تازہ ترین

اچھے اعمال انسان کو خدا سے ملادیتے ہیں

ایک انسان کی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ وہ مستقبل کے حوالے سے فکر مند رہتا ہے اور اس بات کو مدِ نظر رکھ کر وہ مختلف چیزیں جمع کرنے کے چکر میں لگ جاتا ہے۔شاہراہِ زندگی پر سفر کرتے ہوئے اگرچہ اسے نشیب وفراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے وہ ان چیزوں کی پرواہ کئے بغیر اپنا سفر جاری و ساری رکھتا ہے۔مستقبل کا خوف اسے چین سے سونے نہیں دیتا اور حالات پر کڑی نظر رکھ کر وہ وقت سے فائدہ اٹھا کر اپنی ضروریاتِ زندگی جمع کرنے میں ہی اپنی نجات سمجھتا ہے۔مستقبل کے حوالے سے متفکر رہنا انسان ہی میں نہیں بلکہ یہ ہمیں چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے،جن میں سرفہرست ’چیونٹی‘ ہے۔چیونٹی ایک عام معاشرتی مکوڑا ہے،جو تقریباً دنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے۔یہ حشرات الارض کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے،چیونٹیوں کا شمار دنیا کے مشقت کرنے والے مخلوقات میں ہوتا ہ

رسول رحمت ؐ۔ لاثانی قائد

ولادت باسعادت پوری عالم انسانیت کےلئے فیض برکت اور مقدس ترین دن ہے ۔پیغمبر آخر الزمان ؐنے اخوت ومحبت کا ایسا معاشرہ قائم کیا جو چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام خدا کے حکم سے مرکز توحید یعنی خانہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے تو اس وقت حضرت ابراہیم ؑکے دل سے یہ دعا بے ساختہ نکلی: اے خدا ہماری نسل سے امت مسلم کو اٹھا ،تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ڈھائی ہزار سال کے بعد 12ربیع الاول (20اپریل 570عیسوی)بروز سوموار کی وہ مبارک صبح تھی، جب رحمت ِالٰہی کے فیصلے کے مطابق اس باسعادت ہستی یعنی پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے ۔تقریباً ساٹھ پشتوں کے واسطے سے آپ کا حسب و نسب حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام سے مل جاتا ہے۔اس نورِ نبوت نے جب اُجالا شروع کیا ہے تو دنیا طرح طرح کی تاریکیوں اور

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے ہیں

اولاد اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔ہر شادی شدہ جوڑے کی خواہش رہتی ہے کہ اللہ ان کا دامن خوشیوں سے بھر دے اور یہ اس عظیم دولت سے مالا مال ہوجائے ۔اولاد کی خوشی نصیب ہونے کے بعد ہر والدین کی چاہت رہتی ہے کہ ان کا بچہ اچھی اور اعلی تربیت حاصل کرکے زندگی میں بہترین کامیابیاں حاصل کرکے ان کا نام روشن کردے جوکہ واقعی ایک محنت طلب مسئلہ ہے اور حقایق کی روشنی میں اگر دیکھا جاے تو زندگی کی سب سے بہترین انویسٹمنٹ بھی یہی ہے، جس کا اجر وفیض والدین کو بعد از مرگ بھی ملتا رہتا ہے۔ اس تعلق سے کہنا مناسب رہے گا کہ بچوں کی تربیت کرنا ہر دور میں اپنے اپنے تقاضوں کے مطابق دلچسپ عمل رہنے کے ساتھ ساتھ مشکل کام بھی گردانا گیا ہے۔ ہر دور کے اپنے اصول وضوابط طے پائےگئے ہیں۔ اپنی عملی زندگی کے مطابق،پیشہ وارانہ ضرورت نیز سماجی اقدار یا قایم شدہ ویلیوز کی بنیاد پر جہاں زندگی کو مختلف  ادوار میں

جوانی نعمت ہے، ضائع مت کیجئے!

