہوں تو علما کی وجہ سے تصویر کشی کا گناہ عوام کی نظر میں اب گناہ بھی نہیں رہا-لوگ دھڑادھڑ سے ف

کباب کلچر کتاب کلچر کو نگل رہا ہے

اس کالم کی تحریک دو کالموں سے ملی ہے۔ ایک کالم ہندوستانی ہے اور دوسرا پاکستانی۔ ہندوستانی کالم نگار شاہد لطیف ہیں جو روزنامہ انقلاب ممبئی کے ایڈیٹر ہیں۔ دوسرے کالم نگار حسن نثار ہیں جو پاکستان کے معروف دانشور، صحافی اور قلمکار ہیں۔ دونوں میرے پسندیدہ رائٹر ہیں۔ میں ان کے کالموں سے بہت کچھ سیکھتا اور اپنے اندرون کو روشن کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایڈیٹر انقلاب کا کالم 16؍ اکتوبر کو روزنامہ انقلاب میں شائع ہوا جبکہ دوسرا کالم 18؍ اکتوبر کو روزنامہ جنگ کراچی میں شائع ہوا ہے۔ اول الذکر کا عنوان ہے ’’دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ‘‘۔ ثانی الذکر کا عنوان ہے ’’سائبان تحریک: کتابیں پڑھیں خرید کر پڑھیں‘‘۔ دونوں کالموں میں بہت زیادہ تو نہیں لیکن کسی حد تک مماثلت ضرور ہے۔ البتہ دونوں کا درد ’’دردِ مشترک‘‘ ہے۔ اول الذکر کالم میں

سورج اور زمین - کون متحرک کون ساکن ؟

ایک نا ایک دن فناہوجانے والے اس کائنات میں اللہ ربّ العزت کی تخلیق کے مظاہر بے شمار ہیں۔ اَجرامِ سماوِی اور ان مجموعہ ہائے نجوم کی بے شمار موجودگی کائنات کے حسن کو نکھارتے ہوئے اُسے ایک خاص انداز میں متوازن رکھتی ہے۔توازن ہی کائنات کا حقیقی حسن ہے، جس کے باعث مادّہ  (Matter)  اور ضدِمادّہ  (Antimatter)  پر مشتمل کروڑوں اربوں کہکشاؤں کے مجموعے  (Clusters) بغیر کسی حادثہ کے کائنات کے مرکز کے گرد محوِ گردش ہیں۔ ان کلسٹرز میں کہکشاؤں کا ایک عظیم سلسلہ اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے اپنے اپنے نظام پر مشتمل سیاروں کا ایک گروہ لئے کُنْ فَیَکُوْن کی تفسیر کے طور پر خالقِ کائنات کے اوّلیں حکم کی تعمیل میں محوِ سفر ہیں۔حرکت اِس کائنات کا سب سے پہلا اُصول ہے۔ حرکت کو ہی اِس کائنات میں حقیقی دوام اور ثبات حاصل ہے۔ حرکت زندگی ہے اور سکون موت ہے۔کائنات کے ماڈل کے متعلق کے سائ

معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا کیسے ممکن؟

تیزابیت یا ایسیڈیٹی نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو بظاہر تو ایک معمولی طبی مسئلہ لگتا ہے، مگر جس شخص کو اس کا سامنا ہوتا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اس مسئلہ کے پیش نظربے حد پریشان نظرآتی ہے۔ تیزابیت کی عام وجوہات :  اس کی عام وجوہات میں تناؤ، بہت زیادہ مسالے اور گوشت وغیرہ کا استعمال، تمباکو نوشی، بے وقت کھانے کی عادت، معدے کے مختلف عوارض اور مخصوص ادویات وغیرہ کا استعمال شامل ہے۔ تیزابیت میں مفید غذائیں:    صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے بہتر غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔ایسی غذائیں جن میں ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے انھیں کھانے کے بعد ایسیڈیٹی کی شکایت ہونے کااندیشہ رہتاہے۔عموماً وہ افراد جن کی غذائی نالی کمزور یعنی عضلاتی نالی جوحلق سے پیٹ تک جاتی ہے، اس میں مقعد کوبند کرنے والاپٹھاہوتاہے جس کے سکڑنے

کووِڈ۔19سے متاثرہ صحت یاب لوگ | ایک سال بعد بھی دِل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ

کووڈ کے شکست دینے کے ایک سال بعد بھی مریضوں کے دل کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ماہرین کی تحقیقی رپورٹوں کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں کے دل کو پہنچنے والا نقصان بیماری کے ابتدائی مراحل تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے شکست دینے کے ایک سال بعد بھی ہارٹ فیلیئر اور جان لیوا بلڈ کلاٹس (خون جمنے یا لوتھڑے بننے) کا خطرہ ہوتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ویٹرنز افیئرز سینٹ لوئس ہیلتھ کیئر سسٹم کی اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے افراد (ایسے مریض جن کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی) میں بھی یہ خطرہ ہوتا ہے۔ امراض قلب اور فالج پہلے ہی دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات بننے والے امراض ہیں اور کووڈ 19 کے مریضوں میں دل کی جان لیوا پیچیدگیوں کا خطرہ ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 کے

تازہ ترین