زندگی رب کائینات کی ایک عطا کی ہوئی ایک نعمت ہے۔یہ ﷲ تعالی کی طرف سے ہمارے پاس ایک امانت ہے اور ہمیں اس عظیم امانت کی خیانت نہیں کرنی چاہئیے۔ہمیں یہ یاد رہنا چاہئیے کہ ایک دن ہمیں یہ امانت ﷲ کو واپس کرنا ہے۔ اس زندگی کے کچھ مرحلے(Stages) مرحلے ہوتے ہیں :    (1)بچپن ۔اس عمر میں ایک بچہ کھیلنے کودنے میں مسروف ہوتا ہے(2)جوانی ۔اس عمر میں ایک جوان سر پر آسمان لے کر پھرتا ہے(3)بڑھاپا۔اس عمر میں ایک انسان پچھتاوے میں ہوتا ہے۔کاش میں نے نوجوانی میں کوئی اچھا کام کیا ہوتا۔ قیامت کے دن اس نوجوانی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت ا بن مسعود سے وہ نبی کریم ؐسے راوی فرمایا:’’ قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتی کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال کیا جاوے گا، اس کی عمر کے بارے میں کہ کس چیز میں خرچ کی اور اس کی جوانی کے متعلق کہ کس کام میں گزاری، اس

تحقیقی مقالے کے تقاضے

’’تحقیق‘‘کو میں سچ کا کاروبار کہتا آیا ہوں۔لفظ تحقیق کے معنی حقیقت کی تلاش یا کھوج کے ہیں ۔یہ کائنات اور اس کی ہر شے انسان سے تحقیق کا تقاضہ کرتی ہے ۔تحقیق کا جذبہ وہ پاک جذبہ ہے جو انسان کو نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ انسان کو عقل وشعور ،فکر وبصیرت اور تہذیب وشائستگی سے بھی روشناس کراتا ہے ۔مزید برآں یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دُنیا میں جتنی بھی عظیم اور حیرت انگیز ایجادات ہوئی ہیں ۔وہ سب تحقیقی جذبے کا نتیجہ ہیں۔ابتدائے آفرینش سے تحقیق کا جذبہ انسان کی زندگی میں کار فرما رہا ہے کیونکہ مظاہر فطرت کی تمام پوشیدہ طاقتوں کو جاننے ،اُن پہ سوچنے ،اُن سے فیضیاب ہونے اور خوب سے خوب تر کی جستجو اور کرید کا جذبہ فطری طور پر انسان کی سرشت میں موجود ہوتا ہے ۔چنانچہ یہ وہ جبلی قوت ہے جس نے تہذیبی ،ادبی ،تمدنی اورسائنسی سفر کو جاری رکھنے کے لئے انسان کو ہر دور م

جب ہند میں راہ حق کا سورج طلوع ہوا

تواریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام آنے کی کئی وجوہات ہیں جیسے کہ ہندوستان میں اسلام اوّل جنوبی ہندوستان میں تاجروں کےذریعے اور پھر سندھ میں عربوں کی فتح کے بعد اور آخر میں ترکوں کی فتح کے بعد شمالی ہندوستان میں آیا ۔ تواریخ کے مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں جہاں اسلامی فتوحات ہوئیں اور جو جو ممالک فتح ہوئےوہاں سیاسی قوت کے ساتھ اسلام کو استحکام ملتا گیا۔ 600 عیسوی کے لگ بھگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے عرب اور ہندوستان کے لوگ آپس میں تجارت کے سلسلے سے آتے جاتے تھے ۔عرب تاجر باقاعدگی سے ہندوستان کے مغربی ساحلوں پر اشیا  بیچتے تھے اور جب عربوں نے اسلام قبول کیا تو قدرتی طور پر اسلام تاجروں کےذریعے ہندوستان کے ساحلوں پر پھیلنا شروع ہوگیا،لیکن حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں اسلام کی تاریخ اس سے بہت زیادہ پرانی ہے۔ڈاکٹر عبد القدیر خان نے 1